(حزب التحریر کے امیر عالمِ جلیل عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کی فیس بک پیج کے وزٹرز کے سوالات کے جوابات کا سلسلہ)
محترم انیس لبیدی کے نام
سوال:
السلام علیک شیخنا الجلیل، اللہ آپ کی حفاظت اور نگہبانی فرمائے۔
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ مجموعی طور پر معیشت میں اسلامی ریاست کے سلطان (اختیار) کی کیا حد ہے اور پھر ٹیکس لگانے میں اس کا کتنا اختیار ہے (اور عموماً ٹیکسوں کی فقہی تکییف کیا ہے)؟
جواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
معیشت میں ریاست کی مداخلت اور ٹیکسوں کے بارے میں آپ کا سوال...
1- جہاں تک معیشت میں ریاست کی مداخلت کا تعلق ہے، تو اسلام کے معاشی نظام میں ریاست کے فرائض و حقوق اور عوام کے فرائض و حقوق کو ان شرعی احکام کے ذریعے متعین کر دیا گیا ہے جو حکمران اور رعایا دونوں کے اختیارات کو منظم کرتے ہیں۔ چونکہ معاشی نظام میں ملکیت (Ownership) کے ذرائع اور ان کے خرچ کرنے کے طریقے گہرا اثر ڈالتے ہیں، اس لیے اسلام نے ان ملکیتوں کی حدود متعین کی ہیں اور انہیں ہر قسم کے تجاوز سے محفوظ رکھا ہے۔ اسلام میں انفرادی ملکیت (Private Ownership)، ریاستی ملکیت (State Ownership) اور عوامی ملکیت (Public Ownership) کے الگ الگ دائرے ہیں اور کوئی ایک دوسرے کے دائرے میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ اس لیے ریاست کی اس طرز کی مداخلت جو آج کل رائج ہے—یعنی ریاست کسی کی انفرادی ملکیت کو ضبط کر کے اسے عوامی یا ریاستی ملکیت بنا دے، یا عوامی ملکیت کو انفرادی ملکیت میں تبدیل کر دے (جیسے پیٹرول اور معدنیات کا ٹھیکہ ملکی یا غیر ملکی نجی شعبے کو دے دینا)—یہ سب اسلام میں جائز نہیں ہے۔ بلکہ ہر کوئی اپنی ملکیت کی حدود میں رہے گا: افراد اپنی نجی ملکیت میں، ریاست اپنی ملکیت (جیسے غنائم اور خراج وغیرہ) میں، اور امت اپنی ملکیت (جیسے پیٹرول، معدنیات اور توانائی کے ذرائع) میں۔ چنانچہ اسلامی ریاست میں اس نوعیت کی مداخلتوں کا کوئی وجود نہیں ہے جو آج کے معاشی نظاموں میں رائج ہیں۔
2- جہاں تک ٹیکسوں (ضرائب) کا تعلق ہے، تو اسلام میں ایسے ٹیکسوں کا کوئی وجود نہیں جو لوگوں سے جبراً لیے جائیں۔ نبی کریم ﷺ رعایا کے معاملات کی تدبیر فرماتے تھے، لیکن آپ ﷺ سے یہ ثابت نہیں ہے اور نہ ہی کبھی روایت کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے لوگوں پر کوئی ٹیکس لگایا ہو۔ جب آپ ﷺ کو معلوم ہوا کہ ریاست کی سرحدوں پر بیٹھے لوگ ملک میں داخل ہونے والے تجارتی سامان پر ٹیکس لیتے ہیں تو آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔ عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ
"ٹیکس وصول کرنے والا (صاحبِ مکس) جنت میں داخل نہیں ہو گا۔" (احمد، حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے)
'صاحبِ مکس' وہ ہوتا ہے جو تجارت پر ٹیکس وصول کرتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس مفہوم میں ٹیکس لینا ممنوع ہے جو آج مغرب نے اصطلاحاً رائج کر رکھا ہے۔ مزید برآں، رسول اللہ ﷺ نے ابوبکرہؓ سے مروی متفق علیہ حدیث میں فرمایا:
إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا...
"بے شک تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس شہر میں، تمہارے اس مہینے میں، تمہارے اس دن کی حرمت ہے..."
یہ حکم عام ہے جو ہر انسان کو شامل ہے اور ریاست بھی اس میں شامل ہے۔ ٹیکس لینا کسی مسلمان کا مال اس کی دلی خوشی کے بغیر لینے کے مترادف ہے، جو اس کے عدمِ جواز کی دلیل ہے۔
لیکن ایک صورت ایسی ہے جسے شریعت تسلیم کرتی ہے اور اس میں ضرورت کے مطابق بغیر کسی اضافے کے مال لینے کی اجازت دیتی ہے، اور یہ مال صرف مالدار لوگوں سے ان کے فاضل مال (Surplus wealth) سے لیا جاتا ہے۔ یہ صورت تب ہوتی ہے جب کوئی ایسا خرچہ (نفقة) پیش آ جائے جو بیت المال اور مسلمانوں دونوں پر فرض ہو، اور بیت المال میں اس کے لیے رقم موجود نہ ہو، تو اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مالداروں کے فاضل مال سے ضرورت کے مطابق رقم لی جائے گی۔ لیکن اگر کوئی خرچہ صرف بیت المال پر فرض ہو اور مسلمانوں پر نہ ہو، تو بیت المال میں رقم نہ ہونے کی صورت میں مسلمانوں سے مال نہیں لیا جائے گا، بلکہ اس کا انتظام بیت المال ہی کے ذریعے کیا جائے گا۔
مثال کے طور پر، غریبوں کی بنیادی ضروریات جیسے کھانا، رہائش اور لباس فراہم کرنا ریاست پر بیت المال کے ذریعے فرض ہے، اور یہ مسلمانوں پر بھی فرض ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
وَأَيُّمَا أَهْلُ عَرْصَةٍ أَصْبَحَ فِيهِمْ امْرُؤٌ جَائِعٌ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُمْ ذِمَّةُ اللَّهِ تَعَالَى
"جس کسی بستی کے لوگوں نے اس حال میں صبح کی کہ ان میں کوئی شخص بھوکا تھا، تو ان سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ ختم ہو گیا۔" (احمد، بروایت ابن عمر)
پس اگر غریبوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیت المال میں رقم کافی نہ ہو، تو مسلمانوں کے مالداروں سے صرف ضرورت کے مطابق بغیر کسی اضافے کے رقم لی جائے گی۔
ایک اور مثال جہاد کی ہے، جو بیت المال پر بھی فرض ہے اور مسلمانوں پر بھی، جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
"اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو۔" (التوبہ [9]: 41)
اور فرمایا:
وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ
"اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والے۔" (النساء [4]: 95)
اس لیے جہاد کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی یہی معاملہ اختیار کیا جائے گا۔
چنانچہ اسلام میں ٹیکسوں کا کوئی وجود نہیں سوائے اس ایک صورت کے جس میں دو شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:
پہلی شرط: یہ کہ وہ خرچہ صریح شرعی دلائل کی بنا پر بیت المال اور مسلمانوں دونوں پر فرض ہو۔
دوسری شرط: یہ کہ بیت المال میں اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی رقم موجود نہ ہو۔
صرف اس صورت میں مالداروں کے فاضل مال سے ضرورت کے مطابق بغیر کسی اضافے کے رقم لی جائے گی۔ 'فاضل' سے مراد وہ مال ہے جو مالدار کی خوراک، لباس، رہائش، خادم، شادی، سواری اور اس جیسی دیگر بنیادی ضروریات سے زائد ہو، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ
"اور وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ کہہ دیجئے: جو ضرورت سے زائد (عفو) ہو۔" (البقرہ [2]: 219)
یعنی وہ مال جس کے خرچ کرنے میں کوئی مشقت نہ ہو، یعنی اس کی کفایت سے زائد ہو۔ اور رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
أفضلُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى
"بہترین صدقہ وہ ہے جو ضرورت پوری ہونے کے بعد (مالداری کی حالت میں) دیا جائے۔" (متفق علیہ، بروایت حکیم بن حزام اور ابوہریرہؓ)
'ظہر غنی' کا مطلب ہے وہ مال جو معروف طریقے سے اس کی اپنی ضروریات سے زائد ہو۔
خلاصہ یہ ہے کہ اسلام میں اس مخصوص صورت کے علاوہ کوئی ٹیکس نہیں ہے، اور وہ بھی صرف ضرورت کے مطابق بغیر کسی اضافے کے اور صرف مالداری کی حالت میں (یعنی ضرورت سے زائد مال سے) لیا جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں ایسی صورت حال بہت کم پیش آئی کیونکہ ریاست کے مستقل وسائل، جنہیں اسلام نے واضح کیا ہے، عام طور پر کافی ہوتے تھے۔ لیکن اگر ایسی صورت حال پیدا ہو جائے تو اوپر بیان کردہ طریقے کے مطابق ٹیکس لینا جائز ہے۔
آپ کا بھائی عطاء بن خلیل ابو الرشتہ
امیر کے فیس بک پیج پر اس جواب کا لنک: فیس بک
امیر کی ویب سائٹ پر اس جواب کا لنک: امیر
گوگل پلس پر امیر کے پیج پر اس جواب کا لنک: گوگل پلس