جواب سؤال: امریکہ میں شرح سود میں اضافے کے پیچھے کیا محرکات ہیں!
یہ تحریر امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے حقیقی سیاسی اور اقتصادی مقاصد کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ سود میں اضافے کا یہ فیصلہ امریکی معیشت کی بحالی سے زیادہ یورپ سے سرمایہ نکالنے اور اسے کمزور کرنے کی ایک سیاسی چال ہے۔
جواب سوال: نماز میں عورت کا اپنے قدموں کو چھپانا
اس تحریر میں واضح کیا گیا ہے کہ عورت کے قدم 'ستر' (عورت) میں شامل ہیں، اس لیے عوامی زندگی میں جلباب کے ذریعے انہیں چھپانا واجب ہے۔ نماز کے حوالے سے راجح رائے یہی ہے کہ قدموں کو چھپانا ضروری ہے، تاہم عبادات کے معاملات میں حزب کی جانب سے تبنیٰ نہ ہونے کی وجہ سے حنفی مسلک پر عمل کرنے والی خواتین کے لیے نماز میں قدم کھلے رکھنا جائز ہے۔
سوال کا جواب: تصویر سازی کا شرعی حکم
اس جواب میں جلیل القدر عالم شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ تصویر سازی، مجسمہ سازی اور ڈیجیٹل ڈرائنگ سے متعلق شرعی احکامات کی وضاحت کرتے ہیں۔ وہ جانداروں کی ہاتھ سے بنائی گئی تصویروں اور کیمرے کی تصویر کشی کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے بچوں کے کھلونوں اور تعلیمی مقاصد کے لیے مستثنیٰ صورتوں پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔
سوالات کے جوابات: مشرقی ترکستان پر چین کی وحشیانہ جارحیت - برصغیر ہند میں میزائلوں کی تیاری کی سرگرمیاں
یہ تحریر مشرقی ترکستان کے مسلمانوں پر چین کے وحشیانہ مظالم کے تاریخی پس منظر اور برصغیر ہند میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری میزائل سازی کی دوڑ کے اسٹریٹجک اسباب کا احاطہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی حقیقی نجات خلافتِ راشدہ کے قیام میں ہے، جبکہ خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ امریکی مفادات اور چین کو الجھانے کی پالیسی کا حصہ ہے۔
جوابِ سوال: الحول (زکوٰۃ کا سال)
اس جواب میں اس غلط فہمی کی علمی تصحیح کی گئی ہے کہ 'حول' (سال) کی مدت بارہ ماہ سے کم ہوتی ہے۔ شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ نے لغوی اور شرعی دلائل سے ثابت کیا ہے کہ زکوٰۃ کے لیے 'حول' سے مراد مکمل ایک قمری سال ہے، نہ کہ ساڑھے دس ماہ۔
جوابِ سوال: افغانستان میں رائج مشہور "دویانی" اور "نصفگی" کے معاہدوں کا شرعی حکم
اس جواب میں افغانستان میں رائج مویشیوں کی پرورش کے دو مشہور معاہدوں، "دویانی" اور "نصفگی" کی شرعی حیثیت واضح کی گئی ہے۔ شیخ نے اسلامی نظامِ معیشت کی روشنی میں یہ اصول بیان کیا ہے کہ کسی بھی اجارے کے معاملے میں اجرت کا واضح طور پر معلوم ہونا ضروری ہے تاکہ نزاع سے بچا جا سکے۔
سوال کا جواب: فلسطین اور ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی
یہ تحریر فلسطین اور ایران کے متعلق امریکی انتظامیہ کی بدلتی ہوئی حکمت عملی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے پسِ پردہ اصل مقاصد کو بے نقاب کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ اپنے سیاسی اور معاشی اہداف کے حصول کے لیے کبھی دو ریاستی حل اور کبھی "ایرانی خطرے" کو ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
سوال کا جواب: پروفیشنل یونین (نقابة) کی رکنیت حاصل کرنا
اس جواب میں شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی پیشے میں کام کرنے کے لیے قانونی طور پر کسی یونین یا ایسوسی ایشن کی رکنیت لازمی ہو، تو اسے کام کے لائسنس کے حصول کی مانند جائز سمجھا جائے گا۔ تاہم، رکنیت صرف پیشہ ورانہ ضرورت تک محدود ہونی چاہیے اور اس کے تنظیمی یا انتخابی معاملات سے گریز کرنا چاہیے۔
سوال کا جواب: درخت پر موجود پھلوں کی بیع
اس جواب میں درخت پر موجود پھلوں کی خرید و فروخت (ضمان الشجر) کے شرعی حکم کی وضاحت کی گئی ہے۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایسی بیع صرف اسی صورت میں جائز ہے جب پھلوں کے پکنے کے آثار (بدوِ صلاح) ظاہر ہو چکے ہوں۔
سوال کا جواب: ٹرمپ کی بین الاقوامی سیاست کے کچھ اہم خدوخال
یہ تحریر ٹرمپ کی بین الاقوامی سیاست کے اہم پہلوؤں، خصوصاً شام، روس اور یورپی یونین کے حوالے سے امریکی حکمتِ عملی کا گہرا تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کا اسلام مخالف رویہ دراصل سابقہ امریکی پالیسیوں کا ہی تسلسل ہے اور امتِ مسلمہ کی اس صورتحال کا حل صرف خلافتِ راشدہ کے قیام میں پنہاں ہے۔
اسلام کی عظیم شخصیات میں سے ایک عظیم شخصیت اپنے محبوب محمد ﷺ اور ان کے صحابہؓ سے جا ملی، اور ہم اللہ کے حضور کسی کی پاکبازی کا دعویٰ نہیں کرتے
یہ تحریر حزب التحریر کے امیر عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کی جانب سے تحریک کے ایک دیرینہ اور جرات مند داعی، شیخ صبری العاروری (ابو محمد) کی وفات پر ایک پُرملال تعزیتی پیغام ہے۔ اس میں ان کی دعوتِ دین کے لیے طویل جدوجہد، قید و بند کی صعوبتوں پر صبر اور اللہ کی راہ میں ان کی غیر متزلزل استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔
سوال کا جواب: گامبیا کی سیاسی صورتحال
یہ مضمون گامبیا کی حالیہ سیاسی تبدیلیوں کا گہرائی سے تجزیہ کرتا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح بین الاقوامی طاقتیں، بالخصوص برطانیہ اور امریکہ، اپنے مفادات کے لیے ایجنٹوں کو تبدیل کرتی ہیں۔ یہ واضح کیا گیا ہے کہ یحییٰ جامع کی رخصتی اور اڈاما بارو کی آمد محض ایک استعماری ایجنٹ کی جگہ دوسرے ایجنٹ کو لانے کی کوشش ہے تاکہ خطے میں برطانوی اثر و رسوخ کو برقرار رکھا جا سکے۔