سوال کا جواب: یوکرائن کے بحران کی حقیقت، اس کے ابعاد اور محرکات
یہ تجزیہ یوکرائن کے بحران کی جڑوں، روس کے تزویراتی (Strategic) مفادات اور امریکہ و مغربی ممالک کے کردار کا احاطہ کرتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح روس اپنی سلامتی کے لیے یوکرائن کو ایک بفر زون کے طور پر دیکھتا ہے اور اس کشیدگی کے عالمی سیاست اور روس-چین تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
الجزائر اور مراکش کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کے متعلق سوال کا جواب
الجزائر اور مراکش کے درمیان حالیہ کشیدگی دراصل ایک مصنوعی بحران ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے داخلی سیاسی مسائل اور عوامی بے چینی سے توجہ ہٹانا ہے۔ اگرچہ دونوں حکومتوں کی وفاداری برطانیہ سے وابستہ ہے، لیکن وہ اپنے اقتدار کو طول دینے اور استعماری مفادات کے تحت ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی اور اشتعال انگیزی کا سہارا لے رہی ہیں۔
سوال کا جواب: اسلامی عقیدہ کی تعریف اور متکلمین
اس جواب میں اسلامی عقیدے کی تعریف اور "قضا و قدر" کی اصطلاحی حقیقت کو تفصیلاً واضح کیا گیا ہے۔ شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ نے معتزلہ اور جبریہ کے افکار کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے افعال کو انسانی عقل کے پیمانے پر نہیں پرکھا جا سکتا، بلکہ اس سلسلے میں شرعی نصوص ہی اصل بنیاد ہیں۔
سوال کا جواب: ترک لیرا کی قدر میں ریکارڈ کمی اور 2023 کے صدارتی انتخابات پر اس کے اثرات
یہ تحریر ترک لیرا کی قدر میں ہونے والی حالیہ کمی کے اسباب اور 2023 کے صدارتی انتخابات پر اس کے ممکنہ اثرات کا تفصیلی تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس میں سرمایہ دارانہ معاشی نظام کی خرابیوں، سودی قرضوں کے بوجھ اور اردوغان حکومت کی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ اس بحران کے حل کے لیے اسلامی اقتصادی نقطہ نظر کو بھی بیان کیا گیا ہے۔
جواب سوال: جو چیز تمہارے پاس (ملکیت میں) نہیں ہے اسے فروخت نہ کرو
اس جواب میں شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ اس شرعی حکم کی وضاحت کرتے ہیں کہ ایسی اشیاء کی بیع کرنا جو انسان کی مکمل ملکیت یا قبضے میں نہ ہوں، شرعاً جائز نہیں ہے۔ یہ حکم کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ ساتھ ہر اس مال پر لاگو ہوتا ہے جو ناپ، تول یا گنتی کے ذریعے فروخت کیا جاتا ہے، جبکہ مکان یا زمین جیسی اشیاء میں عقد کے ساتھ ہی ملکیت مکمل ہو جاتی ہے۔
جوابِ سوال: قرآنِ کریم کی متواتر قراءات کے بارے میں ایک مسئلہ
یہ جواب قرآن کریم کی متواتر قراءات کے قواعد اور کتاب 'الشخصیۃ الاسلامیہ' میں مذکور بعض مثالوں کی علمی وضاحت پر مبنی ہے۔ امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ نے قراءت میں ابدال اور صلہ میم الجمع جیسے باریک مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کتاب کی طباعتی غلطی کی نشاندہی اور تصحیح فرمائی ہے۔
سوال کا جواب: ایتھوپیا میں تنازع کے بین الاقوامی اور مقامی قومی پہلو
یہ تحریر ایتھوپیا میں جاری داخلی تنازع کے بین الاقوامی اور مقامی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیتی ہے، جس میں نسلی عصبیتوں اور عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ کے اثر و رسوخ کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ اپنی بدلتی ہوئی پالیسیوں کے تحت ایتھوپیا کو تقسیم کی طرف دھکیل رہا ہے اور اس کا واحد حل صرف اسلامی نظام یعنی خلافت کے قیام میں مضمر ہے۔
سوال کا جواب: حدیث "لا يأتي زمان إلا الذي بعده شر منه" اور حدیثِ واپسیِ خلافت کے درمیان بظاہر تعارض کا شبہ
یہ تحریر اس حدیث کی وضاحت کرتی ہے جس میں ہر آنے والے زمانے کو پہلے سے بدتر قرار دیا گیا ہے اور اس کا خلافتِ راشدہ کی واپسی کی خوشخبریوں کے ساتھ بظاہر پائے جانے والے تعارض کو دور کرتی ہے۔ امیرِ حزب التحریر شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کے مطابق یہ حدیث عام نہیں بلکہ اس سے وہ مخصوص ادوار مستثنیٰ ہیں جن میں خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا قیام عمل میں آئے گا۔
سوال کا جواب: "جسے مکمل حاصل نہ کیا جا سکے، اس کے میسر حصے کو چھوڑا نہیں جاتا"
اس جواب میں شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ اس مشہور فقہی قاعدے کی حقیقت واضح کرتے ہیں کہ کیا اسے نفاذِ شریعت میں تدریج کے لیے بطور دلیل استعمال کیا جا سکتا ہے۔ امیر حزب التحریر بیان کرتے ہیں کہ یہ قاعدہ انفرادی عبادات کی ادائیگی میں تو لاگو ہوتا ہے، لیکن اسے اللہ کے دین کے جزوی نفاذ یا کفریہ احکامات کے ساتھ سمجھوتے کے لیے دلیل بنانا باطل اور دین پر افتراء ہے۔
سوال کا جواب: اصول فقہ میں تبنی اور قیاس - یحییٰ ابو زکریا کے نام
اس جواب میں اصول فقہ کے اہم موضوعات 'تبنی' (رائے اختیار کرنا) اور 'قیاس' کی وضاحت کی گئی ہے، خاص طور پر حدود، کفارات اور عبادات کے حوالے سے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ صحابہ کرامؓ کے اجتہادات، جیسے شراب نوشی کی حد پر حضرت علیؓ کا قیاس، کن اصولوں پر مبنی تھے اور حزب التحریر نے عقائد و عبادات میں تبنی نہ کرنے کی پالیسی کیوں اختیار کی ہے۔
سوال کا جواب: سوڈان میں سویلین عبوری حکومت کے خلاف فوج کی بغاوت
سوڈان میں حالیہ فوجی بغاوت دراصل امریکہ اور برطانیہ کے مقامی ایجنٹوں کے درمیان اقتدار کی کھینچ تانی کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد سوڈانی عوام کے مفادات کا تحفظ نہیں بلکہ استعماری طاقتوں کی خوشنودی ہے۔ یہ رسہ کشی اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک امت مسلمہ ان کٹھ پتلی حکمرانوں کو مسترد کر کے خلافتِ راشدہ کے قیام کی جدوجہد نہیں کرتی۔
سوال کا جواب: فیس بک کی سروسز میں تعطل کے پیچھے کیا عوامل کار فرما ہیں؟
یہ مضمون اکتوبر 2021 میں فیس بک اور اس کی ذیلی ایپس کی عالمی بندش کے اسباب کا گہرا سیاسی اور تکنیکی تجزیہ پیش کرتا ہے۔ اس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ کیا یہ محض ایک فنی خرابی تھی یا امریکی سیاسی گروہوں، خاص طور پر ٹرمپ اور بائیڈن کے حامیوں کے درمیان جاری کشمکش کا شاخسانہ۔