جواب سوال: انٹرنیٹ کے ذریعے مالیاتی اور تجارتی لین دین کا حکم
یہ تحریر انٹرنیٹ پر سونا، چاندی، کرنسی اور تیل کی تجارت کے شرعی احکام کی وضاحت کرتی ہے، جس میں قبضے (حیازت) اور نقد لین دین کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں کے حصص، بانڈز اور مختلف پیمانوں سے فروخت ہونے والی اشیاء کے متعلق حزب التحریر کے فقہی موقف کو مدلل انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
جواب سوال: کاغذی کرنسی پر زکوٰۃ
اس جواب میں کاغذی کرنسی پر زکوٰۃ کے شرعی حکم کی وضاحت کی گئی ہے، چاہے وہ سونے یا چاندی سے ڈھکی ہوئی ہو یا محض قانونی حیثیت رکھتی ہو۔ امیرِ حزب التحریر بتاتے ہیں کہ چونکہ موجودہ کاغذی نوٹ اشیاء کی قیمت اور خدمات کی اجرت کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، اس لیے ان پر سونے اور چاندی کی طرح زکوٰۃ واجب ہے بشرطیکہ وہ نصاب کو پہنچ جائیں۔
سوال کا جواب: ایک مخصوص رقم کی خریداری پر خریدار کو تحفہ دینا
یہ جواب ایک مخصوص رقم کی خریداری پر قرعہ اندازی کے ذریعے ملنے والے انعامات کی شرعی حیثیت واضح کرتا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر انعام کی رقم صارفین سے اضافی قیمت وصول کر کے پوری کی جائے تو یہ جوئے کی ایک صورت ہے، لہٰذا شبہات سے بچنے کے لیے ایسی چیزوں سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔
جواب سوال: مشترکہ رقم کی زکوٰۃ
اس تحریر میں وضاحت کی گئی ہے کہ نقدی اور کمپنی کے حصص پر زکوٰۃ ایک انفرادی فریضہ ہے، نہ کہ کمپنی پر بحیثیت مجموعی۔ اس میں مثالوں کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ کس طرح قرض اور دیگر ذاتی اموال کو شامل کر کے ہر شریک کی زکوٰۃ کا حساب الگ الگ کیا جائے گا۔
سوال کا جواب: تمام اقساط کی وصولی تک گاڑی کی ملکیت منتقل نہ کرنا
اس تحریر میں قسطوں پر گاڑی کی خرید و فروخت کے اس طریقے کا شرعی حکم بیان کیا گیا ہے جس میں تاجر مکمل ادائیگی تک گاڑی کی ملکیت منتقل نہیں کرتے۔ اس میں فقہی اصول 'مبیع کو اس کی قیمت کے بدلے رہن رکھنے' کی مختلف صورتوں اور گاڑی (غیر مکیل و موزون) کے احکامات کی وضاحت کی گئی ہے۔
سوال کا جواب: کیا گھر کی تعمیر سے پہلے اس کی خرید و فروخت بیع سلم یا استصناع کے تحت جائز ہے؟
اس تحریر میں اس شرعی حکم کی وضاحت کی گئی ہے کہ آیا زیرِ تعمیر مکانات یا فلیٹس کی خرید و فروخت بیع سلم یا استصناع کے تحت جائز ہے یا نہیں۔ امیر حزب التحریر شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتہ دلائل کے ساتھ واضح کرتے ہیں کہ ایسی اشیاء جو ابھی وجود میں نہ آئی ہوں ان کی بیع کے لیے کیا شرائط ضروری ہیں۔
سوال کا جواب: مال جمع کر کے رکھنے (کنز) کی حقیقت اور اس کا حکم
اس تحریر میں مال جمع کر کے رکھنے (کنز) اور مستقبل کی ضرورت کے لیے بچت (ادخار) کے درمیان فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ اسلام میں کسی خاص مقصد کے بغیر مال کو گردش سے روکنا حرام ہے، جبکہ شادی، تعلیم یا گھر جیسی جائز ضروریات کے لیے رقم جمع کرنا مباح ہے بشرطیکہ اس پر زکوٰۃ ادا کی جائے۔
سوال کا جواب: آجر کی جانب سے ملازم کی تنخواہ سے کچھ حصہ کاٹنے اور اس میں اپنی طرف سے رقم شامل کرنے کی شرعی حیثیت
یہ تحریر مغربی ممالک میں رائج پنشن اسکیموں کی شرعی حیثیت کی وضاحت کرتی ہے، جہاں آجر ملازم کی تنخواہ سے کٹوتی کر کے اپنی طرف سے بھی رقم شامل کرتا ہے۔ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر یہ کٹوتی ملازمت کے معاہدے کا حصہ ہو یا حکومتی قانون کے تحت لازمی ہو، تو ایسی پنشن کا حصول شرعاً جائز ہے۔
کریڈٹ کارڈز کے بارے میں سوال کا جواب
اس تحریر میں کریڈٹ کارڈز اور اقساط پر خریداری سے متعلق شرعی احکامات کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس میں بینک کارڈز کی مختلف اقسام، ان میں حوالہ و وکالت کی صورتوں اور سود یا ناجائز ضمانت (ضمان) پر مبنی معاملات کے فرق کو واضح کیا گیا ہے۔
جوابِ سوال: غصب شدہ مال
اس فتویٰ میں غصب شدہ مال اور جائیداد کی شرعی حیثیت واضح کی گئی ہے، خاص طور پر مقبوضہ فلسطین میں غصب شدہ زمینوں پر تعمیر شدہ دکانوں یا مکانات کو کرائے پر لینے کے حکم پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ امیرِ حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ وضاحت کرتے ہیں کہ جب تک جائیداد کا غصب شدہ ہونا یقینی ہو، اسے غاصب سے کرائے پر لینا جائز نہیں کیونکہ غاصب اس کا مالک نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے عقد کرنے کا حق حاصل ہے۔
جوابِ سوال: عوض کے بدلے قرض کی ضمانت
اس فتویٰ میں اس صورت کی وضاحت کی گئی ہے جس میں کوئی شخص کسی دوسرے کا قرض ادا کرنے کی ضمانت دیتا ہے اور اس کے بدلے معاوضہ طلب کرتا ہے۔ شرعی طور پر ضمان (ضمانت) ایک ایسا عقد ہے جس میں کسی عوض یا معاوضے کی شرط رکھنا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ بغیر کسی مالی فائدے کے محض تعاون پر مبنی ہوتا ہے۔
سوال کا جواب: زکوٰۃ اور والد و بیٹے کے قرضے
اس جواب میں والد اور بیٹے کے درمیان علیحدہ مالی ذمہ داری (ذمہ مستقلہ) کے شرعی اصول کی وضاحت کی گئی ہے کہ باپ کا قرض بیٹے کا قرض تصور نہیں ہوتا۔ نیز یہ بیان کیا گیا ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے حوالے سے دونوں کی مالی حیثیت انفرادی ہے اور قرض کس طرح زکوٰۃ کے وجوب پر اثر انداز ہوتا ہے۔