Home About Articles Ask the Sheikh
سوال و جواب

سوال کا جواب: حدیث «... وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ مَالِهِ» کے بارے میں

April 18, 2014
4566

** (فیس بک پیج کے زائرین کے سوالات پر حزب التحریر کے امیر عالمِ جلیل شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ کے جوابات کا سلسلہ) **

دعا الفرقان کے نام

سوال:

محترم امیر صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، اللہ تعالی آپ کے ہاتھوں پر فتح و نصرت مقدر فرمائے۔

کتاب الاموال میں جرمانوں کے موضوع پر، صفحہ 123 - 124 پر درج ہے: ("اسی طرح زکوٰۃ نہ دینے والے سے واجب زکوٰۃ کے علاوہ بطور تعزیری سزا اس کے مال کا ایک حصہ (شطر) لینا بھی ثابت ہے، چنانچہ ابو داؤد اور احمد نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے: «... وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ مَالِهِ»").

مذکورہ عبارت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زکوٰۃ نہ دینے والے سے بطور تعزیری سزا جرمانہ لینا جائز ہے، اگرچہ فقہاء کے درمیان اس کی مشروعیت پر کافی اختلافات موجود ہیں۔ لیکن میں جس بات کی وضاحت چاہتا ہوں وہ یہ ہے:

1- جس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے وہ سند اور متن کے لحاظ سے مکمل کیا ہے؟ میں نے اسے تلاش کیا لیکن مجھے صرف یہ حدیث ملی: بہز بن حکیم نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے مرفوعاً روایت کی ہے: «فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ لَا تُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا مِنْهُ وَشَطْرَ إِبِلِهِ عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا جَلَّ وَعَزَّ لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ» (رواہ احمد)۔

اور سنن ابی داؤد میں ہے: بہز بن حکیم نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«فِي كُلِّ سَائِمَةِ إِبِلٍ فِي أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَلَا يُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ مُؤْتَجِرًا بِهَا فَلَهُ أَجْرُهَا وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ مَالِهِ عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ»

جہاں تک ان الفاظ کا تعلق ہے "فأنا آخذها وشطر ماله" تو یہ مجھے نہیں ملے۔

2- "شطر ماله" سے کیا مراد ہے؟ کیا اس سے مراد اس کا پورا آدھا مال ہے؟ یا اس مال کا نصف جس کی زکوٰۃ اس نے نہیں دی؟ یا واجب الادا زکوٰۃ کی رقم کا نصف؟ یا جیسا کہ بعض نے ذکر کیا ہے کہ اس کے مال کے دو حصے کیے جائیں گے اور زکوٰۃ وصول کرنے والا زکوٰۃ نہ دینے کی سزا کے طور پر ان میں سے بہتر حصے کا انتخاب کرے گا؟ اللہ آپ کو برکت دے اور ہماری طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے۔

جواب:

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے: «فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ مَالِهِ»، اس کے بارے میں تفصیل درج ذیل ہے:

1- ابو داؤد نے بہز بن حکیم سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

فِي كُلِّ سَائِمَةِ إِبِلٍ فِي أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، وَلَا يُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا - قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ مُؤْتَجِرًا بِهَا - فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ مَالِهِ، عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ، لَيْسَ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ

"ہر چالیس چرنے والے اونٹوں میں ایک ’بنت لبون‘ (تین سالہ اونٹنی) زکوٰۃ ہے، اور اونٹوں کو ان کے حساب سے الگ نہیں کیا جائے گا۔ جس نے ثواب کی نیت سے زکوٰۃ دی تو اسے اس کا اجر ملے گا، اور جس نے اسے روک لیا تو ہم وہ (زکوٰۃ) بھی لیں گے اور اس کے مال کا نصف حصہ بھی، یہ ہمارے رب عزوجل کے واجب کردہ حقوق میں سے ایک حق ہے۔ آلِ محمد کے لیے اس میں سے کچھ بھی حلال نہیں ہے۔" (سنن ابی داؤد)

2- احمد اور نسائی نے روایت کی ہے، اور الفاظ احمد کے ہیں، بہز بن حکیم سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ. فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ. لَا تُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا. مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا مِنْهُ وَشَطْرَ إِبِلِهِ عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ

"ہر چالیس چرنے والے اونٹوں میں ایک ’بنت لبون‘ زکوٰۃ ہے۔ اونٹوں کو ان کے حساب سے الگ نہیں کیا جائے گا۔ جس نے ثواب کی نیت سے زکوٰۃ دی اسے اجر ملے گا، اور جس نے اسے روکا تو ہم وہ (زکوٰۃ) بھی اس سے لیں گے اور اس کے اونٹوں کا نصف حصہ بھی، یہ ہمارے رب کے واجب کردہ حقوق میں سے ایک حق ہے، آلِ محمد کے لیے اس میں سے کچھ بھی حلال نہیں ہے۔" (مسند احمد)

• فقہاء کے ہاں اس حدیث کے فہم میں اختلاف پایا جاتا ہے:

بعض نسخ (منسوخ ہونے) کے قائل ہیں کہ زکوٰۃ کے علاوہ کچھ نہیں لیا جائے گا۔ بعض کا کہنا ہے کہ "شطر" کی روایت اس طرح ساکن ’ط‘ کے ساتھ نہیں ہے، بلکہ یہ فعل مجہول "شُطِّر" ہے، یعنی اس کا مال دو حصوں میں بانٹ دیا جائے گا اور زکوٰۃ وصول کرنے والا کسی بھی ایک حصے سے زکوٰۃ لینے کا اختیار رکھے گا۔ بعض کہتے ہیں کہ راوی کو وہم ہوا ہے، اصل میں یہ "من شطر مالہ" یا "من شطر ابلہ" ہے...

• اس مسئلے میں میرے نزدیک راجح (درست) رائے درج ذیل ہے:

الف- جہاں تک فعل مجہول، وہم اور نسخ کے دعووں کا تعلق ہے، میں ان سب کو بعید سمجھتا ہوں:

فعل مجہول (شُطِّر) ہونے کی بات اس لیے بعید ہے کہ حدیث کی تمام معتبر روایات میں لفظ "شطر" بغیر مجہول کے ذکر ہوا ہے۔

رہی وہم کی بات، تو وہ بھی بعید ہے، کیونکہ روایت "فإنا آخذوها منه شطر ماله" نہیں ہے کہ یہ کہا جائے کہ "منه" میں "ہ" راوی کا وہم ہے۔ عربی زبان سے واقف راوی کے لیے یہ کہنا بعید ہے کہ "منه شطر ماله"، اور پھر جب "منه" کے بعد حرفِ عطف "واو" بھی موجود ہے، تو یہ کہنا کہ راوی نے "من شطر" کی جگہ "منه وشطر" کہہ دیا، نہایت بعید ہے۔

یہ تو تھی فعل مجہول اور وہم کی بات۔ جہاں تک نسخ کا تعلق ہے، تو وہ بھی بعید ہے کیونکہ نہ تو اس کی تاریخ معلوم ہے اور نہ ہی نسخ کی کوئی واضح دلیل ان کے پاس ہے، اور زکوٰۃ کے عمومی دلائل زکوٰۃ نہ دینے والے کی سزا سے متعلق خاص دلیل کو منسوخ نہیں کرتے۔

ب- میرے نزدیک راجح یہ ہے کہ پہلی حدیث: «فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ مَالِهِ» یہ فائدہ دیتی ہے کہ زکوٰۃ نہ دینے والے سے زکوٰۃ جبراً لی جائے گی اور اس پر اس کے مال کے نصف (شطر) کا جرمانہ لگایا جائے گا۔ اس سے مراد اس کا تمام مال بھی ہو سکتا ہے، یعنی وہ مال جس پر زکوٰۃ واجب ہوئی اور دیگر اموال بھی جو نصاب کو نہیں پہنچے، چاہے وہ سونا، چاندی، اونٹ، گائے، بکری، گندم، جو، کھجور، کشمش یا مالِ تجارت ہو۔

ج- اور دوسری حدیث: «فَإِنَّا آخِذُوهَا مِنْهُ وَشَطْرَ إِبِلِهِ» اونٹوں کی زکوٰۃ «فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ...» کے ذکر کے بعد آئی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ "شطر" (نصف) کی اضافت ان اونٹوں کی طرف ہے جن کا وہ مالک ہے، یعنی اس کے اونٹوں کی زکوٰۃ بھی لی جائے گی اور بطور جرمانہ اونٹوں کا نصف حصہ بھی۔ واضح الفاظ میں اگر اس کے پاس چالیس سائمہ اونٹ ہیں تو ان کی زکوٰۃ ایک "بنت لبون" ہے، اور اس کے بعد اس سے دوسرا جرمانہ لیا جائے گا جو کہ ان چالیس کا نصف (بیس اونٹ) ہوگا۔

د- اس طرح دوسری حدیث پہلی حدیث کے لیے مخصص (تخصیص کرنے والی) بن جائے گی، یعنی اس کے پورے مال کا نصف جرمانہ نہیں لیا جائے گا بلکہ صرف اس مال کا نصف لیا جائے گا جس کی زکوٰۃ بنتی ہے۔

ھ- جہاں تک "شطر" کے معنی کا تعلق ہے کہ آیا یہ نصف (آدھا) ہے یا محض ایک حصہ، تو قاموس المحیط میں درج ہے: (الشَّطْرُ: نِصفُ الشيءِ وجُزْؤُهُ - شطر کسی چیز کے آدھے یا اس کے ایک حصے کو کہتے ہیں)۔ اس لیے یہ خلیفہ کی تبنی (اختیار کردہ رائے) پر چھوڑا جائے گا کہ وہ زکوٰۃ نہ دینے والے سے کیا وصول کرنا چاہتا ہے: یا تو وہ زکوٰۃ اور زکوٰۃ والے مال کا نصف لے لے، یا زکوٰۃ اور اس مال کا ایک حصہ وصول کرے، اور یہ سب زکوٰۃ نہ دینے کے جرمانے کے طور پر ہوگا۔ اگرچہ میرا میلان "نصف" (آدھے) کی طرف ہے کیونکہ یہ جرمانہ ہے اور جرمانے میں سزا اور سختی کا پہلو ہوتا ہے۔ واللہ اعلم واحکم۔

علم میں رہے کہ ہم نے اس موضوع کا ذکر جرمانوں کے دلائل میں کیا ہے، یعنی "شطرِ مال" لینا ایک مالی جرمانہ ہے جیسا کہ کتاب الاموال اور کتاب نظام العقوبات میں آیا ہے۔

آپ کا بھائی عطا بن خلیل ابو الرشتہ

امیر کے فیس بک پیج سے جواب کا لنک: فیس بک

امیر کی ویب سائٹ سے جواب کا لنک: امیر

امیر کے گوگل پلس پیج سے جواب کا لنک: گوگل پلس

مضمون شیئر کریں

اس مضمون کو اپنے نیٹ ورک کے ساتھ شیئر کریں