سوال کا جواب: بین الاقوامی عدالت کے ساتھ البشیر کا معاملہ، اور سوڈان کے حوالے سے یورپ اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی کی حقیقت
یہ مضمون سوڈان کے سابق صدر عمر البشیر کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کے مقدمے اور اس کے پیچھے کارفرما یورپی و امریکی سیاسی کشمکش کا گہرا تجزیہ پیش کرتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح استعماری طاقتیں بین الاقوامی قانون کو اپنے مفادات کی جنگ کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں اور اب کس طرح ایک درمیانی حل کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
محترم بھائی اور چچا فتحی محمد سلیم "ابو غازی" کی یاد میں
یہ تحریر تحریکِ خلافت کی پہلی صف کے عظیم رہنما فتحی محمد سلیم (ابو غازی) کی وفات پر ایک پُردرد رثائیہ ہے، جس میں ان کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے قید و بند اور پردیس کی صعوبتوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ سے خلافتِ راشدہ کے جلد قیام اور نصرتِ الٰہی کی دعا کی ہے۔
تعزية من إذاعة المكتب الإعلامي في أبي غازي وكلمة من صاحبه وأخيه
حزب تحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کی جانب سے ابو غازی کی وفات پر تعزیت اور ان کے ایک رفیق و بھائی کا پیغام
یہ مضمون حزب تحریر کے جلیل القدر عالم اور داعی، فتحی محمد سلیم (ابو غازی) کی وفات پر میڈیا آفس کے ریڈیو کی جانب سے تعزیتی پیغام اور ان کے ایک دیرینہ ساتھی کے قلبی تاثرات پر مبنی ہے۔ اس میں مرحوم کی دعوتِ دین کے لیے استقامت اور خلافت کے قیام کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ربِ ذوالجلال سے نصرت اور بلند درجات کی دعا کی گئی ہے۔
سوال و جواب: امریکہ اور زرداری - دمشق میں چار فریقی سربراہی اجلاس
یہ تحریر پاکستان میں آصف علی زرداری کی صدارت کے پس پردہ امریکی مفادات اور برطانیہ کے ساتھ اس کے سیاسی توازن کو بے نقاب کرتی ہے۔ ساتھ ہی دمشق میں ہونے والے چار فریقی اجلاس کے اصل مقاصد کی وضاحت کرتی ہے کہ کس طرح نئی امریکی انتظامیہ کے آنے تک خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف مہروں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
سوال کا جواب: مشرف کو اقتدار سے ہٹانا
یہ تحریر سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف کے استعفیٰ کے پسِ پردہ محرکات اور اس میں امریکہ اور برطانیہ کے کردار کا تفصیلی سیاسی تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح استعماری طاقتیں اپنے ایجنٹوں کو ان کی افادیت ختم ہونے کے بعد تبدیل کر دیتی ہیں اور ان کی جگہ نئے مہروں کو لاتی ہیں۔
موریطانیہ میں فوجی بغاوت اور روس جارجیا جنگ سے متعلق سوالات کے جوابات
یہ تحریر موریطانیہ میں 2008 کی فوجی بغاوت اور روس جارجیا جنگ کے پس پردہ محرکات کا گہرا سیاسی تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ اور فرانس اپنے استعماری مفادات کے لیے مختلف ممالک میں سیاسی اور فوجی مداخلت کرتے ہیں۔
جوابِ سوال: لبنان میں کشمکش ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے
یہ تحریر لبنان میں جاری سیاسی بحران اور بین الاقوامی طاقتوں کے اثر و رسوخ کا گہرا تجزیہ پیش کرتی ہے، جس میں امریکہ، فرانس اور برطانیہ کے مابین جاری رسہ کشی کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح بین الاقوامی سیاسی چالوں اور مقامی حالات نے لبنانی سیاست کے 'کھیل' کو ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
جواب سوال: ڈالر کا بحران اور تیل، معدنیات اور غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ
یہ تحریر ڈالر کے بحران اور تیل، سونے اور غذائی اجناس کی قیمتوں میں ہونے والے غیر معمولی اضافے کے پیچھے چھپے معاشی اور سیاسی محرکات کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ اپنی معاشی کمزوریوں اور قرضوں کے بوجھ کو عالمی بحران میں تبدیل کر کے دوسرے ممالک پر منتقل کر رہا ہے۔
جوابِ سوال: شمالی عراق میں ترکی کی فوجی کارروائی
یہ تحریر شمالی عراق میں ترکی کی فوجی کارروائی پر امریکی اجازت کے پس منظر اور اس کے پیچھے چھپے سیاسی مقاصد کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ نے یہ قدم ترکی میں اپنے مفادات کے تحفظ، اردگان حکومت کی پوزیشن مضبوط کرنے اور برطانوی نواز فوجی قیادت کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے اٹھایا ہے۔
سیاسی سوالات کے جوابات: پاکستان کے انتخابات | کوسوو کی آزادی کا امریکی اعتراف | بش کا افریقی دورہ
یہ سیاسی تجزیہ 2008 کے پاکستانی انتخابات، کوسوو کی آزادی اور صدر بش کے افریقی دورے پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں اقتدار کی تبدیلی کے باوجود امریکی اثر و رسوخ برقرار ہے، جبکہ کوسوو کی آزادی مسلمانوں کی ہمدردی میں نہیں بلکہ بلقان میں امریکی مفادات کے حصول کے لیے ہے۔
سوال کا جواب: خطے میں بش کا دورہ
امریکی صدر جارج بش کا دورہ مشرق وسطیٰ دراصل امریکی انتخابی مہم اور خطے میں استعماری مفادات کے تحفظ کی ایک کوشش ہے۔ اس دورے کا مقصد یہودی ریاست کو ایران کے معاملے پر یقین دہانی کروانا اور فلسطینی اتھارٹی کے ذریعے اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے، جبکہ فلسطین کی حقیقی آزادی صرف خلافت راشدہ کے قیام اور جہاد ہی سے ممکن ہے۔