(عالمِ جلیل عطاء بن خلیل ابو الرشتہ، امیر حزب التحریر کے اپنے فیس بک پیج "فقهي" پر آنے والے سوالات کے جوابات کا سلسلہ)
بنام: یوسف ابو اسلام
سوالات:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ ہمارے امیر، اللہ آپ کو عزت دے اور اس امت کی نصرت آپ کے ہاتھوں مقدر کرے۔
اگر آپ کی عنایت ہو تو میرے دو سوالات ہیں:
پہلا: حصص (Shares) کے بارے میں ایک بھائی کو دیے گئے آپ کے جواب میں آیا ہے، جہاں آپ نے جواب کے دوران فرمایا: "...اگر آپ نے اپنی کافر ماں کو ایک مخصوص مدت کے بعد حصص بیچنے کا وکیل بنایا، جبکہ آپ کو ان کی حرمت کا علم ہو چکا تھا، تو آپ پر واجب ہے کہ اس مخصوص مدت کے دوران حاصل ہونے والے منافع سے چھٹکارا حاصل کریں، اور اس کی صورت یہ ہے کہ اسے مسلمانوں کے کسی مفاد میں لگا دیں"۔ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ اسے مسلمانوں کے مفاد میں لگانا واجب ہے، جبکہ وہ شرعی طور پر اس مال کا مالک ہی نہیں ہے، تو وہ اس میں کیسے تصرف کر سکتا ہے؟
دوسرا سوال: میں سبزی فروش کے طور پر پھیری لگا کر کام کرتا ہوں؛ میں منڈی سے سبزی خریدتا ہوں جو یہاں سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور ہے، اور بسا اوقات سامان میں کوئی عیب نکل آتا ہے... اور یہ رواج ہے کہ اگر "کمیشن ایجنٹ" یا جسے "دلال" کہا جاتا ہے، اس سے رجوع کیا جائے تو وہ عیب کی وجہ سے سامان کی قیمت میں کچھ کمی کر دیتا ہے۔ اگر میں اسی دن سامان واپس کروں تو آنے جانے کا خرچہ شاید اس کی قیمت سے بھی بڑھ جائے۔ تو کیا یہ ارش یا رعایت جو ہم طلب کرتے ہیں، ہمارے لیے لینا حرام ہے؟
جوابات:
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
اول: حرام مال سے چھٹکارا پانے سے متعلق پہلے سوال کا جواب:
1- ایسا لگتا ہے کہ آپ کو کچھ التباس ہوا ہے اور آپ نے ہمارے اس قول (ان پانچ مہینوں کے دوران حصص کے منافع سے آپ کو چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے اور اسے اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں لگا دینا چاہیے) کا مطلب "صدقہ" سمجھ لیا ہے، یعنی یہ کہ اس شخص کو اسے مسلمانوں کے مفاد میں لگانے پر اجر ملے گا، جبکہ معاملہ ایسا نہیں ہے۔ ہم نے کہا ہے کہ "اس سے چھٹکارا حاصل کرے"، یعنی بالکل ویسے ہی جیسے آپ کے گھر میں کوئی اضافی فالتو سامان ہو جس سے آپ چھٹکارا پانا چاہتے ہوں، تو بلاشبہ آپ اسے لے کر کسی مناسب جگہ پر رکھیں گے۔ آپ اس فالتو سامان کو سڑکوں پر نہیں پھینکیں گے یہ کہہ کر کہ میں نے اس سے جان چھڑا لی ہے، بلکہ اسے وہاں ڈالیں گے جہاں اس جیسی چیزوں کے لیے مناسب جگہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایسی جگہ کا انتخاب کرتے ہیں جہاں وہ فالتو سامان کسی کو تکلیف دیے بغیر کھپ جائے، تو آپ اس کے لیے مناسب ترین اور بہتر جگہ کا انتخاب کرتے ہیں، ہے نا؟ یہ عقل مندی نہیں کہ آپ اس کچرے کو لوگوں کے راستے میں پھینک دیں اور ان کے لیے اذیت کا باعث بنیں۔
اسی لیے ہم نے کہا کہ وہ اس سے چھٹکارا پائے اور اسے مسلمانوں کے مفادات میں لگا دے۔ وہ اس مال کو مثال کے طور پر زمین پر نہیں پھینک دے گا، یا اسے کوڑے دان میں نہیں ڈال دے گا! تو اے بھائی یوسف، وہ اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اسے بہترین اور مناسب ترین جگہ پر کھپائے گا، لیکن یہ ایسا صدقہ نہیں ہے جس پر اسے اجر ملے۔ مسند احمد میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا يَكْسِبُ عَبْدٌ مَالًا مِنْ حَرَامٍ، فَيُنْفِقَ مِنْهُ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيهِ، وَلَا يَتَصَدَّقُ بِهِ فَيُقْبَلَ مِنْهُ، وَلَا يَتْرُكُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ، وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ
"قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے... کوئی بندہ حرام مال حاصل نہیں کرتا کہ پھر اس میں سے خرچ کرے تو اس میں برکت دی جائے، اور نہ ہی اس سے صدقہ کرتا ہے کہ وہ اس سے قبول کیا جائے، اور وہ اسے اپنے پیچھے (وارثوں کے لیے) نہیں چھوڑتا مگر یہ کہ وہ اسے جہنم کی آگ کی طرف لے جانے والا زادِ راہ بن جاتا ہے۔ بے شک اللہ عزوجل برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا، بلکہ وہ برائی کو نیکی سے مٹاتا ہے، بے شک ناپاک چیز ناپاک چیز کو نہیں مٹاتی۔" (مسند احمد)
2- معلومات کے لیے عرض ہے کہ بعض فقہاء کے ہاں یہ صراحت موجود ہے کہ انسان حرام مال کو شرعی مصارف کے مطابق ٹھکانے لگائے، اور انہوں نے اس پر اس روایت سے استدلال کیا ہے جو عاصم بن کلیب نے اپنے والد سے اور انہوں نے ایک انصاری صحابی سے روایت کی ہے کہ: (ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ قبر پر کھڑے گورکن کو وصیت فرما رہے تھے: پیروں کی جانب سے جگہ کشادہ رکھو، سر کی جانب سے جگہ کشادہ رکھو۔ جب آپ ﷺ واپس لوٹے تو ایک عورت کے قاصد نے آپ ﷺ کی دعوت کی، آپ ﷺ تشریف لائے اور کھانا لایا گیا۔ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ رکھا اور پھر قوم نے بھی ہاتھ رکھا اور سب نے کھانا شروع کیا۔ ہمارے بڑوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے منہ میں ایک لقمہ چبا رہے ہیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میں ایک ایسی بکری کا گوشت محسوس کر رہا ہوں جو اس کے مالکوں کی اجازت کے بغیر لی گئی ہے۔ اس عورت نے پیغام بھیجا: اے اللہ کے رسول، میں نے بقیع کی طرف پیغام بھیجا تھا کہ میرے لیے ایک بکری خرید لائیں لیکن کوئی بکری نہ ملی، تو میں نے اپنے ایک پڑوسی کے پاس پیغام بھیجا جس نے بکری خریدی تھی کہ وہ مجھے قیمت کے بدلے وہ بکری بھیج دے، لیکن وہ نہ ملا، تو میں نے اس کی بیوی کو پیغام بھیجا اور اس نے وہ بکری مجھے بھیج دی۔ تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: اسے قیدیوں کو کھلا دو...)۔
اور دیگر فقہاء کے ہاں "مسلمانوں کے مفادات" سے بھی زیادہ جامع الفاظ آئے ہیں، چنانچہ انہوں نے عام نفلی صدقات کے مصارف کا ذکر کیا ہے جیسے: فقراء کو دینا یا مسجدیں بنانا، کیونکہ یہ چیزیں صدقہ کے مصارف میں سے ہیں۔ یہ احناف کا قول ہے (دیکھیے: حاشیہ ابن عابدین 3/223) اور مالکیہ کا (دیکھیے: قرطبی کی الجامع لاحکام القرآن 3/366)۔
بعض فقہاء نے کہا ہے کہ اسے "فی سبیل اللہ" یعنی "جہاد" میں خرچ کرے، اور یہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی آراء میں سے ایک ہے۔ چنانچہ وہ مجموع الفتاوی (28/401) میں فرماتے ہیں: (حتیٰ کہ اگر کسی شخص کے ہاتھ میں حرام مال آ جائے اور اسے اس کے مالکان تک پہنچانا ناممکن ہو کیونکہ وہ انہیں نہیں جانتا وغیرہ... تو اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے کیونکہ یہی اس کا مصرف ہے۔ اور جو بہت گناہ گار ہو اس کے لیے سب سے بڑی دوا جہاد ہے۔ اور جو حرام سے چھٹکارا اور توبہ چاہتا ہو اور مالکان کو واپس کرنا ممکن نہ ہو، تو اسے ان مالکان کی طرف سے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے، کیونکہ یہ اس کے خلاصی کا ایک اچھا طریقہ ہے اور ساتھ ہی جہاد کا اجر بھی ملے گا...)۔ اس کے علاوہ دیگر اقوال بھی موجود ہیں۔
دوم: سبزی کی فروخت سے متعلق آپ کے دوسرے سوال کا جواب، آپ کے سوال کا متن یہ ہے: (... میں سبزی فروش کے طور پر پھیری لگا کر کام کرتا ہوں؛ میں منڈی سے سبزی خریدتا ہوں جو یہاں سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور ہے، اور بسا اوقات سامان میں کوئی عیب نکل آتا ہے... اور یہ رواج ہے کہ اگر "کمیشن ایجنٹ" یا جسے "دلال" کہا جاتا ہے، اس سے رجوع کیا جائے تو وہ عیب کی وجہ سے سامان کی قیمت میں کچھ کمی کر دیتا ہے۔ اگر میں اسی دن سامان واپس کروں تو آنے جانے کا خرچہ شاید اس کی قیمت سے بھی بڑھ جائے۔ تو کیا یہ ارش یا رعایت جو ہم طلب کرتے ہیں، ہمارے لیے لینا حرام ہے؟) اقتباس ختم۔
جواب یہ ہے کہ یہ معاملہ "النظام الاقتصادی" (اسلامی نظامِ معیشت) کے باب "بیع میں تدلیس" (دھوکہ دہی) صفحہ 193 پر واضح کیا گیا ہے، جہاں درج ہے:
(... کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ سامان یا کرنسی میں دھوکہ دے، بلکہ اس پر واجب ہے کہ وہ سامان میں موجود عیب کو بیان کرے، اور کرنسی میں موجود کھوٹ کو واضح کرے۔ وہ سامان میں اس لیے ملاوٹ یا دھوکہ نہ کرے کہ اسے رواج دیا جائے یا اسے زیادہ قیمت پر بیچا جائے، اور نہ ہی کرنسی میں اس لیے دھوکہ دے کہ اسے سامان کی قیمت کے طور پر قبول کر لیا جائے؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ ابن ماجہ نے عقبہ بن عامر سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
المسلم أخو المسلم، ولا يحل لمسلم باع من أخيه بيعاً فيه عيب إلاّ بيّنه له
"مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اور کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو کوئی ایسی چیز بیچے جس میں عیب ہو مگر یہ کہ وہ اسے اس کے لیے واضح کر دے۔"
اور بخاری نے حکیم بن حزام سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
البيّعان بالخيار ما لم يتفرقا، فإن صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما، وإن كتما وكذبا محقت بركة بيعهما
"خرید و فروخت کرنے والوں کو (سودا منسوخ کرنے کا) اختیار ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہوں، پس اگر انہوں نے سچ بولا اور عیب بیان کر دیا تو ان کی بیع میں برکت ڈال دی جائے گی، اور اگر انہوں نے چھپایا اور جھوٹ بولا تو ان کی بیع کی برکت مٹا دی جائے گی۔"
اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا:
ليس منا من غش
"وہ ہم میں سے نہیں جس نے دھوکہ دیا۔" (اسے ابن ماجہ اور ابو داؤد نے ابوہریرہ کے واسطے سے روایت کیا ہے)۔
اور جس نے کوئی چیز تدلیس اور دھوکے سے حاصل کی وہ اس کا مالک نہیں بنتا؛ کیونکہ یہ تملک (ملکیت) کے ذرائع میں سے نہیں ہے، بلکہ ممنوعہ ذرائع میں سے ہے، اور یہ حرام مال اور سحت (ناجائز کمائی) ہے۔ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا:
لا يدخل الجنة لحم نبت من سحت، النار أولى به
"وہ گوشت جنت میں داخل نہیں ہوگا جو حرام مال سے پلا بڑھا ہو، آگ اس کے لیے زیادہ بہتر ہے۔" (اسے احمد نے جابر بن عبداللہ کے واسطے سے روایت کیا ہے)۔
اور جب تدلیس (دھوکہ) ہو جائے، چاہے وہ سامان میں ہو یا کرنسی میں، تو جس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے اسے اختیار حاصل ہو جاتا ہے، یا تو وہ عقد (معاہدہ) کو فسخ کر دے یا اسے برقرار رکھے۔ اس کے علاوہ اسے کوئی اور اختیار حاصل نہیں۔ پس اگر خریدار عیب دار یا دھوکے والے سامان کو اپنے پاس رکھنا چاہے اور ارش لینا چاہے، یعنی بغیر عیب والی قیمت اور عیب والی قیمت کے درمیان کا فرق، تو اسے یہ حق حاصل نہیں ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے اس کے لیے ارش (قیمت میں فرق) کو مقرر نہیں فرمایا، بلکہ اسے دو چیزوں میں اختیار دیا ہے: "اگر چاہے تو رکھ لے، اور اگر چاہے تو اسے واپس کر دے" (اسے بخاری نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے)۔)
چنانچہ اگر خریداری کے بعد آپ پر سامان کا عیب ظاہر ہو جائے، تو آپ کو اختیار ہے کہ یا تو اسے اس کے مالک کو واپس کر دیں اور اپنی ادا کردہ قیمت واپس لے لیں، یا پھر اسے قبول کر لیں... لیکن آپ کے لیے یہ جائز نہیں کہ آپ اسے قبول بھی کر لیں اور ساتھ ہی ارش بھی لیں، یعنی عیب کے ساتھ اور عیب کے بغیر والی قیمت کا فرق وصول کریں۔ رہا آپ کا منڈی سے دور ہونا، تو یہ حکم پر اثر انداز نہیں ہوتا، کیونکہ حدیث کے مطابق آپ کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں:
إن شاء أمسك، وإن شاء ردها
"اگر چاہے تو (اسی حال میں) رکھ لے، اور اگر چاہے تو اسے واپس کر دے۔" (بخاری)
آپ کا بھائی عطاء بن خلیل ابو الرشتہ
15 شوال 1438ھ بمطابق 09/07/2017ء
امیرِ حزب التحریر کے فیس بک پیج سے جواب کا لنک: فیس بک
امیرِ حزب التحریر کے گوگل پلس پیج سے جواب کا لنک: گوگل پلس
امیرِ حزب التحریر کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے جواب کا لنک: ٹویٹر
امیرِ حزب التحریر کی ویب سائٹ سے جواب کا لنک: [ویب سائٹ]