سوال:
الف- لوگ معلوم اسباب کی بنا پر بلڈ بینکوں کو مفت خون عطیہ کرتے ہیں، بلڈ بینک اس خون کی جانچ کرتا ہے، اگر خون صحت مند ہو تو اسے دوسرے مریضوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اور اگر خون آلودہ ہو اور اس میں وائرس ہوں مثلاً ہیپاٹائٹس یا ایڈز وغیرہ، تو وہ اس آلودہ خون کو ضائع کر دیتے ہیں۔
اب ہمیں اپنی لیبارٹری میں تجربات کے لیے اس آلودہ خون کی ضرورت ہے۔ تو کیا ہمارے لیے جائز ہے کہ ہم بلڈ بینک سے یہ خون مفت حاصل کریں اور اس پر تجربات کریں، پھر جو باقی بچ جائے اسے محفوظ طریقے سے تلف کر دیں جس سے کسی انسان یا ماحول کو نقصان نہ پہنچے؟
ب- بعض اوقات ہم پیچیدہ اور مہنگے سائنسی طریقہ کار کے ذریعے خون کے اندر موجود وائرسز کو نکالتے (فلٹر کرتے) ہیں تاکہ خالص وائرس حاصل کر سکیں۔ ہم ان کا ایک حصہ اپنی لیبارٹری میں تشخیصی کٹس (reagents) بنانے کی سائنسی تحقیق کے لیے استعمال کرتے ہیں اور باقی حصہ دوسری لیبارٹریوں کو فروخت کر دیتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم خالص وائرس حاصل نہ کر سکیں تو ہم دوسری لیبارٹریوں سے خالص وائرس خریدتے بھی ہیں۔ تو کیا اس مقصد کے لیے ان وائرسز کی خرید و فروخت جائز ہے؟
جواب:
جواب سے پہلے ہم مندرجہ ذیل باتوں کی وضاحت کرتے ہیں:
1- خون نجس ہے اور یہ حرام ہے۔
انسانی خون کے نجس ہونے کی دلیل بخاری اور مسلم کی وہ حدیث ہے جو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں:
جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِحْدَانَا يُصِيبُ ثَوْبَهَا مِنْ دَمِ الْحَيْضَةِ كَيْفَ تَصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: تَحُتُّهُ ثُمَّ تَقْرُصُهُ بِالْمَاءذ ثُمَّ تَنْضَحُهُ ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ
"ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: ہم میں سے کسی کے کپڑے پر حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے کھرچ ڈالے، پھر اسے پانی سے مل کر دھو ڈالے، پھر اس پر پانی بہا دے، پھر اس میں نماز پڑھ لے۔"
اسے نماز سے پہلے دھونے کا حکم دینا اس کے نجس ہونے کی دلیل ہے۔
رہی بات اس کے حرام ہونے کی (یعنی اسے کھانے پینے وغیرہ کی)، تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ
"تم پر مردار، خون اور سور کا گوشت حرام کر دیا گیا ہے۔۔۔" (سورہ المائدہ: 3)
اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:
قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
"آپ کہہ دیجیے کہ جو کچھ وحی میرے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی حرام چیز نہیں پاتا کسی کھانے والے کے لیے جو اسے کھائے، بجز اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سور کا گوشت ہو، کیونکہ وہ بالکل ناپاک ہے یا وہ گناہ کی چیز ہو جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ پھر جو شخص بہت مجبور ہو جائے بشرطیکہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ حد سے گزرنے والا ہو، تو یقیناً آپ کا رب غفور و رحیم ہے۔" (سورہ الانعام: 145)
2- نجس اور حرام چیز سے نفع اٹھانا حرام ہے، اس کے دلائل میں سے یہ ہیں:
- امام بخاری نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال مکہ میں رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهَا يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ فَقَالَ لَا هُوَ حَرَامٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ شُحُومَهَا جَمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ
"بے شک اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی تجارت حرام قرار دی ہے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیونکہ اس سے کشتیوں پر پالش کی جاتی ہے، کھالوں کو نرم کیا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، وہ حرام ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر فرمایا: اللہ یہودیوں کو غارت کرے، جب اللہ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا، پھر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی۔"
- طبری کی تہذیب الآثار میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الميْتَةِ بِشَيْءٍ
"مردار کی کسی چیز سے نفع نہ اٹھاؤ۔"
- مردار کی کھال کو اس حکم سے مستثنیٰ کیا گیا ہے جیسا کہ ابو داؤد کی حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ہماری ایک لونڈی کو صدقے کی ایک بکری تحفے میں ملی، وہ مر گئی، نبی ﷺ اس کے پاس سے گزرے تو فرمایا:
أَلَا دَبَغْتُمْ إِهَابَهَا وَاسْتَنْفَعْتُمْ بِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ قَالَ إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا
"تم نے اس کی کھال رنگ کر (دباغت دے کر) اس سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ تو مردار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: صرف اسے کھانا حرام کیا گیا ہے۔"
- امام بخاری نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال مکہ میں رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ
"بے شک اللہ اور اس کے رسول نے شراب کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے۔"
- اسی طرح امام بخاری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں ابو طلحہ کے گھر میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا اور ان دنوں ان کی شراب 'فضِیخ' (کھجور کی شراب) تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے ایک پکارنے والے کو حکم دیا جس نے پکار کر کہا:
أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ
"آگاہ ہو جاؤ کہ شراب حرام کر دی گئی ہے۔" راوی کہتے ہیں: ابو طلحہ نے مجھ سے کہا: باہر جاؤ اور اسے بہا دو۔ میں نکلا اور اسے بہا دیا، یہاں تک کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں بہنے لگی۔
- امام ابو داؤد نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الْخَمْرَ وَثَمَنَهَا وَحَرَّمَ الْمَيْتَةَ وَثَمَنَهَا وَحَرَّمَ الْخِنْزِيرَ وَثَمَنَهُ
"بے شک اللہ نے شراب اور اس کی قیمت کو حرام کیا، مردار اور اس کی قیمت کو حرام کیا اور سور اور اس کی قیمت کو حرام کیا۔"
3- تداوی (علاج معالجہ) کو اس تحریم سے مستثنیٰ کیا گیا ہے، لہذا حرام اور نجس چیز سے علاج کرنا حرام نہیں ہے:
- حرام چیز سے علاج حرام نہ ہونے کی دلیل مسلم کی حضرت انس سے روایت ہے:
رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ رُخِّصَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ لِحِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا
"رسول اللہ ﷺ نے زبیر بن عوام اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کو خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی رخصت (اجازت) دی تھی۔" مردوں کے لیے ریشم پہننا حرام ہے، لیکن علاج کی غرض سے اسے جائز قرار دیا گیا۔ اسی طرح نسائی، ابو داؤد اور ترمذی کی حدیث ہے (الفاظ نسائی کے ہیں): عبد الرحمن بن طرفہ اپنے دادا عرفجہ بن اسعد سے روایت کرتے ہیں کہ "جاہلیت میں 'کلاب' کی جنگ کے دن ان کی ناک کٹ گئی تھی، انہوں نے چاندی کی ناک بنوائی تو وہ سڑ گئی، تو نبی ﷺ نے انہیں سونے کی ناک بنانے کا حکم دیا۔" مردوں کے لیے سونا حرام ہے، لیکن تداوی میں اسے جائز قرار دیا گیا۔
- نجس چیز سے علاج جائز ہونے کی دلیل بخاری کی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
أَنَّ نَاسًا اجْتَوَوْا فِي الْمَدِينَةِ فَأَمَرَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْحَقُوا بِرَاعِيهِ يَعْنِي الْإِبِلَ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَلَحِقُوا بِرَاعِيهِ فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا...
"کچھ لوگوں کو مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی (وہ بیمار ہو گئے) تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ آپ ﷺ کے اونٹوں کے چرواہے کے پاس چلے جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پیئیں۔ وہ چرواہے کے پاس چلے گئے اور انہوں نے ان کا دودھ اور پیشاب پیا۔۔۔" 'اجتووا' کا مطلب ہے کہ وہاں کی خوراک انہیں موافق نہ آئی اور وہ بیمار ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں تداوی کے طور پر 'پیشاب' کی اجازت دی جو کہ نجس ہے۔ چنانچہ امام بخاری نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ "ایک اعرابی نے اٹھ کر مسجد میں پیشاب کر دیا، لوگ اس کی طرف لپکے تو نبی ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر پانی کا ایک ڈول بہا دو، کیونکہ تم آسانی پیدا کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو نہ کہ تنگی پیدا کرنے کے لیے۔" 'سجلاً' اور 'ذنوباً' کا مطلب پانی سے بھرا ہوا ڈول ہے۔
4- اشیاء میں اصل اباحت ہے جب تک کہ تحریم کی دلیل نہ آ جائے، اس کے دلائل میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:
أَلَمْ تَرَوا أنَّ اللهَ سخَّرَ لَكُمْ مَا في السَّمواتِ ومَا في الأرْضِ
"کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے تمہارے لیے وہ سب کچھ مسخر کر دیا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔" (سورہ لقمان: 20)
أَلَمْ ترَ أَنَّ اللهَ سخَّرَ لكُمْ مَا في الأرض
"کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے تمہارے لیے وہ سب کچھ مسخر کر دیا ہے جو زمین میں ہے۔" (سورہ الحج: 65)
وسخّر لكم ما في السموات وما في الأرض جميعاً منه
"اور اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو اپنی طرف سے تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے۔" (سورہ الجاثیہ: 13)
ان نصوص سے واضح ہوتا ہے کہ شارع نے تمام اشیاء کو مباح کر دیا ہے، یعنی انہیں حلال کر دیا ہے۔ اشیاء میں اباحت کا مطلب حلال ہے، جو حرام کی ضد ہے۔ چنانچہ کسی چیز کو حرام کرنے کے لیے ایسی دلیل کی ضرورت ہے جو اسے اس اصل اباحت سے مستثنیٰ کر دے۔ اس طرح قاعدہ یہ ہے کہ اشیاء میں اصل اباحت ہے جب تک کہ تحریم کی دلیل نہ آ جائے۔
یہ قاعدہ 'افعال' (انسانی اعمال) سے مختلف ہے، کیونکہ افعال میں اصل قاعدہ یہ ہے کہ انہیں حکم شرعی تکلیفی اور وضعی (فرض، مندوب، سبب، شرط وغیرہ) کے تابع ہونا چاہیے، جیسا کہ اصولِ فقہ میں معلوم ہے۔
ان سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
اولاً: اگر آلودہ خون پر کیے جانے والے ٹیسٹ طبی ٹیسٹ ہیں یعنی بیماری کی تشخیص اور مناسب ادویات سے اس کے علاج کی معرفت کے لیے ہیں، تو یہ جائز ہے۔ لیکن اگر آلودہ خون پر ٹیسٹ کا تعلق بیماری کے علاج کے لیے دوا بنانے یا اس جیسی کسی ضرورت سے نہیں ہے، تو پھر یہ جائز نہیں ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ خون نجس اور حرام ہے، اور نجس و حرام سے فائدہ اٹھانا سوائے تداوی (علاج) کے حرام ہے۔
ثانیاً: اگر خون سے 'وائرس' کو الگ کرنا ادویات کے تجربات اور تحقیق کے لیے ہے تو یہ جائز ہے۔ یعنی اگر آلودہ خون کو لیبارٹری کے کاموں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ اس سے وائرس الگ کر کے اس پر ادویات کے تجربات کیے جائیں اور مناسب دوا معلوم کی جائے، تو یہ جائز ہے۔
لیکن اگر خون سے وائرس الگ کرنا علاج کے علاوہ کسی اور مقصد کے تجربات کے لیے ہے تو یہ جائز نہیں ہے، کیونکہ آلودہ خون نجس اور حرام ہے اور اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے۔
ثالثاً: وائرس بذاتِ خود پاک ہیں کیونکہ وہ ایسی چیز ہیں جس کی تحریم کی کوئی دلیل نہیں آئی، لہذا مذکورہ شرعی قاعدے کے مطابق وہ پاک ہیں۔ چنانچہ اگر وہ تنہا پائے جائیں یعنی خون سے آلودہ نہ ہوں، تو ان کی خرید و فروخت اور ان پر کوئی بھی سائنسی تحقیق کرنا جائز ہے۔ فطری طور پر یہ سائنسی تحقیق انسان کے نفع کے لیے ہونی چاہیے نہ کہ اسے نقصان پہنچانے کے لیے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
لا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ
"نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ کسی دوسرے کو نقصان پہنچاؤ۔"