سوال:
کتاب الشخصية الإسلامية (اسلامی شخصیت)، جلد دوم، صفحہ 302 پر "درختوں پر لگے پھلوں کی بیع" کے عنوان کے تحت درج ہے: "... مسلم نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
مَنْ ابْتَاعَ نَخْلاً بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ
”جس نے کھجور کا ایسا درخت خریدا جس کی پیوند کاری (تعبیر) ہو چکی ہو، تو اس کا پھل بیچنے والے کا ہو گا، سوائے اس کے کہ خریدار (اس کے اپنے لیے ہونے کی) شرط رکھ دے۔“
اور احمد نے عبادہ بن صامت سے روایت کی ہے:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ تَمْرَ النَّخْلِ لِمَنْ أَبَّرَهَا إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ
”نبی ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ کھجور کے درخت کا پھل اسی کے لیے ہے جس نے اس کی پیوند کاری کی ہو، سوائے اس کے کہ خریدار شرط رکھ دے۔“
چنانچہ حدیث کے "منطوق" (الفاظ کے ظاہری مفہوم) سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ جس نے کھجور کا ایسا درخت بیچا جس پر پیوند شدہ پھل موجود ہو، تو وہ پھل بیع میں داخل نہیں ہوگا بلکہ بیچنے والے کی ملکیت میں رہے گا۔ اور اس کے "مفہوم" سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ اگر پھل پیوند شدہ نہ ہو تو وہ بیع میں داخل ہوگا اور خریدار کی ملکیت ہوگا۔ یہاں مفہوم سے مراد "مفہومِ مخالف" ہے، جو کہ یہاں "مفہومِ شرط" ہے۔" (اقتباس ختم)
ماہرینِ اصول (اصولیین) نے اس حدیث کو "مفہومِ صفت" کی بحث میں ذکر کیا ہے نہ کہ "مفہومِ شرط" کی بحث میں۔
تو پھر یہاں اسے "مفہومِ صفت" کے بجائے "مفہومِ شرط" کیوں کہا گیا ہے؟ براہِ کرم اس کی وضاحت فرما دیں؟
جواب:
اصولِ فقہ کے مسائل میں یہ ضروری ہے کہ زیرِ بحث مسئلے کا تمام پہلوؤں سے احاطہ کیا جائے! مثال کے طور پر، وہ حدیث جس پر سائل نے اپنی توجہ مرکوز کی ہے، وہ یہ ہے: "جس نے کھجور کا ایسا درخت خریدا جس کی پیوند کاری (تعبیر) ہو چکی ہو، تو اس کا پھل بیچنے والے کا ہو گا، سوائے اس کے کہ خریدار شرط رکھ دے" اور دوسری حدیث: "نبی ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ کھجور کا پھل اس کے لیے ہے جس نے اس کی پیوند کاری کی ہو، سوائے اس کے کہ خریدار شرط رکھ دے"۔ آپ نے ان کا ایک حصہ لیا اور اپنی بحث اسی پر مرکوز کر دی! آپ نے حدیث کا پہلا حصہ لیا اور اسی پر اکتفا کیا! اور اس کا مطالعہ اس اعتبار سے کیا کہ جھگڑا "مفہومِ شرط" (جس نے کھجور خریدی...) اور "مفہومِ صفت" (پیوند کاری ہونے کے بعد...) کے درمیان ہے۔ فطری طور پر یہاں "مفہومِ صفت" پر عمل کیا جائے گا، کیونکہ حکم کا دارومدار "تعبیر" (پیوند کاری) پر ہے، چنانچہ پیوند کاری سے پہلے کی بیع کا حکم، پیوند کاری کے بعد کی بیع سے مختلف ہے۔
جہاں تک "مَنْ ابْتَاعَ" (جس نے خریدا) یعنی "مَنْ لَمْ يَبْتَعْ" (جس نے نہیں خریدا) کے مفہومِ مخالف برائے شرط کا تعلق ہے، تو اس سے کوئی حکم متعلق نہیں ہوتا، کیونکہ اگر بیع ہی نہیں ہوئی تو کوئی حکم بھی نہیں ہوگا، کیونکہ ایسا کچھ ہوا ہی نہیں جس کے بارے میں ہم یہ سوال کریں کہ کھجوریں کس کی ہیں! لہٰذا، اگر حدیث صرف یہاں تک ہوتی: "جس نے کھجور کا ایسا درخت خریدا جس کی پیوند کاری ہو چکی ہو، تو اس کا پھل بیچنے والے کا ہے" اور دوسری حدیث: "نبی ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ کھجور کا پھل اس کے لیے ہے جس نے اس کی پیوند کاری کی ہو"، تو آپ کی یہ بات درست ہوتی کہ یہ "مفہومِ صفت" ہے۔ لیکن آپ نے حدیث کے آخری حصے میں موجود اہم بلکہ اہم ترین جزو کو نظر انداز کر دیا، جو کہ "استثنائے مشروط" (شرط کے ساتھ استثنا) ہے، یعنی شرط کے ساتھ مقید کرنا: "سوائے اس کے کہ خریدار شرط رکھ دے"۔ اگر آپ اس کا مطالعہ اور غور و فکر کرتے تو آپ پاتے کہ اس نے "مفہومِ صفت" کو معطل کر دیا ہے اور اب قابلِ عمل وہ "مفہومِ شرط" بن گیا ہے جو شرط کے ساتھ مقید کرنے سے حاصل ہوا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ "تعبیر" (پیوند کاری) کا ہونا یا نہ ہونا اس "استثنائے مشروط" کے آنے سے معطل ہو گیا ہے، کیونکہ اب اصل اعتبار "اشتراط" (شرط رکھنے) کا ہو گیا ہے۔ پس اگر خریدار یہ شرط رکھ دے کہ درخت اپنے پھل سمیت اس کا ہوگا، تو اس شرط کو نافذ کیا جائے گا، چاہے بیع درخت کی پیوند کاری سے پہلے ہوئی ہو یا بعد میں۔ اگر اس نے پیوند کاری سے پہلے درخت خریدا تو پھل اس کا ہے، اور اگر پیوند کاری کے بعد خریدا اور یہ شرط رکھ دی کہ پھل اس کا ہوگا تو وہ اس کا ہو جائے گا۔ پس دارومدار اس شرط پر ہے جو استثنائے مشروط سے پیدا ہو رہی ہے۔ چنانچہ اگر خریدار شرط رکھ دے تو درخت اپنے پھل سمیت اسی کا ہوگا، چاہے بیع پیوند کاری سے پہلے ہو یا بعد میں، یعنی "مفہومِ صفت" پر اب عمل نہیں ہوگا۔
ایسا لگتا ہے کہ آپ کو یہ التباس (غلط فہمی) دو وجوہات سے ہوا ہے:
اول: آپ نے یہ سمجھا کہ حدیث میں "مَنْ ابْتَاعَ" کے صیغے کے علاوہ کوئی شرط نہیں ہے، چنانچہ آپ نے اپنی بحث "مَنْ ابْتَاعَ" میں موجود "مفہومِ شرط" اور "بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ" میں موجود "مفہومِ صفت" پر مرکوز کر دی، تو آپ کو لگا کہ "مفہومِ صفت" ہی وہ چیز ہے جس سے دلیل قائم ہوتی ہے۔ لیکن آپ نے جملہ "إلا أن يشترط المبتاع" (سوائے اس کے کہ خریدار شرط رکھ دے) کو چھوڑ دیا اور اسے بحث میں شامل نہیں کیا، جس سے یہ جملہ آپ کی بحث کے دوران لغو (بے معنی) ہو کر رہ گیا! جیسا کہ الشخصية میں بھی ذکر ہے: "تو شرط کے ساتھ مقید کرنا لغو ہو جائے گا جس کا کوئی فائدہ نہیں رہے گا"۔
دوم: یہ کہ آپ شرط کو صرف "ادات" (حروفِ شرط) کے ذریعے ہی دیکھتے ہیں، نہ کہ اس کے ذریعے جو خود لفظِ "شرط" اور اس کے مشتقات کی صراحت ہو۔ حالانکہ یہ درست نہیں ہے، کیونکہ لفظِ "شرط" اور اس کے مشتقات بعض اوقات "ادات" (حرفِ شرط) کا مقام لے لیتے ہیں اور ان کا اپنا ایک مفہوم ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنے بیٹے سے کہیں: (میں تمہیں انعام دوں گا بشرطیکہ تم امتحان میں کامیاب ہو جاؤ)، تو اس کا ایک مفہوم ہے، یعنی (اگر لڑکا امتحان میں کامیاب نہیں ہوتا تو اسے کوئی انعام نہیں ملے گا)۔ یہاں "بشرطیکہ تم امتحان میں کامیاب ہو جاؤ" کے الفاظ "اگر تم امتحان میں کامیاب ہو جاؤ" کے معنی میں ہی ہیں۔
اسی بنا پر، حدیث میں "مفہومِ شرط" یہاں حرفِ شرط "مَنْ" سے نہیں لیا گیا، کیونکہ یہ "مفہومِ شرط" کے لحاظ سے حکم پر اثر انداز نہیں ہو رہا، بلکہ حکم پر جو چیز اثر انداز ہو رہی ہے وہ ہے "سوائے اس کے کہ خریدار شرط رکھ دے"۔ پس شرط کے ساتھ یہ استثنا، حرفِ شرط کے استعمال کے قائم مقام ہے، یعنی (اگر خریدار شرط رکھے تو اس کے لیے یہ ہے، اور اگر وہ شرط نہ رکھے تو اس کے لیے اس کا برعکس ہے...)۔
خلاصہ یہ کہ: شرط کے ساتھ استثنا کا اپنا ایک مفہوم ہوتا ہے، چاہے وہ حرفِ شرط کے بعد آئے جیسا کہ پہلی حدیث میں ہے جس کا معنی ہے: (جس نے خریدا، تو اس کے لیے یہ حکم ہے اگر خریدار شرط رکھے، اور اس کے لیے اس کے علاوہ حکم ہے اگر وہ شرط نہ رکھے)؛ یا وہ حرفِ شرط کے بغیر ہو جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے جس کا معنی ہے: (رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا اگر خریدار شرط رکھے، اور اس کے علاوہ فیصلہ فرمایا اگر خریدار شرط نہ رکھے)۔ اس استثنائے مشروط کا ذکر کرنا "مفہومِ شرط" کو ہی قابلِ عمل بنا دیتا ہے۔
رہی بات اس کی جو آپ نے اصولیین کی عبارت کے بارے میں ذکر کی، تو وہ صحیح ہے کیونکہ انہوں نے حدیث کا آخری حصہ ذکر نہیں کیا، بلکہ انہوں نے ایک عبارت وضع کی اور اس کا مطالعہ کیا جو کہ یہ ہے: "جس نے پیوند شدہ کھجور کا درخت بیچا تو اس کا پھل بیچنے والے کا ہے"۔ یہاں حکم کا دارومدار "تعبیر" (پیوند کاری) پر ہے، اس لیے یہاں قابلِ عمل مفہوم "مفہومِ صفت" ہے۔ اس طرح کے ادھورے جملے اصول کی کتابوں میں موجود ہیں، وہ کوئی عبارت یا حدیث کا مفہوم یا اس کا کوئی حصہ رکھ دیتے ہیں اور قاعدے کو اس پر لاگو کرتے ہیں۔ جیسا کہ ان کا قول: "چرنے والی بکریوں میں زکوٰۃ ہے"۔ حالانکہ حدیث اس طرح نہیں ہے بلکہ وہ ابو داؤد کی ایک لمبی حدیث ہے جو مویشیوں کی زکوٰۃ کے بارے میں ہے: "... اور چرنے والی بکریوں میں، جب وہ چالیس ہو جائیں، تو ان میں ایک بکری ہے..." اسے ابو داؤد نے ایک طویل حدیث میں روایت کیا ہے۔ اس میں شرط بالکل واضح ہے "جب وہ چالیس ہو جائیں"، لیکن ماہرینِ اصول نے شرط کو چھوڑ دیا کیونکہ ان کی بحث "مفہومِ صفت" میں تھی، اس لیے انہوں نے "چرنے والی بکریاں" پر اکتفا کیا اور اسے "چرنے والی بکریوں میں زکوٰۃ ہے" کی صورت میں ڈھال لیا اور اسے "مفہومِ صفت" کی مثال کے طور پر پیش کیا، یعنی اگر وہ چرنے والی نہ ہوں تو ان میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ جبکہ یہ معلوم ہے کہ یہاں "مفہومِ شرط" بھی قابلِ عمل ہے کیونکہ اگر وہ چالیس سے کم ہوں گی تو ان میں زکوٰۃ نہیں ہوگی چاہے وہ چرنے والی ہی کیوں نہ ہوں۔ اب اگر کوئی پوری حدیث ذکر کرے کہ "اور چرنے والی بکریوں میں جب وہ چالیس ہو جائیں تو ان میں ایک بکری ہے..." اور پھر کہے کہ یہاں صرف "مفہومِ صفت" قابلِ عمل ہے، تو اس کی بات درست نہیں ہوگی، بلکہ صحیح یہ کہنا ہوگا کہ یہاں "مفہومِ شرط" بھی اسی طرح قابلِ عمل ہے۔ لیکن اگر وہ اس کا ایک ٹکڑا لے کر ذکر کرے کہ "چرنے والی بکریوں میں زکوٰۃ ہے" اور کہے کہ "مفہومِ صفت" قابلِ عمل ہے، تو اس کا قول درست ہوگا لیکن صرف اس ادھورے متن کی حد تک، نہ کہ پوری حدیث کے اعتبار سے۔