** (حزب التحریر کے امیر عالم عطا بن خلیل ابو الرشتہ کے اپنے فیس بک پیج "فقہی" پر آنے والے سوالات کے جوابات کا سلسلہ)**
سوال کا جواب
سانیہ کو کرایے پر دینا اور مزارعت کا حکم
منجانب: م۔ و۔ الاندلسی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سانیہ (ایسی زمین جس میں آبپاشی کے آلات وغیرہ موجود ہوں) کو کرایے پر دینے کے حوالے سے ایک سوال ہے:
میں تیونس سے آپ کا بھائی وسام الاندلسی ہوں...
کتاب "النظام الاقتصادی فی الاسلام" (اسلام کا معاشی نظام) کے صفحہ 139 پر یہ درج ہے: "زمین کے مالک کے لیے یہ بالکل جائز نہیں کہ وہ اپنی زمین زراعت کے لیے کرایے پر دے، خواہ وہ اس کی رقبت (ملکیت) اور منفعت دونوں کا مالک ہو، یا صرف منفعت کا مالک ہو..."، اور صفحہ 140 پر درج ہے کہ: "جہاں تک رسول اللہ ﷺ کا خیبر کی زمین کو آدھی پیداوار پر دینے کا تعلق ہے، تو وہ اس باب سے نہیں ہے، کیونکہ خیبر کی زمین درختوں والی تھی، وہ ملساء (ہموار/خالی) زمین نہیں تھی..."۔ لہٰذا زراعت کے لیے زمین کو کرایے پر دینے کا مسئلہ بالکل واضح ہے، اور اس حکم کی علت "زراعت کے لیے مختص زمین" ہے۔ خیبر کی زمین کے معاملے میں حکم کی علت تبدیل ہو گئی کیونکہ زمین درختوں والی تھی اور درختوں کی ملکیت ان کے مالک کی ہوتی ہے، اور درخت زمین سے الگ چیز ہیں، اگرچہ وہاں زمین موجود تھی لیکن وہ درختوں کے تابع تھی...
جہاں تک ہمارے ہاں "سانیہ" کا تعلق ہے، تو اس سے مراد وہ زمین ہے جس میں آبپاشی کے آلات یا سہولیات ہوں جیسے کنواں یا جابیہ (حوض جس میں پانی جمع کیا جاتا ہے) یا آبپاشی کی وہ نہریں جو ریاست کسانوں کو معاوضے کے عوض فراہم کرتی ہے، اور فصلوں تک پانی پہنچانے والی نالیاں (جیسے ڈرپ اریگیشن کی نالیاں)، اس میں گھر، اصطبل، گرین ہاؤس اور اسپرے کرنے والی مشینیں اور دیگر زرعی آلات بھی ہو سکتے ہیں جن کی کسان کو ضرورت ہوتی ہے اور جو زمین کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔
سوال:
1- کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ سانیہ کی صورت میں حکم کی علت (زمین) تبدیل ہو گئی ہے، کیونکہ اب یہ صرف خالی زمین نہیں رہی بلکہ ایسی زمین ہے جس میں اس کے تابع آلات و سہولیات موجود ہیں؟
2- اگر زمین زرعی پیداوار کے لیے مختص نہ ہو، جیسے آرائشی پودوں کی پیداوار، نرسری یا جانوروں کی پرورش کے لیے، تو کیا اس صورت میں بھی حکم کی علت تبدیل ہو جائے گی؟
3- کیا ان صورتوں میں زمین کو کرایے پر دینا جائز ہے؟
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
جواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
1- "ملساء" کا مطلب یہ ہے کہ زمین زرعی ہو یعنی زراعت کے لیے مختص ہو لیکن وہ کاشت نہ کی گئی ہو، اور ایسی زمین کو زراعت کے لیے کرایے پر دینا حرام ہے۔ اس کے دلائل میں سے ایک دلیل یہ ہے:
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:
كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَذَكَرَ أَنَّ بَعْضَ عُمُومَتِهِ أَتَاهُ فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعاً، وَطَوَاعِيَةُ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم أَنْفَعُ لَنَا وَأَنْفَعُ. قَالَ: قُلْنَا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلا يُكَارِيهَا بِثُلُثٍ وَلا بِرُبُعٍ وَلا بِطَعَامٍ مُسَمًّى
"ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مخابرت (مزارعت) کیا کرتے تھے۔ پھر رافع نے ذکر کیا کہ ان کے ایک چچا ان کے پاس آئے اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرما دیا ہے جو ہمارے لیے نفع بخش تھا، لیکن رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری ہمارے لیے زیادہ نفع بخش ہے۔ رافع کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: وہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو (مفت) کاشت کے لیے دے دے، اور اسے تہائی یا چوتھائی (حصے) پر یا طے شدہ غلے کے عوض کرایے پر نہ دے۔" (اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے)۔ اور مخابرت سے مراد مزارعت ہے۔
2- اور اگر زمین "ملساء" نہ ہو، یعنی اس میں ایسے درخت لگے ہوں جنہیں دیکھ بھال کی ضرورت ہو، تو اس صورت میں اسے کرایے پر دینا "مساقات" کہلاتا ہے، اور یہ جائز ہے۔ چاہے درختوں کے درمیان تھوڑی بہت خالی جگہیں ہوں جہاں زراعت کی جا سکے، کیونکہ اس صورت میں وہ جگہ درختوں کے تابع ہو گی، اور اصل چیز درختوں کی دیکھ بھال ہو گی۔ مساقات کے جواز کی دلیل یہ ہے:
امام بخاری نے حضرت نافع سے روایت کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا:
أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَامَلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ، فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ مِائَةَ وَسْقٍ ثَمَانُونَ وَسْقَ تَمْرٍ وَعِشْرُونَ وَسْقَ شَعِيرٍ...
"نبی اکرم ﷺ نے خیبر (کی زمین) پر وہاں کی پیداوار کے آدھے حصے، یعنی پھل یا غلے پر معاملہ طے کیا، آپ ﷺ اپنی ازواجِ مطہرات کو ایک سو وسق (پیداوار) دیا کرتے تھے، جس میں سے اسی وسق کھجوریں اور بیس وسق جو ہوتے تھے..."
خیبر کی زمین درختوں والی تھی اور درختوں کے درمیان کاشت کے لیے جگہیں بھی تھیں، اور یہ بات حدیث کے اس حصے سے واضح ہے: «ثَمَانُونَ وَسْقَ تَمْرٍ وَعِشْرُونَ وَسْقَ شَعِيرٍ...» (اسی وسق کھجوریں اور بیس وسق جو)، یہاں کھجوریں (درختوں کا پھل) غالب تھا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر ایک خاص اجرت کے عوض معاملہ کیا، یعنی اسے کرایے پر دینے کی اجازت دی کیونکہ اس میں درخت لگے ہوئے تھے، اور اسے "مساقات" یعنی درختوں کی دیکھ بھال کہا جاتا ہے۔
3- رہا یہ مسئلہ کہ اگر زراعت کے لیے مختص زمین میں وہ سب کچھ موجود ہو جسے آپ نے تفصیل سے "سانیہ" کہا ہے، یعنی (وہ زمین جس میں آبپاشی کی سہولیات، کنواں، نالیاں، اور کچھ عمارتیں جیسے گھر اور اصطبل ہوں... لیکن باقی زمین کاشت نہ کی گئی ہو)، تو ایسی زمین کو زراعت کے لیے کرایے پر دینا جائز نہیں ہے۔ اس میں موجود نالیاں یا عمارتیں اس حکم پر اثر انداز نہیں ہوں گی۔ کیونکہ جب تک زمین کاشت نہ کی گئی ہو، وہ "ملساء" (خالی/ہموار) ہی شمار ہو گی۔
ایسا لگتا ہے کہ آپ کو "ملساء" کے معنی سمجھنے میں الجھن ہوئی ہے، آپ نے یہ سمجھا کہ ملساء وہ زمین ہے جس میں کوئی آلات یا سہولیات نہ ہوں... حالانکہ یہاں ملساء کا مطلب وہ زمین ہے جو کاشت نہ کی گئی ہو۔ اس طرح، جو زمین کاشت نہ کی گئی ہو وہ ملساء ہی کہلائے گی خواہ اس میں کوئی گھر ہی کیوں نہ ہو، جب تک کہ کرایے پر لینے کا مقصد زراعت ہو۔
4- جہاں تک زراعت کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے زمین کرایے پر لینے کا تعلق ہے تو وہ جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ ممانعت صرف مزارعت (زراعت کے لیے کرایہ) کی ہے۔ اگر زمین کو کسی صنعتی ورکشاپ کی تعمیر، پارکنگ، شوروم، یا مویشی پالنے کے لیے کرایے پر لیا جائے، تو یہ سب جائز ہے اور اس میں کوئی حرمت نہیں کیونکہ یہ مزارعت نہیں ہے۔ اس میں آرائشی پودوں یا نرسری کے لیے زمین کا کرایہ بھی شامل ہو سکتا ہے، بشرطیکہ یہ پودے اس زمین میں براہِ راست کاشت نہ کیے جائیں بلکہ گملوں اور مخصوص برتنوں میں لگائے جائیں۔ نرسریوں اور آرائشی پودوں (جیسے گلاب وغیرہ) کے فارمز کے بارے میں یہی مشہور ہے کہ زمین کو صرف ایک جگہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جہاں گملے رکھے جاتے ہیں اور پودے ان گملوں میں اگتے ہیں نہ کہ براہِ راست زمین میں۔ اس صورت میں زمین کا کرایہ حرام نہیں ہوگا کیونکہ یہ مزارعت نہیں ہے، لہٰذا اس پر مزارعت کی حرمت کے دلائل لاگو نہیں ہوں گے بلکہ یہ اجارہ (کرایہ داری) کے عمومی جواز کے دلائل کے تحت آئے گا۔
آپ کا بھائی عطا بن خلیل ابو الرشتہ
امیر کے فیس بک پیج سے جواب کا لنک: فیس بک
امیر کی ویب سائٹ سے جواب کا لنک: الامیر
امیر کے گوگل پلس پیج سے جواب کا لنک: گوگل پلس