امیر حزب التحریر جلیل القدر عالم شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتتہ کے اپنے فیس بک پیج "فقهي" پر سائلین کے سوالات کے جوابات کی سیریز
سوال کا جواب
قرآن میں سے وہی حجت ہے جو ہم تک تواتر کے ساتھ پہنچا ہے
طارق محمود کے نام
سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرے محترم شیخ، اللہ سبحانہ و تعالیٰ آپ کو صحت و عافیت عطا فرمائے، آپ کی تائید مضبوط اور متقی مسلمانوں کے ذریعے فرمائے اور آپ کے ہاتھوں فتح و نصرت جاری کرے، آمین یا رب العالمین۔
محترم شیخ، علماء کی کتابوں کے مطالعے کے دوران میرا گزر کچھ ایسی نصوص سے ہوا جو بعض صحابہ مثلاً عبداللہ بن مسعود یا ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں، اس بنیاد پر کہ یہ نصوص قرآنی آیات ہیں، لیکن انہیں قرآن کے طور پر قبول نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہیں قرآن مانا گیا کیونکہ یہ خبرِ واحد (آحاد) کے ذریعے منقول ہیں، اور یہ معلوم ہے کہ قرآن خبرِ واحد سے ثابت نہیں ہوتا کیونکہ وہ ثبوت کے لحاظ سے ظنی ہوتی ہیں۔
لیکن ہم ان نصوص کے ساتھ کیسا معاملہ کریں جبکہ یہ ثقہ، عادل اور ضابط راویوں کی زبان سے مروی ہیں؟ اگرچہ یہ تواتر سے ثابت نہیں ہیں لیکن ظنِ غالب سے تو ثابت ہیں۔ تو کیا یہ نصوص فقہاء اور مجتہدین کے ہاں شرعی نصوص کے طور پر معتبر ہیں جن سے شرعی احکام کا استنباط کیا جا سکے، یا یہ غیر معتبر ہیں جیسے کہ ان کا وجود ہی نہ ہو؟
اللہ آپ کو جزائے خیر دے اور طوالت کے لیے معذرت خواہ ہوں۔
جواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
آپ کی نیک دعاؤں کے لیے اللہ آپ کو برکت دے، ہم بھی آپ کے لیے خیر کی دعا کرتے ہیں۔
جہاں تک قرآن کریم کے بارے میں آپ کے سوال کا تعلق ہے، تو جواب سے پہلے میں آپ کے سامنے اپنی کتابوں سے درج ذیل اقتباسات پیش کرتا ہوں:
1- کتاب الشخصیۃ الاسلامیۃ (اسلامی شخصیت)، جلد سوم، باب "قرآن میں سے کیا چیز حجت ہے" میں درج ہے:
"قرآن کا وہ حصہ جو ہم تک تواتر کے ساتھ پہنچا ہے، اور ہمیں علم ہے کہ یہ قرآن میں سے ہے، صرف وہی حجت ہوگا۔ اور جو حصہ ہم تک خبرِ واحد کے طور پر پہنچا ہے، جیسے مصحف ابن مسعود وغیرہ، وہ حجت نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی ﷺ پر یہ ذمہ داری تھی کہ وہ قرآن کا جو حصہ ان پر نازل ہوتا اسے ایک ایسی جماعت کے سامنے پیش فرماتے جن کے قول سے قطعی حجت قائم ہو، اور جن لوگوں سے قطعی حجت قائم ہوتی ہو ان کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سب کے سب سنی ہوئی بات کو نقل نہ کرنے پر متفق ہو جائیں گے۔ پس اگر قرآن کا کوئی ایسا حصہ پایا جائے جسے ان لوگوں نے نقل نہ کیا ہو جن کے قول سے حجت قائم ہوتی ہے، بلکہ اسے صرف آحاد (انفرادی طور پر) نے نقل کیا ہو، تو اسے معتبر نہیں مانا جائے گا؛ کیونکہ یہ اس طریقے کے خلاف ہے جس کا رسول اللہ ﷺ کو مکلف بنایا گیا تھا (یعنی انفرادی نقل) اور اس طریقے کے بھی خلاف ہے جس کے تحت رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو قرآن سناتے تھے جو اسے حفظ کرتے تھے اور جن کی بات سے حجت قائم ہوتی تھی، نیز آپ ﷺ نے اسے لکھنے کا حکم بھی دے رکھا تھا۔ ایسی صورتحال میں یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی ایک شخص یا اتنی تعداد جن سے قطعی حجت قائم نہ ہوتی ہو، قرآن کے کسی حصے کو نقل کرنے میں تنہا رہ جائیں؛ اسی لیے قرآن کا وہ حصہ جو آحاد کے ذریعے منقول ہو، وہ مطلقاً حجت نہیں ہوتا۔"
- اسی کتاب میں مزید درج ہے:
"... رہی بات مصاحف کے اختلاف کی، تو ان میں سے جو آحاد (خبرِ واحد) سے ثابت ہیں وہ قرآن نہیں ہیں اور نہ ہی حجت ہیں۔ اور جو متواتر ہیں، وہ قرآن ہیں اور حجت ہیں۔ پس معاملہ مصحف (کتاب) سے متعلق نہیں ہے، بلکہ ان آیات سے متعلق ہے جو مصحف میں شامل ہیں۔ اگر وہ آیت رسول اللہ ﷺ سے تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہے، یعنی اسے رسول اللہ ﷺ سے اتنی بڑی تعداد نے سنا ہے جو تواتر کی حد کو پہنچتی ہے اور جن کی بات سے قطعی حجت قائم ہوتی ہے، تو وہ قرآن سمجھی جائے گی اور حجت ہوگی۔ اور جو اس طرح نہ ہو اسے قرآن نہیں مانا جائے گا۔ اسی لیے مصحفِ عثمانی پورا کا پورا قرآن ہے؛ کیونکہ اس میں موجود تمام آیات تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہیں، انہیں ان لوگوں نے نقل کیا ہے جن سے قطعی حجت قائم ہوتی ہے۔ لیکن مصحف ابن مسعود کو دیکھا جائے گا، تو اس میں جو آیات تواتر سے منقول ہیں وہ قرآن ہیں، اور جو آیات خبرِ واحد سے منقول ہیں، جیسے آیت «فصيام ثلاثة أيام متتابعات» (پس لگاتار تین دن کے روزے)، وہ قرآن نہیں مانی جائیں گی اور نہ ہی حجت ہوں گی۔
چنانچہ اسی بنیاد پر حفاظِ قرآن اور صحابہ کے مصاحف کے بارے میں اٹھنے والے اعتراضات کا رد کیا جاتا ہے، اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن وہی ہے جو تواتر سے نقل ہوا، اور جو آحاد سے نقل ہوا وہ قرآن نہیں۔ یہاں ایک بات قابلِ توجہ ہے کہ قرآن رسول اللہ ﷺ سے وحی کے نزول کے وقت مشاہدے کے ذریعے نقل کیا گیا، اور اسے حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ تحریری طور پر بھی ریکارڈ کیا گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآن کو رسول اللہ ﷺ سے صرف (حدیث کی طرح) روایت نہیں کیا، بلکہ اسے (من و عن) نقل کیا ہے، یعنی انہوں نے وہی چیز نقل کی جو وحی کے طور پر نازل ہوئی تھی اور جسے رسول اللہ ﷺ نے لکھنے کا حکم دیا تھا۔ یہ حدیث کے برعکس ہے، کیونکہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے 'روایت' کی گئی اور اسے آپ ﷺ کے ارشاد کے وقت یا روایت کے وقت (عام طور پر) لکھا نہیں گیا تھا، بلکہ اس کی تدوین و تسجیل تابعین کے زمانے میں ہوئی۔ جبکہ قرآن وحی کے نزول کے وقت ہی لکھا اور ریکارڈ کیا گیا، اور صحابہ نے عین وہی چیز نقل کی جو وحی کے طور پر نازل ہوئی تھی؛ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ صحابہ نے ہمیں قرآن 'نقل' کر کے دیا ہے۔"
2- کتاب الشخصیۃ الاسلامیۃ، جلد سوم، باب "الناسخ والمنسوخ" میں درج ہے:
"دوسری بات یہ ہے کہ (نسخ سے) مراد آیت کے حکم کا نسخ ہے نہ کہ اس کی تلاوت کا نسخ۔ جمہور کا مختار قول یہی ہے اور اسی پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔ اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ قرآن کی تمام آیات دلیلِ قطعی سے ثابت ہیں، اور جو آیت دلیلِ قطعی سے ثابت نہ ہو اسے قرآن نہیں مانا جاتا۔ قرآن کی کسی آیت کی تلاوت کے نسخ ہونے پر کوئی دلیلِ قطعی ثابت نہیں ہے۔ تلاوت کے نسخ پر جو دلیلِ ظنی وارد ہوئی ہے، نسخ کے اعتبار سے اس کی کوئی قیمت نہیں ہے؛ کیونکہ قطعی چیز ظنی سے منسوخ نہیں ہوتی، بلکہ وہ صرف اپنے جیسی قطعی یا اس سے برتر دلیل سے منسوخ ہوتی ہے۔ تلاوت کے نسخ پر کوئی قطعی دلیل نہیں آئی، اور یہ اس بات کی تائید ہے کہ مراد حکم کا نسخ ہے نہ کہ تلاوت کا۔"
- اسی ماخذ میں مزید ہے:
"جہاں تک قرآن کی تلاوت کے نسخ ہونے کا تعلق ہے تو وہ ممنوع اور ناجائز ہے، اور اس کا واقع ہونا دلیلِ قطعی سے ثابت نہیں ہے۔ اس کے عدمِ جواز کی دلیل یہ ہے کہ جس آیت سے نسخ کا جواز ثابت ہوتا ہے وہ کہتی ہے:
نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا
"ہم اس سے بہتر یا اس جیسی (آیت) لے آتے ہیں۔" (سورۃ البقرہ: 106)
اور قرآن سارا کا سارا خیر (بہتر) ہے اس میں کوئی تفاوت نہیں۔ پس اگر آیت کے نسخ سے مراد اسے لوحِ محفوظ سے مٹانا اور اس کی جگہ دوسری لکھنا ہوتا، تو خیریت (بہتر ہونے) کی صفت پوری نہ ہوتی، لہٰذا اس کا مطلب آیت نہیں بلکہ اس کا حکم ہے۔ مزید یہ کہ قرآن کا نزول، اس کا حفظ اور اس کی کتابت تواتر کے ذریعے ثابت ہے، اور اس پر اس طرح ایمان لانا عقیدہ ہے، اور عقیدہ صرف دلیلِ قطعی الثبوت اور قطعی الدلالہ سے لیا جاتا ہے۔ اور یہ یہاں حاصل نہیں ہے، کیونکہ ایسی کوئی قطعی دلیل نہیں آئی جو قرآن کی تلاوت کے نسخ کے جواز پر دلالت کرے؛ لہٰذا تلاوت کا نسخ جائز نہیں ہے۔ رہی بات تلاوت کے نسخ کے واقع نہ ہونے کی، تو اس کی دلیل یہ ہے کہ ایسی کوئی قطعی دلیل نہیں ملی جو یہ ثابت کرے کہ قطعی دلیل سے ثابت شدہ آیات میں سے کوئی آیت منسوخ ہو گئی ہے۔
اور جہاں تک وہ روایت ہے جو زید بن ثابت سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: «الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ۔ فَقَالَ عُمَرُ: لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقُلْتُ: أَكْتِبْنِيهَا» (بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت جب زنا کریں تو انہیں لازماً سنگسار کرو۔ عمرؓ نے کہا: جب یہ نازل ہوئی تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی: مجھے یہ لکھوا دیجیے) اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ اور جو عائشہؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: «كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ» (قرآن میں جو نازل ہوا تھا اس میں دس بار دودھ پینا حرمت ثابت کرتا تھا، پھر وہ پانچ سے منسوخ ہو گیا) اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور جو ابی بن کعب اور ابن مسعود سے مروی ہے کہ وہ «فصيام ثلاثة أيام متتابعات» پڑھتے تھے، اور یہ جو مروی ہے کہ سورہ احزاب سورہ بقرہ کے برابر تھی، وغیرہ؛ تو یہ سب اخبارِ آحاد ہیں جن سے قطعی چیز کے نسخ پر حجت قائم نہیں ہوتی؛ کیونکہ یہ ظنی خبریں ہیں، اور قطعی چیز ظنی سے منسوخ نہیں ہوتی، اسے صرف قطعی ہی منسوخ کرتا ہے۔ پس یہ ثابت ہونا ضروری ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی تھی تاکہ یہ عقیدہ بنے کہ یہ قرآن سے ہے، پھر یہ بھی قطعی دلیل سے ثابت ہو کہ وہ منسوخ ہو گئی ہے، اور ایسا کبھی واقع نہیں ہوا۔ چنانچہ قرآن کی تلاوت کا نسخ واقع نہیں ہوا ہے۔"
3- اسی بنیاد پر آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
الف- قرآن کریم کی تعریف یوں ہے: (یہ اللہ کا کلام ہے جو اس کے رسول محمد ﷺ پر وحی "جبرائیل" علیہ السلام کے ذریعے نازل ہوا، لفظاً اور معنیً، جو معجز ہے، جس کی تلاوت عبادت ہے اور جو ہم تک تواتر کے ساتھ منتقل ہوا ہے)۔ پس یہی وہ قرآن ہے جو ہمارے سیدنا محمد ﷺ پر نازل ہوا اور یہی وہ ہے جو مصحف کی دو جلدوں کے درمیان تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے۔ یہ تعریف مصحفِ عثمانی پر مکمل طور پر صادق آتی ہے، یعنی وہ مصحف جو خلیفہ راشد عثمان بن عفانؓ کے زمانے میں ان کئی صحائف سے نقل کیا گیا جو ابوبکر صدیقؓ نے جمع کیے تھے اور جو رسول اللہ ﷺ کے سامنے لکھے گئے تھے، اور عثمانؓ نے ان نسخوں کو مسلمانوں کے بڑے شہروں میں بھیجا، اور اس پر صحابہ کرامؓ کا اجماع ہوا جیسا کہ ہماری کتابوں میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے...
ب- اس کا مطلب یہ ہے کہ جو قرآن ہمیں خبرِ واحد (آحاد) کے ذریعے منتقل ہوا ہے، جیسے مصحف ابن مسعود وغیرہ، وہ قرآن نہیں ہے اور نہ ہی حجت ہے۔ اسی طرح وہ سنت بھی نہیں ہے کیونکہ اسے قرآن کے طور پر روایت کیا گیا ہے نہ کہ نبی ﷺ کی حدیث کے طور پر۔ اور جب وہ سنت نہیں ہے، تو اس سے شرعی احکام اور دیگر معاملات میں استدلال کرنا جائز نہیں جن کا استنباط شرعی ادلہ سے کیا جاتا ہے۔
ج- ان روایات اور شاذ قراتوں کے ساتھ قرآن پڑھنا درست نہیں ہے۔ ہم نے 18 ذی القعدہ 1434ھ (24 ستمبر 2013ء) کو ایک سوال کے جواب میں اس طرف اشارہ کیا تھا، جس میں درج ہے:
"[جہاں تک غیر متواتر قراتوں کے ساتھ قرآن پڑھنے کا تعلق ہے، خواہ وہ مصحفِ عثمانی کے رسم الخط کے مطابق ہوں یا نہ ہوں، ان کے ساتھ قرات جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ قرآن نہیں ہیں۔ بلکہ قرآن صرف وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ سے تواتر کے ساتھ نقل ہوا ہے]۔"
د- جب یہ نصوص جو آحاد کے طور پر قرآن ہونے کی حیثیت سے مروی ہیں، قرآن ثابت نہیں ہوئیں اور نہ ہی یہ نبی ﷺ کی سنت شمار ہوتی ہیں کیونکہ یہ سنت کے طور پر مروی نہیں ہیں، تو پھر زیادہ سے زیادہ ان کی حیثیت یہ ہو سکتی ہے کہ انہیں صحابی کی 'تفسیرِ قرآن' اور اس کی وضاحت سمجھا جائے۔ یعنی اس صحابی نے جس نے اسے روایت کیا ہے، اس آیت کے معنی بیان کرنے کے لیے اپنا قول کہا جس سے یہ اضافہ یا قرات جڑی ہوئی تھی۔ یعنی انہوں نے آیت پڑھی اور پھر اس کی تفسیر کی، اور آیت اور اپنی تفسیر کے درمیان فرق نہیں کیا، تو سننے والے نے اسے ایک ساتھ نقل کر دیا اور سمجھا کہ یہ قرآن کا حصہ ہے، جبکہ وہ قرآن نہیں تھا بلکہ صحابی کی اپنی رائے کے مطابق تفسیر تھی۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ ابن مسعود کی قرات مثلاً: «فصيام ثلاثة أيام متتابعات» میں لفظ «متتابعات» کا اضافہ ابن مسعود کا قول ہے جس میں وہ قسم کے کفارے کے روزوں میں تسلسل (لگاتار ہونے) کے وجوب کو بیان کر رہے ہیں۔ یعنی یہ اضافہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق حکم کی وضاحت ہے، اور یہ ایک صحابی کے اجتہاد اور فہم سے زیادہ کچھ نہیں اور اسے سنت جیسے شرعی ثبوت کا درجہ حاصل نہیں ہے۔
ھ- چنانچہ ہر وہ خبرِ واحد جو قرآن کے بارے میں ہو اور نصِ قطعی کے خلاف ہو، اسے دیکھا جائے گا:
- اگر اس کی سند ضعیف ہے تو اسے ضعف کی وجہ سے رد کر دیا جائے گا۔
- اور اگر اس کی سند صحیح ہے تو اسے 'درایتاً' (عقلی و شرعی اصولوں کی بنیاد پر) رد کیا جائے گا کیونکہ وہ قطعی نص کے خلاف ہے۔
4- میں علم میں اضافے کے لیے بعض مسلمان فقہاء کی کتابوں سے اس حوالے سے کچھ اقتباسات ذکر کرتا ہوں:
الف- الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ (صفحہ: 11908) میں درج ہے:
"[- قرآن وہ ہے جو مصحف کی دو جلدوں کے درمیان تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے، اور اسے مصاحف کے ساتھ مقید کیا گیا ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے نقل کرنے اور اسے غیر قرآن سے پاک رکھنے میں بہت مبالغہ کیا، یہاں تک کہ انہوں نے (شروع میں) نشانات اور نقطے لگانے کو بھی ناپسند کیا تاکہ یہ کسی اور چیز کے ساتھ خلط ملط نہ ہو جائے۔ پس ہمیں علم ہے کہ جو کچھ متفق علیہ مصحف میں لکھا ہے وہ قرآن ہے، اور جو اس سے باہر ہے وہ اس میں سے نہیں ہے، کیونکہ عرف اور عادت میں یہ ناممکن ہے کہ قرآن کی حفاظت کے اس قدر اہتمام کے باوجود اس کا کچھ حصہ نظر انداز کر دیا جائے اور نقل نہ ہو، یا اس میں کوئی ایسی چیز ملا دی جائے جو اس کا حصہ نہیں ہے۔]
اسی انسائیکلوپیڈیا میں آگے لکھا ہے: [اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ہر وہ چیز جو قرآن کا حصہ ہے، اس کا اپنی اصل اور اجزاء میں متواتر ہونا ضروری ہے، اور جہاں تک اس کے مقام، وضع اور ترتیب کا تعلق ہے تو اہلِ سنت کے محقق علماء کے نزدیک وہ بھی متواتر ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت میں آیا ہے: جو کچھ آحاد سے نقل ہوا ہے وہ قطعاً قرآن نہیں ہے، اور اس میں کسی بھی مکتبِ فکر کے عالم کا کوئی اختلاف معلوم نہیں ہے۔ اس کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ قرآن ان چیزوں میں سے ہے جنہیں نقل کرنے کے اسباب بکثرت موجود تھے کیونکہ اس میں (مخالفین کو) چیلنج دیا گیا تھا؛ اور اس لیے کہ یہ معنی اور نظم (الفاظ کی ترتیب) دونوں لحاظ سے احکام کی اصل ہے یہاں تک کہ اس کے نظم کے ساتھ بہت سے احکام جڑے ہوئے ہیں؛ اور اس لیے کہ ہر دور میں اس کی تلاوت اور کتابت سے برکت حاصل کی جاتی ہے، اسی لیے اسے تواترِ قاطع کے ساتھ محفوظ کرنے میں صحابہ کی کوششیں سب کو معلوم ہیں۔ اور جس چیز کو نقل کرنے کے محرکات اتنے زیادہ ہوں وہ عادتاً متواتر ہی نقل ہوتی ہے، پس اس کا وجود عادتاً تواتر کو لازم کرتا ہے، اور جب لازم (تواتر) مٹ جائے تو ملزوم (قرآن ہونا) بھی قطعاً مٹ جاتا ہے، اور جو آحاد سے منقول ہے وہ متواتر نہیں ہے، لہٰذا وہ قرآن نہیں ہے...]" (اقتباس ختم)
ب- سیوطی کی کتاب الاتقان فی علوم القرآن (1/279) میں درج ہے: "[ابو عبید نے فضائلِ قرآن میں کہا ہے: شاذ قرات کا مقصد مشہور قرات کی تفسیر اور اس کے معانی کی وضاحت ہے، جیسے عائشہ اور حفصہ کی قرات «والصلاة الوسطى صَلَاةِ الْعَصْرِ» (نمازِ وسطیٰ سے مراد عصر کی نماز ہے)، اور ابن مسعود کی قرات: «فَاقْطَعُوا أَيْمَانَهُمَا» (تو ان کے دائیں ہاتھ کاٹ دو) اور جابر کی قرات: «فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ لَهُنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ» (تو اللہ ان کے مجبور کیے جانے کے بعد ان کے لیے بخشنے والا مہربان ہے)۔ انہوں نے کہا: پس یہ حروف اور ان جیسے دیگر حروف قرآن کی تفسیر بن چکے ہیں، اور اس طرح کی چیزیں تابعین سے تفسیر میں مروی ہوتی ہیں تو انہیں پسند کیا جاتا ہے، تو پھر ان کے بارے میں کیا خیال ہے جب یہ جلیل القدر صحابہ سے مروی ہوں...]"
امید ہے کہ یہ جواب کافی ہوگا، اور اللہ سب سے زیادہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
آپ کا بھائی عطا بن خلیل ابو الرشتتہ
22 ذوالحجہ 1443ھ بمطابق 21 جولائی 2022ء
امیرِ حزب (اللہ ان کی حفاظت فرمائے) کے فیس بک پیج سے جواب کا لنک: https://www.facebook.com/HT.AtaabuAlrashtah/posts/596521192035254
امیرِ حزب (اللہ ان کی حفاظت فرمائے) کی ویب سائٹ سے جواب کا لنک: http://archive.hizb-ut-tahrir.info/arabic/index.php/HTAmeer/QAsingle/4268