Home About Articles Ask the Sheikh
سوال و جواب

جوابِ سوال: "خراجی زمین میں اقطاع"

January 02, 2013
3118

سوال کا جواب

خراجی زمین میں اقطاع

سوال:

کتاب "الاموال" کے صفحہ 79 پر، نیچے سے ساتویں سطر سے تیسری سطر تک مندرجہ ذیل عبارت درج ہے: "اگر بنجر زمین ایسی ہو جسے پہلے کبھی کاشت نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی وہ کبھی آباد رہی ہو، یا وہ پہلے آباد اور زیر کاشت تھی پھر خراب ہو کر بنجر ہو گئی اس سے پہلے کہ اس پر خراج مقرر کیا جاتا، اور ریاست نے شرعی طریقے سے اس پر قبضہ کر کے اسے رعایا میں سے کسی فرد کو اقطاع (بطور جاگیر) دے دیا ہو، تو ایسی زمینوں پر وہی حکم لاگو ہو گا جو خراجی زمین میں احیائے موات (بنجر زمین آباد کرنے) پر لاگو ہوتا ہے۔ وہ مسلمان جسے یہ زمین اقطاع میں دی گئی ہو، اس کی منفعت اور رقبہ (اصل ملکیت) دونوں کا مالک ہو جائے گا اور اس پر اس کی نوعیت کے مطابق زکوٰۃ کے طور پر عشر یا نصف عشر واجب ہو گا۔" اقتباس ختم۔

اور سوال یہ ہے کہ: کیا اس عبارت میں 'خراجی' کی جگہ 'عشری' کا لفظ درست نہیں ہے جس کے نیچے لکیر لگی ہے؟

جواب:

  • ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو یہ الجھن اس لیے ہوئی کیونکہ آپ نے یہ سمجھ لیا کہ خراجی زمین میں بنجر زمین کو آباد کرنا، جس پر پہلے کبھی خراج مقرر نہ کیا گیا ہو، اسے 'عشری' بنا دیتا ہے۔ حقیقت ایسی نہیں ہے، بلکہ وہ مسلمان کے لیے تو عشری بن جاتی ہے، لیکن کافر کے حق میں وہ اپنی اصل کے اعتبار سے خراجی ہی رہتی ہے۔

رہی وہ بنجر زمینیں جن پر پہلے خراج مقرر کیا جا چکا ہو، تو انہیں دوبارہ آباد کرنا ان سے خراجی ہونے کی صفت کو ختم نہیں کرتا، خواہ آباد کرنے والا مسلمان ہو یا کافر۔

کتاب "الاقتصادی" کے صفحہ 133 - 134 پر مندرجہ ذیل تفصیل درج ہے:

"جس نے عشری زمین میں سے کسی بنجر زمین کو آباد کیا، وہ اس کے رقبے اور منفعت کا مالک بن جائے گا، خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر۔ مسلمان پر اس میں اگنے والی کھیتی اور پھلوں پر عشر واجب ہو گا، جو کہ ان فصلوں اور پھلوں کی زکوٰۃ ہے جن میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ نصاب کو پہنچ جائیں۔ رہا کافر، تو اس پر خراج واجب ہو گا، عشر نہیں، کیونکہ وہ زکوٰۃ دینے کا اہل نہیں ہے، اور اس لیے بھی کہ زمین کا کسی نہ کسی مالیاتی وظیفے (عشر یا خراج) سے خالی ہونا درست نہیں ہے۔

اور جس نے خراجی زمین میں سے ایسی بنجر زمین کو آباد کیا جس پر پہلے کبھی خراج مقرر نہ کیا گیا ہو، تو اگر وہ مسلمان ہے تو اس کے رقبے اور منفعت دونوں کا مالک بن جائے گا، اور اگر کافر ہے تو صرف اس کی منفعت کا مالک ہو گا۔ مسلمان پر اس صورت میں عشر واجب ہو گا اور اس پر کوئی خراج نہیں ہو گا۔ جبکہ کافر پر اس میں خراج واجب ہو گا، بالکل اسی طرح جیسے فتح کے وقت وہاں کے کافر باشندوں پر اس وقت مقرر کیا گیا تھا جب انہیں خراج کے عوض زمینوں پر برقرار رکھا گیا تھا۔

اور جس نے خراجی زمین میں ایسی بنجر زمین کو آباد کیا جس پر بنجر ہونے سے پہلے خراج مقرر کیا جا چکا تھا، تو وہ صرف اس کی منفعت کا مالک ہو گا، رقبے کا نہیں، خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر۔ اس پر اس زمین میں خراج دینا واجب ہو گا، کیونکہ اس پر یہ تعریف صادق آتی ہے کہ یہ ایسی مفتوحہ زمین ہے جس پر خراج مقرر کیا جا چکا ہے، لہذا اس پر خراج برقرار رہنا چاہیے، خواہ اس کا مالک مسلمان ہو یا کافر، یہ ہمیشہ کے لیے خراجی ہی رہے گی۔" اقتباس ختم۔

کتاب "المقدمہ" میں دفعہ 133 کی شرح میں درج ہے:

(جس نے خراجی زمین میں کسی ایسی بنجر زمین کو آباد کیا جس پر پہلے کبھی خراج مقرر نہیں ہوا تھا، تو وہ زمین عشری زمین «جس میں زکوٰۃ ہے» بن جائے گی بشرطیکہ اسے کسی مسلمان نے آباد کیا ہو، اور وہ خراجی زمین «جس پر خراج ہے» ہو گی اگر اسے آباد کرنے والا اہل ذمہ میں سے ہو۔

اور جس نے خراجی زمین میں ایسی بنجر زمین کو آباد کیا جس پر بنجر ہونے سے پہلے خراج مقرر کیا جا چکا تھا، تو وہ خراجی زمین ہی رہے گی، خواہ اسے آباد کرنے والا مسلمان ہو یا اہل ذمہ میں سے۔) اقتباس ختم۔

کتاب "الاموال" کے صفحہ 42 پر عشری زمینوں کے بیان میں درج ہے:

( ہر وہ بنجر زمین جسے کسی مسلمان نے آباد کیا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «من أحيا أرضاً ليست لأحد فهو أحقُّ بها»، اور اسے بخاری نے ان الفاظ میں روایت کیا ہے: «من أَعْمَر أرضاً ليست لأحدٍ فهو أحق»۔

مَنْ أَحْيَا أَرْضًا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا

"جس نے ایسی زمین کو آباد کیا جو کسی کی نہیں تھی، تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔" (بخاری)

اور یہ عشر، عشر ہی رہے گا اور خراج میں تبدیل نہیں ہو گا سوائے اس صورت کے جب کوئی کافر کسی مسلمان سے عشری زمین خرید لے۔ ایسی صورت میں اسے اس پر خراج ادا کرنا ہو گا، وہ عشر ادا نہیں کرے گا؛ کیونکہ عشر زکوٰۃ ہے اور کافر زکوٰۃ کا اہل نہیں ہے؛ کیونکہ یہ مسلمان کے لیے صدقہ اور پاکیزگی ہے، اور اس لیے بھی کہ زمین کا کسی مالیاتی وظیفے، عشر یا خراج سے خالی رہنا درست نہیں ہے۔) اقتباس ختم۔

بنا بریں، آپ کا یہ سوال کہ "کیا 'خراجی' کی جگہ 'عشری' کا لفظ درست نہیں ہے؟"، درست نہیں ہے بلکہ صحیح لفظ "خراجی" ہی ہے، کیونکہ یہاں بات خراجی زمین میں اقطاع کے بارے میں ہو رہی ہے جب وہ بنجر ہو اور اس پر پہلے خراج فرض نہ کیا گیا ہو۔

پس جس پیراگراف کے بارے میں آپ نے پوچھا ہے وہ اسی باب میں آیا ہے، اور اس سے چند سطریں پہلے یہ عبارت گزر چکی ہے: (اور رہا یہ معاملہ کہ اگر اقطاع خراجی زمین میں ہو - اور یہ وہ تمام زمینیں ہیں جو بزورِ شمشیر فتح ہوئیں جیسے عراق، شام اور مصر - تو دیکھا جائے گا...)، پھر اس نے تفصیل شروع کی ہے، لہذا موضوع خراجی زمین میں اقطاع کے حوالے سے ہے۔

یہ بات علم میں رہے کہ خراجی یا عشری زمین میں بنجر زمین کو آباد کرنا اسے عشری بنا دیتا ہے بشرطیکہ آباد کرنے والا مسلمان ہو۔

اور اگر آباد کرنے والا کافر ہو، تو خراجی زمین خراجی ہی رہتی ہے اور عشری زمین عشری ہی، لیکن وہ دونوں حالتوں میں خراج ادا کرے گا کیونکہ عشر زکوٰۃ ہے اور کافر کی طرف سے زکوٰۃ نہیں ہو سکتی، اور چونکہ زمین کسی مالیاتی وظیفے سے خالی نہیں رہتی، اس لیے کافر سے اس پر خراج لیا جائے گا۔

مضمون شیئر کریں

اس مضمون کو اپنے نیٹ ورک کے ساتھ شیئر کریں