Home About Articles Ask the Sheikh
سوال و جواب

سوال کا جواب: عیسائیوں اور کفار کو ان کے تہواروں پر مبارکباد دینا

January 14, 2022
6840

جلیل القدر عالم عطا بن خلیل ابو الرشتہ، امیر حزب التحریر کے فیس بک پیج "فقہی" کے سائلین کے سوالات کے جوابات کی سیریز

سوال کا جواب

بنام: Bahaa Alden Torman

سوال:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ کا بھائی بہاء فلسطین سے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و عافیت عطا فرمائے۔

میرا سوال عیسائیوں کو ان کے تہواروں پر مبارکباد دینے اور ان میں شرکت کرنے کے بارے میں ہے، اور جس چیز نے مجھے یہ سوال پوچھنے پر اکسایا وہ شیخ تقی الدین النبہانی رحمہ اللہ کے ایک سوال کا جواب ہے جس میں وہ اسے جائز قرار دیتے ہیں، لہٰذا آپ سے اس معاملے کی وضاحت کی درخواست ہے۔ شیخ تقی الدین کے سوال کا جواب ساتھ منسلک ہے۔

جواب:

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ہم پہلے بھی اس سوال کا جواب دے چکے ہیں اور وہ جواب درج ذیل ہے:

(محترم بھائی! وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اہلِ کتاب کو ان کے تہواروں پر مبارکباد دینے کے بارے میں آپ کے سوال کے متعلق، جواب دینے سے پہلے میں آپ کے سامنے کچھ سابقہ مطبوعات کا ذکر کرتا ہوں جن کا اس سے تعلق ہے:

1- سابقہ اشاعت مورخہ 30/01/1970: (عیسائیوں کی خوشیوں اور تہواروں میں ان کے ہاں جانے، ان کے بیماروں کی عیادت کرنے، اور ان کے جنازوں میں شرکت کرنے کا کیا حکم ہے؟ ایک مسلمان جب ان کے پاس جائے تو وہ کیا کرے؟ اور اس کا اس حدیث شریف سے کیا تعلق ہے کہ "یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو..."؟

جواب: رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے ایک یہودی کی عیادت کی جب وہ بیمار تھا، اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپ ﷺ ایک یہودی کے جنازے کے احترام میں کھڑے ہوئے، اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے ذمیوں کے بارے میں وصیت فرمائی۔ یہ تمام دلائل اور ان جیسی دیگر مثالیں عیسائیوں کی خوشیوں اور تہواروں میں ان کے ہاں جانے، ان کے بیماروں کی عیادت کرنے، ان کے جنازوں میں شرکت کرنے، تعزیت کرنے اور اس جیسے دیگر امور کے جواز کی دلیل ہیں۔ رہی بات اس حدیث کی کہ انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو، تو اس کا تعلق خاص طور پر اس سلام سے ہے جب آپ راستے میں ان سے ملیں، اور یہ نص سلام کے بارے میں ہے، لہٰذا یہ سلام کے علاوہ دیگر امور کو شامل نہیں کرتی۔ 23 ذوالقعدہ 1389ھ - 30/01/1970ء)

2- پھر 17/07/1976 کو جاری ہوا: (کیا عیسائیوں اور یہودیوں کو ان کی خوشیوں میں مبارکباد دینا جائز ہے؟

جواب: عیسائیوں کو مبارکباد دینا جائز ہے کیونکہ یہ بھلائی (بر) ہے، اور یہ جائز ہے۔ 17/07/1976ء)

3- اسی طرح 16/01/2010 کو جاری ہوا:

(اہلِ کتاب کو ان کے تہواروں پر مبارکباد دینا جائز ہے، لیکن یہ کہنا کہ "اور آپ کو بھی" (ولکم)، تو ایسا لگتا ہے کہ آپ نے اسے حدیث میں وارد اس قول پر قیاس کیا ہے جس میں ان کے "السلام علیکم" کہنے پر "وعلیکم" کہنے کا حکم ہے۔

لیکن یہ معاملہ اس سے مختلف ہے، کیونکہ حدیث میں جو وارد ہوا ہے وہ ان کے قول "السام علیکم" کا جواب ہے، اور "السام" کا مطلب موت ہے۔ حدیث کی نص جو بخاری و مسلم میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: یہودیوں کا ایک گروہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور انہوں نے کہا: السام علیکم (تم پر موت ہو)۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں اسے سمجھ گئی اور کہا: "وعلیکم السام واللعنۃ" (تم پر بھی موت اور لعنت ہو)۔ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَهْلاً يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ»

"اے عائشہ! ٹھہرو، اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔"

میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے نہیں سنا جو انہوں نے کہا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں نے کہہ تو دیا: 'وعلیکم' (اور تم پر بھی)۔" مسلم کی ایک اور روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ»

"بے شک یہودی جب تمہیں سلام کرتے ہیں تو ان میں سے کوئی کہتا ہے 'السام علیکم'، تو تم کہو 'علیک' (تجھ پر بھی)۔" اس طرح آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ اس لیے تھا کیونکہ وہ "السام علیکم" کہتے تھے۔ (صحیح بخاری و مسلم)

لیکن اگر وہ ہماری مبارکباد میں کوئی اچھی بات کہیں تو ہم اسے ان سے قبول کریں گے۔ اگر وہ کہیں "آپ کو عید مبارک ہو"، تو ہم انہیں کوئی اچھا اور درست جواب دیں گے، جیسے ہم کہیں "آپ کی مبارکباد کا شکریہ"، "خوش آمدید" یا اس جیسے دیگر جوابات جو شریعت کے مخالف نہ ہوں۔ 16/01/2010ء) بات ختم ہوئی۔

اس سے درج ذیل باتیں واضح ہوتی ہیں:

1- اہل ذمہ کو ان کے تہوار پر اچھے کلام کے ساتھ مبارکباد دینا جائز ہے جو شریعت کے خلاف نہ ہو، لہٰذا ہم ان کے تہوار کی تعریف نہیں کریں گے، یعنی ہم یہ نہیں کہیں گے کہ "آپ کا تہوار بابرکت ہے" یا اس طرح کی کوئی بات۔

2- لیکن یہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جن میں درج ذیل شرائط پائی جائیں:

الف- وہ اہل ذمہ میں سے ہوں جو مسلمانوں کے بلاد میں مسلمانوں کے درمیان رہتے ہوں اور ان پر عقدِ ذمہ لاگو ہوتا ہو کہ وہ مسلمانوں سے خیانت نہیں کریں گے...

ب- انہوں نے دین کے معاملے میں ہم سے قتال نہ کیا ہو اور نہ ہی ہمیں نکالنے میں مدد کی ہو... جیسا کہ آیت کریمہ میں آیا ہے...

  • رہی بات اہل ذمہ ہونے کی دلیل کی، تو 30/01/1970 کے پہلے جواب کی نص اس پر دلالت کرتی ہے: (رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے ایک یہودی کی عیادت کی جب وہ بیمار تھا، اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپ ﷺ ایک یہودی کے جنازے کے احترام میں کھڑے ہوئے، اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے ذمیوں کے بارے میں وصیت فرمائی۔ یہ سب اور اس کی مثالیں عیسائیوں کی خوشیوں اور تہواروں میں جانے، بیماروں کی عیادت کرنے، جنازوں میں شرکت کرنے اور تعزیت کرنے وغیرہ کے جائز ہونے کی دلیل ہے...)۔ اس سے یہی راجح معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد اہل ذمہ ہیں کیونکہ وہ مسلمانوں کے درمیان ان کے ذمہ میں رہتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ذمیوں کے بارے میں وصیت فرمائی تھی، اور یہودی کا جنازہ ان کے درمیان سے گزر رہا تھا۔ پھر وہ یہودی جس کی رسول اللہ ﷺ نے اس کی بیماری میں عیادت کی، وہ آپ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا جیسا کہ بخاری کی حدیث (1356) میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

«أَنَّ غُلَاماً مِنَ اليَهُودِ كَانَ يَخدُمُ النَّبِيَّ ﷺ فَمَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ ﷺ يَعُودُهُ، فَقَعَدَ عِندَ رَأسِهِ، فَقَالَ: أَسلِم. فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِندَ رَأسِهِ، فَقَالَ لَه: أَطِع أَبَا القَاسِمِ ﷺ. فَأَسلَمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ وَهُوَ يَقُولُ: الحَمدُ لِلَّهِ الذِي أَنقَذَهُ مِنَ النَّارِ»

"ایک یہودی لڑکا نبی ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، وہ بیمار ہو گیا، تو نبی ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ آپ ﷺ اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا: اسلام قبول کر لو۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے ہی تھا، باپ نے کہا: ابوالقاسم ﷺ کی اطاعت کرو۔ تو وہ لڑکا مسلمان ہو گیا۔ پھر نبی ﷺ یہ فرماتے ہوئے باہر نکلے: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اسے آگ سے بچا لیا۔"

یہ سب اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے جواب میں جو ذکر کیا گیا وہ اہل ذمہ کے ساتھ خاص ہے۔

  • اور جہاں تک اس بات کی دلیل ہے کہ وہ دین کے معاملے میں ہم سے قتال نہ کریں اور ہمیں نکالنے میں مدد نہ کریں... وغیرہ، تو وہ یہ آیت کریمہ ہے:

لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ * إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ

"اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اللہ تو تمہیں صرف ان لوگوں سے دوستی کرنے سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ کی، تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں (دوسروں کی) مدد کی، اور جو ان سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔" (سورۃ الممتحنہ: 8-9)

ابن کثیر اس آیت کریمہ کے سببِ نزول کے بارے میں فرماتے ہیں: (اللہ تعالیٰ کا قول: "لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ" یعنی اللہ تمہیں ان کافروں کے ساتھ احسان کرنے سے نہیں روکتا جو دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کرتے، جیسے ان کی عورتیں اور کمزور لوگ، "أَنْ تَبَرُّوهُمْ" یعنی ان کے ساتھ بھلائی کرو، "وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ" یعنی انصاف کرو "إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ"... اور امام احمد نے کہا ہے: ہم سے عارم نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن مبارک سے، انہوں نے مصعب بن ثابت سے، انہوں نے عامر بن عبداللہ بن زبیر سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ: قتیلہ اپنی بیٹی اسماء بنت ابی بکر کے پاس کچھ تحائف لے کر آئیں، جن میں پنیر اور گھی تھا، اور وہ مشرکہ تھیں، تو اسماء نے ان کا ہدیہ قبول کرنے اور انہیں اپنے گھر میں داخل کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے پوچھا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: "لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ" آخر تک، تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کا ہدیہ قبول کریں اور انہیں اپنے گھر میں داخل کریں۔

اور اللہ کا قول: "إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ" یعنی اللہ تمہیں صرف ان لوگوں سے دوستی کرنے سے روکتا ہے جنہوں نے تمہارے ساتھ دشمنی کی، تم سے جنگ کی اور تمہیں نکالا، اور تمہارے نکالنے میں مدد کی، اللہ تمہیں ان سے دوستی کرنے سے روکتا ہے اور ان سے دشمنی کا حکم دیتا ہے۔ پھر ان سے دوستی پر سخت وعید بیان کرتے ہوئے فرمایا: "وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ" جیسا کہ فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

"اے ایمان والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور تم میں سے جو ان سے دوستی کرے گا وہ انہی میں سے ہوگا، بے شک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔" (سورۃ المائدہ: 51))

چنانچہ اہل ذمہ کو ان کے تہواروں پر ایسی بات کے ساتھ مبارکباد دینا جائز ہے جو شریعت کے خلاف نہ ہو، اور اسی طرح اہل ذمہ کے علاوہ دیگر کفار کو بھی ایسی بات سے مبارکباد دینا جائز ہے جو شریعت کے خلاف نہ ہو، کیونکہ مبارکباد دینا بھلائی (بر) میں سے ہے، لیکن یہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ یہ آیت کریمہ ان پر صادق آتی ہو، یعنی وہ دین کے معاملے میں ہم سے لڑنے والے، ہمیں ہمارے گھروں سے نکالنے والے اور ہمارے اخراج پر مدد کرنے والے نہ ہوں: "لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ" اور فی الوقت ایسے لوگ بہت کم ہیں...

امید ہے کہ اس میں کافی وضاحت ہو گئی ہو گی، اور اللہ سب سے زیادہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔)

آپ کا بھائی عطا بن خلیل ابو الرشتہ

10 جمادی الآخرۃ 1443ھ بمطابق 13/01/2022ء

امیر حزب التحریر کے فیس بک پیج سے جواب کا لنک: فیس بک

امیر حزب التحریر کی ویب سائٹ سے جواب کا لنک: ویب سائٹ

مضمون شیئر کریں

اس مضمون کو اپنے نیٹ ورک کے ساتھ شیئر کریں