بہترین امت کے نام جو لوگوں کے لیے نکالی گئی... وہ امتِ مسلمہ جسے اللہ نے اپنی اطاعت کے ذریعے معزز کیا...
دعوت کے ان معزز حاملین کے نام جنہیں اللہ کے ذکر سے نہ کوئی تجارت غافل کرتی ہے اور نہ ہی خرید و فروخت...
صفحہ کے ان معزز زائرین کے نام جو اس کے پیش کردہ خیر کی جانب مائل ہیں...
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ،
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اور درود و سلام ہو اللہ کے رسول ﷺ پر، آپ کی آل پر، آپ کے صحابہ پر اور ان پر جنہوں نے آپ ﷺ سے دوستی کی۔ امّا بعد:
میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کے روزے اور قیام کو قبول فرمائے اور ہم سب کے پچھلے گناہوں کو معاف فرما دے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا جسے بخاری اور مسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، إِيمَاناً وَاحْتِسَاباً، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
"جس نے ایمان اور اجر کی نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے۔"
اور ایک دوسری روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَاناً وَاحْتِسَاباً، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
"جس نے ایمان اور اجر کی نیت کے ساتھ رمضان (کی راتوں) میں قیام کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے۔"
معزز بھائیو: اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہجرت کے دوسرے سال شعبان کے مہینے میں رمضان کے روزے فرض کیے، اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ نے قرآن نازل فرمایا:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ
"رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت اور (حق و باطل کے درمیان) فرق کرنے والے واضح دلائل ہیں۔" (سورۃ البقرہ: 185)
اسی طرح یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ نے اس امت کو فتح اور نصرتِ مبین سے نوازا۔ سترہ رمضان کو معرکہ بدرِ کبریٰ ہوا جس میں مکہ کے مشرکین کو عبرت ناک شکست ہوئی... پھر اس مبارک مہینے میں دیگر فیصلہ کن معرکے ہوئے، جن کا آغاز آٹھ ہجری بیس رمضان المبارک کو فتح مکہ سے ہوا، پھر معرکہ بویب (موجودہ کوفہ کے قریب) جو کہ "فارس کا یرموک" کہلاتا ہے، جہاں چودہ رمضان اکتیس ہجری کو مثنیٰ کی قیادت میں مسلمانوں نے فتح حاصل کی۔ پھر دو سو تیئیس ہجری سترہ رمضان کو معتصم کی قیادت میں عموریہ فتح ہوا، اور معرکہ عین جالوت جس میں مسلمانوں نے تاتاریوں کو شکست دی، یہ پچیس رمضان چھ سو اٹھاون ہجری کو ہوا، ان کے علاوہ بھی اس مبارک مہینے میں کئی فتوحات حاصل ہوئیں۔
اور اس طرح روزہ قرآن کریم کے ساتھ جڑ گیا جس کے پاس باطل نہ سامنے سے آ سکتا ہے اور نہ پیچھے سے... اور روزہ فتح و نصرت کے ساتھ جڑ گیا... روزہ جہاد کے ساتھ جڑ گیا... روزہ اللہ کے احکام کی تنفیذ کے ساتھ جڑ گیا... اور ہر بصارت اور بصیرت رکھنے والے نے جان لیا کہ اللہ سبحانہ کے احکام ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے، چاہے وہ عبادات ہوں یا جہاد، معاملات ہوں یا اخلاق و کردار، یا حدود و تعزیرات... یہ سب ایک ہی مشکوٰۃ (سرچشمے) سے ہیں۔ جو شخص کتاب اللہ کی آیات اور احادیثِ مبارکہ کے نصوص میں غور و فکر کرے گا، اسے یہ بات بالکل واضح نظر آئے گی۔ ایک مسلمان قرآن حکیم کی آیات میں جہاں یہ تلاوت کرتا ہے:
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ
"اور نماز قائم کرو۔" (سورۃ البقرہ: 43)
وہیں وہ یہ بھی تلاوت کرتا ہے:
وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ
"اور ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے۔" (سورۃ المائدہ: 49)
جہاں وہ یہ پڑھتا ہے:
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ
"تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں۔" (سورۃ البقرہ: 183)
وہیں وہ یہ بھی پڑھتا ہے:
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ
"تم پر قتال فرض کیا گیا ہے۔" (سورۃ البقرہ: 216)
اسی طرح وہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں حج کے بارے میں پڑھتا ہے:
خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ
"مجھ سے اپنے حج کے مناسک سیکھ لو۔" (سنن الکبریٰ للبیہقی، بروایت جابر)
جیسے وہ حدود کے بارے میں پڑھتا ہے:
خُذُوا عَنِّي، خُذُوا عَنِّي، قَدْ جَعَلَ اللهُ لَهُنَّ سَبِيلاً، الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ، وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ، وَالرَّجْمُ
"مجھ سے سیکھ لو، مجھ سے سیکھ لو، اللہ نے ان کے لیے راستہ بنا دیا ہے؛ کنوارا کنوارے کے ساتھ (زنا کرے) تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی، اور شادی شدہ شادی شدہ کے ساتھ کرے تو سو کوڑے اور رجم ہے۔" (مسلم، بروایت عبادہ بن صامت)
اور وہ معاملات کے بارے میں پڑھتا ہے:
البَيِّعَانِ بِالخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا - أو قال حتى يتفرقا -
"خرید و فروخت کرنے والے دونوں کو اختیار ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہو جائیں۔" (بخاری، بروایت حکیم بن حزام)
جیسے وہ خلیفہ کی بیعت کے بارے میں پڑھتا ہے:
وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
"اور جو اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں (خلیفہ کی) بیعت نہ تھی، وہ جاہلیت کی موت مرا۔" (مسلم، بروایت عبداللہ بن عمر)
لہذا اسلام ایک مکمل اکائی ہے جس کے ٹکڑے نہیں کیے جا سکتے، اور اس کی دعوت ریاست، زندگی اور معاشرے میں اس کی مکمل تنفیذ کے لیے ایک ہی ہے۔ جس کسی نے اللہ کی آیات کے درمیان تفریق کی، اور دین کو زندگی سے الگ کرنے (سیکولرزم) یا دین کو سیاست سے الگ کرنے کی بات کی، اس نے ایک بہت بڑا گناہ اور عظیم جرم کیا جو اس کے قائل کو دنیا میں رسوائی اور آخرت میں دردناک عذاب کی طرف لے جاتا ہے۔
اے مسلمانو: میں آپ کو یہ سب باتیں ان دنوں میں یاد دلا رہا ہوں جب غزہ کے لوگوں پر یہودیوں کی وحشیانہ جارحیت شدت اختیار کر چکی ہے، اور وہ (یہودی) اہل غزہ کی بہادری دیکھ کر ششدر رہ گئے ہیں۔ طویل مہینے گزر گئے لیکن یہ مسخ شدہ یہودی وجود غزہ کے لوگوں کے خلاف کسی ایسی کامیابی کو حاصل نہ کر سکا جس کا وہ دعویٰ کرتا تھا، چنانچہ وہ اپنا حواس کھو بیٹھا ہے۔ اس کے بجائے کہ وہ ان باایمان گروہوں کے ساتھ آمنے سامنے مقابلہ کرتا جن کے پاس معمولی ہتھیار ہیں جبکہ وہ خود امریکہ اور مغرب کے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہے، وہ عورتوں اور بچوں کے قتلِ عام کی طرف مڑ گیا تاکہ اس کے پاس بات کرنے کے لیے کوئی نام نہاد کامیابی ہو!! یہودی وجود اپنی ناکامی اپنے ہاتھوں سے لکھ رہا ہے، وہ لڑنے کے قابل نہیں مگر لوگوں کی رسی (سہارے) کے ذریعے، جیسا کہ اللہ قوی و عزیز نے فرمایا:
ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ
"ان پر ذلت مسلط کر دی گئی ہے جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں، سوائے اللہ کی رسی اور لوگوں کی رسی کے سہارے کے۔" (سورۃ آل عمران: 112)
اللہ کی رسی تو انہوں نے اپنے انبیاء کے زمانے سے ہی کاٹ دی تھی، اب ان کے پاس صرف لوگوں کی رسی باقی ہے یعنی امریکہ، یورپ اور ان کے ایجنٹ مسلم ممالک کے غدار حکمران، جو بچوں اور عورتوں پر یہودیوں کی وحشیانہ جارحیت دیکھ کر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے، بلکہ ان میں سے جو سب سے "بہتر" (نام نہاد) طریقہ اپناتا ہے وہ صرف شہداء اور زخمیوں کی گنتی کرنے والا بن کر رہ گیا ہے،
قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ
"اللہ انہیں غارت کرے، یہ کہاں بہکے جا رہے ہیں۔" (سورۃ التوبہ: 30)
اس کے باوجود اے مسلمانو! یہودیوں سے قتال، ان کا قتل اور ان کے وجود کا خاتمہ اس جابرانہ حکمرانی (ملکِ جبریہ) اور ایجنٹ حکمرانوں کے بعد ایک مجاہد خلیفہ راشد کی قیادت میں ضرور ہو کر رہے گا۔ رسول اللہ ﷺ کی بشارت کا وقت اللہ کے حکم سے دور نہیں ہے، اس حدیث کی تحقیق کے طور پر جسے امام احمد نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے:
ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ
"پھر جابرانہ بادشاہت ہوگی اور وہ اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ چاہے گا، پھر جب وہ اسے اٹھانا چاہے گا تو اٹھا لے گا، پھر نبوت کے طریقے پر خلافت قائم ہوگی، پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔"
اور اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کی تصدیق کے طور پر جسے مسلم نے روایت کیا ہے:
لَتُقَاتِلُنَّ الْيَهُودَ فَلَتَقْتُلُنَّهُمْ...
"تم یہودیوں سے ضرور لڑو گے اور انہیں قتل کرو گے..."
آخر میں، جس طرح ہمیں روزے کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ اللہ ہم سے راضی ہو جائے اور ہمارے پچھلے گناہ معاف فرما دے، اسی طرح ہمیں خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے اسلامی زندگی کے دوبارہ آغاز (استئناف الحیاۃ الاسلامیہ) کے لیے کام کرنے کا بھی اہتمام کرنا چاہیے، تاکہ ہم دنیا میں اللہ کے احکام نافذ کر کے اور رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے یعنی رایۃ العقاب (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے جھنڈے) کے سائے تلے رہ کر کامیاب ہوں، اور آخرت میں بھی اللہ سبحانہ کے حکم سے اس کے سائے تلے جگہ پا کر کامیاب ہوں جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا، پس ہم دونوں جہانوں میں کامیاب ہو جائیں، اور یہی عظیم کامیابی ہے۔
والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔