سوال کا جواب: اصول فقہ سے: المسكوت عنه (وہ جس کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی)
المسکوت عنہ (جن کے بارے میں شریعت خاموش ہے) سے مراد ایسی اشیاء یا افعال ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مباح یا حلال قرار دیا ہے، نہ کہ یہ کہ ان کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا۔ یہ جواب اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ دورِ تنزیل میں سوال سے ممانعت مسلمانوں پر تنگی سے بچنے کے لیے تھی، جبکہ شریعت کی تکمیل کے بعد ہر معاملے کا شرعی حکم تلاش کرنا لازم ہے۔
جوابِ سوال: روسی شہر سوچی میں اردگان اور پیوٹن کی ملاقات
یہ سیاسی تجزیہ سوچی میں ہونے والی اردگان اور پیوٹن کی ملاقات کے مخفی مقاصد اور اس کے پسِ منظر کو بیان کرتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ خطے سے نکل کر اپنی توجہ چین کی طرف موڑ رہا ہے اور شام کے معاملے پر روس کے ساتھ سودے بازی کے لیے ترکی کو بطور آلہ کار استعمال کر رہا ہے۔
سوال کا جواب: عمومی شعور سے جنم لینے والی عوامی رائے
اس تحریر میں حزب التحریر کے امیر شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتہ عوامی رائے اور عمومی شعور کے درمیان تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ طلبِ نصرت کے لیے ان کا حصول کیوں ضروری ہے۔ وہ فکری قیادت اور عملی قیادت کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ خلافت کے قیام کی جدوجہد میں یہ شرائط کس طرح لاگو ہوتی ہیں۔
سوال کا جواب: برطانیہ اور آسٹریلیا کے ساتھ امریکہ کے فوجی اتحاد کے ابعاد اور اہمیت
یہ تحریر امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے مابین نئے فوجی اتحاد (AUKUS) کے اسٹریٹجک پہلوؤں اور اس کے عالمی مضمرات کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اتحاد کس طرح ایک طرف چین کی روک تھام اور دوسری طرف فرانس جیسے یورپی ممالک کے آزادانہ عالمی کردار کو محدود کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
سوال کا جواب: نکاح کے عقد سے قبل منگنی کی تقاریب کا شرعی حکم
اس جواب میں نکاح کے شرعی عقد سے قبل منگنی کی مروجہ تقاریب میں ہونے والی غیر شرعی سرگرمیوں کی شرعی حیثیت واضح کی گئی ہے۔ شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ بیان کرتے ہیں کہ جب تک باقاعدہ نکاح نہیں ہو جاتا، منگیتر ایک اجنبی مرد ہے اور اس کے سامنے عورت کا بناؤ سنگھار کرنا یا بے پردگی کرنا شرعاً حرام ہے۔
جواب سوال: گنی (Guinea) میں فوجی بغاوت
یہ تحریر گنی میں ستمبر 2021 میں ہونے والی فوجی بغاوت کے پس پردہ محرکات اور اس پر عالمی طاقتوں، بالخصوص فرانس اور امریکہ کے ردِ عمل کا تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ افریقہ میں جاری یہ سیاسی کشمکش دراصل استعماری طاقتوں کے درمیان وسائل کی لوٹ مار کی جنگ ہے، جس کا واحد حل خلافت راشدہ کا قیام ہے۔
جواب سوال: فتح مکہ سے پہلے قریش میں طلبِ نصرت کی شرائط پوری نہیں تھیں
اس جواب میں وضاحت کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش سے طلبِ نصرت کیوں نہیں کی، کیونکہ اس کے لیے اسلام کی قبولیت اور اہل قوت و منعت ہونا لازمی شرائط ہیں۔ چونکہ مکہ کے بااثر لوگ ایمان نہیں لائے تھے، اس لیے آپ ﷺ نے ان قبائل سے نصرت طلب کی جہاں یہ شرائط پوری ہو رہی تھیں۔
سوال کا جواب: ایک مخصوص رقم کی خریداری پر خریدار کو تحفہ دینا
یہ جواب ایک مخصوص رقم کی خریداری پر قرعہ اندازی کے ذریعے ملنے والے انعامات کی شرعی حیثیت واضح کرتا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر انعام کی رقم صارفین سے اضافی قیمت وصول کر کے پوری کی جائے تو یہ جوئے کی ایک صورت ہے، لہٰذا شبہات سے بچنے کے لیے ایسی چیزوں سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔
سوال کا جواب: دعوت کا کام، فرضِ عین ہے یا فرضِ کفایہ؟
اس تحریر میں حزب التحریر کے امیر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ اس اہم سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ اسلام کی دعوت پیش کرنا اور خلافت کے قیام کے لیے جدوجہد کرنا فرضِ عین ہے یا فرضِ کفایہ۔ وہ شرعی دلائل سے واضح کرتے ہیں کہ اگرچہ یہ فرضِ کفایہ ہے، لیکن جب تک اسلامی زندگی کا دوبارہ آغاز نہیں ہو جاتا، یہ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر واجب رہتا ہے۔
سوال کا جواب: خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے بارے میں احادیث
یہ تحریر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کی بشارت پر مشتمل مشہور حدیث کی صحت کے بارے میں اٹھنے والے شبہات کا علمی و تحقیقی جواب ہے۔ امیر حزب التحریر شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتہ اس حدیث کے راویوں کی ثقاہت کو مستند کتبِ حدیث کے حوالوں سے ثابت کرتے ہوئے معترضین کے دلائل کا رد کرتے ہیں۔
جوابِ سوال: سود ہر صورت میں سود ہے، خواہ وہ دارِ اسلام میں ہو یا دارِ کفر میں
یہ تحریر اس اہم شرعی مسئلے کی وضاحت کرتی ہے کہ سود ہر حال میں حرام ہے، خواہ وہ دارِ اسلام میں ہو یا دارِ کفر میں۔ اس میں مختلف فقہی آراء کا جائزہ لیتے ہوئے قرآن و سنت کے دلائل کی روشنی میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ سود کی ممانعت عام اور مطلق ہے جس میں جگہ کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
سوال کا جواب: (اسلامی) بینکوں کے ساتھ لین دین
اس جواب میں "اسلامی" کہلانے والے بینکوں کے ساتھ مرابحہ اور دیگر مالیاتی معاملات کی شرعی حیثیت کو واضح کیا گیا ہے۔ شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتۃ بیان کرتے ہیں کہ ان بینکوں کے اکثر معاملات بیع قبل القبض اور بیع ما لا یملک (ملکیت میں نہ ہونے والی چیز کی فروخت) پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعی طور پر ناجائز ہیں۔