سوال:
کیا تمام انبیاء کے حق میں اجتہاد کرنا جائز نہیں ہے یا صرف مصطفیٰ ﷺ کے لیے یہ حکم ہے؟
کیونکہ سورہ الانبیاء کی آیت (78) کی تفسیرِ ابن کثیر میں ابن مسعود اور ابن عباس سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: سیدنا داؤد علیہ السلام نے چرواہوں اور اس کھیت کے مالک کے درمیان یہ فیصلہ کیا جس کی فصل چرواہوں کی بکریوں نے چَر لی تھی، کہ وہ بکریاں کھیت کے مالک کی ہو جائیں گی۔ پھر ان کے بیٹے سلیمان علیہ السلام نے ان سے کہا کہ اے اللہ کے نبی، اس کے علاوہ (بہتر فیصلہ ہو سکتا ہے)، پھر انہوں نے ان کے درمیان فیصلے کی اس طرح وضاحت کی: کھیت کا مالک بکریاں لے لے تاکہ (عارضی طور پر) ان کے دودھ سے فائدہ اٹھائے اور بکریوں کے مالکان اس زمین میں اس وقت تک کاشتکاری کریں جب تک وہ اپنی اصل حالت پر نہ آ جائے- یعنی ویسی ہو جائے جیسی بکریوں کے چَرنے سے پہلے تھی، اور یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (ففهمناها سليمان)۔ تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سیدنا داؤد علیہ السلام نے اجتہاد کیا تھا اور سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اس کی تصحیح کی؟
جواب:
تمام انبیاء ان احکامات میں معصوم ہیں جن کی وہ تبلیغ کرتے ہیں، یعنی وہ اپنی طرف سے احکامات بیان نہیں کرتے۔ پس نبی یا رسول ہونا اس بات کو واجب قرار دیتا ہے کہ وہ احکامِ شرع کی تبلیغ میں معصوم ہوں، یعنی وہ احکامِ شرع کی تبلیغ میں خود سے اجتہاد نہیں کرتے۔ اس حوالے سے کتاب الشخصية الإسلامية (اسلامی شخصیت) کے جز اول میں "انبیاء کی عصمت، اور رسول کے حق میں یہ جائز نہیں کہ وہ مجتہد ہو" کے عنوان کے تحت بحث دیکھی جا سکتی ہے۔ پس انبیاء احکامِ شرع کی تبلیغ کے حوالے سے اپنی طرف سے اجتہاد نہیں کرتے بلکہ اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعے ایسا کرتے ہیں۔
اسی لیے داؤد اور سلیمان علیہما السلام نے جو فیصلہ کیا وہ وحی کے ذریعے تھا، اور سلیمان علیہ السلام کا فیصلہ، داؤد علیہ السلام کے فیصلے کے لیے ناسخ (منسوخ کرنے والا) تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ * فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُودَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ وَكُنَّا فَاعِلِينَ
"اور داؤد اور سلیمان (کا ذکر کیجیے) جب وہ کھیت کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے جب رات کے وقت اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں چَر گئیں، اور ہم ان کے فیصلے کو دیکھ رہے تھے۔ پھر ہم نے وہ (صحیح فیصلہ) سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے ہر ایک کو حکم (حکمت) اور علم عطا کیا تھا، اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کر دیا تھا جو تسبیح کرتے تھے، اور (یہ سب) ہم ہی کرنے والے تھے۔" (الانبياء: 78-79)
پس اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا قول (فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ) اس بات کی دلیل ہے کہ سلیمان علیہ السلام کا فیصلہ وحی کے ذریعے تھا، اور اللہ سبحانہ کا قول (وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا) اس بات کی دلیل ہے کہ داؤد علیہ السلام کا فیصلہ بھی اسی طرح وحی کے ذریعے تھا، اور چونکہ سلیمان علیہ السلام کا فیصلہ ان کے بعد آیا اس لیے وہ ان کے لیے ناسخ ہو گا۔
واضح رہے کہ بعض تفاسیر میں ان لوگوں کا قول بھی مروی ہے جنہوں نے کہا ہے کہ داؤد اور سلیمان علیہما السلام نے اجتہاد کیا تھا، اور یہ کہ سلیمان علیہ السلام کا اجتہاد زیادہ درست تھا۔ یہ قول اختیار کرنے والے بھی احکامِ شرع کی تبلیغ میں انبیاء اور رسولوں کے لیے اجتہاد کے قائل ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان کے اجتہاد کی اصلاح کر دیتا ہے اگر ان سے (اجتہاد میں) کوئی چوک ہو جائے...