Home About Articles Ask the Sheikh
سوال و جواب

جواب سوال: حزب میں متبنیات اور خواتین سے متعلق بعض احکام

July 21, 2019
4944

حزب التحریر کے امیر عالم جلیل عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کی جانب سے

ان کے فیس بک پیج "فقہی" پر پوچھے گئے سوالات کے جوابات کا سلسلہ

جواب سوال

حزب میں متبنیات اور خواتین سے متعلق بعض احکام

بخدمت: Sondes Ragam

سوال:

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ، ہمارے امیرِ محترم!

ہر مسلمان چاہتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مخلص اور فرمانبردار بندوں میں شامل ہو جائے تاکہ اس کی رضا حاصل کر سکے۔ لیکن کیا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت مجھ پر ان تمام احکامات اور اجتہادات میں حزب کی اطاعت کو فرض کرتی ہے جو آپ نے وضع کیے ہیں، جبکہ وہ ان آراء سے مختلف ہوں جو میں نے پہلے اپنا رکھی تھیں؟ مثال کے طور پر، محارم اور مسلمان عورتوں کے سامنے عورت کا ستر؛ بعض علماء کا اس پر اجماع ہے کہ یہ ناف سے گھٹنے تک ہے۔ اسی طرح حائضہ عورت کا قرآن پڑھنا، جس کی مدت کبھی طویل ہو جاتی ہے؟ براہِ کرم وضاحت فرمائیں، کیونکہ غلط فہمی اور عدم وضاحت ہمارے درمیان بہت سی الجھنوں، فضول بحث اور وقت کے ضیاع کا باعث بنتی ہے۔ طوالت اور اصرار کے لیے معذرت خواہ ہوں، اللہ سے دعا ہے کہ وہ آپ کی بصیرت اور دل کو منور فرمائے۔

جواب:

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ،

1- جہاں تک حزب میں "تبنی" (رائے اختیار کرنے) کے معاملے کا تعلق ہے، تو یہ حزب کے قیام کے پہلے دن سے ہی روزِ روشن کی طرح واضح ہے اور اس میں ان شاء اللہ کوئی ابہام نہیں ہے۔ جو شخص حزب کے ساتھ مل کر کام کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، وہ حزب کا رکن بنتے وقت حزب التحریر کی آراء، افکار اور دستور کو قولاً و عملاً اپنانے (تبنی) کا حلف اٹھاتا ہے۔ اس قسم کے تقاضے کے مطابق وہ خود کو حزب کی متبنیات کا پابند بناتا ہے، یعنی وہ حزب کے متبنیٰ (اختیار کردہ) موقف کے خلاف ہر رائے کو چھوڑنے کا پابند ہوتا ہے اور اپنے قول و عمل میں حزب کی متبنیٰ رائے پر کاربند رہتا ہے، خواہ وہ مسائل فکری ہوں، سیاسی ہوں، فقہی ہوں یا انتظامی۔

2- چنانچہ، حزب کے رکن کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ ہر اس رائے کا پابند ہو جو حزب جاری کرتی ہے، بلکہ اسے اس بات میں فرق کرنا چاہیے کہ شرعی اور انتظامی طور پر اس کے لیے کس چیز کی پابندی لازم ہے اور کس کی نہیں۔ اسے یہ پوچھنا چاہیے کہ کیا فلاں مخصوص رائے "متبنیٰ" ہے یا "غیر متبنیٰ"؟ اگر وہ رائے متبنیٰ ہے، تو حزب کا رکن اس رائے کو اپنی رائے کے طور پر اپنا لیتا ہے اور اس پر شرعی و انتظامی طور پر عمل کرنا اس کے لیے لازم ہوتا ہے کیونکہ اس نے خود کو اس کا پابند بنایا ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہ مخصوص رائے متبنیٰ نہیں ہے، تو حزب کے رکن پر اسے اپنانا اور اس پر عمل کرنا لازم نہیں ہے۔

3- میں اس کی مثال اسی سے دیتا ہوں جو سوال میں ذکر کیا گیا ہے:

الف- محارم اور مسلمان عورتوں کے سامنے عورت کا ستر، جیسا کہ کتاب "النظام الاجتماعي" (سوشل سسٹم) میں آیا ہے:

"...مرد کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی محرم خواتین (خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم) کے چہرے اور ہتھیلیوں کے علاوہ ان اعضاء کو دیکھے جو زینت کے مقامات ہیں، بغیر کسی مخصوص اعضاء کی قید کے، کیونکہ اس بارے میں نص موجود ہے اور وہ نص عام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ

''اور وہ (عورتیں) اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں کے لیے، یا اپنے باپوں کے لیے، یا اپنے شوہروں کے باپوں کے لیے، یا اپنے بیٹوں کے لیے، یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے لیے، یا اپنے بھائیوں کے لیے، یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں کے لیے، یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے لیے، یا اپنی (مسلمان) عورتوں کے لیے، یا اپنی لونڈیوں کے لیے، یا ان زیر دست مردوں کے لیے جو کوئی شہوت نہیں رکھتے، یا ان بچوں کے لیے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے واقف نہیں ہوئے''۔ (سورۃ النور [24]: 31)

پس ان تمام لوگوں کے لیے جائز ہے کہ وہ عورت کے بال، اس کی گردن، بازو بند کی جگہ، پازیب کی جگہ، ہار کی جگہ اور ان کے علاوہ وہ دیگر اعضاء دیکھیں جن پر زینت کا اطلاق ہوتا ہے، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ﴾ یعنی اپنی زینت کے مقامات ظاہر نہ کریں، سوائے ان لوگوں کے جن کا ذکر قرآن نے کیا ہے۔ ان کے لیے ان اعضاء کو دیکھنا جائز ہے جو عام گھریلو لباس کی حالت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ امام شافعی نے اپنی مسند میں زینب بنت ابی سلمہ سے روایت کی ہے: (أنها ارتَضَعتْ من أسماءَ امرأةِ الزبيرِ، قالت فكنتُ أَراه أباً، وكان يدخلُ عليّ وأنا أَمشُطُ رأسي، فيأخُذُ بَعضَ قرونِ رأسي ويقول: أَقْبلي عليّ) 'انہوں نے زبیر کی زوجہ اسماء (رضی اللہ عنہا) کا دودھ پیا تھا، وہ کہتی ہیں کہ میں انہیں (زبیر کو) اپنا باپ سمجھتی تھی، وہ میرے پاس اس وقت آتے جب میں اپنے بالوں میں کنگھی کر رہی ہوتی، تو وہ میرے بالوں کی کچھ لٹیں پکڑتے اور فرماتے: میری طرف متوجہ ہو جاؤ'۔ اور مروی ہے کہ ابو سفیان اپنی بیٹی ام حبیبہ (رضی اللہ عنہا)، زوجہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب وہ مدینہ میں معاہدہ حدیبیہ کی تجدید کے لیے آئے تھے، تو ام حبیبہ نے رسول اللہ ﷺ کا بستر لپیٹ دیا تاکہ وہ اس پر نہ بیٹھیں، لیکن انہوں نے اپنے باپ سے حجاب (پردہ) نہیں کیا اور اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے اسے برقرار رکھا (خاموشی سے منظوری دی) اور انہیں حجاب کا حکم نہیں دیا، باوجود اس کے کہ وہ مشرک تھے لیکن وہ ان کے محرم تھے۔" (کتاب النظام الاجتماعي سے اقتباس ختم ہوا)

ہم نے اس رائے کی مزید وضاحت 13 رجب 1434ھ بمطابق 23 مئی 2013ء کو ایک سوال کے جواب میں کی تھی، جو عورت کا دوسری عورت کے سامنے ستر سے متعلق تھا، ہم نے جواب میں کہا تھا:

"...عورت کا دوسری عورت کے سامنے ستر کے حوالے سے دو فقہی آراء ہیں جن کے استدلال کی وجوہات موجود ہیں:

پہلی رائے: عورت کا دوسری عورت کے سامنے ستر وہی ہے جو مرد کا مرد کے سامنے ہے، یعنی ناف سے گھٹنے تک۔ بعض فقہا یہی کہتے ہیں۔

دوسری رائے: عورت کا دوسری عورت کے سامنے ستر اس کا پورا جسم ہے سوائے ان مقامات کے جہاں عورت عام طور پر زینت اختیار کرتی ہے، یعنی سوائے سر کے کہ وہ تاج کی جگہ ہے، چہرہ جو سرمہ کی جگہ ہے، گردن اور سینہ جو ہار کی جگہ ہیں، کان جو بالیوں کی جگہ ہیں، بازو جو بازو بند کی جگہ ہے، کلائی جو کنگن کی جگہ ہے، ہتھیلی جو انگوٹھی کی جگہ ہے، پنڈلی جو پازیب کی جگہ ہے اور قدم جو مہندی کی جگہ ہیں۔

ان کے علاوہ، یعنی عورت کے عام مقاماتِ زینت کے علاوہ باقی پورا جسم دوسری عورت کے سامنے ستر ہے۔ یعنی صرف ناف سے گھٹنے تک نہیں۔...

اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ...﴾۔ پس ان سب کے لیے جائز ہے کہ وہ عورت کے بال، گردن، بازو بند کی جگہ، پازیب کی جگہ، ہار کی جگہ اور دیگر وہ اعضاء دیکھیں جن پر زینت کا اطلاق ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ﴾ یعنی اپنی زینت کے مقامات۔

اس آیت میں محارم کا ذکر ہے اور عورتوں کا بھی ذکر ہے، لہٰذا عورتوں کا ایک دوسرے کے زینت کے مقامات کو دیکھنا جائز ہے، جبکہ زینت کے مقامات کے علاوہ باقی جسم دوسری عورت کے سامنے ستر ہی رہے گا۔

دلیل کے اعتبار سے ہمارے نزدیک یہی رائے راجح (وزنی) ہے، اور ہم 'راجح' اس لیے کہہ رہے ہیں کیونکہ ایسی آراء بھی موجود ہیں جو عورت کا عورت کے سامنے ستر مرد کے ستر کی طرح یعنی ناف سے گھٹنے تک قرار دیتی ہیں۔" (سوال کے جواب سے اقتباس ختم ہوا)

کتاب النظام الاجتماعي میں جو کچھ ہے وہ متبنیٰ ہے کیونکہ یہ کتاب متبنیٰ ہے جیسا کہ حزب کے ہر رکن کو معلوم ہے... اسی طرح سوال کے جواب میں جو کچھ آیا ہے وہ بھی متبنیٰ ہے کیونکہ یہ متبنیٰ موقف کی وضاحت اور تشریح ہے... لہٰذا حزب کے ہر رکن پر لازم ہے کہ وہ اس متبنیٰ رائے کو اختیار کرے اور اس رائے کو چھوڑ دے جسے وہ پہلے رکھتا تھا یا جس کا قائل تھا...

ب- حائضہ کے قرآن پڑھنے کا موضوع ہمارے ایک سوال کے جواب میں آیا ہے جو انٹرنیٹ کے صفحات پر ہمارے نام سے 1 ربیع الثانی 1436ھ بمطابق 21 جنوری 2015ء کو شائع ہوا تھا، اس میں درج ذیل بات کہی گئی ہے:

"حائضہ کا قرآن پڑھنا ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں فقہا کے درمیان اختلافی تفصیلات موجود ہیں، بہت سے فقہا اس کی حرمت (ناجائز ہونے) کے قائل ہیں، جبکہ بعض اسے تفصیلات اور شرائط کے ساتھ جائز قرار دیتے ہیں...

میرے نزدیک راجح یہ ہے کہ حائضہ عورت کے لیے قرآن پڑھنا جائز نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

لَا تَقْرَأُ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَيْئاً مِنَ الْقُرْآنِ

"حائضہ اور جنبی قرآن کا کچھ حصہ بھی نہ پڑھیں۔" (اسے ترمذی نے روایت کیا ہے)۔ اگرچہ اس حدیث کی سند پر کلام ہے لیکن بہت سے فقہا اسے لیتے ہیں، اس کے باوجود جنبی کے قرآن پڑھنے کی حرمت پر صحیح حدیث موجود ہے، اور اس مسئلے میں حائضہ جنبی کی طرح ہی ہے۔ ابو داود اور نسائی نے، اور ابن ماجہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ: «كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَخْرُجُ مِنَ الْخَلَاءِ فَيُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ، وَلَمْ يَحْجُبْهُ - أَوْ يَحْجُزْهُ - عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ» 'نبی ﷺ بیت الخلا سے نکلتے تو ہمیں قرآن پڑھ کر سناتے اور ہمارے ساتھ گوشت تناول فرماتے، اور جنابت کے علاوہ کوئی چیز آپ ﷺ کو قرآن سے نہیں روکتی تھی'۔

حدیث سے واضح ہے کہ جنابت قرآن پڑھنے سے روکتی ہے، یعنی جنبی پر قرآن پڑھنا حرام ہے، اور حائضہ جنبی کی طرح ہے، لہٰذا اس پر بھی قرآن پڑھنا حرام ہے جیسے جنبی پر حرام ہے۔" (جوابِ سوال ختم ہوا)

حزب کی جانب سے جاری کردہ سوالات کے جوابات متبنیٰ نہیں ہوتے سوائے تین صورتوں کے: اگر ان پر حزب کے نام سے دستخط ہوں، یا وہ حزب کی طرف سے متبنیٰ موقف کی تشریح و تفسیر کے طور پر جاری کیے گئے ہوں، یا اگر حزب انہیں خود علاقوں (ولایات) میں حزب کے شباب میں تقسیم کرنے کے لیے بھیجے... جیسا کہ 'ملف اداری' (انتظامی فائل) کے باب 'متبنیات' میں مذکور ہے۔

واضح ہے کہ حائضہ کے قرآن پڑھنے کے بارے میں ہم نے جو جواب جاری کیا وہ مذکورہ بالا تینوں صورتوں میں سے کسی میں نہیں آتا... چنانچہ یہ جواب متبنیٰ نہیں ہے اور نہ ہی حزب کے ارکان پر اسے اپنانا اور اس پر عمل کرنا شرعی یا انتظامی طور پر لازم ہے، اور حزب کے رکن کو اختیار ہے کہ وہ اس مسئلے میں اپنی اس رائے پر قائم رہے جس پر وہ پہلے سے چل رہا تھا...

4- لہٰذا مسئلہ بالکل سادہ اور آسان ہے، پیچیدہ نہیں ہے۔ بس رکن کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ حزب جو رائے جاری کر رہی ہے وہ متبنیٰ ہے یا غیر متبنیٰ۔ اگر وہ متبنیٰ ہے تو وہ اس کی پابندی کرے گا اور اس کے علاوہ ہر رائے کو چھوڑ دے گا، اور اگر وہ غیر متبنیٰ ہے تو وہ اسے اپنانے اور اس پر عمل کرنے کا پابند نہیں ہے... متبنیٰ امور حزب کے ہر رکن کے لیے واضح اور معروف ہیں... جہاں تک سوالات کے جوابات کا تعلق ہے، جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا، وہ متبنیٰ نہیں ہوتے سوائے ان تین صورتوں کے جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے...

5- اگرچہ جو کچھ حزب کی طرف سے جاری ہو اور وہ متبنیٰ نہ ہو، حزب اپنے ارکان کو اسے اپنانے کا پابند نہیں کرتی، تاہم حزب اسے پسندیدہ قرار دیتی ہے کہ اس کے شباب ان تمام چیزوں کی پابندی کریں جو حزب جاری کرتی ہے کیونکہ حزب کی تمام مطبوعات گہرے مطالعہ، چھان بین اور تحقیق کے بعد جاری کی جاتی ہیں اور انہیں اختیار کرنے سے پہلے ان پر بڑی محنت کی جاتی ہے...

امید ہے کہ اب معاملہ واضح ہو گیا ہو گا اور ان الجھنوں، فضول بحث اور وقت کے ضیاع کا خاتمہ ہو جائے گا جس کا آپ نے سوال میں ذکر کیا ہے...

آپ کا بھائی عطاء بن خلیل ابو الرشتہ

18 ذو القعدہ 1440ھ بمطابق 21 جولائی 2019ء

امیرِ محترم کے فیس بک پیج سے جواب کا لنک: فیس بک

مضمون شیئر کریں

اس مضمون کو اپنے نیٹ ورک کے ساتھ شیئر کریں