Home About Articles Ask the Sheikh
سوال و جواب

سوال کا جواب: مصعب بن عمیرؓ اور طلبِ نصرت

August 30, 2018
5977

(عالمِ جلیل عطاء بن خلیل ابو الرشتہ، امیر حزب التحریر کے اپنے فیس بک پیج "فقہی" پر آنے والے سوالات کے جوابات کا سلسلہ)

جہاد جہاد (Jihad Jihad) اور عطیہ الجبارین کے نام

جہاد جہاد کی جانب سے سوال:

السلام علیکم،

معذرت کے ساتھ، اس بات کے کیا دلائل ہیں کہ مصعب بن عمیرؓ نے (مدینہ میں) نصرت طلب کی تھی، جبکہ وہ تو مدینہ میں صرف حاملِ دعوت کے طور پر گئے تھے؟ براہِ کرم اس کی شافی وضاحت فرما دیں۔

عطیہ الجبارین کی جانب سے سوال:

ہمارے امیر اور شیخ ابو یاسین... السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ...

ایک سوال (چھوڑ جانے والے اور نصرت میں تاخیر) کے جواب میں طلبِ نصرت کے موضوع پر یہ بات آئی ہے کہ: (...یا کیا مصعبؓ رسول اللہ ﷺ سے بہتر انداز میں نصرت طلب کر سکتے تھے؟) اور یہ کہ (...پس رسول اللہ ﷺ نے دس سے زائد مرتبہ نصرت طلب کی اور آپ کی پکار پر لبیک نہیں کہا گیا، حالانکہ آپ ﷺ کا عمل بہترین سے بھی برتر تھا... جبکہ مصعبؓ کی پکار پر لبیک کہا گیا...)۔ اے ہمارے فاضل شیخ، آپ سے گزارش ہے کہ ہمیں وہ دلیل ذکر کر دیں جس سے یہ ثابت ہو کہ مصعب بن عمیرؓ نے اہل مدینہ سے نصرت طلب کی تھی... کیونکہ جہاں تک ہمیں معلوم ہے اور سیرت کی کتابوں اور شیخ تقی الدین نبہانیؒ کی کتاب "الدولہ الاسلامیہ" میں بھی یہی درج ہے کہ مصعب بن عمیرؓ مدینہ میں لوگوں کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے اور ہماری نظر سے یہ بات نہیں گزری کہ انہوں نے ان سے دین کی نصرت طلب کی تھی۔ اللہ آپ کو برکت دے اور ہمیں اور آپ کو جلد ہی ریاستِ اسلامی میں اکٹھا کرے۔

آپ کا بھائی/ عطیہ الجبارین - فلسطین

جواب:

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،

آپ دونوں کے سوالات ملتے جلتے ہیں، اس لیے جواب درج ذیل ہے:

1- مجھے اس سوال پر حیرت ہوئی، آپ دونوں اس بات پر دلیل مانگ رہے ہیں کہ مصعبؓ نے مدینہ میں نصرت طلب کی تھی، جبکہ وہ مدینہ میں حاملِ دعوت تھے (جیسا کہ جہاد نے کہا) یا لوگوں کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے (جیسا کہ عطیہ نے کہا)! کیا ایسا ہی ہے؟ تو کیا طلبِ نصرت حاملِ دعوت کے کام کا حصہ نہیں؟ اور کیا طلبِ نصرت اسلام کی طرف دعوت کا حصہ نہیں ہے؟

حاملِ دعوت لوگوں کو اسلام کی طرف بلاتا ہے، عام لوگوں کو بھی اور ان میں سے اہل قوت و منعت (صاحبِ اقتدار و طاقت) کو بھی۔ عام لوگوں کے لیے اس کا کام محض دعوت پہنچانا ہے، لیکن اہل قوت و منعت کے لیے اس کا کام دعوت پہنچانا بھی ہے اور طلبِ نصرت بھی... چنانچہ رسول اللہ ﷺ کو جب اللہ قوی و عزیز کی جانب سے نصرت طلب کرنے کا حکم دیا گیا، تو آپ ﷺ قبائل کے سرداروں اور اہل قوت و منعت کے پاس جاتے اور ان کے سردار کو اسلام کی دعوت دیتے۔ اگر وہ اسلام قبول کر لیتا تو... آپ ﷺ اسے اپنی نصرت (حمایت و مدد) کی دعوت دیتے۔ لیکن اگر کسی قبیلے کا سردار اہل قوت میں سے نہ ہوتا بلکہ عام لوگوں میں سے ہوتا، یا اس کا قبیلہ چھوٹا ہوتا جس کی کوئی طاقت و منعت نہ ہوتی، تو رسول اللہ ﷺ اسے صرف اسلام کی دعوت دیتے اور اس سے نصرت طلب نہ فرماتے۔

2- اسی طرح مصعبؓ نے بھی کیا؛ وہ اہل مدینہ کو اسلام کی طرف بلاتے اور انہیں قرآن پڑھ کر سناتے یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا اور مصعبؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ (مدینہ کا) کوئی گھر ایسا نہیں بچا جہاں اسلام نہ پہنچ گیا ہو اور اس کے کچھ افراد مسلمان نہ ہو چکے ہوں، یعنی مسلمانوں کی تعداد بہت ہو چکی تھی، لیکن ان میں سے اہل قوت و منعت کی تعداد محدود تھی: 73 مرد اور دو خواتین... جب مصعبؓ کو یہ قوت میسر آگئی تو وہ (بعثت کے) 11 ویں سال حج کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے اور آپ ﷺ کے سامنے یہ معاملہ رکھا کہ یہ اہل قوت اگلے سال یعنی 12 ویں سال حج کے سیزن میں آئیں گے، تاکہ رسول اللہ ﷺ ان پر جو چاہیں شرط رکھیں، کیونکہ وہ اللہ کے اذن سے اس کے لیے تیار ہیں...

3- میں آپ کے سامنے اس موضوع پر کتاب "الدولہ الاسلامیہ" کی عبارت نقل کرتا ہوں: (...یہاں تک کہ جب (بعثت کا) 11 واں حج کا سیزن آیا تو وہ (مصعبؓ) مکہ واپس آئے اور رسول اللہ ﷺ کو مسلمانوں کی خبر، ان کی قوت، اسلام کی خبریں اور اس کے پھیلاؤ کی تفصیلات سنائیں، اور مدینہ کے معاشرے کی تصویر کشی کرتے ہوئے بتایا کہ اب وہاں رسول اللہ ﷺ کے سوا کوئی تذکرہ نہیں اور وہاں کی فضاؤں میں اسلام کے سوا کچھ نہیں، اور یہ کہ وہاں مسلمانوں کی قوت اور ان کی منعت کا اتنا اثر ہے کہ اسلام ہر چیز پر غالب آچکا ہے، اور یہ کہ اس سال کچھ مسلمان حاضر ہوں گے جو اللہ پر پختہ ایمان رکھنے والے، اللہ کے پیغام کو اٹھانے اور اللہ کے دین کا دفاع کرنے کے لیے بھرپور تیار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ مصعبؓ کی خبروں سے بہت خوش ہوئے اور طویل عرصے تک اس معاملے میں سوچ بچار کرتے رہے، اور مکہ اور مدینہ کے معاشرے کا موازنہ کیا۔ مکہ میں آپ ﷺ مسلسل بارہ سال تک اللہ کی طرف دعوت دیتے رہے، آپ نے دعوت میں کوئی کسر نہ چھوڑی، ہر موقع سے فائدہ اٹھایا، ہر طرح کی اذیتیں برداشت کیں، اس کے باوجود وہاں کا معاشرہ جوں کا توں رہا اور دعوت کے لیے راستہ نہ بن سکا... جبکہ مدینہ کا معاشرہ ایسا تھا کہ خزرج کے چند افراد کے اسلام لانے کے بعد ایک سال گزرا، پھر بارہ آدمیوں کی بیعت ہوئی، اور پھر مزید ایک سال مصعب بن عمیرؓ کی جدوجہد رہی؛ یہ مدینہ میں اسلامی فضا پیدا کرنے اور لوگوں کے اتنی حیرت انگیز رفتار سے اللہ کے دین میں داخل ہونے کے لیے کافی ثابت ہوا...)۔

4- جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، مصعبؓ نے اہل قوت و منعت کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجنے سے پہلے خود حاضر ہو کر آپ ﷺ کو مدینہ میں اسلام کے پھیلاؤ کی اطلاع دی اور یہ بتایا کہ ان میں اہل قوت و منعت موجود ہیں اور وہ اگلے سیزن میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہیں تاکہ رسول اللہ ﷺ ان سے جو چاہیں عہد لے لیں... رسول اللہ ﷺ مصعبؓ کی بات سے خوش ہوئے اور ان کے کام کی توثیق فرمائی اور اگلے سال ان کے آنے پر رضامندی ظاہر فرمائی، اور ایسا ہی ہوا؛ وہ اگلے سال یعنی بعثت کے بارہویں سال حج کے سیزن میں آئے اور یہ بیعتِ عقبہ ثانیہ تھی...

5- اب ہم کتاب "الدولہ الاسلامیہ" کی عبارت مکمل کرتے ہیں: (...اور آپ ﷺ نے حجاج کی آمد کا انتظار فرمایا، یہ بعثت کا بارہواں سال تھا جو 622ء کے مطابق تھا۔ حجاج واقعی بہت بڑی تعداد میں تھے اور ان میں پچھتر (75) مسلمان تھے: تہتر (73) مرد اور دو خواتین، جن میں سے ایک نسیبہ بنت کعب ام عمارہ (بنو مازن بن نجار) اور دوسری اسماء بنت عمرو بن عدی (بنو سلمہ) تھیں جو ام منیع کے نام سے مشہور تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے خفیہ رابطہ کیا... اور ان سے وعدہ لیا کہ وہ ایامِ تشریق کی درمیانی راتوں میں عقبہ کے مقام پر ملیں گے۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: "کسی سونے والے کو بیدار نہ کرنا اور کسی غائب کا انتظار نہ کرنا"۔ مقررہ وقت پر، جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا، تو وہ اپنے ڈیروں سے چھپتے چھپاتے نکلے تاکہ کسی کو ان کا پتا نہ چلے، وہ عقبہ پہنچے اور پہاڑ پر چڑھ گئے، ان کے ساتھ وہ دونوں خواتین بھی تھیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرنے لگے... پھر انہوں نے کہا: "اے اللہ کے رسولؐ، اب آپ بات کیجیے اور اپنے لیے اور اپنے رب کے لیے جو پسند فرمائیں ہم سے عہد لے لیجیے"۔ رسول اللہ ﷺ نے قرآن کی تلاوت فرمائی اور اسلام کی ترغیب دی، پھر جواب دیا:

«أبايعكم على أن تمنعوني مما تمنعون منه نساءكم وأبناءكم»

"میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم میرا (دفاع) اسی طرح کرو گے جس طرح اپنی عورتوں اور اپنے بچوں کا دفاع کرتے ہو"۔ اس پر براءؓ نے بیعت کے لیے ہاتھ بڑھایا اور کہا: "اے اللہ کے رسولؐ، ہم سے بیعت لیجیے، بخدا ہم جنگجو لوگ ہیں اور ہتھیاروں والے ہیں، یہ ہمیں ورثے میں ملا ہے..." پھر انہوں نے پوچھا: "اے اللہ کے رسولؐ، اگر ہم نے یہ عہد پورا کیا تو ہمیں کیا ملے گا؟" رسول اللہ ﷺ نے پورے اطمینان کے ساتھ جواب دیا:

«الجنة»

"جنت"...) اقتباس ختم ہوا۔

اس تمام گفتگو سے یہ واضح ہوتا ہے کہ:

رسول اللہ ﷺ نے بیعتِ عقبہ اولیٰ کے بعد بعثت کے دسویں سال مصعبؓ کو ان بارہ آدمیوں کے ساتھ بھیجا تھا... وہ مدینہ میں لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے اور ان میں جو اہل قوت تھے انہیں اللہ کے دین کی نصرت کی دعوت دیتے تھے... اور مصعبؓ بعثت کے گیارہویں سال رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے اور مدینہ میں اسلام کے پھیلاؤ اور وہاں موجود اہل قوت کی صورتحال پیش کی کہ وہ اگلے (بارہویں) سال آنے کو تیار ہیں تاکہ آپ ﷺ ان سے دین کی نصرت کی جو چاہیں شرط رکھ لیں۔ پس رسول اللہ ﷺ نے اتفاق فرمایا اور مصعبؓ کے اس کام کی توثیق فرمائی جو انہوں نے مدینہ میں کیا تھا، اور ان اچھے نتائج پر خوش ہوئے جو اللہ کے حکم سے وہاں حاصل ہوئے تھے۔ اس طرح بارہویں سال کے سیزن میں تہتر مرد اور دو خواتین حاضر ہوئے اور بیعتِ عقبہ ثانیہ ہوئی، جس کے بعد ہجرت ہوئی اور ریاست کا قیام عمل میں آیا...

چنانچہ، مدینہ میں مصعبؓ کا کام طلبِ نصرت کے کاموں کا بنیادی ستون ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں اہل قوت و منعت کے دل کھول دیے اور وہ اللہ کے دین کی نصرت کے لیے تیار ہو گئے۔ میں آپ کے سامنے وہی بات دہراتا ہوں جو مصعبؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہی تھی: (...اور یہ کہ وہاں مسلمانوں کی قوت اور ان کی منعت کا اتنا اثر ہے کہ اسلام ہر چیز پر غالب آچکا ہے، اور یہ کہ اس سال کچھ مسلمان حاضر ہوں گے جو اللہ پر پختہ ایمان رکھنے والے، اللہ کے پیغام کو اٹھانے اور اللہ کے دین کا دفاع کرنے کے لیے بھرپور تیار ہیں).

اللہ تعالیٰ مصعبؓ پر رحم فرمائے اور ان سے راضی ہو، اللہ نے ان کے ہاتھوں وہ عظیم فتح عطا فرمائی جس کے نتیجے میں رسول اللہ ﷺ کے لیے بیعتِ عقبہ ثانیہ ممکن ہوئی اور پھر ہجرت اور ریاست کا قیام ہوا۔ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔

امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ وضاحت کافی ہوگی۔

آپ کا بھائی عطاء بن خلیل ابو الرشتہ

18 ذو الحجہ 1439ھ بمطابق 29 اگست 2018ء

امیرِ حزب (حفظہ اللہ) کے فیس بک پیج سے جواب کا لنک: فیس بک

امیرِ حزب (حفظہ اللہ) کے گوگل پلس پیج سے جواب کا لنک: گوگل پلس

امیرِ حزب (حفظہ اللہ) کی ویب سائٹ سے جواب کا لنک: ویب

مضمون شیئر کریں

اس مضمون کو اپنے نیٹ ورک کے ساتھ شیئر کریں