Home About Articles Ask the Sheikh
سوال و جواب

سوال کا جواب: فعل "زال" پر "لا" کا داخل ہونا

September 22, 2016
6587

(عالمِ جلیل عطاء بن خلیل ابو الرشتہ، امیر حزب التحریر کے اپنے فیس بک پیج "فقہی" پر سائلین کے سوالات کے جوابات کا سلسلہ)

جواب سوال

تامر الحج محمد کے نام

سوال:

السلام علیکم ورحمة اللہ، پیج کے ایڈمن کے لیے ایک نوٹ: آپ نے لفظ "لا زال" استعمال کیا ہے، یہ مضارع (حال/مستقبل) کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا، جبکہ ماضی کے ساتھ اس کا معنی "زوال نہ ہونے کی دعا" بن جاتا ہے اور یہ عام غلطیوں میں سے ہے... درست استعمال مضارع میں "ما زال" اور "لا یزال" ہے۔ امید ہے کہ آپ میری تنقید قبول فرمائیں گے۔ آپ کی کوششیں مبارک ہوں، اللہ آپ کی حفاظت فرمائے اور ہمارے شیخ وقائد کی حفاظت فرمائے، انہیں عزت دے اور ان کی نصرت فرمائے۔

جواب:

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ،

فعل "زال" پر "لا" کے داخل ہونے کے بارے میں آپ کا نوٹ مجھے موصول ہوا جس میں آپ کا کہنا ہے کہ "لا نافیہ" فعل ماضی پر داخل نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ وہ دعا کے باب سے ہو۔ آغاز میں، یہ ایک اچھی بات ہے کہ نوجوان زبان (عربی) سے دلچسپی رکھیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ کسی بھی موضوع کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے۔ آپ کے نوٹ کے جواب میں، میں یہ کہتا ہوں:

1- فعل "زال" اور اس کا مضارع "یزال" دیگر افعالِ ماضی سے مختلف ہے، کیونکہ فعلِ ماضی "زال" پر "لا نافیہ" کا داخل ہونا وہی معنی دیتا ہے جو فعلِ مضارع "یزال" پر اس کے داخل ہونے سے حاصل ہوتا ہے۔ یعنی یہاں موضوع فعلِ ماضی پر "لا نافیہ" کا داخل ہونا نہیں رہتا بلکہ ایسا ہوتا ہے جیسے یہ فعلِ مضارع پر داخل ہوا ہو۔ پس جب آپ کہتے ہیں "لا زال فلان جالساً" تو ماضی کا معنی مضارع میں بدل جاتا ہے، گویا آپ کہہ رہے ہوں "لا یزال فلان جالساً"۔ فعل "زال" کی "لا نافیہ" کے ساتھ یہ خصوصیت دیگر افعالِ ماضی میں تقریباً نہیں پائی جاتی، اور میں یہاں صرف "زال-یزال" کی بات کر رہا ہوں۔ اس بنا پر، "لا نافیہ" کا "زال" پر داخل ہونا ایک عام داخلہ ہے جو دعا اور غیر دعا (خبر) دونوں کے لیے ہوتا ہے:

الف- جہاں تک دعا کا تعلق ہے تو جیسے آپ اپنے دوست سے کہیں: لا زلت بخیر (آپ ہمیشہ خیریت سے رہیں)۔

ب- اور غیر دعا (خبر) کے لیے، جیسا کہ حدیث میں ہے: ابو بکر الفریابی (متوفی 301ھ) نے اپنی کتاب "القدر" میں نافع سے، انہوں نے ابن عمرؓ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا: ام سلمہؓ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ:

لَا زَالَ يُصِيبُكَ فِي كُلِّ عَامٍ وَجَعٌ مِنْ تِلْكِ الشَّاةِ الْمَسْمُومَةِ الَّتِي أَكَلْتَ

"اس زہریلی بکری کی وجہ سے جو آپ ﷺ نے کھائی تھی، آپ کو ہر سال تکلیف پہنچتی رہی ہے۔"

آپ ﷺ نے فرمایا:

مَا أَصَابَنِي شَيْءٌ مِنْهَا إِلَّا وَهُوَ مَكْتُوبٌ عَلَيَّ وَآدَمُ فِي طِينَتِهِ

"اس (زہر) کا جو اثر بھی مجھے پہنچا ہے وہ مجھ پر (اسی وقت) لکھ دیا گیا تھا جب آدم (علیہ السلام) ابھی اپنی مٹی (کی تخلیق کے مراحل) میں تھے۔"

یہاں یہ واضح ہے کہ "لا زال" دعا کے لیے نہیں ہے۔

2- یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ لا زال کی خبر اس کے اسم کے ساتھ حالات کے تقاضے کے مطابق جڑی رہتی ہے، چاہے یہ وابستگی طویل ہو یا مختصر۔ احمد الحازمی اپنی کتاب "شرح الفية ابن مالك" (ابن مالک متوفی 672ھ) میں لکھتے ہیں: ("زال" اور اس کے اخوات کا معنی یہ ہے کہ یہ صفت کی موصوف کے ساتھ اس وقت سے وابستگی پر دلالت کرتے ہیں جب سے وہ اس کے قابل ہوا ہو۔ نحویوں کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ چاروں یعنی "زال، برح، فتئ، انفك" ایک ہی معنی میں ہیں جو صفت (جو کہ خبر ہے) کی موصوف (جو کہ اسم ہے) کے ساتھ وابستگی پر دلالت کرتے ہیں۔ لیکن ہر وابستگی جملے کے سیاق کے مطابق ہوتی ہے۔ "لا زال زيد عالماً" میں علم کے ساتھ متصف ہونے کی اصل یہ ہے کہ یہ اس کی بقا کی مدت تک ہے، جب سے اس نے علم کی خوشبو سونگھی اس کے مرنے تک، یہ اس میں اصل ہے۔ "لا زال زيد قائماً" یہ صفت ایک وقت میں ہوتی ہے اور دوسرے وقت میں ختم ہو جاتی ہے... "لا زال زيد صائماً" روزے کے وقت میں ہے، اور جب مغرب کا وقت آ جائے تو وقت ختم ہو گیا...) اقتباس ختم۔

جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، اہلِ زبان "لا زال" کو دعا اور غیر دعا دونوں کے لیے عام طور پر استعمال کرتے ہیں۔

2- دیگر افعالِ ماضی:

الف- ان پر "لا" داخل ہونے کی صورت میں اکثر دعا کا معنی ہی غالب ہوتا ہے، جیسے آپ دشمن کے خلاف بددعا کرتے ہوئے کہیں: لا نصره الله (اللہ اس کی مدد نہ کرے)۔

ب- ان کے ساتھ "لا" کا استعمال نفی کے لیے نادر (کم) ہے، کیونکہ ماضی واقع ہو چکا ہوتا ہے اس لیے اس کی نفی کا کوئی معنی نہیں رہتا۔ اس معاملے میں یہ "زال" سے مختلف ہیں، کیونکہ "زال" پر "لا نافیہ" کا داخل ہونا اسے مضارع میں بدل دیتا ہے اور وہ "لم یزل" کے معنی میں ہو جاتا ہے، جبکہ دیگر افعالِ ماضی "لا" کے داخل ہونے کے بعد بھی ماضی ہی رہتے ہیں، اسی لیے ان کا نفی کے لیے استعمال نادر ہے۔ لیکن یہ مخصوص صورتوں میں نفی کے لیے بھی آتے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

  • اگر یہ تکرار کے ساتھ آئیں تو نفی کے لیے ہوتے ہیں جیسے:

فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّى

"پس نہ اس نے تصدیق کی اور نہ ہی نماز پڑھی۔" (سورۃ القیامہ [75]: 31)

  • اگر ان سے پہلے "فا" آ جائے اور لفظی تکرار نہ ہو، تو یہ نفی اور تحضیض (ابھارنے) کے درمیان ہوتے ہیں اور ترجیح کے لیے قرینہ تلاش کیا جاتا ہے، جیسے:

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ

"پھر وہ گھاٹی میں داخل نہ ہوا۔" (سورۃ البلد [90]: 11)

اسے درج ذیل طریقوں سے سمجھا جا سکتا ہے:

  • نفی کے لیے، جیسا کہ "معانی القرآن" از الاخفش (متوفی 215ھ) میں آیا ہے: (اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا قول "فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ" یعنی پس وہ داخل نہیں ہوا)... اور جیسا کہ زمخشری (متوفی 538ھ) کی تفسیر "الکشاف" میں آیا ہے جہاں انہوں نے اسے نفی قرار دیا اور اسے معنی میں تکرار مانا ہے، وہ کہتے ہیں: (.. اگر تم کہو: ماضی پر داخل ہونے والا "لا" شاذ و نادر ہی تکرار کے بغیر آتا ہے، تو پھر افصح کلام (قرآن) میں یہ تکرار کے بغیر کیوں ہے؟ میں کہوں گا: یہ معنی میں مکرر ہے، کیونکہ "فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ" کا معنی ہے کہ نہ اس نے گردن آزاد کی اور نہ مسکین کو کھانا کھلایا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس نے 'عقبہ' (گھاٹی عبور کرنے) کی تفسیر اسی سے کی ہے...)... اور جیسا کہ "مغنی اللبیب" میں عبداللہ بن یوسف "ابن ہشام" (متوفی 761ھ) کہتے ہیں: (جہاں تک اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے قول "فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ" کا تعلق ہے، تو اس میں "لا" معنی میں مکرر ہے کیونکہ اس کا معنی ہے نہ اس نے گردن چھڑائی اور نہ کسی مسکین کو کھانا کھلایا، کیونکہ یہ 'عقبہ' کی تفسیر ہے جیسا کہ زمخشری نے کہا ہے)۔
  • تحضیض (ترغیب) کے لیے:
    • کسائی (متوفی 189ھ) کی کتاب "معانی القرآن" صفحہ 248 سورۃ القیامہ میں آیا ہے: (... اور اللہ تعالیٰ کا قول "فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ"... اس کا معنی ہے 'أفلا اقتحم العقبة' یعنی 'تو کیوں نہ وہ گھاٹی میں داخل ہوا'، یہاں الفِ استفہام حذف کر دیا گیا ہے)۔ اقتباس ختم۔
    • تفسیر "ابو محمد سہل التستری" (متوفی 283ھ) میں آیا ہے: (اللہ تعالیٰ کا قول: "فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ" فرمایا: یعنی 'تو کیوں نہ اس نے پل صراط اور اس سے پہلے کی گھاٹی کو پار کیا'...)۔ تفسیر طبری اور ابن کثیر میں بھی یہی معنی یعنی "ہلّا" (کیوں نہ) بیان ہوا ہے، اور قرطبی نے اپنی تفسیر میں دونوں معانی "لم" (نہیں) اور "ہلّا" (کیوں نہ) نقل کیے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ:

1- "لا" فعل "زال-یزال" پر دعا اور غیر دعا (خبر) دونوں کے لیے عام طور پر داخل ہوتا ہے۔

2- دیگر افعالِ ماضی پر "لا" بہت کم داخل ہوتا ہے کیونکہ ماضی واقع ہو چکا ہوتا ہے اور اس کی نفی کا (عموماً) کوئی معنی نہیں رہتا۔

3- لیکن یہ دیگر افعالِ ماضی پر مخصوص صورتوں میں داخل ہوتا ہے، انہی میں سے یہ صورتیں ہیں: جب اس میں تکرار ہو، یا اس سے پہلے "فا" آ جائے۔

4- اس بنا پر، ایڈمن کا یہ قول کہ "الصراع لا زال قائماً في تركيا" (ترکی میں کشمکش اب بھی قائم ہے) درست ہے۔

اس مسئلے میں میرا علم اسی قدر ہے اور ہر علم والے سے اوپر ایک بہت بڑا علم والا (اللہ) ہے۔

آپ کا بھائی عطاء بن خلیل ابو الرشتہ

19 ذو الحجہ 1437ھ بمطابق 2016/09/21ء

امیر کے فیس بک پیج سے جواب کا لنک: فیس بک

امیر کے گوگل پلس پیج سے جواب کا لنک: گوگل پلس

امیر کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے جواب کا لنک: ٹویٹر

امیر کی ویب سائٹ سے جواب کا لنک: امیر

مضمون شیئر کریں

اس مضمون کو اپنے نیٹ ورک کے ساتھ شیئر کریں