Home About Articles Ask the Sheikh
سوال و جواب

سوال کا جواب: مطالع کی وحدت اور رمضان کا چاند دیکھنا

April 29, 2019
6367

(حزب التحریر کے امیر، جلیل القدر عالم شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ کے فیس بک پیج "فقہی" پر آنے والے سوالات کے جوابات کا سلسلہ)

برائے: Nafeth Aljabari

سوال:

محترم بھائی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اس سال رمضان کا چاند دیکھنے (تحری) کے حوالے سے آپ کے 24 جون 2018 کے خط کے تناظر میں، میں مندرجہ ذیل نکات کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں:

ہمارے (فلسطین) اور کیلیفورنیا کے وقت میں 10 گھنٹے کا فرق ہے، یعنی جس وقت کیلیفورنیا میں چاند دیکھا گیا، اس وقت ہمارے ہاں طلوعِ فجر کو تقریباً 3 گھنٹے گزر چکے تھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس رات رویتِ ہلال ثابت ہوئے بغیر پوری رات گزر چکی تھی، لہٰذا اس بدھ کے دن ہمارا روزہ نہ رکھنا (افطار) درست تھا۔ ہمارا علاقہ اور کیلیفورنیا رات کے کسی بھی ایسے حصے میں شریک نہیں ہیں جو کہ چاند دیکھنے کا وقت ہوتا ہے، اور چاند کی پیدائش (ولادت) کے باوجود رویت (چاند نظر آنے) کے بغیر پوری رات کا گزر جانا ہمیں ان لوگوں کے حکم میں داخل کر دیتا ہے جن پر مطلع ابر آلود ہو، لہٰذا ہمارا روزہ نہ رکھنا درست اور شرعی حکم کے موافق تھا۔ جہاں تک بدھ کے دن کی قضا کی نیت سے شوال میں ایک روزہ رکھنے کا تعلق ہے، تو اس کا مطلب "یومِ شک" کا روزہ رکھنا ہے جس کا روزہ رکھنا اصلاً جائز ہی نہیں ہے۔

اہم نوٹ: بین الاقوامی خطِ تاریخ (International Date Line) کے دونوں اطراف واقع قریبی علاقے چاند کے حوالے سے ایک ہی مطلع میں متحد ہوتے ہیں، چنانچہ وہ قمری مہینے کے آغاز میں شریک ہوتے ہیں حالانکہ ان کے درمیان وقت کا فرق 24 گھنٹے کے برابر ہوتا ہے۔ پس قمری مہینے کے آغاز کے تعین میں اعتبار عالمی کیلنڈر کے مطابق دن کے نام کا نہیں بلکہ رویت (چاند دیکھنے) کا ہے۔

اللہ تعالیٰ بہتر جاننے والا ہے۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

جواب:

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میں نے آپ کا خط ملاحظہ کیا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کے چاند کے موضوع پر آپ کو کچھ التباس (غلط فہمی) ہوا ہے...

میرے بھائی، اس موضوع میں کچھ باتیں بالکل واضح ہونی چاہئیں:

1- رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ

"چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار کرو (عید مناؤ)۔"

یہ مسلمانوں کے لیے ایک عام خطاب ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر چاند کسی بھی جگہ دیکھ لیا جائے تو تمام جگہوں کے مسلمانوں پر اس کی پابندی کرنا لازم ہے... اس بات کا ادراک کرنا بہت ضروری ہے... میں دوبارہ کہتا ہوں کہ اس کا ادراک کرنا نہایت ضروری ہے...

اس بنا پر، ایسی کوئی بھی سمجھ یا استنباط یا تشریح کہ مسلمانوں پر ایک ساتھ روزہ رکھنا اور عید منانا واجب نہیں ہے، ایک 'مرجوح' (کمزور) فہم ہے جو 'متبنیٰ' (اختیار کردہ) رائے کے خلاف ہے۔ اس طرح آپ اپنے خط میں جس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کیلیفورنیا والوں پر اس دن کا روزہ فرض تھا جبکہ فلسطین والوں پر فرض نہیں تھا، وہ حدیث کے اس فہم کے خلاف ہے جو 'وحدتِ صوم و فطر' (روزہ اور عید کی وحدت) کے حوالے سے متبنیٰ ہے۔

2- آپ کے خط میں فلسطین اور کیلیفورنیا کے درمیان وقت کے فرق کا جو حساب دیا گیا ہے وہ درست نہیں ہے۔ آپ نے کہا: "(ہمارے اور کیلیفورنیا کے وقت میں دس گھنٹے کا فرق ہے، یعنی جس وقت کیلیفورنیا میں چاند دیکھا گیا، اس وقت ہمارے ہاں طلوعِ فجر کو تقریباً 3 گھنٹے گزر چکے تھے جس کا مطلب رات کا مکمل طور پر گزر جانا ہے...)"۔

حساب اس طرح نہیں ہے:

الف- جی ہاں، فلسطین اور ان کے درمیان تقریباً 10 گھنٹے کا فرق ہے، فلسطین طول بلد (35) مشرق پر ہے اور کیلیفورنیا طول بلد (120) مغرب پر ہے، یعنی ان کے درمیان فرق (35+120=155) ڈگری کا ہے، اور ہر ڈگری تقریباً (4) منٹ کی ہوتی ہے، یوں فرق تقریباً 10 گھنٹے بنتا ہے لیکن یہ فرق "آگے" کی طرف ہے نہ کہ "پیچھے" کی طرف۔ ہمارا وقت کیلیفورنیا سے پہلے (سابق) ہے نہ کہ پیچھے، لہٰذا جب وہاں سورج غروب ہوتا ہے یعنی ان کے ہاں جمعرات کی رات شروع ہوتی ہے، فرض کریں شام 6 بجے (18:00)، تو ہمارے ہاں جمعرات کی رات ختم ہونے والی ہوتی ہے یعنی ہمارے ہاں وقت (18+10=28) یعنی جمعہ کی صبح کے تقریباً 4 بج رہے ہوں گے یعنی اذانِ فجر کے قریب کا وقت... ویسا نہیں جیسا کہ آپ نے پیچھے کی طرف حساب لگایا اور دس گھنٹے پیچھے کر کے یہ کہہ دیا کہ ہمارے ہاں صبح کے 8 بج رہے ہوں گے! اس کی وجہ یہ ہے کہ فلسطین میں کسی بھی دن کے صبح 8 بجے کا مطلب کیلیفورنیا میں اسی دن کی رات کے 10 بجے کا وقت ہوتا ہے، کیونکہ دن سے پہلے رات آتی ہے... پس فلسطین میں سورج ان ممالک سے پہلے طلوع ہوتا ہے اور فلسطین میں سورج ان سے پہلے غروب ہوتا ہے۔ جب وہاں منگل کے دن مثال کے طور پر شام 6 بجے "18" سورج غروب ہوتا ہے یعنی بدھ کی رات شروع ہوتی ہے، تو ہمارے ہاں بدھ کی صبح کے "4" بج رہے ہوتے ہیں، لہٰذا راجح بات یہ ہے کہ رات کے کسی نہ کسی حصے میں اشتراک ضرور ہوتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔

ب- اس کے باوجود، اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ وہ رات کے کسی حصے میں شریک نہیں ہیں، تب بھی ان کا روزہ اور عید ایک ہی ہوگی، جس کی وضاحت درج ذیل ہے:

  • فرض کریں کہ تین علاقے ا، ب، ج ہیں۔ علاقہ 'ا' علاقہ 'ب' کے ساتھ رات کے ایک حصے میں شریک ہے، لہٰذا وہ اس کے ساتھ روزہ رکھے گا اور عید منائے گا... علاقہ 'ب' علاقہ 'ج' کے ساتھ رات کے ایک حصے میں شریک ہے، لہٰذا وہ اس کے ساتھ روزہ رکھے گا اور عید منائے گا... اس کا مطلب یہ ہوا کہ 'ا' پر واجب ہے کہ وہ 'ج' کے ساتھ روزہ رکھے اور عید منائے، چاہے 'ا' اور 'ج' رات کے کسی حصے میں شریک ہوں یا نہ ہوں، ان پر ایک ساتھ روزہ رکھنا اور عید منانا واجب ہے، کیونکہ 'ا' اور 'ب' شریک ہیں اور 'ب' اور 'ج' شریک ہیں جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا۔ چونکہ یہی حقیقت دنیا کے تمام خطوں پر منطبق ہوتی ہے، اس لیے حدیث: «صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ» کا اطلاق دنیا کے تمام خطوں پر عام ہے۔

3- چنانچہ، اگر فلسطین اور کیلیفورنیا رات کے کسی حصے میں شریک نہ بھی ہوں (اگر آپ کے خط کے مطابق اسے درست مان لیا جائے)، تب بھی ان کے درمیان ایک ایسا علاقہ موجود ہے مثلاً افریقہ میں، جو کیلیفورنیا کے ساتھ بھی رات کے ایک حصے میں شریک ہے اور فلسطین کے ساتھ بھی رات کے ایک حصے میں شریک ہے، چنانچہ وہ کیلیفورنیا کے ساتھ بھی روزہ رکھے گا اور عید منائے گا اور اسی وقت فلسطین کے ساتھ بھی روزہ رکھے گا اور عید منائے گا... نتیجتاً فلسطین اور کیلیفورنیا ایک ساتھ روزہ رکھیں گے، اور اسی طرح دنیا کے تمام خطے ایک ساتھ روزہ رکھیں گے اور عید منائیں گے، اور اس طرح رسول اللہ ﷺ کی حدیث کا اطلاق ہوگا کہ تمام مسلمان واجب طور پر ایک ساتھ روزہ رکھیں اور عید منائیں۔

4- جہاں تک آپ کے اس خیال کا تعلق ہے کہ کیلیفورنیا اور فلسطین کے درمیان رات کے ایک حصے کا اشتراک لازمی ہے تاکہ وہ ایک ساتھ روزہ رکھیں، اور آپ کی معلومات کے مطابق وہ شریک نہیں ہیں، تو اس کا مطلب رسول اللہ ﷺ کی حدیث کی دلالت کو معطل کرنا ہے کہ تمام مسلمانوں کا روزہ اور عید ایک ساتھ ہونا واجب ہے، اور فطری طور پر یہ اس متبنیٰ (اختیار کردہ رائے) کے خلاف ہے جس کی ہم دعوت دیتے ہیں کہ مسلمانوں کا روزہ اور عید ایک ہو۔ اس بارے میں ہم نے 25 شعبان 1415ھ بمطابق 14 دسمبر 1998ء کو ایک نشرہ (کتابچہ) بھی جاری کیا تھا۔

5- آپ کا یہ کہنا کہ فلسطین میں رات شروع ہو جاتی ہے جبکہ کیلیفورنیا میں سورج نکلا ہوتا ہے تو روزہ کیسے ہوگا؟ تو یہ کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ ہم مثلاً بدھ کے سورج غروب ہونے کے بعد چاند دیکھتے ہیں تو ہم جمعرات کا روزہ رکھتے ہیں، اس وقت کیلیفورنیا میں بدھ کا دن ہوتا ہے، پس جب ان کے ہاں بدھ کا سورج غروب ہوگا، چاہے وہ چاند دیکھیں یا نہ دیکھیں، ہماری رویت ان کے لیے جمعرات کا روزہ رکھنا لازم کر دیتی ہے... لیکن اگر ہم بدھ کے غروبِ آفتاب پر چاند نہ دیکھ سکیں اور وہ اپنے ہاں بدھ کے غروبِ آفتاب پر چاند دیکھ لیں، لیکن ہمیں یہ خبر جمعرات کے چاشت کے وقت پہنچے، تو ایسی صورت میں ہم اس دن کی قضا کریں گے اور یہی حکم مہینے کے آغاز اور اختتام یعنی عید کی رات پر بھی لاگو ہوگا... رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی ایسا ہی ہوا تھا جیسا کہ امام احمد نے اپنی مسند میں ابوعمیر بن انس سے روایت کیا ہے کہ میرے انصاری چچاؤں نے جو رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے، مجھ سے بیان کیا کہ:

«غُمَّ عَلَيْنَا هِلَالُ شَوَّالٍ فَأَصْبَحْنَا صِيَاماً فَجَاءَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ فَشَهِدُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ e أَنَّهُمْ رَأَوْا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ e (أَنْ يُفْطِرُوا مِنْ يَوْمِهِمْ وَأَنْ يَخْرُجُوا لِعِيدِهِمْ مِنْ الْغَدِ)»

"ہمارے لیے شوال کا چاند چھپ گیا (نظر نہ آیا) تو ہم نے روزے کی حالت میں صبح کی، پھر دن کے آخری حصے میں ایک قافلہ آیا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس دن کا روزہ افطار کریں اور اگلے دن عید کے لیے نکلیں۔"

پس رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس دن روزہ افطار کرنے کا حکم دیا جسے وہ مدینہ منورہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ کے لوگوں کی رویتِ ہلال کی وجہ سے رمضان کا حصہ سمجھ رہے تھے۔ قافلے نے مدینہ پہنچنے سے پہلے چاند دیکھا تھا اور اہل مدینہ کو ان کی رویت کا علم نہیں تھا اس لیے انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ دوسرے مسلمانوں نے چاند دیکھ لیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اسی دن افطار کرنے کا حکم دیا... اور اب تو میڈیا کے وہ ذرائع تمام ممالک کے پاس موجود ہیں جو چاند کی رویت کی خبر چند سیکنڈوں میں پوری دنیا میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لہٰذا زمین پر کسی بھی جگہ رویتِ ہلال کی خبر سنتے ہی مسلمانوں کے لیے روزہ رکھنا یا افطار کرنا لازم ہو جاتا ہے...

یہ معاملہ مشکل نہیں ہے بلکہ اس کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ اسے آسان کر دے، خاص طور پر آج کل جب مواصلات پلک جھپکنے میں مکمل ہو جاتے ہیں۔

6- جہاں تک "یومِ شک" کا تعلق ہے، تو وہ ویسا نہیں جیسا آپ نے ذکر کیا، بلکہ وہ شعبان کا تیسواں دن ہے جس میں آپ تک زمین کے کسی بھی حصے میں کسی مسلمان کی رویتِ ہلال کی خبر نہ پہنچے۔ اس دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ کو یہ اطلاع ملے کہ کسی نے چاند دیکھ لیا ہے اور آپ نے اس گمان میں روزہ نہیں رکھا تھا کہ یہ شک کا دن ہے، اور پھر دن کے وقت آپ کو خبر ملے کہ کسی نے چاند دیکھ لیا تھا، تو اس وقت وہ دن "یومِ شک" نہیں رہتا بلکہ آپ پر اس کی قضا لازم ہو جاتی ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث (صوموا لرویتہ...) پوری دنیا کو شامل ہے، اور اس کے علاوہ کوئی بھی بات غلط یا مرجوح ہے، واللہ اعلم واحکم۔

اور آخر میں، اے نافذِ خیر! کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ آپ فیصلہ سنانے کے بجائے سوال کر کے تحقیق کر لیتے؟ کیا ایسا ہی نہیں ہے؟

آپ کا بھائی عطا بن خلیل ابو الرشتہ

22 شعبان 1440ھ موافق 28 اپریل 2019ء

امیرِ حزب کے فیس بک پیج سے جواب کا لنک: فیس بک لنک امیرِ حزب کی ویب سائٹ سے جواب کا لنک: ویب لنک

مضمون شیئر کریں

اس مضمون کو اپنے نیٹ ورک کے ساتھ شیئر کریں