سلسلہ جواباتِ عالم، شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ، امیر حزب التحریر، اپنے فیس بک پیج کے سائلین کے سوالات کے جوابات
سوال کا جواب:
خلیفہ کے انتخاب کی مدت کے تعین کے بارے میں
احمد نظیف (Ahmad Nadhif) کے نام
سوال:
Assalamualaykum warahmatullahi wa barakatuhu.
Yaa sheikh, i would like to ask you a question about the 3 days deadline of nashbul khalifah after the retirement of the previous imam. It is stated in the ajhizah book that this time-span is based on umar radhiyallahu anhu's order to kill any among the six sahabas if they reject the agreement of the others after 3 days. My question is that there are some people who state that this riwayat taken from tarikh thabari is categorized as dha 'if. What do you say about it? Baarakallaahu fiik wa jazaaka khayran jazaa
جواب:
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا صحابہ کرامؓ کے لیے خلیفہ کے انتخاب کی مدت تین دن مقرر کرنا... یہ معاملہ صحابہ کرامؓ کی موجودگی میں ہوا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرامؓ کے ایک بڑے مجمع کے سامنے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا:
«صَلِّ بِالنَّاسِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَأَدْخِلْ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ وَالزُّبَيْرَ وَسَعْدًا وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَطَلْحَةَ إِنْ قَدِمَ... وَقُمْ عَلَى رُءُوسِهِمْ، فَإِنِ اجْتَمَعَ خَمْسَةٌ وَرَضُوا رَجُلًا وَأَبَى وَاحِدٌ فَاشْدَخْ رَأْسَهُ أَوِ اضْرِبْ رَأْسَهُ بِالسَّيْفِ...»
"لوگوں کو تین دن تک نماز پڑھاؤ، اور (مشورے کے لیے) علی، عثمان، زبیر، سعد، عبدالرحمن بن عوف اور اگر طلحہ آ جائیں تو انہیں (کمرے میں) داخل کرو... اور ان کے سروں پر کھڑے رہو، پس اگر پانچ افراد جمع ہو جائیں اور وہ کسی ایک شخص پر راضی ہو جائیں اور ایک اس سے انکار کرے تو اس کا سر قلم کر دو یا اسے تلوار سے مار دو..."
اسے ابن شبہ نے 'تاریخ المدینہ' میں، اور طبری نے اپنی تاریخ میں روایت کیا ہے، اور اسی طرح ابن سعد نے 'الطبقات الکبریٰ' میں نقل کیا ہے۔ حالانکہ یہ سب اہل شوریٰ اور کبار صحابہ میں سے تھے، اور یہ واقعہ صحابہ کرامؓ کی موجودگی اور ان کے علم میں ہوا، اور ان میں سے کسی ایک سے بھی اس کی مخالفت یا اس پر انکار منقول نہیں ہے۔ چنانچہ اس پر صحابہ کرامؓ کا اجماع منعقد ہوا کہ مسلمانوں کے لیے تین دن اور راتوں سے زیادہ خلیفہ کے بغیر رہنا جائز نہیں ہے۔ اور اجماعِ صحابہ کتاب و سنت کی طرح ایک شرعی دلیل ہے۔
اسی لیے مسلمانوں کو سابقہ خلیفہ کے بعد نئے خلیفہ کے انتخاب میں، جبکہ خلیفہ کا مقام خالی ہو چکا ہو، تین دن سے زیادہ کی مہلت نہیں دی جائے گی، سوائے اس کے کہ کوئی ایسے قاہرہ (زبردست) حالات ہوں جنہیں وہ دور کرنے کی قدرت نہ رکھتے ہوں، تو ایسی صورت میں ان سے گناہ ساقط ہو جائے گا کیونکہ وہ اس فرض کی ادائیگی میں مشغول تھے اور تاخیر پر مجبور کر دیے گئے تھے۔ ابن حبان اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إن الله وضع عن أمتي الخطأ، والنسيان، وما استُكْرِهوا عليه»
"بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا، بھول چوک اور جس پر انہیں مجبور کیا جائے (اس کا گناہ) اٹھا لیا ہے۔" (ابن ماجہ: 2043)
لیکن اگر وہ (نصبِ خلیفہ کے کام میں) مشغول نہ ہوں تو وہ سب کے سب گناہ گار ہوں گے یہاں تک کہ خلیفہ قائم ہو جائے، اور تب ان سے یہ فرض ساقط ہوگا۔ لیکن خلیفہ کے تقرر میں سستی کی وجہ سے انہوں نے جس گناہ کا ارتکاب کیا ہے وہ ان سے ساقط نہیں ہوگا بلکہ باقی رہے گا جس پر اللہ ان کا محاسبہ فرمائے گا، بالکل ویسے ہی جیسے کسی دوسرے فرض کے ترک کرنے پر اللہ گناہ گار کا محاسبہ فرماتا ہے۔
آپ کا بھائی عطا بن خلیل ابو الرشتہ
امیر کے فیس بک پیج سے جواب کا لنک: فیس بک لنک
امیر کی ویب سائٹ سے جواب کا لنک: امیر کی ویب سائٹ
امیر کے گوگل پلس پیج سے جواب کا لنک: گوگل پلس لنک