حزب التحریر کے امیر، جلیل القدر عالم، عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کی جانب سے تمام مسلمانوں بالعموم اور نوجوانوں بالخصوص کو عید الاضحیٰ 1446ھ بمطابق 2025ء کے پر مسرت موقع پر مبارکباد
امیر حزب التحریر عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کا عید الاضحیٰ کے موقع پر امت مسلمہ کے نام اہم پیغام، جس میں انہوں نے فلسطین کی صورتحال پر مسلم حکمرانوں کی خاموشی کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے مسلم افواج کو پکارا ہے کہ وہ ان جبری حکمرانوں کو ہٹا کر نبوت کے نقش قدم پر خلافتِ راشدہ قائم کریں تاکہ امت کو حقیقی عزت و نصرت نصیب ہو۔
امیر حزب التحریر جلیل القدر عالم عطا بن خلیل ابو الرشتہ کی جانب سے رمضان المبارک 1446ھ بمطابق 2025ء کی آمد پر اپنے سوشل میڈیا صفحات کے معزز زائرین کو مبارکباد
امیر حزب التحریر نے امتِ مسلمہ کو رمضان کی مبارکباد دیتے ہوئے اس مہینے کی عظمت، تاریخی فتوحات اور قرآن و جہاد کے گہرے تعلق کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام ایک ناقابلِ تقسیم نظامِ زندگی ہے اور موجودہ عالمی و علاقائی بحرانوں کا واحد حل خلافتِ راشدہ کا قیام اور اللہ کے احکامات کا مکمل نفاذ ہے۔
جواب سوال: محرم کے بغیر عورت کا سفر
یہ تحریر عورت کے محرم کے بغیر سفر کرنے کے شرعی احکام کی وضاحت کرتی ہے، جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ سفر کی ممانعت کا تعلق وقت (ایک دن اور ایک رات) سے ہے نہ کہ مخصوص کلومیٹر یا مسافت سے۔ اس میں مختلف حالات اور مقامات کے لحاظ سے محرم کی موجودگی اور عورت کی حفاظت و سلامتی کے شرعی ضوابط کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
جوابِ سوال: تبرج کی حقیقت، تفصیل کے ساتھ
اس تحریر میں تبرج (نامحرموں کے سامنے زینت کے اظہار) کی شرعی حقیقت اور اس کے اطلاق کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اس میں عام زینت اور ایسی زینت کے درمیان فرق واضح کیا گیا ہے جو مردوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتی ہے، تاکہ مسلم خواتین شرعی حدود کی پاسداری کر سکیں۔
امیر حزب التحریر عالم جلیل عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کی جانب سے رمضان المبارک 1441ھ بمطابق 2020ء کی آمد کے موقع پر اپنے سوشل میڈیا پیجز کے قارئین کو مبارکباد
اس تہنیتی پیغام میں امیر حزب التحریر نے امتِ مسلمہ اور حاملینِ دعوت کو رمضان المبارک کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے خلافتِ راشدہ کے قیام کا پیش خیمہ بننے کی دعا کی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو اس مبارک مہینے کی برکتوں سے فیضیاب ہونے اور اللہ کی رضا کے لیے جدوجہد تیز کرنے کی تلقین کی ہے۔
سوال کا جواب: بیٹی کی مرضی کے بغیر باپ کے نکاح کر دینے کا حکم
یہ تحریر اس شرعی حکم کی وضاحت کرتی ہے کہ لڑکی کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح کرنا جائز نہیں ہے اور نکاح کے درست ہونے کے لیے لڑکی کی رضامندی شرط ہے۔ اگر کوئی نکاح لڑکی کی مرضی کے خلاف زبردستی کیا گیا ہو، تو اسے فسخ کرنے کا اختیار لڑکی کے پاس ہوتا ہے۔
سوال کا جواب: عورت کا نکاح خواں (مأذون) ہونا جائز نہیں ہے جو عقدِ نکاح انجام دے
اس جواب میں شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ اس شرعی حکم کی وضاحت کر رہے ہیں کہ کیا عورت نکاح خواں (مأذون شرعی) کے طور پر خدمات انجام دے سکتی ہے۔ شرعی نصوص کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ عورت کے لیے ایجاب و قبول کی کارروائی کا انتظام و انصرام کرنا جائز نہیں ہے، تاہم اگر نکاح کے دیگر ارکان پورے ہوں تو ایسا نکاح شرعی طور پر باطل نہیں ٹھہرے گا۔
جواب سوال: حزب میں متبنیات اور خواتین سے متعلق بعض احکام
یہ تحریر حزب التحریر میں متبنیات (اختیار کردہ آراء) کے اصولوں کی وضاحت کرتی ہے کہ کن مسائل میں ارکان پر پارٹی کی رائے کی پابندی شرعی و انتظامی طور پر لازم ہے اور کن میں نہیں۔ اس میں خواتین کے محارم کے سامنے ستر اور حالتِ حیض میں قرآن کی تلاوت سے متعلق فقہی آراء کی مثالوں کے ذریعے اس فرق کو واضح کیا گیا ہے۔
سوال کا جواب: (الصلاة خيرٌ من النوم) کہنا سنت ہے
فجر کی اذان میں "الصلاة خيرٌ من النوم" کہنے کی شرعی حیثیت کے متعلق اس جواب میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ عمل بدعت نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی ثابت شدہ سنت ہے۔ اس سلسلے میں کتبِ احادیث سے صحیح دلائل اور فقہی آراء پیش کی گئی ہیں۔
سوالات کے جوابات: عورت کے سفر سے متعلق تفصیلی احکام
اس تحریر میں عورت کے بغیر محرم سفر سے متعلق شرعی احکام کی تفصیل بیان کی گئی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ سفر کی ممانعت کا تعلق وقت (ایک دن اور ایک رات) سے ہے نہ کہ فاصلے سے۔ نیز منزلِ مقصود پر پہنچنے کے بعد قیام کے دوران محرم کی ضرورت اور حج کے سفر کے مخصوص احکام پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
جوابِ سوال: نکاح کے عقد میں ایجاب و قبول میں سے ایک ماضی کے لفظ کے ساتھ اور دوسرا مستقبل کے لفظ کے ساتھ ہونا جائز ہے
اس تحریر میں نکاح کے ایجاب و قبول کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ کی صرفی و نحوی حیثیت اور ان کے شرعی اثرات پر بحث کی گئی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ نکاح کے عقد میں ثبوت اور لزوم کے لیے ماضی کا صیغہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور کن مخصوص شرائط کے ساتھ مستقبل کا صیغہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سوال کا جواب: عوامی زندگی میں اسلام نے عورت پر جو شرعی لباس واجب کیا ہے
یہ تحریر عوامی زندگی میں خواتین کے لیے واجب کردہ شرعی لباس، خاص طور پر جلباب کی حقیقت کی وضاحت کرتی ہے۔ قرآن و سنت کے دلائل کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ جلباب ایک ہی ٹکڑے پر مشتمل ایسا وسیع لباس ہے جو عام کپڑوں کے اوپر پہنا جاتا ہے اور قدموں تک لٹکا ہوا ہوتا ہے۔