Home About Articles Ask the Sheikh
سوال و جواب

روزہ کی قضا کے بارے میں فقہی آراء

May 13, 2019
7021

سلسلہ سوال و جواب: جلیل القدر عالم شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ، امیر حزب التحریر

اپنے فیس بک پیج کے صارفین کے سوالات کے جوابات میں

منجانب: Ig Purwantama

سوال:

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

اے ہمارے شیخ، میں اس بارے میں اللہ کا حکم جاننا چاہتا ہوں تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔

میں جہالت کے دور میں تھا اور میں نے بغیر کسی عذر کے جان بوجھ کر رمضان کے روزے چھوڑ دیے۔ پھر اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے مجھ پر رحم کیا اور مجھے توبہ کی توفیق دی۔

میں اپنے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کیسے کروں؟ کیا مجھ پر ہر سال کے لیے فدیہ ہے یا صرف قضا کافی ہے؟

امید ہے کہ آپ ان سوالات کے جواب دیں گے اے ہمارے شیخ۔

جواب:

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته،

میرے بھائی، آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ ایک عرصے تک بغیر کسی عذر کے جان بوجھ کر روزے نہیں رکھتے تھے، پھر ان سالوں کے بعد اللہ نے آپ کو صراطِ مستقیم کی ہدایت دی تو اب آپ روزے رکھتے ہیں اور انہیں ترک نہیں کرتے...

اور تقویٰ کے جذبے سے آپ رمضان کے ان مہینوں کی قضا کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے پہلے نہیں رکھے تھے۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے آپ کو حسنِ اطاعت کی ہدایت دی، یہاں تک کہ آپ صرف ہدایت پانے کے بعد روزے رکھنے پر ہی اکتفا نہیں کر رہے بلکہ آپ ان رمضانوں کی قضا کے بھی حریص ہیں جو آپ نے نہیں رکھے تھے۔ اللہ آپ کو برکت دے، آپ کی توبہ قبول فرمائے اور آپ پر اپنی نعمتیں اور رحمتیں نچھاور کرے۔

محترم بھائی، ہم عبادات میں کسی خاص رائے کو اختیار (تبنی) نہیں کرتے بلکہ یہ معاملہ مسلمان پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ روزہ، نماز وغیرہ میں کسی بھی مستند مکتہ فکر کی پیروی کرے۔ میں یہاں آپ کے سامنے روزہ کی قضا کے بارے میں کچھ فقہی آراء ذکر کروں گا، اور جس پر آپ کا سینہ کھل جائے اور آپ کا دل مطمئن ہو، آپ اس کی پیروی کر سکتے ہیں:

1- شافعی فقہ کی کتاب "نهاية المطلب في دراية المذهب" کے مصنف عبد الملک الجوینی، جو امام الحرمین (وفات: 478ھ) کے لقب سے مشہور ہیں، لکھتے ہیں:

"(جس شخص کے رمضان کے کچھ روزے چھوٹ جائیں اور وہ ان کی قضا کرنے پر قادر ہو، تو اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ ان کی قضا کو اگلے سال کے رمضان تک مؤخر کرے۔ ہم جو ذکر کر رہے ہیں وہ صرف مستحب نہیں بلکہ قدرت ہونے اور عذر ختم ہونے کی صورت میں ایسا کرنا لازم ہے۔ اگر قضا کو بغیر کسی عذر کے اگلے سال تک مؤخر کر دیا جائے، تو قضا کے ساتھ ساتھ ہر دن کے بدلے ایک مد کھانا (فدیہ) واجب ہے۔ اگر قضا کو دو یا کئی سال تک مؤخر کیا جائے، تو کیا فدیہ بھی کئی گنا ہو جائے گا؟ اس بارے میں دو رائیں ہیں: ایک یہ کہ فدیہ دوگنا نہیں ہوگا اور کئی سال کی تاخیر پر بھی وہی واجب ہوگا جو ایک سال کی تاخیر پر ہوتا ہے... اور زیادہ صحیح رائے یہ ہے کہ فدیہ متعدد ہوگا اور (سالوں کے حساب سے) نیا ہوتا جائے گا، لہٰذا ہر سال کی تاخیر کے بدلے ایک مد واجب ہوگا۔ اگر دو سال تاخیر کی تو ہر دن کی قضا کے ساتھ دو مد واجب ہوں گے، اور اسی طرح جتنا زیادہ ہوتا جائے گا؛ تو یہ فدیہ کا مقام ہے...)" اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے رمضان کے روزے نہیں رکھے، وہ اگلے رمضان سے پہلے ان کی قضا کرے، اور اگر اگلے رمضان کے آنے تک تاخیر ہو جائے تو اس پر قضا اور فدیہ دونوں لازم ہیں۔ ان کی ایک اور رائے یہ بھی ہے کہ اگر قضا میں مثلاً دو سال کی تاخیر ہو جائے تو قضا کے ساتھ دو فدیے واجب ہوں گے اور اسی طرح آگے بھی۔

2- حنبلی فقہ کی کتاب "كشاف القناع عن متن الإقناع" کے مصنف منصور بن یونس البہوتی (وفات: 1051ھ) لکھتے ہیں:

"(جس شخص سے رمضان کے پورے روزے چھوٹ جائیں، چاہے وہ مہینہ مکمل ہو یا نامکمل... وہ ان کی تعداد کے برابر قضا کرے۔ اور اس کی قضا میں تاخیر جائز ہے جب تک کہ اس کا وقت فوت نہ ہو جائے، اور وہ وقت دوسرے رمضان کے شروع ہونے تک ہے... لہٰذا بغیر کسی عذر کے اگلے رمضان تک اسے مؤخر کرنا جائز نہیں ہے... پس اگر اس نے اسے اگلے رمضان یا کئی رمضانوں تک مؤخر کیا تو اس پر قضا اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانا لازم ہے جو کفارے میں کافی ہو، اور رمضانوں کے متعدد ہونے سے فدیہ بار بار نہیں آئے گا؛ کیونکہ زیادہ تاخیر سے واجب میں اضافہ نہیں ہوتا، جیسے کہ اگر واجب حج کو کئی سال مؤخر کر دیا جائے تو اس کی ادائیگی سے زیادہ اس پر کچھ لازم نہیں ہوتا۔)"... اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کے رمضان کے روزے چھوٹ جائیں اور وہ اسے اگلے رمضان کے آنے سے پہلے قضا نہ کرے تو اس پر قضا اور فدیہ لازم ہے۔

3- جہاں تک امام ابو حنیفہ کے مسلک کا تعلق ہے، تو قضا میں کتنی ہی تاخیر کیوں نہ ہو جائے، صرف قضا ہی واجب ہے۔ اگر دوسرا رمضان آ جائے... تو وہ پچھلے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرے گا اور تاخیر کی وجہ سے اس پر کوئی فدیہ نہیں ہوگا:

  • امام سرخسی (وفات 483ھ) کی "المبسوط" (حنفی فقہ) میں آیا ہے:

قَالَ: رَجُلٌ عَلَيْهِ قَضَاءُ أَيَّامٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقْضِهَا حَتَّى دَخَلَ رَمَضَانُ مِنْ قَابِلٍ... وَعَلَيْهِ قَضَاءُ رَمَضَانَ الْمَاضِي وَلَا فَدِيَةَ عَلَيْهِ عِنْدَنَا وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَلْزَمُهُ مَعَ الْقَضَاءِ لِكُلِّ يَوْمٍ إطْعَامُ مِسْكِينٍ... وَلَنَا ظَاهِرُ قَوْله تَعَالَى

فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ

"تو دوسرے دنوں میں گنتی (پوری کرنا) ہے۔" (البقرہ: 184)

اور اس میں کوئی وقت مقرر نہیں ہے، اور دو رمضانوں کے درمیانی وقت کی قید لگانا ایک اضافہ ہوگا، پھر یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا وقتِ ادا تو مقرر ہے لیکن اس کی قضا کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے...

  • علاء الدین الکاسانی الحنفی (وفات: 587ھ) کی کتاب "بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع" میں آیا ہے:

"(... ہمارے اصحاب (احناف) کے نزدیک مذہب یہ ہے کہ قضا کا وجوب وقت کے ساتھ مقید نہیں ہے، کیونکہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ قضا کا حکم بعض اوقات کی تخصیص کے بغیر مطلق ہے، لہٰذا یہ اپنے اطلاق پر ہی رہے گا۔ اسی بنیاد پر ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ: اگر کسی نے رمضان کی قضا میں تاخیر کی یہاں تک کہ دوسرا رمضان آ گیا، تو اس پر کوئی فدیہ نہیں ہے۔)"۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ کے مسلک کے مطابق صرف قضا واجب ہے، فدیہ نہیں، یعنی وہ صرف ان مہینوں کی قضا کرے گا جن کے روزے اس نے نہیں رکھے۔

جیسا کہ میں نے شروع میں ذکر کیا، ہم عبادات میں "تبنی" نہیں کرتے بلکہ میں نے آپ کے سامنے احناف، شوافع اور حنبلی فقہاء کی کچھ آراء ذکر کر دی ہیں۔ آپ کا سینہ جس پر مطمئن ہو اس پر عمل کریں... اللہ آپ کو ان کاموں کی توفیق دے جو اسے پسند ہیں اور جن سے وہ راضی ہوتا ہے۔

امید ہے کہ یہ جواب کافی ہوگا، اور اللہ ہی سب سے زیادہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

آپ کا بھائی عطا بن خلیل ابو الرشتہ

08 رمضان 1440ھ مطابق 2019/05/13ء

امیرِ محترم (حفظہ اللہ) کے فیس بک پیج سے جواب کا لنک: فیس بک

امیرِ محترم (حفظہ اللہ) کی ویب سائٹ سے جواب کا لنک: ویب

مضمون شیئر کریں

اس مضمون کو اپنے نیٹ ورک کے ساتھ شیئر کریں