(سلسلہ جوابات عالم جلیل عطا بن خلیل ابو الرشتہ، امیر حزب التحریر، ان کے فیس بک پیج "فقہی" پر آنے والے سوالات کے جوابات)
سوال کا جواب
حکم کی علت
ابو نزار الشامی کے نام
سوال:
السلام علیکم، اللہ آپ کو برکت دے،
شیخ محترم میرا سوال یہ ہے کہ: کیا اس آیت مبارکہ سے حکم کی کوئی علت مستنبط ہوتی ہے؟
ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ
"یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انہیں ستایا نہ جائے۔" (سورۃ الاحزاب [33]: 59)
جواب:
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
یہ مبارک آیت جلباب کی فرضیت کی حکمت ہے نہ کہ حکم کی علت، اور اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
1- جیسا کہ ہم نے 10/07/2018 کے سوال کے جواب میں ذکر کیا تھا کہ اس آیت کے نزول کا سبب آزاد عورتوں کو لونڈیوں سے ممتاز کرنا تھا، کیونکہ لونڈیوں پر جلباب فرض نہیں تھا۔ بعض منافقین لونڈیوں کے ساتھ نامناسب گفتگو کرتے اور چھیڑ چھاڑ کرتے تھے، ان کا خیال تھا کہ لونڈیوں کو چھیڑنے پر سزا اتنی سخت نہیں ہے جتنی آزاد عورتوں کے لیے ہے۔ چنانچہ جب کسی آزاد عورت کے ساتھ ایسی حرکت سنی جاتی اور معاملہ عدالت میں پہنچتا تو وہ کہتا کہ میں نے اسے لونڈی سمجھا تھا تاکہ اس کی سزا میں تخفیف ہو جائے... چنانچہ یہ مبارک آیت نازل ہوئی تاکہ ان کا یہ عذر ختم کر دیا جائے، اور مومن آزاد عورتوں پر جلباب پہن کر لونڈیوں سے ممتاز ہونا فرض قرار دیا گیا تاکہ وہ اسے اپنے پیروں تک لٹکائیں، اور اس طرح وہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم نے انہیں لونڈی سمجھا تھا، اور ان کی سزا میں تخفیف کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے کیونکہ ان کے پاس اب کوئی حجت نہ تھی۔ ابن سعد نے "الطبقات" میں ابومالک سے روایت کی ہے کہ: "نبی کریم ﷺ کی بیویاں رات کے وقت اپنی ضرورت کے لیے باہر نکلتی تھیں تو منافقین میں سے کچھ لوگ انہیں ایذا پہنچاتے تھے، جب ان منافقین سے اس بارے میں کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم تو یہ لونڈیوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ
"اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انہیں ستایا نہ جائے۔" (سورۃ الاحزاب [33]: 59)
چنانچہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آزاد عورت کی پہچان لونڈی سے الگ ہو جائے، اور جلباب کو لٹکانا اسی پہچان کے لیے ہے:
ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ
"یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انہیں ستایا نہ جائے۔" (سورۃ الاحزاب [33]: 59)
یعنی اس کا مقصد یہ نہیں کہ ان کی ذاتی پہچان ہو جائے کہ وہ فلاں خاتون ہے۔ تفسیر قرطبی (244/14) میں آیا ہے: "اللہ تعالیٰ کا قول: (ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ) یعنی آزاد عورتیں، تاکہ وہ لونڈیوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہوں... اور ان کے بارے میں بدگمانیاں ختم ہو جائیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورت کی پہچان ہو جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وہ کون ہے۔"
2- علت اور حکمت کے درمیان فرق ہے: علت وہ سبب یا محرک ہے جس کی بنیاد پر قانون سازی کی جاتی ہے، اور اسے نص سے اخذ کیا جاتا ہے - جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ تاہم، کچھ نصوص ایسی ہوتی ہیں جن میں استعمال شدہ حروفِ تعلیل یا جملے کی ساخت کے لحاظ سے 'علت' کا مفہوم ظاہر ہوتا ہے، لیکن دیگر قرائن (چاہے وہ اسی نص میں ہوں یا کسی دوسری نص میں) اس تعلیل کے معنی کو معطل کر دیتے ہیں اور ایک دوسرا معنی دیتے ہیں جو کہ شارع کا وہ مقصود یا مقصد (الغایۃ) ہوتا ہے جسے وہ قانون سازی سے حاصل کرنا چاہتا ہے، نہ کہ وہ محرک جس کی وجہ سے وہ قانون بنا۔ اصطلاح میں اس مقصد یا نتیجے کو جو حکم سے شارع کے مقصود کو بیان کرے "حکمت" کہا جاتا ہے نہ کہ علت، کیونکہ یہ قانون سازی کا اصل محرک نہیں ہوتا۔
پس علت وہ ہوتی ہے جس کے ساتھ حکم اپنے وجود اور عدم (ہونے یا نہ ہونے) میں گھومتا ہے اور اس سے جدا نہیں ہوتا، جبکہ حکمت ایسی نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر:
لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ
"تاکہ وہ اپنے فائدوں کے لیے آ موجود ہوں۔" (سورۃ الحج [22]: 28)
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
"اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔" (سورۃ الذاریات [51]: 56)
إِنَّ الصَّلاَةَ تَنْهَى عَنْ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ
"بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔" (سورۃ العنکبوت [29]: 45)
ان نصوص کے اسالیب اپنے قرائن کے ساتھ، چاہے وہ اسی نص سے ہوں یا کسی اور نص سے، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہاں علت (قانون سازی کا محرک) کا مفہوم مراد نہیں ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ کبھی جدا نہ ہوتا۔ علت سے حکم کبھی جدا نہیں ہوتا، بلکہ حکم علت کے ساتھ ساتھ اپنے وجود اور عدم میں گردش کرتا ہے کیونکہ وہ اسی کے لیے مشروع کیا گیا ہے۔ جبکہ حکمت کبھی حاصل ہوتی ہے اور کبھی نہیں، یعنی یہ کبھی کبھار حکم سے جدا ہو سکتی ہے:
- (لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ) "تاکہ وہ اپنے فائدوں کے لیے آ موجود ہوں"... جبکہ بہت سے لوگ حج کرتے ہیں اور فائدے حاصل نہیں کرتے۔
- (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ) "اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں"... جبکہ مخلوق میں سے بہت سے لوگ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔
- (إِنَّ الصَّلاَةَ تَنْهَى عَنْ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ) "بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے"... جبکہ بہت سے لوگ نماز پڑھتے ہیں اور برائیوں سے باز نہیں آتے۔
اسی لیے اوپر دی گئی مثالوں کے بارے میں "حکمت" کہا جاتا ہے نہ کہ "علت"، کیونکہ حکم (نتیجہ) کبھی جدا بھی ہو سکتا ہے۔ یہی معاملہ ان تمام چیزوں کا ہے جنہیں حکمت کہا جانا درست ہے۔
3- اب ہم سوال میں مذکور آیتِ کریمہ پر غور کرتے ہیں:
الف- شرعی حکم اس حصے سے آتا ہے: (يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ) "وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں"، پس یہی دلیل ہے۔
ب- یہ واضح ہے کہ (ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ) "یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انہیں ستایا نہ جائے" قانون سازی کا اصل محرک (باعث) نہیں ہے، یعنی یہ جلباب کی فرضیت کی دلیل (علت) نہیں ہے، بلکہ یہ وہ نتیجہ ہے جو جلباب پہننے پر مرتب ہوتا ہے، یعنی یہ شارع کا وہ مقصود (الغایۃ) ہے جس کی طرف وہ قدم بڑھاتا ہے۔
ج- اور یہ نتیجہ کبھی ختم بھی ہو سکتا ہے، مثلاً ایک آزاد عورت جلباب پہنتی ہے لیکن وہاں کوئی لونڈیاں موجود نہیں ہیں جن سے اسے ممتاز ہونا ہو تاکہ اسے ایذا نہ پہنچائی جائے... (پھر بھی جلباب کا حکم باقی رہتا ہے)۔
د- اس طرح (ذَلِكَ أَدْنَى) اصولی اصطلاح میں "حکمت" ہے، علت نہیں ہے۔
یہ وہی ہے جو میں سمجھتا ہوں، اور اللہ سب سے زیادہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
آپ کا بھائی عطا بن خلیل ابو الرشتہ
07 جمادی الاول 1440ھ بمطابق 13/01/2019ء
امیر حزب التحریر کے فیس بک پیج سے جواب کا لنک: فیس بک
امیر حزب التحریر کے گوگل پلس پیج سے جواب کا لنک: گوگل پلس
امیر حزب التحریر کی ویب سائٹ سے جواب کا لنک: ویب