(جلیل القدر عالم، شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ، امیر حزب التحریر کے اپنے فیس بک پیج "فقہی" پر آنے والے سوالات کے جوابات کا سلسلہ)
ابو حسام کے نام
سوال:
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔۔۔ میں آپ سے اس مسئلے کی وضاحت چاہتا ہوں کہ نبی ﷺ نے مشرکینِ عرب کو اس حکم سے کیوں مستثنیٰ قرار دیا تھا جس کے تحت یمن کے کفار کو اپنے دین پر باقی رہنے کی اجازت دی گئی تھی؟ کیا ہم مشرکینِ عرب کے حق میں اس استثناء کو اس عمومی حکم کے لیے "قید" (رعایت) سمجھیں گے جو کتاب "الدولة الاسلامية" (اسلامی ریاست) کے ساتویں ایڈیشن، صفحہ 144 پر مذکور ہے: "آخری دو اصناف کو ان کے عقائد اور عبادات پر چھوڑ دیا جائے گا..." اور یہ دو اصناف اہل کتاب اور مشرکین ہیں؟ اسی طرح کیا یہ مجوزہ دستور کی دفعہ 27 کی شق (ب) کے لیے بھی ایک قید ہے؟ یا یہ استثناء صرف اس دور کی نسل کے لیے خاص تھا؟ میں ایک اور سوال کا اضافہ بھی کرنا چاہتا ہوں جو کتاب "الدولة الاسلامية" صفحہ 144 ہی سے متعلق ہے: "ریاست ان کے لیے انہی میں سے ایک قاضی مقرر کرتی ہے جو ریاست کی عدالتوں میں ان کے تنازعات دیکھتا ہے"، اور اسی کتاب کے صفحہ 146 کی شق (د) میں ہے: "... انہی میں سے قاضی ریاست کی عدالتوں میں ہوں گے، نہ کہ نجی عدالتوں میں"۔ براہِ کرم ان قاضیوں کے کام کی نوعیت اور ان کی حیثیت واضح فرما دیں؟ واضح رہے کہ میں نے آپ کو سوال بھیجنے سے پہلے "مقدمة الدستور" میں اس کی تلاش کی لیکن مجھے نہیں ملا۔ (یعنی کیا ریاست کی ایک ہی عدالت سے دو قسم کے فیصلے صادر ہو سکتے ہیں؟ ایک اسلام کے مطابق اور دوسرا کسی اور دین کے مطابق؟) آپ کے لیے بہت زیادہ احترام۔ آپ کا بھائی ابو بلال۔
جواب:
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ،
آپ کے دونوں سوالات کتاب "الدولة الاسلامية" (اسلامی ریاست) کے صفحہ 146 پر موجود درج ذیل عبارت سے متعلق ہیں:
"...یہ تو مسلمانوں کے متعلق ہے۔ جہاں تک غیر مسلموں کا تعلق ہے جو اسلامی عقیدے کے علاوہ کوئی دوسرا عقیدہ رکھتے ہیں، وہ درج ذیل ہیں:
4- مشرکین: یعنی بت پرست، صابئہ، مجوس، ہندو اور وہ تمام لوگ جو اہل کتاب میں سے نہیں ہیں۔
آخری دو اصناف (اہل کتاب اور مشرکین) کو ان کے عقائد اور عبادات پر چھوڑ دیا جائے گا، اور وہ نکاح و طلاق کے معاملات میں اپنے مذاہب کے مطابق چلیں گے، ریاست ان کے لیے انہی میں سے ایک قاضی مقرر کرے گی جو ریاست کی عدالتوں میں ان کے ان تنازعات کو دیکھے گا، رہا کھانے پینے اور لباس کا معاملہ تو ان کے ساتھ ان کے دین کے احکام کے مطابق معاملہ کیا جائے گا جو کہ عام نظام (یعنی وہ حدود جن کی شریعتِ اسلامی اجازت دیتی ہے) کے دائرہ کار میں ہوگا۔ غیر اہل کتاب کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو اہل کتاب کے ساتھ کیا جاتا ہے، نبی ﷺ نے مجوسیوں کے حق میں فرمایا:
سَنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ
"ان کے ساتھ اہل کتاب جیسا سلوک کرو۔"
رہی بات معاملات اور سزاؤں کی، تو وہ غیر مسلموں پر اسی طرح نافذ ہوں گے جیسے مسلمانوں پر نافذ ہوتے ہیں، لہٰذا غیر مسلموں پر سزائیں اسی طرح لاگو ہوں گی جیسے مسلمانوں پر ہوتی ہیں، اور غیر مسلموں کے معاملات (لین دین کے معاہدے) اسی طرح نافذ یا منسوخ ہوں گے جیسے مسلمانوں کے ہوتے ہیں، اس میں ایک شخص اور دوسرے کے درمیان کوئی تفریق یا امتیاز نہیں ہوگا...)"
اسی کتاب کے صفحہ 147 پر ہے:
"(خلاصہ یہ ہے کہ ریاست اپنی داخلی سیاست میں تمام شہریت رکھنے والوں (رعایا) پر اسلامی شرع نافذ کرے گی، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، اور اس کا نفاذ درج ذیل طریقے سے ہوگا:
د- غیر مسلموں کے درمیان نکاح و طلاق کے معاملات کا فیصلہ ان کے مذاہب کے مطابق انہی میں سے مقرر کردہ قاضی ریاست کی عدالتوں میں کریں گے نہ کہ نجی عدالتوں میں، اور ان کے اور مسلمانوں کے درمیان یہ معاملات مسلمانوں کے قاضی اسلام کے احکام کے مطابق طے کریں گے...)" اقتباس ختم۔
اسی طرح دفعہ 7 کی شق (ب) میں مذکور ہے:
(دفعہ 7 - ریاست تمام شہریت رکھنے والوں پر، خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، درج ذیل طریقے سے اسلامی شرع نافذ کرے گی: ب - غیر مسلموں کو ان کے عقائد اور عبادات پر عام نظام کے دائرہ کار میں چھوڑ دیا جائے گا) اقتباس ختم۔
آپ کے پہلے سوال کا جواب:
یہاں مشرکین سے مراد مشرکینِ عرب نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد عربوں کے علاوہ دیگر بت پرست ہیں جیسے بعض افریقی قبائل وغیرہ۔ ان لوگوں کو ان کا دین چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، اور ریاست ان کے ساتھ اہل کتاب جیسا معاملہ کرے گی، سوائے اس کے کہ نہ ان کا ذبیحہ کھایا جائے گا اور نہ ہی ان کی عورتوں سے نکاح کیا جائے گا۔۔۔ جہاں تک مشرکینِ عرب یعنی بت پرستوں کا تعلق ہے، تو ان کے بارے میں شرعی حکم یہ تھا کہ انہیں اسلام لانے یا قتل ہونے میں سے ایک کا اختیار دیا جائے گا۔ آج کے دور میں ان میں سے کوئی باقی نہیں رہا، بلکہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں ہی ختم ہو گئے تھے، چنانچہ اس وقت ان میں سے جو اسلام نہیں لایا، مسلمانوں نے اسے قتل کر دیا۔ ہم نے ان کے احکام کتاب "الشخصیة الاسلامیة" (اسلامی شخصیت) کے دوسرے حصے میں اس طرح بیان کیے ہیں:
"اور جہاں تک مشرکینِ عرب کا تعلق ہے، تو ان سے نہ صلح قبول کی جائے گی اور نہ ہی جزیہ (ذمہ)، بلکہ انہیں اسلام کی دعوت دی جائے گی، اگر وہ اسلام لے آئیں تو انہیں چھوڑ دیا جائے گا ورنہ ان سے قتال کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
سَتُدْعَوْنَ إِلَى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ
"عنقریب تمہیں ایک ایسی قوم کی طرف بلایا جائے گا جو سخت لڑاکا ہے، تم ان سے لڑو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے۔" (سورۃ الفتح: 16)
اس کا مطلب ہے کہ یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں۔ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جن سے رسول اللہ ﷺ قتال فرماتے تھے اور وہ عرب کے بت پرست تھے، پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر وہ اسلام نہ لائیں تو ان سے قتال کیا جائے گا۔ حسن (بصری) کی سند سے بھی روایت ہے کہ:
أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُقَاتِلَ الْعَرَبَ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُمْ غَيْرُهُ، وَأُمِرَ أَنْ يُقَاتِلَ أَهْلَ الْكِتَابِ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ
"رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ وہ عربوں سے اسلام لانے تک قتال کریں اور ان سے اس کے علاوہ کچھ قبول نہ کریں، اور آپ کو حکم دیا گیا کہ اہل کتاب سے اس وقت تک قتال کریں جب تک وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دے دیں۔"
ابو عبید کہتے ہیں: ہمارا خیال ہے کہ حسن بصری کی مراد یہاں عربوں سے ان کے بت پرست تھے جو اہل کتاب نہیں تھے، لیکن جو اہل کتاب تھے ان سے رسول اللہ ﷺ نے جزیہ قبول کیا تھا اور یہ بات احادیث میں واضح ہے۔ یہ ثابت نہیں ہے کہ نبی ﷺ نے عرب کے بت پرستوں میں سے کسی سے جزیہ لیا ہو، اور نہ ہی فتحِ مکہ اور سورہ توبہ کے نزول کے بعد ان سے اسلام یا جنگ کے سوا کچھ قبول کیا۔ اور جو یہ روایت کیا گیا ہے کہ آپ نے اہل عرب جیسے اہل یمن اور اہل نجران سے جزیہ لیا، تو وہ آپ نے وہاں کے اہل کتاب یعنی نصاریٰ اور یہود سے لیا تھا، عرب کے بت پرستوں سے نہیں لیا تھا۔" اقتباس ختم۔
آپ کے دوسرے سوال کا جواب:
رہی بات مذکورہ عبارت میں اس قول کی کہ: "...ریاست ان کے لیے انہی میں سے قاضی مقرر کرتی ہے جو ریاست کی عدالتوں میں ان کے ان تنازعات کو دیکھتا ہے..."، اور یہ قول کہ: "غیر مسلموں کے درمیان نکاح و طلاق کے معاملات کا فیصلہ ان کے مذاہب کے مطابق انہی میں سے مقرر کردہ قاضی ریاست کی عدالتوں میں کریں گے نہ کہ نجی عدالتوں میں..."، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلم قاضی ان کے درمیان ان کی شریعتوں کے مطابق فیصلے کریں گے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے درمیان فیصلہ انہی کے قاضیوں یعنی غیر مسلم قاضیوں کی جانب سے ہوگا، لیکن ان قاضیوں کے لیے الگ سے نجی عدالتیں نہیں بنائی جائیں گی، بلکہ ریاست کی عدالتی عمارتوں کے اندر ہی ان کے لیے عدالتی کمرے (چیمبرز) ہوں گے اور وہ انتظامی طور پر ریاست کی عدالتوں کے ماتحت ہوں گے۔ قاضیوں کے تقرر کا معاملہ ان پر نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ یہ ریاست کے انتظام کے تحت ہوگا، چنانچہ ریاست ہی ان کے لیے انہی میں سے ایسے قاضی مقرر کرے گی جو ان کے درمیان نکاح، طلاق اور اس سے متعلقہ معاملات میں فیصلے کریں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ریاست کی عدالتیں دو قسم کے فیصلے کرتی ہیں: ایک اسلامی اور دوسرا غیر اسلامی، بلکہ ریاست کی عدالتیں صرف اسلام کے مطابق فیصلہ کرتی ہیں، لیکن ان کے اندر ایسے کمرے (غرف) بنا دیے جاتے ہیں جو انتظامی طور پر اس کے تابع ہوتے ہیں، جن میں غیر مسلم قاضی غیر مسلموں کے درمیان پیدا ہونے والے نکاح و طلاق اور اس کے ملحقات کے تنازعات میں ان کے ادیان اور شریعتوں کے مطابق فیصلے کرتے ہیں، جیسا کہ شرع نے اس کی اجازت دی ہے۔
آپ کا بھائی، عطا بن خلیل ابو الرشتہ
امیر کے فیس بک پیج سے جواب کا لنک: فیس بک
امیر کی ویب سائٹ سے جواب کا لنک: امیر
گوگل پلس سے جواب کا لنک: گوگل پلس