Home About Articles Ask the Sheikh
سوال و جواب

سوال کا جواب: "ذاتِ الٰہی" سے کیا مراد ہے؟

February 05, 2022
4282

جلیل القدر عالم شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ، امیر حزب التحریر کے اپنے فیس بک پیج کے فالوورز کے سوالات کے جوابات کا سلسلہ

سوال کا جواب

ذاتِ الٰہی سے کیا مراد ہے؟

ام سلوم کے نام

سوال:

ہمارے شیخ اور امیر، اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے، آپ کو صحت و عافیت سے نوازے اور آپ کے ہاتھوں فتح و نصرت اور تمکین عطا فرمائے۔

سوال یہ ہے کہ: ہم نے کتاب 'نظام الاسلام' میں ایمان کے طریقے کے موضوع پر یہ کہا ہے کہ "اللہ کی ذات کائنات، انسان اور زندگی کے ماورا ہے"، اس بات کا کیا مطلب ہے؟ کیا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی کوئی "ذات" ہے؟ لفظ "ذات" کے کیا معنی ہیں؟ اور اس شخص کا کیا حکم ہے جو اللہ کی ذات کے وجود کا انکار کرتا ہے اور صرف یہ کہنے پر اکتفا کرتا ہے کہ میں اللہ اور اس کی صفات پر ایمان رکھتا ہوں، لیکن یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ اس کی کوئی ذات ہے؟

ام سلمی العامری – یمن

جواب:

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ،

ابتدا میں، ہماری خیر و عافیت کے لیے آپ کی نیک دعاؤں کا بہت شکریہ، ہم بھی آپ کے لیے خیر کی دعا کرتے ہیں۔ آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

میں اس عبارت کو دوبارہ نقل کرتا ہوں جس کے بارے میں آپ نے سوال پوچھا ہے، جو کتاب (نظام الاسلام، صفحہ 10) میں درج ہے:

"اگرچہ انسان کے لیے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے سلسلے میں عقل کا استعمال کرنا واجب ہے، لیکن اس کے لیے ایسی چیز کا ادراک کرنا ممکن نہیں جو اس کے حواس اور عقل سے بالاتر ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی عقل محدود ہے، اور اس کی قوت، خواہ وہ کتنی ہی بلندیوں کو چھو لے، کچھ ایسی حدود میں مقید ہے جن سے وہ آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اسی لیے اس کا ادراک بھی محدود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عقل اللہ کی ذات کے ادراک سے قاصر ہے اور اس کی حقیقت کو سمجھنے سے عجز رکھتی ہے، کیونکہ اللہ کائنات، انسان اور زندگی کے ماورا ہے، اور انسان کی عقل کائنات، انسان اور زندگی کے ماورا چیز کی حقیقت کا ادراک نہیں کر سکتی۔ اسی لیے وہ اللہ کی ذات کا ادراک کرنے سے عاجز ہے۔ یہاں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ: انسان عقلی طور پر اللہ پر ایمان کیسے لایا جبکہ اس کی عقل اللہ کی ذات کے ادراک سے عاجز ہے؟ کیونکہ ایمان دراصل اللہ کے وجود پر ایمان لانے کا نام ہے، اور اللہ کا وجود اس کی مخلوقات یعنی کائنات، انسان اور زندگی کے وجود سے محسوس و معلوم ہوتا ہے۔ یہ مخلوقات عقل کی رسائی کی حدود میں داخل ہیں، چنانچہ عقل نے انہیں پا لیا، اور ان کے ادراک سے ان کے خالق کے وجود کا ادراک کر لیا جو کہ اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی لیے اللہ کے وجود پر ایمان لانا عقلی ہے اور عقل کی حدود کے اندر ہے، برخلاف اللہ کی ذات کے ادراک کے کہ وہ ناممکن ہے، کیونکہ اس کی ذات کائنات، انسان اور زندگی کے ماورا ہے، یعنی وہ عقل کی رسائی سے پرے ہے۔ عقل اپنی محدودیت کی وجہ سے اپنے دائرہ کار سے باہر کی حقیقت کا ادراک نہیں کر سکتی۔ اور یہ عاجزی خود ایمان کو مضبوط کرنے والے عوامل میں سے ہونی چاہیے..."

"ذاتِ الٰہی" کے معنی کی وضاحت کے لیے، جواب سے پہلے میں آپ کے سامنے یہ واضح کر دوں کہ کسی لفظ کے مفہوم کو کیسے سمجھا جاتا ہے:

اولاً: جب کسی لفظ کا مفہوم معلوم کرنا ہو تو پہلے اس کے لغوی معنی یعنی اس کی لغوی حقیقت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، پھر عرفی حقیقت (خواہ وہ عربوں کا عام عرف ہو یا مخصوص اصطلاح) کی طرف۔ اگر حقیقت متعذر ہو تو پھر مجاز کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ لفظ "ذات" کے معنی کے سلسلے میں جب ہم ان معانی کا جائزہ لیتے ہیں تو درج ذیل باتیں سامنے آتی ہیں:

1- لغوی معنی:

الف- محمد بن ابی بکر بن عبد القادر الرازی (متوفی 660ھ) کی کتاب 'مختار الصحاح' (صفحہ 109) میں درج ہے: ["ذو" کا مطلب ہے صاحب (والا)، یہ ہمیشہ مضاف ہی ہوتا ہے۔ اگر اس کے ذریعے نکرہ کی صفت بیان کی جائے تو اسے نکرہ کی طرف مضاف کیا جائے گا اور اگر معرفہ کی صفت ہو تو اسے الف لام والے لفظ کی طرف مضاف کیا جائے گا۔ اسے ضمیر یا کسی علم (نام) جیسے زید وغیرہ کی طرف مضاف کرنا جائز نہیں۔ آپ کہیں گے: میں ایک مال دار آدمی (رَجُلٍ ذِي مالٍ) کے پاس سے گزرا، اور ایک مال دار عورت (امْرَأةٍ ذاتِ مالٍ) کے پاس سے گزرا... اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَأَشْهدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ

"اور اپنے میں سے دو عادل شخصوں کو گواہ بنا لو۔" (سورۃ الطلاق: 2)

رہی بات ان کے قول "ذَاتَ مَرّةٍ" (ایک مرتبہ) اور "ذَا صَبَاح" کی، تو یہ ظرفِ زمان ہے...] اس طرح لغت میں "ذات" کا لفظ اسماءِ اعلام (ناموں) کی طرف مضاف ہو کر نہیں آتا، مثلاً "ذاتِ زید" نہیں کہا جاتا۔ لیکن "ذو زید" کہا جا سکتا ہے جس کا مطلب "یہ زید ہے" ہوتا ہے، جیسا کہ 'لسان العرب' میں آیا ہے۔

ب- "ذات" کا لفظ "کی خاطر" یا "وجہ سے" کے معنی میں بھی آتا ہے: 'فتح الباری شرح صحیح بخاری' میں ہے: [...بیہقی نے 'الاسماء والصفات' میں "الذات" کے بارے میں جو کچھ آیا ہے اس کا باب باندھا ہے... اور ابودرداء کی حدیث ہے: "تم اس وقت تک مکمل فقیہ نہیں ہو سکتے جب تک لوگوں کو اللہ کی خاطر (في ذاتِ الله) ناپسند نہ کرو"... اور مذکورہ احادیث میں لفظ "ذات" کا مطلب "کی خاطر" یا "حق" کے معنی میں ہے۔ اسی طرح حسان (بن ثابت) کا قول ہے: "اور بلاشبہ احقاف والے (ہود علیہ السلام) جب ان میں کھڑے ہوئے تو وہ اللہ کی خاطر (في ذاتِ الإله) جہاد کر رہے تھے اور عدل کر رہے تھے"...] حسان کے قول میں اس کا مطلب اللہ کے لیے یا اللہ کی خاطر ہے۔

ج- یہ "جہت" یا "جانب" کے معنی میں بھی آتا ہے جیسا کہ تفاسیر میں ہے:

  • امام طبری (متوفی 310ھ) اپنی تفسیر 'جامع البیان' میں اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں لکھتے ہیں:

وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمالِ

"اور ہم انہیں دائیں اور بائیں کروٹیں بدلاتے تھے۔" (سورۃ الکہف: 18)

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان نوجوانوں کو ان کی نیند میں کبھی دائیں جانب اور کبھی بائیں جانب کروٹ دلواتے تھے...]

  • محمد الطاہر بن عاشور (متوفی 1393ھ) اپنی تفسیر 'التحریر والتنویر' میں لکھتے ہیں:

[...عربوں کے کلام میں یہ لفظ (ذات) سمتوں، زمانوں اور دیگر چیزوں کی طرف مضاف ہو کر استعمال ہوا ہے، وہ اسے ایسی صفت کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس کے موصوف پر سیاق و سباق دلالت کرتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان: "وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ" (سورۃ الکہف: 18)، یعنی جانب یا سمت کے معنی میں...]

د- یہ اللہ کی "اطاعت" کے معنی میں بھی آتا ہے: امام حاکم نے 'مستدرک' میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے علی بن ابی طالب کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: (اے لوگو! علی کی شکایت نہ کرو، اللہ کی قسم وہ اللہ کی ذات (اطاعت) اور اس کی راہ میں بہت سخت ہے)۔ امام ذہبی نے اسے صحیح کہا ہے۔

یہ واضح ہے کہ لغوی معانی اس سیاق پر صادق نہیں آتے جو کتاب 'نظام الاسلام' میں مذکور ہے جس کے بارے میں سوال پوچھا گیا ہے۔ عربوں کے ہاں اس لفظ کی عرفی حقیقت بھی لغوی معنی سے زیادہ دور نہیں ہے۔ لہٰذا اب ہم عرفِ خاص یعنی "اصطلاح" کی طرف رجوع کریں گے...

2- اصطلاحی معنی: اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں "اصطلاحی معنی" ہی لاگو ہوتا ہے۔ اصطلاح میں لفظ "ذات" کا مطلب "نفس" یعنی "حقیقت" ہے۔

الف- امام بخاری نے اسے اسی معنی میں استعمال کیا ہے۔ انہوں نے اپنی صحیح میں ایک باب باندھا ہے جس کا نام ہے: "اللہ کی ذات، صفات اور اسماء کے بیان کا باب"۔ اس باب کے بارے میں ابن حجر 'فتح الباری' میں لکھتے ہیں:

["ذات" کے بارے میں راغب (اصفہانی) کا قول ہے: یہ "ذو" کی تانیث ہے... اہل علم نے لفظ "ذات" کو کسی چیز کے "عین" (خود وہ چیز) کے لیے مستعار لیا ہے، خواہ وہ جوہر ہو یا عرض، اور اسے مفرد اور مضاف دونوں طرح استعمال کیا ہے۔ انہوں نے اسے "نفس" اور "خاصہ" کے معنی میں جاری کیا ہے، اگرچہ یہ خالص عربی کلام (لغت) میں سے نہیں ہے]۔

قاضی عیاض کہتے ہیں: [کسی چیز کی "ذات" اس کا "نفس" اور اس کی "حقیقت" ہے۔ متکلمین نے "الذات" کو الف لام کے ساتھ استعمال کیا ہے... بخاری کا اس لفظ کو استعمال کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے مراد کسی چیز کا "نفس" ہے، جیسا کہ متکلمین اللہ تعالیٰ کے حق میں استعمال کرتے ہیں...]

ب- علم کے لیے عرض ہے کہ ابن حجر نے فقہاء (راغب، عیاض) کے جو اقوال اوپر ذکر کیے ہیں، وہ ان کی کتب میں اس طرح درج ہیں:

  • ابوالقاسم حسین بن محمد المعروف راغب اصفہانی (متوفی 502ھ) اپنی کتاب 'المفردات فی غریب القرآن' میں لکھتے ہیں:

[اہلِ معانی نے لفظ "ذات" کو مستعار لیا اور اسے کسی چیز کے "عین" (ذات) کی تعبیر قرار دیا، خواہ وہ جوہر ہو یا عرض... انہوں نے اسے "نفس" اور "خاصہ" کے درجے میں رکھا ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں: اس کی ذات، اس کا نفس اور اس کا خاصہ، حالانکہ یہ عربوں کے (اصلی) کلام میں سے نہیں ہے...]

  • قاضی ابو الفضل عیاض بن موسیٰ (متوفی 544ھ) 'مشارق الانوار علی صحاح الآثار' میں لکھتے ہیں:

[...بخاری کا قول "باب ما جاء فی الذات" اور حدیث میں "ذات يوم" (کسی دن) کے الفاظ... چنانچہ کسی چیز کی "ذات" اس کا نفس ہے... فقہاء اور متکلمین نے "الذات" کو الف لام کے ساتھ استعمال کیا ہے... بعض نحویوں نے اسے جائز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ "نفس" اور "حقیقتِ شے" کے لیے کنایہ ہے...]

ثانیاً: مندرجہ بالا بحث سے یہ واضح ہوا کہ اصطلاح میں لفظ "ذات" کا مطلب "نفس" ہے، اور یہ معنی لغوی حقیقت (خالص عربی لغت) سے نہیں بلکہ عرفِ خاص (اصطلاح) سے ہے۔ یعنی "ذات" بمعنی "نفس" ایک اصطلاح ہے نہ کہ لغوی معنی۔ اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف "نفس" کی نسبت کرنا نص سے ثابت ہے:

  • امام طبری اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں:

وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ

"اور اللہ تمہیں اپنی ذات (نفس) سے ڈراتا ہے۔" (سورۃ آل عمران: 28)

لکھتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے: "اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے کہ کہیں تم اس کی نافرمانی نہ کرو"۔ چنانچہ اللہ کی طرف "نفس" کی نسبت کرنا شرعی نصوص میں وارد ہے، لہٰذا "ذاتِ الٰہی" کا استعمال...

بمعنی "اللہ کا نفس" جائز ہے...

  • اس طرح "ذاتِ الٰہی" کے وہ لغوی معانی 'نظام الاسلام' کی عبارت پر منطبق نہیں ہوتے، بلکہ یہاں اصطلاحی معنی ہی مراد ہے، یعنی اللہ کی "حقیقت" جیسا کہ 'فتح الباری' میں مذکور ہے۔

  • اس بنا پر، کتاب 'نظام الاسلام' کے دونوں مقامات پر "ذاتِ اللہ" سے مراد اصطلاحی معنی یعنی اللہ کا نفس یا اس کی "حقیقت" ہے۔ اور ہم اللہ کی ذات یعنی اس کے نفس اور اس کی حقیقت کا ادراک نہیں کر سکتے۔ اس معنی میں اللہ کی ذات کائنات، انسان اور زندگی کے ماورا ہے، یعنی اللہ (نفسہٖ) ان تینوں محسوس و مدرک چیزوں سے باہر ہے، اس لیے وہ انسانی عقلی سوچ کے دائرے میں نہیں آتا، یعنی ہمارے حواس اس کا ادراک نہیں کر سکتے:

لاَّ تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ

"آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ آنکھوں کا ادراک رکھتا ہے، اور وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے۔" (سورۃ الانعام: 103)

ثالثاً: رہا آپ کا یہ سوال: (اس شخص کا کیا حکم ہے جو اس کے وجود کا انکار کرتا ہے اور صرف یہ کہنے پر اکتفا کرتا ہے کہ میں اللہ اور اس کی صفات پر ایمان رکھتا ہوں لیکن یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ اس کی کوئی ذات ہے)، تو ایسا لگتا ہے کہ یہ بات کہنے والے کو کچھ التباس (غلط فہمی) ہوا ہے۔ کیونکہ "ذاتِ الٰہی" کی اصطلاح سے مراد اس کا نفس اور اس کی "حقیقت" ہے، اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس معنی میں اللہ کی ذات کا انکار کرنا، یعنی اس کے نفس اور حقیقت کا انکار کرنا، کوئی ایسا شخص نہیں کہہ سکتا جو معنی کو اس کی اصل صورت میں سمجھتا ہو، خاص طور پر جب یہ معنی شرعی نصوص میں موجود ہے جیسے: "وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ" (اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے)۔

لیکن شرعی تعریفات کے معاملے میں انسان کو اسی تعریف کا پابند رہنا چاہیے جو وارد ہوئی ہے اور اس میں اپنی طرف سے چیزیں شامل نہیں کرنی چاہئیں۔ مثال کے طور پر، وہ حدیث جسے امام بخاری اور مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جب جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ایمان کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:

«الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَبِلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ...»

"ایمان یہ ہے کہ تم ایمان لاؤ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس سے ملاقات پر، اس کے رسولوں پر اور مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر..."

اس بنیاد پر، اگر آپ سے ایمان کے بارے میں پوچھا جائے تو آپ وہی کہیں گے جو حدیث میں مذکور ہے۔ اسی طرح جبریل علیہ السلام کی حدیث میں اسلام اور احسان کے جو معنی بیان ہوئے ہیں، اور تمام شرعی تعریفات کا بھی یہی معاملہ ہے۔

امید ہے کہ اس جواب میں کافی وضاحت موجود ہے۔ اللہ ہی سب سے زیادہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

آپ کا بھائی عطا بن خلیل ابو الرشتہ

04 رجب 1443ھ بمطابق 05 فروری 2022ء

امیرِ حزب (اللہ ان کی حفاظت فرمائے) کے فیس بک پیج سے جواب کا لنک: فیس بک

امیرِ حزب (اللہ ان کی حفاظت فرمائے) کی ویب سائٹ سے جواب کا لنک: ویب سائٹ

مضمون شیئر کریں

اس مضمون کو اپنے نیٹ ورک کے ساتھ شیئر کریں