عالم جلیل عطاء بن خلیل ابو الرشتہ، امیر حزب التحریر کے فیس بک پیج "فقہی" کے سائلین کے جوابات کا سلسلہ
جواب سوال
Agus Trisa کے نام
سوال:
Assalamu'alaikum wa rahmatullahi wa barakatuhu
May Allah always protect you and give you a lot of goodness..
I'd like to ask..
In the book of al-Shakhshiyyah al-Islamiyah juz 1 it is stated that the hadith ahad cannot be used as evidence. So that is the opinion adopted by the Hizb.
In fact, scholars often have different opinions about the quality of a hadith. Sometimes one cleric judges it to be valid, then other scholars judge it as weak.
So what is our attitude as a syabab regarding this؟
For the answers given, I say many thanks and may Allah reward you with the best regards.
Wassalamu 'alaikum wa Rahmatullahi wa Barakatuhu
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے اور آپ کو ڈھیروں بھلائیاں عطا فرمائے۔
میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں...
کتاب "شخصیت اسلامیہ" کے پہلے حصے میں ذکر کیا گیا ہے کہ خبرِ واحد (حدیثِ آحاد) کو دلیل نہیں مانا جاتا، اور یہی حزب کا اپنایا ہوا موقف ہے۔
حقیقت میں، اکثر احادیث کی صحت کے بارے میں علماء کی آراء مختلف ہوتی ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ایک عالم اسے صحیح قرار دیتا ہے جبکہ دوسرے علماء اسے ضعیف قرار دیتے ہیں۔
اس کی بنیاد پر، بطور شباب اس بارے میں ہماری کیا رائے ہونی چاہیے؟
جواب کے لیے میں آپ کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں، اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
جواب:
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
ہم نے اس مسئلے کی وضاحت "شخصیت اسلامیہ" کے پہلے حصے کے باب "شرعی احکام میں حدیث کو دلیل ماننے کا اعتبار" صفحہ 345 پر کر دی ہے، جہاں ہم نے کہا ہے:
[- شرعی احکام میں حدیث کو دلیل ماننے کا اعتبار:
عقیدے کی دلیل ایسی ہونی چاہیے جو یقینی اور قطعی الصحت ہو، اسی لیے خبرِ واحد عقیدے کی دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی، چاہے وہ روایت اور درایت کے لحاظ سے حدیثِ صحیح ہی کیوں نہ ہو۔ جہاں تک شرعی حکم کا تعلق ہے، تو اس کے لیے دلیل کا ظنی ہونا کافی ہے۔ اسی لیے جس طرح حدیثِ متواتر شرعی حکم کے لیے دلیل بن سکتی ہے، اسی طرح خبرِ واحد بھی شرعی حکم کے لیے دلیل بن سکتی ہے۔ تاہم خبرِ واحد جو شرعی حکم کے لیے دلیل بننے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہ حدیثِ صحیح اور حدیثِ حسن ہے۔ جہاں تک حدیثِ ضعیف کا تعلق ہے، تو وہ مطلقاً شرعی دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی، اور جو کوئی اس سے استدلال کرتا ہے، اسے شرعی دلیل سے استدلال کرنے والا نہیں سمجھا جائے گا۔ البتہ کسی حدیث کا صحیح یا حسن قرار پانا مستدل (دلیل لانے والے) کے نزدیک معتبر ہوتا ہے اگر وہ حدیث کی پہچان کی اہلیت رکھتا ہو، نہ کہ تمام محدثین کے نزدیک۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ راوی ایسے ہیں جو بعض محدثین کے نزدیک ثقہ (قابلِ اعتماد) ہیں اور بعض کے نزدیک ثقہ نہیں ہیں، یا بعض کے نزدیک مجہول ہیں اور بعض کے نزدیک معروف ہیں۔ اسی طرح کچھ احادیث ایسی ہیں جو ایک طریق سے صحیح نہیں ہوتیں لیکن دوسرے طریق سے صحیح ہوتی ہیں۔ کچھ ایسے طرق (راستے) ہیں جو بعض کے نزدیک صحیح نہیں اور دوسروں کے نزدیک صحیح ہیں۔ کچھ ایسی احادیث ہیں جنہیں بعض محدثین نے معتبر نہیں مانا اور ان پر جرح کی ہے، جبکہ دیگر محدثین نے انہیں معتبر مانا اور ان سے استدلال کیا ہے...
چنانچہ کسی حدیث پر جرح کرنے اور اسے رد کرنے میں اس وقت تک جلدی نہیں کرنی چاہیے جب تک کہ اس کا راوی عام طور پر مطعون (جس پر جرح کی گئی ہو) نہ ہو، یا وہ حدیث سب کے نزدیک مردود نہ ہو، یا اس سے صرف وہی فقہاء استدلال نہ کر رہے ہوں جنہیں حدیث کی سمجھ بوجھ (درایت) نہ ہو۔ ایسی صورت میں حدیث پر جرح کی جائے گی اور اسے رد کیا جائے گا۔ لہٰذا حدیث پر جرح کرنے یا اسے رد کرنے سے پہلے سوچ بچار اور بردباری سے کام لینا واجب ہے۔
راویوں اور احادیث کا کھوج لگانے والا شخص محدثین کے درمیان اس حوالے سے بہت زیادہ اختلاف پاتا ہے، اور اس کی مثالیں بکثرت موجود ہیں۔
مثال کے طور پر: ابو داؤد نے عمرو بن شعیب سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، ويَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَيُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، يَرُدُّ مُشِدُّهُمْ عَلَى مُضْعِفِهِمْ، وَمُتَسَرِّيهِمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ
"مسلمانوں کے خون برابر ہیں، ان میں سے ایک ادنیٰ شخص بھی ان کے ذمہ (امان) کی کوشش کر سکتا ہے، ان کا دور والا بھی ان کی طرف سے پناہ دے سکتا ہے، وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک ہاتھ کی طرح (متحد) ہیں، ان کا طاقتور اپنے کمزور کو (مالِ غنیمت میں سے حصہ) لوٹائے گا اور ان کا دستہ (جو جنگ پر گیا ہو) اپنے پیچھے بیٹھے ہوئے لوگوں کو حصہ دے گا۔"
اس حدیث کے راوی عمرو بن شعیب ہیں، اور "عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ" کی سند میں مشہور کلام (بحث) ہے، اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان کی حدیث سے استدلال کیا ہے اور دوسروں نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: محمد بن اسماعیل (امام بخاری) نے کہا کہ میں نے احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ اور دیگر کو دیکھا کہ وہ عمرو بن شعیب کی حدیث سے استدلال کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شعیب بن محمد نے عبداللہ بن عمر سے سماع کیا ہے۔ ابو عیسیٰ (ترمذی) فرماتے ہیں: جس نے عمرو بن شعیب کی حدیث پر کلام کیا ہے اس نے اسے صرف اس لیے ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ وہ اپنے دادا کے صحیفے سے روایت کرتے ہیں، گویا ان کی رائے یہ تھی کہ انہوں نے یہ احادیث اپنے دادا سے نہیں سنی تھیں۔ علی بن ابی عبداللہ المدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید نے کہا: ہمارے نزدیک عمرو بن شعیب کی حدیث کمزور (واہٍ) ہے۔ اس بنا پر، اگر کوئی شخص عمرو بن شعیب کی مروی حدیث سے کسی شرعی حکم پر استدلال کرتا ہے، تو اس کی دلیل شرعی دلیل مانی جائے گی کیونکہ عمرو بن شعیب ان لوگوں میں سے ہیں جن کی حدیث سے بعض محدثین کے نزدیک استدلال کیا جاتا ہے۔
ایک اور مثال دارقطنی میں حسن سے، انہوں نے عبادہ اور انس بن مالک سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
مَا وُزِنَ مِثْلٌ بِمِثْلٍ إِذَا كَانَ نَوْعاً وَاحِداً، وَمَا كَيْلَ فَمِثْلُ ذَلِكَ، فَإِذَا اخْتَلَفَ النَّوْعَانِ فَلَا بَأْسَ بِهِ
"جو چیز وزن کی جاتی ہے اگر وہ ایک ہی نوعیت کی ہو تو ان کی برابری ضروری ہے، اور جو ناپی جاتی ہے اس کا بھی یہی حکم ہے، لیکن جب اقسام بدل جائیں تو پھر (کمی بیشی میں) کوئی حرج نہیں۔"
اس حدیث کی سند میں ربیع بن صبیح ہیں، جنہیں ابو زرعہ نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ایک جماعت نے انہیں ضعیف کہا ہے۔ اس حدیث کو بزار نے بھی روایت کیا ہے اور اسے صحیح حدیث مانا گیا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی اس حدیث سے یا ایسی حدیث سے استدلال کرتا ہے جس کی سند میں ربیع بن صبیح ہوں، تو اس نے شرعی دلیل سے استدلال کیا ہے، کیونکہ یہ حدیث ایک گروہ کے نزدیک صحیح ہے اور ربیع ایک گروہ کے نزدیک ثقہ ہے۔ یہاں یہ نہیں کہا جائے گا کہ جب کسی شخص کی تعدیل اور جرح دونوں موجود ہوں تو جرح کو تعدیل پر فوقیت حاصل ہوتی ہے، کیونکہ یہ اصول تب ہوتا ہے جب وہ دونوں (جرح و تعدیل) ایک ہی شخص کی طرف سے ایک ہی راوی کے بارے میں ہوں، لیکن جب وہ دو الگ الگ اشخاص کی طرف سے ہوں، کہ ایک اسے جرح مانے اور دوسرا اسے جرح نہ مانے، تو (اس سے استدلال) جائز ہے۔ اسی لیے بعض راویوں کا بعض کے نزدیک معتبر ہونا اور دوسروں کے نزدیک نہ ہونا سامنے آتا ہے... وغیرہ]۔ اقتباس ختم۔
اس طرح محدثین کے درمیان احادیث، راویوں اور روایات کے طرق میں بہت زیادہ اختلاف واضح ہو جاتا ہے۔ یہ اختلاف محدثین، عام فقہاء اور بعض مجتہدین کے درمیان بھی پایا جاتا ہے۔ اگر اس اختلاف کی وجہ سے حدیث کو رد کر دیا جائے تو بہت سی ایسی احادیث رد ہو جائیں گی جو صحیح یا حسن مانی جاتی ہیں، اور اس طرح شرعی دلائل کی ایک بڑی تعداد ساقط ہو جائے گی، جو کہ جائز نہیں ہے۔ اسی لیے حدیث کو صرف اسی صورت میں رد کرنا چاہیے جب اس کی کوئی صحیح وجہ ہو جو عام محدثین کے نزدیک معتبر ہو، یا حدیث میں وہ شرائط پوری نہ ہو رہی ہوں جو حدیثِ صحیح اور حدیثِ حسن کے لیے ضروری ہیں۔ کسی بھی ایسی حدیث سے استدلال کرنا جائز ہے جو بعض محدثین کے نزدیک معتبر ہو اور حدیثِ صحیح یا حدیثِ حسن کی شرائط پر پوری اترتی ہو، اور اسے اس بات کی شرعی دلیل مانا جائے گا کہ وہ حکم ایک شرعی حکم ہے...۔
امید ہے کہ یہ وضاحت کافی ہوگی، اللہ سب سے بہتر جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
آپ کا بھائی عطاء بن خلیل ابو الرشتہ
13 ربیع الاول 1444ھ بمطابق 09/10/2022ء
امیرِ حزب (اللہ ان کی حفاظت فرمائے) کے فیس بک پیج سے جواب کا لنک: فیس بک
امیرِ حزب (اللہ ان کی حفاظت فرمائے) کی ویب سائٹ سے جواب کا لنک: ویب