Home About Articles Ask the Sheikh
سوال و جواب

سوال کا جواب: کیا رسول اللہ ﷺ کے حق میں مجتہد ہونا جائز ہے؟

April 23, 2013
4423

سوال:

میں نے الشخصية الإسلامية - حصہ اول میں پڑھا ہے کہ (رسول اللہ ﷺ کے حق میں مجتہد ہونا جائز نہیں ہے)، اور میں نے مقدمۃ الدستور - حصہ دوم میں پڑھا ہے کہ (رسول اللہ ﷺ نے مالِ فئے اپنی رائے اور اجتہاد سے خرچ کیا، اور جزیہ کا مال اپنی رائے اور اجتہاد سے خرچ کیا، اور مختلف علاقوں سے آنے والا مالِ خراج اپنی رائے اور اجتہاد سے خرچ کیا، اور اس بارے میں شرعی نص موجود ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے لیے یہ گنجائش چھوڑی ہے کہ آپ ﷺ اسے جہاں مناسب سمجھیں خرچ کریں، چنانچہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امام ان اموال کو اپنی رائے اور اجتہاد سے صرف کر سکتا ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ایسا کرنا شرعی دلیل ہے، پس یہ امام کے لیے ان اموال کو اپنی رائے اور اجتہاد سے خرچ کرنے کا اذن ہو گا) اقتباس ختم۔

ایسا لگتا ہے کہ ان دونوں باتوں کے درمیان تضاد ہے، لہذا براہِ کرم اس کی وضاحت فرما دیں؟

جواب:

شخصیت اول میں جو بیان ہوا ہے اور مقدمہ حصہ دوم میں جو آیا ہے، ان کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے:

جہاں تک شخصیت اول کی اس بات کا تعلق ہے کہ (رسول اللہ ﷺ کے حق میں مجتہد ہونا جائز نہیں ہے)، تو اس کے دلائل شخصیت میں اسی باب کے تحت بیان کیے گئے ہیں، اور وہ اس معاملے میں واضح اور صحیح دلائل ہیں جیسے کہ اللہ سبحانہ کا فرمان ہے:

قُلْ إِنَّمَا أُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْيِ

"کہہ دیجئے کہ میں تو تمہیں صرف وحی کے ذریعے ہی ڈراتا ہوں" (سورۃ الانبیاء [21]: 45)

یعنی اے محمد ﷺ! انہیں کہہ دیجئے کہ میرا تمہیں ڈرانا صرف اس وحی کے ساتھ مخصوص ہے جو مجھ پر نازل کی گئی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ النجم میں فرمایا:

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى * إِنْ هُوَ إِلَّا وحْيٌ يُوحَى

"اور وہ اپنی خواہشِ نفس سے نہیں بولتے، یہ تو صرف وحی ہے جو (ان پر) نازل کی جاتی ہے" (سورۃ النجم [53]: 3-4)

یعنی رسول اللہ ﷺ تشریع (قانون سازی) میں وہی کہتے ہیں جو وحی ہوتی ہے اور وہی کرتے ہیں جو وحی ہوتی ہے، پس آپ ﷺ اپنی طرف سے اجتہاد نہیں کرتے کیونکہ مجتہد سے غلطی بھی ہو سکتی ہے اور وہ درست بھی ہو سکتا ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے حق میں یہ جائز نہیں ہے کیونکہ آپ ﷺ تشریع میں صرف وحی کے مطابق ہی قول و فعل سرانجام دیتے ہیں۔

جہاں تک مقدمہ حصہ دوم کی بات ہے تو اس کا تعلق ریاست کے امور چلانے، مسلمانوں کے مفادات پر خرچ کرنے یا کسی والی (گورنر) یا قاضی کے تقرر وغیرہ سے ہے۔ پس ریاست کی ملکیت جیسے جزیہ، خراج، مالِ فئے اور مرتدین کے اموال وغیرہ کو مسلمانوں کے مفادات پر خرچ کرنا سربراہِ ریاست کے اجتہاد پر چھوڑا گیا ہے کہ وہ جس طرح مسلمانوں کے مفادات کو بہتر سمجھے خرچ کرے، اسی طرح والی کا تقرر بھی سربراہِ ریاست کے اجتہاد پر چھوڑا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے مفادات کے حصول کے لیے کس کا تقرر کرتا ہے۔

چنانچہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں نبی، رسول اور حاکم تھے۔ آپ ﷺ تشریع (قانون سازی) میں اجتہاد نہیں فرماتے تھے بلکہ جو نازل کیا جاتا اسے پہنچاتے تھے، لیکن بطورِ حاکم مسلمانوں کے مفادات پر خرچ کرنے کے معاملے میں آپ ﷺ اپنی رائے اور اجتہاد سے کام لیتے تھے تاکہ مسلمانوں کے مفادات حاصل ہوں، مثال کے طور پر غزوہ حنین میں آپ ﷺ نے غنیمت کے مال میں سے کچھ لوگوں کو دیا اور دوسروں کو نہیں دیا، اس بات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کہ یہ صرف ان اموال میں ہے جن کا خرچ کرنا شریعت نے سربراہِ ریاست کے سپرد کیا ہے، لیکن اس کے علاوہ دیگر اموال پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا جیسے زکوٰۃ کا خرچ کرنا (جو کہ متعین ہے)۔

اسی طرح ریاست کے انتظامی ڈھانچے کو چلانا ہے، جیسا کہ اگر رسول اللہ ﷺ نے فلاں شخص کو والی یا قاضی مقرر کیا... تو اس فلاں والی کے بارے میں یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس کی ولایت (گورنری) وحی کے ذریعے ہوئی ہے، بلکہ یہ نظامِ ریاست کو چلانے کے باب میں ہے جس میں والیوں اور ان جیسے دیگر عہدیداروں کا تقرر آپ ﷺ کے اجتہاد سے ہوتا تھا تاکہ مسلمانوں کے مفادات پورے ہوں۔

اس طرح شخصیت اول اور مقدمہ حصہ دوم میں بیان کردہ باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

مضمون شیئر کریں

اس مضمون کو اپنے نیٹ ورک کے ساتھ شیئر کریں