Home About Articles Ask the Sheikh
سوال و جواب

سوال کا جواب: موصل کی بازیابی کی جنگ کے پیچھے کیا ہے!

October 30, 2016
4985

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال کا جواب

سوال:

17 اکتوبر 2016 کو موصل کی بازیابی کے لیے جنگ کے آغاز کا اعلان کیا گیا، اس کا مقصد کیا ہے؟ ہم امریکی حکام کے ان گذشتہ بیانات کو کیسے سمجھیں جن میں وہ موصل کی جنگ کے سالوں بعد ہونے کی توقع کر رہے تھے؟ کیا موصل سے نکل جانے کے بعد "تنظیمِ دولت" (داعش) ختم ہو جائے گی؟ عراقی حکومت اور ترک نظام کے درمیان لفظی جنگ کیوں ہو رہی ہے؟ اور اس جنگ میں شرکت پر ترکی کا اصرار کیوں ہے؟

جواب:

1- جو شخص جاری واقعات پر غور کرتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ یہ ان کڑیوں کا ایک حصہ ہے جن کا مقصد کردستان کے بعد، اب سنیوں اور شیعوں کے لیے الگ الگ علاقے (Regions) بنا کر عراق کی تقسیم کو مکمل کرنا ہے۔ یہ پالیسی امریکہ نے آج یا عراق پر قبضے کے وقت سے شروع نہیں کی، بلکہ یہ قبضے سے بھی پہلے 1991 میں عراق کے شمال میں "نو فلائی زون" کے قیام سے شروع ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں کردستان کا علاقہ ایک نیم ریاست بن گیا! جب امریکہ نے 2003 میں عراق پر قبضہ کیا، تو قابض حکمران پال بریمر نے جو نظام وضع کیا وہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر تھا جس میں مختلف فرقوں اور مسالک کے لیے حصے مقرر کیے گئے تھے۔ بریمر نے جولائی 2003 میں "عراقی گورننگ کونسل" تشکیل دی، اور اگست 2003 میں 25 اراکین پر مشتمل ایک آئینی تیاری کمیٹی مقرر کی۔ اس کمیٹی نے ایک ایسے دستور کا مسودہ تیار کیا جو عراق کو کردستان کی طرز پر "فیڈرل" (وفاقی) ریاست بناتا ہے۔ پھر 31 جنوری 2005 کو اس پر ووٹنگ کے لیے عام انتخابات کرائے گئے تاکہ اس آئینی عمل کو قانونی حیثیت دی جا سکے جیسا کہ عبوری انتظامی قانون میں درج تھا۔ تشدد سمیت تمام غلط ہتھکنڈوں کے استعمال کے باوجود صرف 58 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے ووٹ ڈالے، اور اس طرح اس دستور کو منظور کر لیا گیا! اس دستور کی کچھ دفعات درج ذیل ہیں:

جمہوریہ عراق کے 2005 کے دستور کی دفعہ (1) کہتی ہے کہ "جمہوریہ عراق ایک وفاقی ریاست ہے"۔ دفعہ (116) کہتی ہے کہ "جمہوریہ عراق کا وفاقی نظام دارالحکومت، اقالیم (Regions)، غیر مرکزی صوبوں اور مقامی انتظامیہ پر مشتمل ہو گا"۔ دفعہ (117/اول) کے مطابق "یہ دستور نافذ ہونے پر کردستان ریجن اور اس کے موجودہ حکام کو ایک وفاقی ریجن کے طور پر تسلیم کرتا ہے"۔ جو شخص اس ریجن کے اختیارات کو دیکھتا ہے، وہ سمجھ جاتا ہے کہ مستقبل قریب میں عراق کو کس حد تک تقسیم کیا جانا ہے! خاص طور پر جبکہ دفعہ (119) "دیگر اقالیم بنانے کے امکان" کی بات کرتی ہے۔ اس طرح امریکہ نے اس بدنامِ زمانہ دستور کے ذریعے عراق کی تقسیم کے بیج بو دیے۔

2- امریکہ نے عراق کی تقسیم کے دستور کی منظوری پر کامیابی محسوس کی اور اپنے ایجنٹوں کو اسے ترجیحات میں شامل کرنے کا کام سونپا تاکہ عام ماحول سازگار بنایا جا سکے، لیکن وہ ناکام رہے۔ جن علاقوں کو اب شیعہ اور سنی علاقے کہا جاتا ہے، وہاں علیحدگی پسندی کی کوئی تحریک نہیں تھی، بلکہ "شیعہ اور سنی علاقوں" کی اصطلاح ہی وہاں کے لیے اجنبی تھی۔ چنانچہ امریکہ نے اپنے طریقے سے ماحول بنانا شروع کیا اور نوری المالکی کا انتخاب کیا، جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کینہ و بغض سے بھرا ہوا شخص تھا، اور اسے 20 مئی 2006 کو وزیراعظم مقرر کیا۔ اس کا بنیادی کام شیعہ اور سنیوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنا تھا تاکہ ان میں دوری پیدا ہو۔ مالکی نے فرقہ واریت کو انتہا تک پہنچایا اور دوسروں کو اکسایا، جس سے تقسیم اور اقالیم کے لیے فضا سازگار ہوگئی۔ مالکی اس کردار میں کامیاب رہا، اس نے سنیوں اور کردوں کے ساتھ ایسی دشمنی پیدا کی کہ عراق کی تقسیم بہت سے لوگوں کا مطالبہ بن گئی۔ امریکہ نے اسے اسی مقصد کے لیے وزیراعظم بنایا تھا، اسی لیے اس کی حکومت کی مدت میں 8 ستمبر 2014 تک توسیع کی گئی۔ اس کا دورِ حکومت سیاہ ترین تھا، یہاں تک کہ دسمبر 2011 میں جب امریکہ بظاہر فوجی طور پر نکلا لیکن سیکورٹی اور سیاسی طور پر موجود رہا، تو فتنے کا درخت جوان ہو چکا تھا اور مالکی نے اسے مزید زہریلا کر دیا تھا۔ اس نے ہر بار بجھتی ہوئی آگ کو اپنے اشتعال انگیز بیانات اور اقدامات سے ہوا دی، اور مسلح شیعہ ملیشیاؤں کے قیام سے فرقہ وارانہ کشیدگی کو عروج پر پہنچا دیا۔

امریکہ کو مسلمانوں کے درمیان دراڑیں گہری کرنے کے لیے مالکی کی صورت میں اپنا مطلوبہ مہرہ مل گیا تھا۔ وہ جان بوجھ کر سنیوں کو اپنے کینے، ظلم اور زبردستی سے اکساتا رہا۔ جب لوگ ظلم کے خاتمے یا اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے، تو وہ ان پر ٹوٹ پڑتا، جیسا کہ 2012 میں سنی علاقوں کے لوگوں کے ساتھ ہوا جب انہوں نے پرامن احتجاج کیا تھا۔ ان کے مطالبات معمولی تھے جیسے ظلم کا خاتمہ، قیدیوں بالخصوص خواتین کی رہائی اور بلاوجہ رات کے چھاپوں سے گریز۔ ان کا کوئی مطالبہ حکومت گرانے کا نہیں تھا، لیکن مالکی حکومت نے انہیں دہشت گردوں کے مطالبات قرار دے کر مسترد کر دیا اور پرامن دھرنوں کو کچلنا شروع کیا تاکہ اس علاقے کے لوگوں میں اشتعال بڑھے اور وہ علیحدگی یا وفاقی ریجن کا مطالبہ کریں۔ مالکی یہ سب اپنے امریکی آقاؤں کے اشارے یا رضا مندی سے کر رہا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض شیعہ تحریکوں نے بھی انبار کے احتجاج سے پہلے ہی جنوب میں کردستان کی طرز پر شیعہ ریجن کا مطالبہ شروع کر دیا تھا۔ بات یہاں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ پڑوسی ممالک نے بھی فرقہ وارانہ پہلو کو اجاگر کرنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کیا۔ یہ سب امریکی پالیسی کی تعمیل میں تھا جو عراق کو ایک متحد ملک کے طور پر نہیں بلکہ متصادم ٹکڑوں میں دیکھنا چاہتا ہے جہاں ہر فریق اپنے ریجن کے قیام پر بضد ہو، اور اب کھلے عام ریجنز کی دہائی دی جا رہی ہے۔

3- اس ماحول میں "تنظیمِ دولت" (داعش) نے موصل میں قدم جمانے کے لیے پیش قدمی کی۔ امریکہ نے دیکھا کہ شیعہ ملیشیاؤں کے مقابلے میں تنظیم کا داخلہ دراڑ کو مزید گہرا اور تلخ بنا دے گا، جو کہ سنیوں اور شیعوں کے درمیان تفریق بڑھانے کے امریکی مقصد کی تکمیل کرے گا۔ چنانچہ مالکی کو حکم دیا گیا کہ وہ فوج کو موصل سے نکال لے اور اسلحہ و بینکوں کی دولت وہیں چھوڑ دے، اور ایسا ہی ہوا۔ جون 2014 میں موصل کے تنظیم کے ہاتھوں گرنے کا اعلان کیا گیا۔ متواتر اطلاعات کے مطابق عراقی فوج بغیر کسی حقیقی لڑائی کے پیچھے ہٹ گئی، بلکہ اپنا اسلحہ، ساز و سامان اور وردیاں تک چھوڑ دیں، حالانکہ ان کی تعداد اور طاقت زیادہ تھی۔ ہر کسی کو اس پر شک ہوا کہ یہ علاقہ کسی خاص مقصد کے تحت حوالے کیا گیا ہے۔ یہ رائے اتنی مضبوط تھی کہ مالکی نے خود اعتراف کیا کہ جو کچھ ہوا وہ ایک سازش تھی ("موصل میں جو کچھ ہوا وہ ایک سازش تھی"، مالکی کا فیس بک پیج، الحرہ امریکہ، 18 اگست 2015)۔ لیکن اس نے خود کو اس سے بچانے کی کوشش کی، حالانکہ وہ وزیراعظم اور فوج کا سربراہ ہونے کے ناطے براہِ راست ذمہ دار تھا! رمادی میں بھی یہی دہرایا گیا جب "گولڈن ڈویژن" کو بغیر مزاحمت کے پیچھے ہٹا لیا گیا۔ مالکی کے احتساب کا مطالبہ ہوا لیکن معاملے کو دبا دیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ نے اس معاملے کو بند کرنا چاہا کیونکہ فوج کے پیچھے ہٹنے میں اس کا اپنا ہاتھ تھا، وہ تنظیم کے وجود کو آسان بنانا چاہتا تھا تاکہ سنی تنظیم اور شیعہ ملیشیا کے پہلو بہ پہلو ہونے سے فرقہ وارانہ خلیج اتنی وسیع ہو جائے کہ وفاقی نظام کی راہ ہموار ہو سکے۔ اسی لیے امریکہ نے موصل میں داخل ہوتے وقت تنظیم پر بمباری سے انکار کر دیا۔ اوباما نے 13 جون 2014 کو بیان دیا کہ واشنگٹن "عراقیوں کے سیاسی منصوبے کے بغیر کسی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا"۔ یہ بات امریکہ اور عراق کے درمیان سیکیورٹی معاہدے اور عراقی حکومت کی درخواست کے باوجود کہی گئی۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ امریکہ مداخلت میں جلدی نہیں چاہتا تھا بلکہ اسے اس وقت تک مؤخر کرنا چاہتا تھا جب تک اقالیم (Regions) کے منصوبے کے لیے ماحول سازگار نہ ہو جائے۔ جب دونوں فریق اپنے اپنے ریجن کے لیے راضی ہو جائیں گے، تب امریکہ تنظیم کے خلاف جنگ اور اسے موصل سے نکالنے کا حکم دے گا۔

با شعور سیاست دان اس بات کو سمجھتے ہیں۔ ہم یہاں "العراق الیوم" ویب سائٹ کی 6 دسمبر 2015 کی رپورٹ کا ذکر کرتے ہیں جس میں اعلیٰ سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ امریکہ نے داعش کے خاتمے کے لیے یہ شرط رکھی تھی: "بغداد میں وفاقی حکومت کے ماتحت تین بڑے اقالیم (Regions) کا قیام ہی داعش کے خاتمے اور عراق کی پاکیزگی کی بنیادی شرط ہے، تاکہ ان تمام ثانوی طاقتوں کا خاتمہ کیا جا سکے جنہوں نے بغداد کی اتھارٹی کی جگہ لے لی ہے، خاص طور پر ایرانی کمانڈ میں کام کرنے والی ملیشیائیں"۔ انہی ذرائع نے بتایا کہ واشنگٹن نے سلامتی کونسل کی تائید سے نئے وفاقی نظام کے تحفظ کی ضمانت دی ہے۔

چنانچہ امریکہ نے مالکی کو اس کے فرقہ وارانہ تعصب کی بنیاد پر سنیوں کو اکسانے اور شیعہ سنی دشمنی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا تاکہ عراق کو مرکز کے ساتھ ایک کمزور تعلق والے ٹکڑوں میں بانٹ دیا جائے۔ اسی طرح تنظیم کے شیعہ مخالف نظریے کو استعمال کرتے ہوئے اسے موصل میں داخل ہونے دیا تاکہ دراڑ مزید بڑھے۔ امریکہ نے تنظیم کے "خلافت" کے اعلان کو بھی اپنے حق میں استعمال کیا اور اس کے قتل و غارت اور جلاؤ گھیراؤ کو خلافت کے نام سے جوڑنے کی کوشش کی۔ لیکن اللہ نے ان کی تدبیروں کو ناکام بنا دیا اور لوگوں پر واضح ہو گیا کہ بغدادی کی "خلافت" لغو ہے، جبکہ وہ خلافت جس کا اللہ نے حکم دیا اور رسول اللہ ﷺ نے خوشخبری دی، وہ حق اور عدل ہے، جہاں لوگ امن و امان کے لیے ہجرت کریں گے اور جو صرف اپنے شہریوں کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خیر لائے گی۔

4- جہاں تک شمالی عراق میں ترکی کی موجودگی کا تعلق ہے، تو اس کا مقصد بھی وہی ہے یعنی عراق میں سنیوں کو "سانس لینے" کا موقع دینا جیسا کہ ایران شیعوں کو دے رہا ہے، تاکہ علاقائی صورتحال تقسیم کے منصوبے میں مددگار ثابت ہو۔ ترکی کا داخلہ اس خلیج کو گہرا کرنے کے لیے تھا تاکہ وہ سنیوں کے محافظ کے طور پر نظر آئے جبکہ ایران شیعوں کا محافظ بنے، اور اس سب کا مقصد تقسیم کو آسان بنانا ہے۔

رہی بات اس جنگ میں شرکت پر ترکی کے اصرار اور اردگان و عبادی کے درمیان تلخ کلامی کی، اور اردگان کا بعشیقہ کیمپ سے فوج نکالنے کے عراقی مطالبے کو مسترد کرنا، تو یہ معاملہ نہ عراقی حکومت کے ہاتھ میں ہے اور نہ ترکی کے، بلکہ یہ امریکی پالیسی کے مطابق ہے تاکہ اردگان سنیوں کے ہیرو بن کر ابھریں اور امریکی منصوبے "اقالیم" کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ اسی طرح عبادی بھی صرف ترک افواج کا مسئلہ اٹھاتا ہے جبکہ عراق کی زمین اور آسمان دوسری غیر ملکی افواج سے بھرا ہوا ہے، تاکہ وہ شیعوں کی ہمدردی حاصل کر سکے۔ یہ سب ایک ہی مقصد کے لیے ہے یعنی فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ۔ ترک افواج کی موجودگی امریکی منصوبے کی تکمیل کے لیے ہے، اور یہ اب راز نہیں رہا۔ اردگان نے خود موصل کے لیے کردستان کی طرز پر ایک الگ ریجن کا مطالبہ کیا ہے اور ان لوگوں کو ملامت کی ہے جنہوں نے شمال کے لیے تو ریجن تسلیم کیا لیکن موصل کے لیے نہیں۔ (بیان: "جنہوں نے شمالی عراق میں مقامی حکومت کے لیے 'ہاں' کہا، انہوں نے موصل کے لیے ایسا کیوں نہیں کیا"۔ ٹائم ترک اخبار، 18 اکتوبر 2016)۔

5- اب سوال یہ ہے کہ امریکیوں کے سابقہ بیانات کے برعکس موصل کی جنگ پر اب اتنا اصرار کیوں؟ اس کی وجہ درج ذیل ہے:

امریکہ سمجھتا تھا کہ تنظیم کے خلاف جنگ اور اسے موصل سے نکالنے کا وقت ابھی نہیں آیا، اور اوباما اس معاملے کو اپنے دور میں ختم کرنے کی جلدی میں نہیں تھے۔ لیکن کچھ ایسے واقعات ہوئے جنہوں نے اوباما کو جلدی پر مجبور کیا۔ اوباما چاہتے تھے کہ وہ اپنے دور کا خاتمہ کسی نمایاں کامیابی کے ساتھ کریں۔ وہ شام میں ایرانی ملیشیاؤں اور روسی بمباری کے ذریعے کسی کامیابی کی امید لگائے ہوئے تھے، لیکن شامی عوام بالخصوص حلب کے عظیم صبر و استقامت نے ان کی امیدیں توڑ دیں، چنانچہ انہوں نے اپنی توجہ عراق اور موصل کی طرف موڑ دی تاکہ وہاں سے کوئی کامیابی حاصل کر سکیں۔ انہوں نے اتنی جلدی کی کہ پیچھے حویجہ جیسے علاقوں کو چھوڑ دیا گیا۔ (وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق عراقی افواج نے موصل کی طرف پیش قدمی کے دوران حویجہ کو نظر انداز کر دیا، جو داعش کے جوابی حملوں کا سبب بن سکتا ہے۔ الجزیرہ، 28 اکتوبر 2016)۔

اس طرح 17 اکتوبر 2016 کو موصل کی جنگ شروع ہوئی جس میں ایک لاکھ چالیس ہزار فوجی، بشمرگہ اور مختلف ملیشیائیں شامل ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان پیٹر کک نے کہا کہ واشنگٹن کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد عراقی افواج کی مکمل حمایت کر رہا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ یہ جنگ امریکی انتخابی مہم کے دوران اور اس کے بعد بھی جاری رہے تاکہ اوباما اور ڈیموکریٹس کی تاریخ میں ایک فتح درج ہو سکے۔ اگرچہ اندرونی قوتوں اور علاقائی طاقتوں (ترکی و ایران) کی رسہ کشی کی وجہ سے یہ جنگ آسان نہیں ہے، لیکن چونکہ ان تمام قوتوں پر اثر انداز ہونے والا بنیادی عامل "امریکہ" ہے، اس لیے یہ رسہ کشی جنگ کو زیادہ دیر تک نہیں روک سکے گی۔

6- امریکہ نے یورپ بالخصوص فرانس اور برطانیہ کو بھی اس اتحاد میں ایک محدود کردار دیا ہے تاکہ وہ الگ رہ کر امریکی اہداف (عراق کی تقسیم) میں خلل نہ ڈال سکیں۔ فرانس نے اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں خود کو نمایاں کرنے کے لیے پیرس میں 20 اکتوبر 2016 کو "موصل کے سیاسی مستقبل" پر کانفرنس بلائی اور 25 اکتوبر کو وزرائے دفاع کا اجلاس منعقد کیا۔ امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے اس اتحاد کے قائد کے طور پر واضح کیا کہ بات چیت کا محور داعش کا الرقہ سے قبضہ ختم کرنا اور رکن ممالک کے علاقوں کو حملوں سے بچانا ہے۔ یہ اتحاد میں امریکی قیادت کی واضح علامت ہے۔

7- کیا موصل کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد تنظیم ختم ہو جائے گی؟ ایسا نظر نہیں آتا، بلکہ تنظیم گوریلا جنگ اور یہاں وہاں حملوں کا طریقہ کار اپنائے گی اور شہروں سے باہر اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔ رمادی سے نکالے جانے کے بعد بھی وہ اس کے گرد و نواح میں موجود رہے۔ موصل سے نکل کر بھی وہ 2014 سے پہلے والی پوزیشن پر چلے جائیں گے، یعنی صحراؤں اور پہاڑوں میں چھپ کر لڑنے والی ایک مسلح تنظیم۔ سیاسی شعور کی کمی کی وجہ سے وہ ایسے کام بھی کر سکتے ہیں جنہیں وہ اپنے مفاد میں سمجھیں گے لیکن استعماری کفار انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں گے۔

8- جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، تو اس کا عراق کو تین وفاقی حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ برقرار ہے بلکہ یہ اب اس کی ریاستی پالیسی ہے۔ امریکی کانگریس نے 2006 میں عراق کو تین اقالیم (کرد، سنی، شیعہ) میں تقسیم کرنے کا غیر لازمی منصوبہ منظور کیا تھا۔ جوزف بائیڈن، جو اوباما کے دور میں نائب صدر بنے، اس منصوبے کے بڑے حامی رہے ہیں۔ امریکہ نے عراق کا دستور بھی اسی بنیاد پر بنایا ہے۔ اب موصل کی بازیابی کے بعد سنی علاقوں کے لیے سیاسی فارمولے پر بحث ہو گی، جو کہ ایک مشکل مرحلہ ہو گا۔ تاہم، یہ منصوبہ اتنی آسانی سے کامیاب نہیں ہوگا کیونکہ عراق میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے وفادار مخلص لوگ موجود ہیں جو اپنے ملک کے ٹکڑے ہونے کو قبول نہیں کریں گے اور ان سازشوں کو ناکام بنا دیں گے۔

9- آخر میں، اے اہل عراق! اے سرزمینِ رافدین کے لوگو! ہم آپ کو اسی طرح پکارتے ہیں جیسے پہلے پکارا تھا: اسلام نے صدیوں تک آپ کو متحد رکھا، اس کے سائے میں آپ طاقتور اور معزز رہے۔ آپ کا ملک بہادری کی زمین ہے، قادسیہ، ہارون الرشید، معتصم اور صلاح الدین کی زمین ہے۔ متحد عراق اپنے لوگوں کے ساتھ مضبوط ہے اور تقسیم شدہ عراق کمزور ہے۔ اگر کرد یہ سمجھتے ہیں کہ الگ ریجن یا ریاست انہیں عزت دے گی، تو یہ مختصر مدت کے لیے ہو سکتا ہے لیکن انجام کار یہ ان کے لیے تباہ کن ہوگا۔ اگر سنی سمجھتے ہیں کہ شمال اور مغرب میں الگ ریجن انہیں خوشحالی دے گا، تو یہ بھی عارضی ہوگا اور اس کے بعد بدبختی ان کا مقدر ہوگی۔ اور اگر شیعہ سمجھتے ہیں کہ جنوب میں ان کا الگ ریجن انہیں طاقت دے گا، تو یہ ذلت پر ہی ختم ہوگا۔

اے اہل رافدین: فرقہ واریت اور عصبیت کو ترک کر دو!

دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ

"اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ بدبودار (تعصب) ہے۔" (بخاری)

فرقہ وارانہ اور مسلکی ناموں کو چھوڑ دیں اور اس نام کو تھام لیں جو اللہ نے ہمیں دیا ہے:

هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ

"اسی نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔" (سورہ الحج: 78)

اسی کی طرف لوٹ آئیں اور متحد ہو جائیں تاکہ معزز ہو سکیں، ورنہ ہر جگہ سے ذلت آپ کا مقدر بنے گی۔

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ

"بے شک اس میں نصیحت ہے اس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو یا توجہ سے سنے اور وہ حاضر (دماغ) ہو۔" (سورہ ق: 37)

29 محرم الحرام 1438ھ بمطابق 30 اکتوبر 2016ء

مضمون شیئر کریں

اس مضمون کو اپنے نیٹ ورک کے ساتھ شیئر کریں