(جلیل القدر عالم، امیر حزب تحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ کے فیس بک پیج "فقہی" پر آنے والے سوالات کے جوابات کا سلسلہ)
بنام: Hamzeh Shihadeh
سوال:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
شیخ تقی الدین (اللہ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے) کی کتاب "اصول فقہ" میں، اور اسی طرح ابن نجار (رحمہ اللہ) کی کتاب "الکوکب المنیر" اور عقیدہ و اصول کی دیگر کتب میں 'خبر' اور 'انشا' کے درمیان فرق بیان کیا گیا ہے۔ ان دونوں کتابوں میں طلاق اور ظہار کی مثال دی گئی ہے کہ یہ 'انشا' ہیں، جیسا کہ علامہ ابن نجار اور دیگر نے ذکر کیا ہے کہ اصل میں ظہار 'خبر' ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ: مجھے 'خبر' اور 'انشا' کے درمیان فرق سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے!!
جواب:
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
جی ہاں، "الشخصیہ" (جلد سوم) میں خبر اور انشا کے بارے میں ذکر ہوا ہے، اسی طرح "الکوکب المنیر" میں بھی اس کا ذکر ہے، اور طلاق و ظہار کے بارے میں بھی تذکرہ موجود ہے۔ اس مسئلے کی تفصیل درج ذیل ہے:
1- خبر وہ کلامِ مرکب ہے جو سچ یا جھوٹ (تصدیق یا تکذیب) کا احتمال رکھتا ہو، کیونکہ یہ کسی چیز کے بارے میں خبر دیتا ہے اور کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتا۔ جبکہ انشا وہ کلامِ مرکب ہے جو سچ یا جھوٹ کا احتمال نہیں رکھتا، بلکہ وہ اس بات کا احتمال رکھتا ہے کہ اسے پورا کیا جائے یا نہ کیا جائے، کیونکہ اس میں کسی چیز کے کرنے کا مطالبہ ہوتا ہے، وہ کسی چیز کی خبر نہیں دیتا۔
کلامِ مرکب کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک جملہ اسنادیہ ہو، یعنی مسند اور مسند الیہ پر مشتمل ہو، چاہے وہ جملہ اسمیہ ہو یا فعلیہ۔ کیونکہ لغت میں 'مرکب' وہ ہوتا ہے جس کا ایک جز، معنی کے ایک جز پر دلالت کرے۔ مثال کے طور پر "قام زید" (زید کھڑا ہوا)، یہ ایک جملہ فعلیہ ہے جو فعل اور فاعل سے مل کر بنا ہے، اور اس کا ہر جز یعنی "قام" اور "زید" جملے کے معنی کے ایک حصے پر دلالت کر رہا ہے۔ اسی طرح جملہ اسمیہ کی مثال "ہذا البیت جمیل" (یہ گھر خوبصورت ہے) ہے، جس کا ہر جز اس کے معنی کے ایک حصے پر دلالت کرتا ہے۔
پھر یہ کلامِ مرکب اگر سچ یا جھوٹ کا احتمال رکھتا ہو، یعنی وہ کسی واقعے کی خبر دے رہا ہو اور کسی چیز کا مطالبہ نہ کر رہا ہو، تو وہ 'خبر' کہلاتا ہے، جیسے: "جاء حسن من المدینۃ" (حسن شہر سے آگیا)۔ یہ ایسی خبر ہے جسے سچ یا جھوٹ قرار دیا جا سکتا ہے؛ آپ کے پاس موجود دلائل کی روشنی میں آپ حسن کے آنے کی تصدیق کر سکتے ہیں یا اسے جھٹلا سکتے ہیں، اور ساتھ ہی اس میں کسی چیز کا مطالبہ بھی نہیں پایا جاتا۔
لیکن اگر کلام سچ یا جھوٹ کا احتمال نہ رکھتا ہو اور کسی واقعے کی خبر نہ دے رہا ہو، بلکہ وہ پورا کیے جانے یا نہ کیے جانے کا احتمال رکھتا ہو (یعنی اس میں کسی کام کا مطالبہ ہو)، تو وہ 'انشا' کہلاتا ہے، جیسے: "قم فصلِّ" (اٹھو اور نماز پڑھو)۔ یہ ایسی خبر نہیں ہے جسے سچ یا جھوٹ کہا جائے، بلکہ یہ نماز پڑھنے کا ایک مطالبہ ہے۔ مخاطب اس مطالبے پر عمل کرتے ہوئے نماز پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا، یہ اس کے پاس موجود دلائل پر منحصر ہوگا۔
اسی طرح وہ مطالبہ (طلب) جو کلام کی اپنی ساخت (لغت کی وضع) سے سمجھ میں آئے، اگر وہ برتری کے پہلو سے ہو یعنی بڑے کی طرف سے چھوٹے کو دیا جائے (طلبِ حقیقی)، تو اسے 'امر' (حکم) کہا جاتا ہے، اور یہی شرعی احکام کے استنباط کا مقام ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہ اس نوعیت کا نہ ہو، جیسے استفہام (سوال)، التماس (درخواست)، تنبیہ، یا اسی کے تحت آنے والے دیگر اسالیب جیسے ترجی (امید) اور تمنی (خواہش) وغیرہ، تو یہ براہِ راست شرعی احکام کے استنباط کا محل نہیں ہوتے جب تک کہ ان کے ساتھ کوئی قرینہ موجود نہ ہو۔ یہ تمام تفصیلات "الشخصیہ" کے تیسرے حصے میں "کتاب و سنت کی اقسام - امر و نہی" کے باب میں موجود ہیں۔
2- یہ بحث تو لغت میں خبر اور انشا کی اصل کے اعتبار سے تھی، لیکن کبھی کبھار کسی قرینے کی وجہ سے 'خبر' کو 'طلب' (مطالبے) کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جسے فقہ میں "خبر بمعنی طلب" کہا جاتا ہے۔ جیسے اللہ سبحانہ و تعالی کا ارشاد ہے:
وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا
"اور اللہ ہرگز کافروں کے لیے مومنوں پر کوئی راستہ (غلبہ) نہیں بنائے گا۔" (سورۃ النساء: 141)
لغوی اعتبار سے یہ ایک 'خبر' ہے، لیکن یہاں یہ 'طلب' کا فائدہ دے رہی ہے، یعنی مسلمانوں پر حرام ہے کہ وہ کافروں کو اپنے اوپر غلبہ پانے کا کوئی موقع یا راستہ فراہم کریں۔ اسی طرح انشا کے بارے میں اوپر کی گئی گفتگو اس کی لغوی اصل کے اعتبار سے ہے، لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انشا سے مراد طلبِ حقیقی نہیں ہوتی، جیسے کہ (کاش کہ جوانی ایک دن لوٹ آئے)، یہ انشا ہے لیکن یہاں یہ طلبِ حقیقی کے لیے نہیں بلکہ صرف تمنا (خواہش) کے لیے ہے۔
شرعی احکام کا استنباط عام طور پر ان نصوص سے کیا جاتا ہے جو انشا کے صیغے میں ہوں اور طلب (مطالبے) کا فائدہ دیں، جیسے اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ
"اور نماز قائم کرو۔" (سورۃ البقرہ: 43)
اور کبھی کبھار ان خبروں سے بھی استنباط کیا جاتا ہے جو طلب کے معنی میں ہوں، جیسے اللہ تعالی کا ارشاد:
وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا
"اور اللہ ہرگز کافروں کے لیے مومنوں پر کوئی راستہ (غلبہ) نہیں بنائے گا۔" (سورۃ النساء: 141)
اور یہی وہ بات ہے جو "الشخصیہ" میں مذکور ہے: "...پھر یہ کہ کتاب و سنت میں سے ہر ایک خبر اور انشا میں منقسم ہوتا ہے، لیکن اصولی (فقیہ) انشا پر غور کرتا ہے نہ کہ خبروں پر، کیونکہ عام طور پر خبروں سے حکم ثابت نہیں ہوتا..."
یہ خبر اور انشا کے درمیان فرق ہے، اور اس بات کی وضاحت ہے کہ شرعی احکام کا استنباط زیادہ تر انشائی نصوص سے ہوتا ہے جو طلبِ حقیقی کا فائدہ دیتے ہیں، اور کبھی کبھار خبری نصوص سے بھی ہوتا ہے بشرطیکہ وہاں کوئی ایسا قرینہ ہو جو اسے طلب کے معنی میں کر دے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شرعی حکم کی تعریف یہ ہے: (شارع کا وہ خطاب جو بندوں کے افعال سے اقتضا (طلب)، وضع، یا تخییر (اختیار) کے طور پر متعلق ہو)۔ یعنی یہ بندوں سے کسی نہ کسی صورت میں ایک مطالبہ ہوتا ہے، لہذا اگر نص میں کوئی ایسی دلالت نہ ہو جو طلب کا فائدہ دے (جیسا کہ ہم نے اوپر واضح کیا)، تو وہ نص شرعی حکم کے استنباط کا محل نہیں بن سکتی۔
3- رہا آپ کا سوال طلاق اور ظہار کے بارے میں کہ کیا یہ خبر کے باب سے ہیں یا انشا کے، تو اس کی وضاحت درج ذیل ہے:
الف- طلاق:
"الشخصیہ" (جلد 3، صفحہ 161) میں آیا ہے: (عقود (معاہدوں) کے صیغے جیسے "بعتُ" (میں نے بیچا)، اور اسی طرح فسوخ (خاتمے) کے صیغے جیسے "فسختُ" (میں نے ختم کیا)، "اعتقٹُ" (میں نے آزاد کیا)، اور "طلقتُ" (میں نے طلاق دی) وغیرہ، لغت کے اعتبار سے 'اخبار' (خبر دینے) کے لیے ہیں، یعنی اپنی لغوی اصل میں یہ خبر ہیں نہ کہ انشا۔ لیکن شرع میں کبھی یہ خبر کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اور اگر یہ شرع میں کسی حکم کو پیدا کرنے (نافذ کرنے) کے لیے استعمال ہوں تو انہیں انشا کی طرف منتقل کر دیا جاتا ہے، پھر یہ خبر نہیں رہتے)۔
کتاب "الکوکب المنیر" میں مذکور ہے: (ہمارے مذہب اور اکثر علماء کے نزدیک صحیح دلیل یہ ہے کہ: عقد، فسخ اور اس جیسی دیگر چیزوں کے صیغے، جن کا معنی ان کے لفظ کے وجود کے ساتھ ہی جڑ جاتا ہے، جیسے "بیعتُ، اشتریتُ، اعتقٹُ، طلقتُ، فسختُ" وغیرہ، ان کے ذریعے احکام 'انشا' کے طور پر پیدا کیے جاتے ہیں)۔
"الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ" میں آیا ہے: (فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ طلاق کے صریح الفاظ وہ ہیں جو لفظ "طلاق" سے نکلے ہوں، چاہے لغوی طور پر ہوں یا عرفی، جیسے: "طلقتُکِ" (میں نے تجھے طلاق دی)، "انتِ طالق" (تو طلاق یافتہ ہے)، اور "مطلقہ"۔)
اس کا مطلب یہ ہے کہ عقد کے صیغے لغت کے اعتبار سے خبریں ہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص کپڑے بیچ رہا ہو اور آپ اسے کہیں کہ یہ کپڑا کتنے کا ہے، وہ کہے بیس کا، اور آپ کہیں "اشتریتُ" (میں نے خرید لیا)۔ لفظ "اشتریتُ" فعل ماضی ہے جو لغوی طور پر یہ خبر دے رہا ہے کہ خریدنے کا عمل ماضی میں مکمل ہو چکا ہے، حالانکہ اس وقت عقد (سودے) میں یہ فی الفور خریداری کے عمل کو 'انشا' (تخلیق) کر رہا ہے، نہ کہ ماضی کی۔ یعنی لفظ "اشتریتُ" لغت کے لحاظ سے ماضی کی خبر ہے لیکن یہاں اسے شرعی حکمِ بیع کو وجود میں لانے کے لیے 'انشا' کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ یہی مطلب ہے اس بات کا جو "الشخصیہ" میں کہی گئی کہ (اگر شرع میں کسی حکم کو پیدا کرنے کے لیے استعمال ہو تو وہ انشا کی طرف منتقل ہو جاتا ہے)۔
یہی معاملہ تمام عقود کے صیغوں کا ہے، مثلاً اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے کہے کہ "میں نے تجھے طلاق دی" (انّی طلقتُکِ)، تو لفظ "طلقتُکِ" فعل ماضی ہے جو ماضی میں وقوع پذیر ہونے والی طلاق کی خبر دیتا ہے، یعنی لغت کے اعتبار سے خبر ہے۔ لیکن جب اسے شرع میں حکمِ طلاق کے نفاذ کے لیے استعمال کیا جائے گا، تو یہ انشا کے معنی میں منتقل ہو جائے گا، وغیرہ۔
ب- ظہار
"مختصر التحریر شرح الکوکب المنیر" میں ذکر ہے کہ ظہار کے خبر یا انشا ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ علامہ قرافی کہتے ہیں: (ہو سکتا ہے یہ وہم ہو کہ یہ انشا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ظہار کرنے والے کے جھوٹ کی طرف تین بار اشارہ فرمایا ہے، اللہ کا ارشاد ہے:
مَا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنْكَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا وَإِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ
"وہ ان کی مائیں نہیں ہیں۔ ان کی مائیں تو صرف وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنا ہے، اور بے شک وہ ایک ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں، اور یقیناً اللہ معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔" (سورۃ المجادلہ: 2)
قرافی کہتے ہیں: ظہار اس لیے حرام ہے کیونکہ یہ جھوٹ ہے...)۔ لیکن علامہ برماوی کہتے ہیں: (ظاہر یہی ہے کہ یہ انشا ہے، کیونکہ بولنے والے کا مقصد اپنے خبری کلام کے ذریعے تحریم (حرام کرنے) کے حکم کو انشا کرنا (پیدا کرنا) ہوتا ہے۔ لہذا اس کے کلام کو جھٹلایا جانا اس کے خبری معنی پر وارد ہوا ہے، نہ کہ اس کے انشا کردہ حکمِ تحریم پر...)۔
جس بات کو میں ترجیح دیتا ہوں وہ یہ ہے کہ لغت کے اعتبار سے ظہار 'خبر' ہے، یہ درست ہے۔ لیکن یہاں شرع میں اسے ظہار کے حکم کو نافذ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے، چنانچہ اسے 'انشا' کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے۔ لہذا جب ایک آدمی اپنی بیوی سے کہتا ہے "تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے"، تو یہ صیغے کے اعتبار سے خبر ہے لیکن اس سے مقصود ایک حکم کو 'انشا' کرنا ہے، یعنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنا، نہ کہ محض اس کی خبر دینا۔
امید ہے کہ خبر اور انشا کا موضوع اب واضح ہو چکا ہوگا...
آپ کا بھائی عطا بن خلیل ابو الرشتہ
12 رمضان 1437ھ بمطابق 17 جون 2016ء
امیرِ حزب کے فیس بک پیج سے جواب کا لنک: facebook
امیرِ حزب کے گوگل پلس پیج سے جواب کا لنک: Googleplus
امیرِ حزب کے ٹویٹر پیج سے جواب کا لنک: Twitter
امیرِ حزب کی ویب سائٹ سے جواب کا لنک: الامیر