Home About Articles Ask the Sheikh
سوال و جواب

سوال کا جواب: کفر کے ساتھ حکومت کرنے والے حکمران کے انتخاب میں شرکت کا شرعی حکم

February 04, 2016
7347

P

**حزب التحریر کے امیر، جلیل القدر عالم شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ کے فیس بک پیج "فقہی" پر سائلین کے سوالات کے جوابات کا سلسلہ**

سوال کا جواب کفر کے ساتھ حکومت کرنے والے حکمران کے انتخاب میں شرکت کا شرعی حکم بنام: Mouadh Seif Elmi

سوال:

السلام علیکم شیخنا، میرا ایک سوال ہے: کیا یہ درست ہے کہ وہ صحابہ جنہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی، انہوں نے نجاشی کے ساتھ مل کر اس کے دشمن کے خلاف جنگ لڑی تھی اور وہ نجاشی کی فتح کے خواہش مند تھے اور اس کے غلبے پر خوش ہوئے تھے؟ کیونکہ اس واقعے سے تیونس میں بعض شیوخ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے جواز پر استدلال کرتے ہیں اور کم شر والی جماعتوں کو ووٹ دینے کی دعوت دیتے ہیں۔ شکریہ۔

جواب:

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،

جواب شروع کرنے سے پہلے میں اس بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں کہ مجتہد جب کسی بھی مسئلے میں شرعی حکم تلاش کرتا ہے، تو اس پر لازم ہے کہ مسئلے کے واقع (حقیقت) کو سمجھنے کے بعد، شرعی نصوص میں اس کے دلائل تلاش کرے، پھر اس سے متعلقہ دلائل پر غور و فکر کے بعد مسئلے کا شرعی حکم اخذ (استنباط) کرے... یہ درست نہیں ہے کہ پہلے مسئلے میں ایک رائے قائم کر لی جائے اور پھر اس کے بعد ایسے دلائل تلاش کیے جائیں جن سے اس رائے کو درست ثابت کیا جا سکے جس کی طرف وہ مائل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شرعاً مطلوب یہ ہے کہ "تحکیمِ شرع" کی جائے، یعنی حکم کو دلائل سے لیا جائے، نہ کہ پہلے "مجتہد" اپنی طرف سے ایک رائے دے اور پھر اس کے بعد اس قول کی تائید میں دلائل تلاش کرے۔ ایسا کرنا اتباعِ شرع نہیں ہے اور نہ ہی یہ شرعی حکم کی تلاش ہے، بلکہ یہ خواہشاتِ نفس (اتباعِ ہویٰ) کی پیروی ہے...

وہ شخص جو ان لوگوں کے اقوال پر نظر ڈالتا ہے جو کفر کے احکامات کے ذریعے حکمرانی کرنے والے نظاموں میں شرکت کو جائز قرار دیتے ہیں، اور جو ان حکمرانوں اور پارلیمانی ارکان کے انتخاب کو جائز قرار دیتے ہیں جو اللہ کی شریعت کے بغیر حکومت کرتے ہیں اور لوگوں کے لیے اللہ کی ہدایت کے بغیر وضعی قوانین بناتے ہیں، تو وہ پائے گا کہ یہ لوگ شرعی نصوص میں الٹ پھیر کرتے ہیں تاکہ کسی ایسی چیز تک پہنچ سکیں جو دلیل کے شبہ سے بھی کم تر ہو تاکہ اپنے قول کی تائید کر سکیں... تعجب کی بات تو یہ ہے کہ وہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ کے قطعی، متواتر اور مستفیض دلائل کو چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی رائے کی تخریج کے لیے ایسی چیزیں تلاش کرتے ہیں جو اس کے برابر بھی نہیں ہیں...

اب ہم سوال میں مذکور معاملے کا جواب دیتے ہیں:

سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہے جو اس بات پر دلالت کرے کہ صحابہ کرامؓ نے نجاشی کے ساتھ مل کر اس کے دشمن کے خلاف قتال کیا تھا۔ کتبِ سیرت میں اپنے دشمنوں کے خلاف نجاشی کے معاملے پر صحابہ کے موقف کے بارے میں روایات موجود ہیں، جو ایک دوسرے کے قریب قریب بلکہ ایک جیسی ہی ہیں۔ میں سائل کے لیے یہاں امام احمد بن حنبل کی مسند سے ایک روایت پیش کرتا ہوں، جس میں مسلمانوں کا نجاشی کے ساتھ قصہ اور نجاشی کے ان کے ساتھ انصاف کا ذکر کرنے کے بعد درج ذیل الفاظ ہیں:

(... وَأَقَمْنَا عِنْدَهُ بِخَيْرِ دَارٍ مَعَ خَيْرِ جَارٍ. قَالَتْ: فَوَاللهِ إِنَّا عَلَى ذَلِكَ إِذْ نَزَلَ بِهِ - يَعْنِي مَنْ يُنَازِعُهُ فِي مُلْكِهِ - قَالَ: فَوَاللهِ مَا عَلِمْنَا حُزْنًا قَطُّ كَانَ أَشَدَّ مِنْ حُزْنٍ حَزِنَّاهُ عِنْدَ ذَلِكَ، تَخَوُّفًا أَنْ يَظْهَرَ ذَلِكَ عَلَى النَّجَاشِيِّ، فَيَأْتِيَ رَجُلٌ لَا يَعْرِفُ مِنْ حَقِّنَا مَا كَانَ النَّجَاشِيُّ يَعْرِفُ مِنْهُ. قَالَتْ: وَسارَ النَّجَاشِيُّ وَبَيْنَهُمَا عُرْضُ النِّيلِ، قَالَتْ: فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ e: مَنْ رَجُلٌ يَخْرُجُ حَتَّى يَحْضُرَ وَقْعَةَ الْقَوْمِ ثُمَّ يَأْتِيَنَا بِالْخَبَرِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ: أَنَا، قَالَتْ: وَكَانَ مِنْ أَحْدَثِ الْقَوْمِ سِنًّا، قَالَتْ: فَنَفَخُوا لَهُ قِرْبَةً، فَجَعَلَهَا فِي صَدْرِهِ ثُمَّ سَبَحَ عَلَيْهَا حَتَّى خَرَجَ إِلَى نَاحِيَةِ النِّيلِ الَّتِي بِهَا مُلْتَقَى الْقَوْمِ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى حَضَرَهُمْ. قَالَتْ: وَدَعَوْنَا اللهَ لِلنَّجَاشِيِّ بِالظُّهُورِ عَلَى عَدُوِّهِ، وَالتَّمْكِينِ لَهُ فِي بِلادِهِ، وَاسْتَوْسَقَ عَلَيْهِ أَمْرُ الْحَبَشَةِ، فَكُنَّا عِنْدَهُ فِي خَيْرِ مَنْزِلٍ، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ e، وَهُوَ بِمَكَّةَ)

"اور ہم اس کے پاس بہترین گھر میں اور بہترین پڑوسی کے ساتھ رہے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اسی حال میں تھے کہ ایک شخص اس (نجاشی) سے اس کی سلطنت چھیننے کے لیے نکلا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں کبھی اتنا غم نہیں ہوا جتنا اس وقت ہوا، اس خوف سے کہ کہیں وہ شخص نجاشی پر غالب نہ آ جائے اور پھر ایسا شخص آ جائے جو ہمارے حقوق کو اس طرح نہ پہچانے جس طرح نجاشی پہچانتا تھا۔ انہوں نے کہا: نجاشی (دشمن کے خلاف) نکلا اور ان دونوں کے درمیان نیل کی چوڑائی حائل تھی۔ انہوں نے کہا: تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے کہا: کون ایسا شخص ہے جو جائے اور لوگوں کی لڑائی کے مقام پر حاضر ہو کر ہمیں خبر لا کر دے؟ انہوں نے کہا: تو زبیر بن العوامؓ نے کہا: میں جاؤں گا، اور وہ ان سب میں عمر میں سب سے چھوٹے تھے۔ انہوں نے ان کے لیے ایک مشک میں ہوا بھری، جسے انہوں نے اپنے سینے سے لگا لیا اور نیل میں تیرتے ہوئے نیل کے اس کنارے پہنچ گئے جہاں لوگوں کا آمنا سامنا تھا۔ پھر وہ وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا: اور ہم نے اللہ سے نجاشی کے لیے اس کے دشمن پر فتح اور اس کے ملک میں اسے اقتدار ملنے کی دعا کی، اور حبشہ کا معاملہ اس کے لیے درست ہو گیا۔ پس ہم اس کے پاس بہترین مقام پر رہے یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے اور آپ ﷺ اس وقت مکہ میں تھے۔" (مسند احمد)

ابن کثیر کی "البدایۃ والنہایۃ" میں درج ذیل الفاظ آئے ہیں:

(... قَالَتْ: فَأَقَمْنَا مَعَ خَيْرِ جَارٍ فِي خَيْرِ دار، فلم نشب أَنْ خَرَجَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْحَبَشَةِ يُنَازِعُهُ في مِلْكِهِ، فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْنَا حُزْنًا حَزِنَّا قَطُّ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ، فَرَقًا مِنْ أَنْ يَظْهَرَ ذَلِكَ الْمَلِكُ عَلَيْهِ فَيَأْتِي مَلِكٌ لَا يَعْرِفُ مِنْ حقنا ما كان يعرفه، فجعلنا ندعو اللَّهَ وَنَسْتَنْصِرُهُ لِلنَّجَاشِيِّ فَخَرَجَ إِلَيْهِ سَائِرًا فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ e بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: مَنْ يَخْرُجُ فَيَحْضُرُ الْوَقْعَةَ حَتَّى يَنْظُرَ عَلَى مَنْ تَكُونُ؟ وَقَالَ الزُّبَيْرُ - وَكَانَ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا - أَنَا، فَنَفَخُوا لَهُ قِرْبَةً فَجَعَلَهَا فِي صَدْرِهِ، فَجَعَلَ يَسْبَحُ عَلَيْهَا فِي النِّيلِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ شِقِّهِ الْآخَرِ إِلَى حَيْثُ الْتَقَى النَّاسُ، فَحَضَرَ الْوَقْعَةَ فَهَزَمَ اللَّهُ ذَلِكَ الْمَلِكَ وَقَتَلَهُ، وَظَهَرَ النَّجَاشِيُّ عَلَيْهِ. فَجَاءَنَا الزُّبَيْرُ فَجَعَلَ يُلَوِّحُ لَنَا بِرِدَائِهِ وَيَقُولُ أَلَا فَأَبْشِرُوا، فَقَدْ أَظْهَرَ اللَّهُ النَّجَاشِيَّ. قُلْتُ: فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْنَا [أَنَّنَا] فَرِحْنَا بِشَيْءٍ قَطُّ فَرَحَنَا بِظُهُورِ النَّجَاشِيِّ ثُمَّ أَقَمْنَا عِنْدَهُ حَتَّى خَرَجَ مَنْ خَرَجَ مِنَّا إِلَى مَكَّةَ، وَأَقَامَ مَنْ أَقَامَ.)

"...انہوں نے کہا: پس ہم بہترین پڑوسی کے ساتھ بہترین گھر میں رہے۔ ابھی کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ حبشہ کا ایک شخص اس سے سلطنت چھیننے کے لیے نکلا، تو اللہ کی قسم! ہمیں کبھی اتنا غم نہیں ہوا جتنا اس وقت ہوا، اس خوف سے کہ کہیں وہ بادشاہ اس پر غالب نہ آ جائے اور پھر ایسا بادشاہ آ جائے جو ہمارے حق کو اس طرح نہ پہچانے جیسے وہ پہچانتا تھا، چنانچہ ہم اللہ سے دعا کرنے لگے اور نجاشی کے لیے نصرت مانگنے لگے۔ پس وہ (نجاشی) اس کی طرف نکلا، تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے ایک دوسرے سے کہا: کون نکلے گا اور جنگ کے میدان میں حاضر ہوگا تاکہ دیکھے کہ غلبہ کس کا ہوتا ہے؟ زبیرؓ نے کہا—اور وہ سب سے کم عمر تھے—میں جاؤں گا۔ انہوں نے ان کے لیے ایک مشک پھولائی تو انہوں نے اسے اپنے سینے پر رکھا اور نیل میں اس کے سہارے تیرنے لگے یہاں تک کہ اس کے دوسرے کنارے پہنچ گئے جہاں لوگ ایک دوسرے کے سامنے تھے۔ پس وہ لڑائی کے وقت وہاں موجود تھے، پھر اللہ نے اس (باغی) بادشاہ کو شکست دی اور اسے قتل کر دیا اور نجاشی اس پر غالب آگیا۔ پھر زبیر ہمارے پاس آئے اور اپنی چادر سے ہمیں اشارہ کرنے لگے اور کہنے لگے: سنو! خوش ہو جاؤ، اللہ نے نجاشی کو فتح دے دی ہے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں کسی بھی چیز سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی نجاشی کے غالب آنے پر ہوئی، پھر ہم اس کے پاس ٹھہرے رہے یہاں تک کہ ہم میں سے جو مکہ نکلنا چاہتے تھے نکل گئے اور جو ٹھہرنا چاہتے تھے ٹھہر گئے۔"

ان لوگوں نے کہاں سے یہ بات لے لی کہ کفر کے ساتھ حکومت کرنے والے حکمران کے انتخاب میں شرکت کرنا اور پارلیمان میں داخل ہو کر اللہ کے سوا قانون سازی کرنے والی جماعتوں کو منتخب کرنا جائز ہے؟ انہوں نے اس کے جواز کی بات کہاں سے لی، حالانکہ روایات میں یہ نہیں ہے کہ صحابہ نے لڑائی میں شرکت کی، اور نہ ہی ان کا کسی معاملے میں کوئی فیصلہ کن کردار تھا، بلکہ وہ تو وہاں کمزور (مستضعف) تھے، اور انہوں نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا کہ اپنے میں سے سب سے کم عمر شخص کو خبریں لانے کے لیے بھیجا کہ دیکھیں غلبہ کس کا ہوتا ہے:

  • "تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے کہا: کون ایسا شخص ہے جو جائے اور لوگوں کی لڑائی کے مقام پر حاضر ہو کر ہمیں خبر لا کر دے؟"

  • "رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے ایک دوسرے سے کہا: کون نکلے گا اور جنگ کے میدان میں حاضر ہوگا تاکہ دیکھے کہ غلبہ کس کا ہوتا ہے؟"

اصل معاملہ تو یہ تھا کہ صحابہ کرامؓ چاہتے تھے کہ نجاشی اپنے دشمن پر غالب آئے کیونکہ وہ ایک عادل بادشاہ تھا جس کے پاس کسی پر ظلم نہیں ہوتا تھا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بتایا تھا اور جیسا کہ انہوں نے خود بھی دیکھا تھا... اور اس خوف سے کہ کہیں اس کا دشمن نہ جیت جائے جو شاید ان کے ساتھ وہ انصاف نہ کرے جو نجاشی نے کیا تھا:

"... اللہ کی قسم! ہمیں کبھی اتنا غم نہیں ہوا جتنا اس وقت ہوا، اس خوف سے کہ کہیں وہ شخص نجاشی پر غالب نہ آ جائے اور پھر ایسا شخص آ جائے جو ہمارے حقوق کو اس طرح نہ پہچانے جس طرح نجاشی پہچانتا تھا۔"، "...پس اللہ کی قسم! ہمیں کبھی اتنا غم نہیں ہوا جتنا اس وقت ہوا، اس خوف سے کہ کہیں وہ بادشاہ اس پر غالب نہ آ جائے اور پھر ایسا بادشاہ آ جائے جو ہمارے حق کو اس طرح نہ پہچانے جیسے وہ پہچانتا تھا، چنانچہ ہم اللہ سے دعا کرنے لگے اور نجاشی کے لیے نصرت مانگنے لگے..."

تو اس میں کسی حکمران کو کفر کے ساتھ حکومت کرنے کے لیے منتخب کرنے یا پارلیمان کے لیے ایسی جماعتوں کو منتخب کرنے کا ثبوت کہاں ہے جو اللہ کے سوا لوگوں کے لیے قانون سازی کریں؟ صحابہ نے تو صرف تمنا کی، پسند کیا اور اللہ سے دعا کی کہ اس بادشاہ کو اس کے دشمن پر فتح دے جس نے ان کے ساتھ انصاف کیا تھا، نہ کہ اس کے خلاف جو شاید انصاف نہ کرے۔ انہوں نے ایسی کسی چیز میں شرکت نہیں کی جو کسی شخص کو کفر کے ساتھ حکومت کرنے یا کفر کے قوانین بنانے کے لیے منتخب کرنے پر دلالت کرتی ہو...

اسی لیے، اس واقعے سے کفر کے ساتھ حکومت کرنے والے حکمران کے انتخاب میں شرکت اور اللہ کے سوا قانون سازی کرنے والی جماعتوں کے انتخاب کے جواز پر استدلال کرنا باطل ہے، اور یہ بطلان بالکل واضح ہے جس کے لیے بہت زیادہ علم یا غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے... خصوصاً جبکہ اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق فیصلہ کرنے کے دلائل ثبوت اور دلالت کے لحاظ سے قطعی ہیں، اور ان میں سے بعض دلائل یہ ہیں:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ "اور یہ کہ آپ ان کے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں اور ان سے ہوشیار رہیں کہ کہیں وہ آپ کو اس (وحی) کے کسی حصے سے بہکا نہ دیں جو اللہ نے آپ کی طرف نازل کی ہے۔" (سورہ المائدہ [5]: 49)

إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ "حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔" (سورہ الانعام [6]: 57)

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا "پس آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی تنازعات میں آپ کو حکم (فیصلہ کرنے والا) نہ مان لیں، پھر آپ کے کیے ہوئے فیصلے پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے پوری طرح تسلیم کر لیں۔" (سورہ النساء [4]: 65)

أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ "کیا وہ پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے؟" (سورہ المائدہ [5]: 50)

... اور دیگر آیات۔

پھر یہ کہ کفارِ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو پیشکش کی تھی کہ وہ آپ ﷺ کو اپنی شریعت کے مطابق اپنا بادشاہ بنا لیں گے نہ کہ اسلام کے مطابق، لیکن آپ ﷺ نے انکار کر دیا:

ابن اسحاق کی "السیر والمغازی" میں آیا ہے: (عکرمہ سے مروی ہے، ابن عباسؓ سے کہ عتبہ اور شیبہ—ربیعہ کے بیٹوں—، ابوسفیان بن حرب، نضر بن حارث—بنو عبدالدار کا بھائی—، ابوالبختری—بنو اسد کا بھائی—اور دیگر لوگ... کعبہ کے پاس سورج غروب ہونے کے بعد جمع ہوئے، تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: محمد (ﷺ) کے پاس کسی کو بھیجو، ان سے بات کرو اور ان سے بحث کرو یہاں تک کہ تم ان کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچو، چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کی طرف پیغام بھیجا... انہوں نے آپ ﷺ سے کہا: اے محمد! ہم نے آپ کو اس لیے بلایا ہے تاکہ ہم آپ کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچ سکیں... اگر آپ اس بات (دین) کے ذریعے مال چاہتے ہیں تو ہم اپنے مالوں میں سے آپ کے لیے اتنا جمع کر دیتے ہیں کہ آپ ہم میں سب سے زیادہ مالدار ہو جائیں، اور اگر آپ اس سے ہمارے درمیان عزت و شرف چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا سردار بنا لیتے ہیں، اور اگر آپ اس سے بادشاہت چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنا لیتے ہیں... تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا:

«ما أدري ما تقولون، ما جئتكم بما جئتكم به لطلب أموالكم، ولا الشرف فيكم، ولا الملك عليكم، ولكن الله بعثني إليكم رسولاً وأنزل علي كتابا، وأمرني أن أكون لكم بشيراً ونذيراً فبلغتكم رسالة ربي، ونصحت لكم فإن تقبلوا مني ما جئتكم به فهو حظكم في الدنيا والآخرة، وإن تردوا علي أصبر لأمر الله حتى يحکم الله بيني وبينكم» "میں نہیں جانتا جو تم کہہ رہے ہو، میں تمہارے پاس وہ لے کر نہیں آیا جو لے کر آیا ہوں تاکہ تمہارے مال طلب کروں، نہ ہی تمہارے درمیان شرف چاہتا ہوں اور نہ ہی تم پر بادشاہت، بلکہ اللہ نے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور مجھ پر کتاب نازل کی ہے، اور مجھے حکم دیا ہے کہ تمہارے لیے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنوں۔ پس میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا ہے، اور تمہاری خیر خواہی کی ہے۔ اب اگر تم میری لائی ہوئی بات قبول کر لیتے ہو تو یہ دنیا اور آخرت میں تمہارا حصہ ہے، اور اگر تم اسے رد کر دیتے ہو تو میں اللہ کے حکم پر صبر کروں گا یہاں تک کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرما دے۔" (یا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا)۔ یہ روایت ابو نعیم اصبہانی کی دلائل النبوۃ (1/233) اور ابن کثیر کی السیرۃ النبویۃ (1/479) اور دیگر سیرت کی کتابوں میں اسی طرح آئی ہے۔

اسی طرح انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ بھی پیشکش کی تھی کہ وہ سب مل کر اپنے تمام معاملات میں شریک ہو جائیں، کچھ ان کی طرف سے اور کچھ آپ ﷺ کی طرف سے، چنانچہ وہ ایک سال آپ ﷺ کے معبود کی عبادت کریں اور ایک سال آپ ﷺ ان کے معبودوں کی عبادت کریں، لیکن آپ ﷺ نے انکار کر دیا اور صرف اسلام ہی کو قبول کرنے پر اصرار کیا:

سورہ الکافرون کی تفسیر میں قرطبی لکھتے ہیں:

(ابن اسحاق اور دیگر نے ابن عباس سے ذکر کیا ہے کہ اس سورت کے نازل ہونے کا سبب یہ تھا کہ ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، اسود بن عبدالمطلب اور امیہ بن خلف رسول اللہ ﷺ سے ملے اور کہا: اے محمد! آئیں، ہم اس کی عبادت کریں جس کی آپ عبادت کرتے ہیں اور آپ اس کی عبادت کریں جس کی ہم عبادت کرتے ہیں، اور ہم اور آپ اپنے تمام معاملات میں شریک ہو جائیں، پس اگر وہ چیز جو آپ لے کر آئے ہیں اس سے بہتر ہے جو ہمارے پاس ہے، تو ہم آپ کے ساتھ اس میں شریک ہو جائیں گے اور اس سے اپنا حصہ لے لیں گے۔ اور اگر وہ چیز جو ہمارے پاس ہے اس سے بہتر ہے جو آپ کے پاس ہے، تو آپ ہمارے معاملے میں شریک ہو جائیں اور اس سے اپنا حصہ لے لیں۔ تو اللہ عزوجل نے (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكافِرُونَ) نازل فرمائی...)

طبری کی تفسیر "جامع البیان" میں سورہ الکافرون کے بارے میں آیا ہے:

(ابن عباس سے مروی ہے کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ سے وعدہ کیا... ہم آپ کے سامنے ایک خصلت پیش کرتے ہیں، اس میں آپ کا بھی فائدہ ہے اور ہمارا بھی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: «وہ کیا ہے؟» انہوں نے کہا: آپ ایک سال ہمارے معبودوں—لات اور عزی—کی عبادت کریں، اور ہم ایک سال آپ کے معبود کی عبادت کریں، آپ ﷺ نے فرمایا: «حتى أنْظُرَ ما يأْتي مِنْ عِنْدِ رَبّي» "یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ میرے رب کی طرف سے کیا (حکم) آتا ہے"۔ تو لوحِ محفوظ سے وحی آئی: (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ))

شوکانی کی فتح القدیر میں سورہ الکافرون کی تفسیر میں آیا ہے:

(ابن جریر، ابن ابی حاتم اور طبرانی نے ابن عباس سے روایت کی ہے: کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو دعوت دی... اگر آپ نہیں مانتے تو ہم آپ کے سامنے ایک خصلت پیش کرتے ہیں جس میں آپ کی بہتری ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: «وہ کیا ہے؟» انہوں نے کہا: آپ ایک سال ہمارے معبودوں کی عبادت کریں اور ہم ایک سال آپ کے معبود کی عبادت کریں، آپ ﷺ نے فرمایا: «حتى أنظر ما يأتينی من ربي»، تو اللہ کی طرف سے وحی آئی (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكافِرُونَ * لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ) سورت کے آخر تک، اور اللہ نے نازل فرمایا: (قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجاهِلُونَ) اس قول تک (بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ)...)

یہ تمام دلائل اللہ کے نازل کردہ قانون کے علاوہ کسی اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنے اور اس حکم میں کسی بھی قسم کی شرکت کی قطعی اور سخت ممانعت پر صریح ہیں۔ ان صریح دلائل کے سامنے صرف وہی شخص کھڑا ہو سکتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی صریح نافرمانی کرے، اور اس کے علاوہ اس کی جو بھی دلیل ہوگی وہ باطل ہے جو اسے دنیا میں رسوائی دلائے گی، اور اللہ کا عذاب تو بہت بڑا ہے۔

آپ کا بھائی عطا بن خلیل ابو الرشتہ

امیر کے فیس بک پیج سے جواب کا لنک: فیس بک

امیر کے گوگل پلس پیج سے جواب کا لنک: گوگل پلس

امیر کے ٹویٹر پیج سے جواب کا لنک: ٹویٹر

امیر کی ویب سائٹ سے جواب کا لنک: ویب سائٹ

مضمون شیئر کریں

اس مضمون کو اپنے نیٹ ورک کے ساتھ شیئر کریں