حزب التحریر کے امیر جلیل القدر عالم شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ کے اپنے فیس بک پیج 'فکری' کے زائرین کے سوالات کے جوابات کا سلسلہ
سوال کا جواب
انیس طردہ (فلسطین) کے نام
سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، ہمارے جلیل القدر شیخ اور محترم امیر، میں اللہ سے آپ کی صحت اور عافیت کے لیے دعاگو ہوں۔
میرا سوال یہ ہے کہ: کیا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی قوم ہے، جبکہ ان کا کوئی باپ نہیں ہے؟ جیسا کہ کتاب نقض الفكر الغربي الرأسمالي (مغربی سرمایہ دارانہ فکر کی تردید) کے صفحہ 138 پر ذکر کیا گیا ہے؟
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اپنی نصرت سے آپ کی تائید فرمائے۔ انیس طردہ، فلسطین۔
جواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
جس مقام کے بارے میں آپ سوال کر رہے ہیں وہ کتاب نقض الفكر الغربي الرأسمالي کے صفحہ 138 پر یہ عبارت ہے: (خالق سبحانہ و تعالیٰ نے مخلوق کے ساتھ اپنے تعلق کی نوعیت متعین فرما دی ہے، چنانچہ اس نے انسانیت کی طرف رسول مبعوث کیے، جن میں سے موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی طرف، عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی طرف، اور محمد ﷺ تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیے گئے۔) اقتباس ختم۔
آپ یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا عیسیٰ علیہ السلام کے لیے "قوم" کا لفظ استعمال کرنا درست ہے کیونکہ ان کا کوئی باپ نہیں ہے، اور آپ کتاب نقض الفكر الغربي الرأسمالي کی اس عبارت "اور عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی طرف" کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، گویا آپ کے نزدیک یہ قول درست یا مناسب نہیں ہے...!
اس سوال کا جواب جاننے کے لیے آئیے درج ذیل ذرائع کی طرف رجوع کرتے ہیں:
1- لغت:
لسان العرب (12/ 496) میں آیا ہے: (...اور "قَوْمُ" مردوں اور عورتوں کے مجموعے کو کہتے ہیں، اور ایک قول یہ ہے کہ یہ صرف مردوں کے لیے ہے نہ کہ عورتوں کے لیے... اور ہر آدمی کی قوم اس کے پیروکار اور اس کا قبیلہ ہوتا ہے...) اقتباس ختم۔
القاموس المحیط (3/ 275): ("القَوْمُ" مردوں اور عورتوں کی جماعت کو کہتے ہیں، یا خاص طور پر مردوں کو، یا اس میں عورتیں تابع کے طور پر شامل ہوتی ہیں... "واستقام" کے معنی ہیں اعتدال پر ہونا، "وقوّمته" یعنی میں نے اسے درست کیا، پس وہ "قویم" اور "مستقیم" ہے...)
مختار الصحاح (ص: 264): (ق و م: "القَوْمُ" عورتوں کے علاوہ مرد ہیں، اس کا اپنے لفظ سے کوئی واحد نہیں ہے... اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ﴾ پھر فرمایا ﴿وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ﴾۔ اور بسا اوقات عورتیں بھی اس میں تابع کے طور پر داخل ہوتی ہیں کیونکہ ہر نبی کی قوم میں مرد اور عورتیں (دونوں) شامل ہوتے ہیں... اور کسی چیز کو "اقامہ" کرنے کا مطلب اسے ہمیشہ برقرار رکھنا ہے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ﴾...)
پس لغت میں "قوم" سے مراد ایک جماعت ہے، یا عورتوں کے بغیر مردوں کی جماعت، یا کسی شخص کے پیروکار اور اس کا قبیلہ... اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کی ایک جماعت یعنی بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیے گئے تھے، جن میں مرد اور عورتیں دونوں شامل تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی طرف "قوم" کی نسبت کرنے سے (یعنی ان کی قوم کہنا) یہ لازم نہیں آتا کہ باپ کا بنی اسرائیل سے ہونا ضروری ہے تاکہ انہیں ان کی قوم کہا جا سکے۔ قوم کی طرف نسبت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ نسب کے لحاظ سے لازمی طور پر ان میں سے ہوں، بلکہ "ان کی قوم" کہنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ان کی طرف مبعوث کیے گئے ہوں، یعنی وہ ان کا وہ گروہ ہو جن تک پیغام پہنچانے کا انہیں حکم دیا گیا تھا۔
چنانچہ "قوم" بمعنی 'آدمی کا قبیلہ' اس لفظ کے معانی میں سے ایک معنی ہے، لیکن اس کا مطلب 'جماعت' یعنی گروہ اور جتھہ بھی ہے، اور اس کا مطلب 'آدمی کے پیروکار' بھی ہے، اور اس کے لیے ان کے درمیان نسبی قرابت ہونا ضروری نہیں ہے...
2- شرعی نصوص: سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے لیے "قوم" کا ذکر شرعی نصوص میں واضح ہے:
- اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ
"اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان میں تاکہ وہ ان کے لیے (احکام) کھول کر بیان کرے۔" (سورۃ ابراہیم [14]: 4)
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم یعنی بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ
"اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! بے شک میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔" (سورۃ الصف [61]: 6)
پس ان دونوں آیات کے تقاضے کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل ہے۔
- امام بخاری نے اپنی صحیح میں جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
أُعْطِيتُ خَمْساً لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِداً وَطَهُوراً فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ وَأُحِلَّتْ لِي الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً
"مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں: ایک مہینے کی مسافت تک رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی، میرے لیے زمین کو سجدہ گاہ اور پاکیزگی کا ذریعہ بنا دیا گیا، پس میری امت کے جس شخص کو بھی نماز کا وقت مل جائے وہ وہیں نماز ادا کر لے، میرے لیے مالِ غنیمت حلال کر دیا گیا جبکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھا، مجھے شفاعت عطا کی گئی، اور (پہلے) ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور میں تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔" (صحیح بخاری)
پس آپ ﷺ کا یہ فرمان: «وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً» (نبی خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا)، بلا شبہ عیسیٰ علیہ السلام کو بھی شامل ہے کیونکہ وہ بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیے گئے تھے، چنانچہ حدیث کے مطابق وہ ان کی قوم ہیں۔
- عرباض بن ساریہ السلمی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
إنِّي عَبْدُ اللَّهِ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ وَسَأُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِ ذَلِكَ دَعْوَةِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ وَبِشَارَةِ عِيسَى قَوْمَهُ وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ لَهُ قُصُورُ الشَّامِ
"بے شک میں اللہ کے ہاں ام الکتاب (لوح محفوظ) میں خاتم النبیین تھا جبکہ آدم علیہ السلام ابھی اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے، اور میں تمہیں اس کی حقیقت بتاتا ہوں: میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی قوم کو دی گئی خوشخبری، اور اپنی والدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے دیکھا کہ ان سے ایک ایسا نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔" (اسے احمد نے اپنی مسند میں اور حاکم نے مستدرک میں روایت کیا ہے)
اس حدیث میں نبی ﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام کی قوم کی صراحت فرمائی ہے اور انہیں ان کی طرف منسوب کیا ہے، جہاں آپ ﷺ فرماتے ہیں: «وَبِشَارَةِ عِيسَى قَوْمَهُ» (اور عیسیٰ کی اپنی قوم کو دی گئی خوشخبری)۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف اشارہ ہے:
وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَابَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقاً لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُبِينٌ
"اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! بے شک میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، مجھ سے پہلے آئی ہوئی تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور ایک ایسے رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا، پھر جب وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔" (سورۃ الصف [61]: 6)
- بیہقی کی دلائل النبوۃ (5/ 17) میں حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اسکندریہ کے بادشاہ مقوقس کی طرف بھیجا۔ انہوں نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ ﷺ کا خط پیش کر کے سلام کیا، اس نے مجھے اپنے ہاں ٹھہرایا، پھر مجھے بلا بھیجا جبکہ اس نے اپنے درباریوں کو جمع کر رکھا تھا، اس نے کہا: مجھے اپنے صاحب (نبی ﷺ) کے بارے میں بتاؤ، کیا وہ نبی نہیں ہیں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، وہ اللہ کے رسول ہیں۔ اس نے کہا: پھر کیا وجہ ہے کہ جب ان کی قوم نے انہیں ان کے شہر سے نکال دیا تو انہوں نے ان کے خلاف بددعا کیوں نہیں کی؟ حاطب نے کہا: میں نے (جواباً) کہا: عیسیٰ ابن مریم، کیا تم گواہی نہیں دیتے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں؟ پھر کیا وجہ ہے کہ جب ان کی قوم نے انہیں پکڑ لیا اور ان پر غلبہ پانا چاہا تو انہوں نے اللہ عزوجل سے ان کی ہلاکت کی بددعا کیوں نہ کی، یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اپنی طرف پہلے آسمان پر اٹھا لیا؟ اس نے کہا: تم ایک حکیم ہو جو ایک حکیم کی طرف سے آئے ہو...
یہ اللہ کے رسول ﷺ کے قاصد حاطب بن ابی بلتعہ ہیں جو مقوقس کے ساتھ بحث کے دوران عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہہ رہے ہیں: (پھر کیا وجہ ہے کہ جب ان کی قوم نے انہیں پکڑ لیا اور ان پر غلبہ پانا چاہا تو انہوں نے ان کی ہلاکت کی بددعا کیوں نہ کی)۔
3- چنانچہ لغت میں بنی اسرائیل کو عیسیٰ علیہ السلام کی قوم کہنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یعنی ہمارا یہ کہنا کہ (اور عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی طرف) بالکل درست ہے، کیونکہ وہ ان کی وہ جماعت تھی جس کی طرف وہ مبعوث کیے گئے تھے۔ اور ان کا باپ نہ ہونا اس سے مانع نہیں ہے جیسا کہ ہم نے اوپر لغوی معانی میں واضح کیا ہے...
اور قرآن کریم اشارہ فرماتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی قوم تھی، اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ﴾... عیسیٰ علیہ السلام ایک رسول ہیں جو بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے، پس وہ ان کی قوم ہیں...
اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان بھی عیسیٰ علیہ السلام کی قوم کے وجود کو لازم قرار دیتا ہے: «كَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً»، بلکہ آپ ﷺ نے صراحت کے ساتھ قوم کی نسبت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف کی ہے: «وَبِشَارَةِ عِيسَى قَوْمَهُ»...
اور مقوقس کے پاس بھیجے گئے رسول اللہ ﷺ کے قاصد بھی عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس سے بحث کرتے ہوئے کہتے ہیں: (پھر کیا وجہ ہے کہ جب ان کی قوم نے انہیں پکڑ لیا)...
4- لہٰذا کتاب نقض الفكر الغربي الرأسمالي میں یہ قول کہ (اور عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی طرف) بالکل صحیح اور درست کلام ہے۔
امید ہے کہ اب معاملہ واضح ہو گیا ہوگا۔
آپ کا بھائی عطا بن خلیل ابو الرشتہ
13 ذو القعدة 1444ھ بمطابق 02/06/2023ء
امیرِ حزب (حفظہ اللہ) کے فیس بک پیج سے جواب کا لنک: فیسبوک