جواب سوال: ڈرون حملے اور سوڈان میں جنگ کی پیش رفت
یہ جوابِ سوال سوڈان کے شہر پورٹ سوڈان اور دیگر علاقوں میں ہونے والے حالیہ ڈرون حملوں کے پس پردہ محرکات اور فوجی اثرات کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح ان حملوں کا مقصد فوج کو دارفور کی مہم سے ہٹا کر مشرقی سرحدوں کی حفاظت پر لگانا ہے تاکہ ملک کی تقسیم کے امریکی منصوبے کو تقویت مل سکے۔
حزب التحریر کے امیر، جلیل القدر عالم عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کے کلمات اور جوابات میں سے
یہ تحریر حزب التحریر کے امیر، جلیل القدر عالم عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کے اہم کلمات اور پوچھے گئے سوالات کے بصیرت افروز جوابات پر مشتمل ہے۔ ان اقتباسات میں اسلامی فکر اور موجودہ دور کے مسائل کے حوالے سے امت کے لیے گراں قدر رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔
سوال کا جواب: بھارت، پاکستان اور جنگ بندی
امریکی ثالثی میں ہونے والی حالیہ پاک بھارت جنگ بندی دراصل بھارت کو چین کے خلاف مہم جوئی کے لیے فارغ کرنے کی ایک امریکی چال ہے، جس میں دونوں ممالک کے کٹھ پتلی حکمران شریک کار ہیں۔ حزب التحریر واضح کرتی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض سیاسی مفاہمت سے نہیں بلکہ جہاد اور خلافت کے ذریعے ہی حل ہوگا جیسا کہ نبوی بشارتوں میں مذکور ہے۔
جواب سوال: ڈیپ اسٹیٹ (ریاست کے اندر ریاست)
اس تحریر میں "ڈیپ اسٹیٹ" (ریاست کے اندر ریاست) کی اصطلاح کی حقیقت، اس کے مختلف مفاہیم اور عالمی سیاست میں اس کے عملی مظاہر کی تفصیلی وضاحت کی گئی ہے۔ نیز اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ استعماری اثر و رسوخ اور اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد کے تناظر میں اس اصطلاح کا درست اطلاق کیا ہے۔
جواب سوال: امریکی ایرانی مذاکرات
یہ تحریر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ دوبارہ جوہری مذاکرات شروع کرنے کے اسٹریٹجک اسباب اور ان میں حالیہ تاخیر کے پیچھے چھپے عوامل کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ اپنے عالمی مفادات اور چین کے ساتھ مقابلے کی خاطر ایران کو پابند کرنا چاہتا ہے، جبکہ امتِ مسلمہ کے لیے واحد شرعی حل اپنی فوجی قوت کو دشمن کے کنٹرول سے آزاد رکھ کر خلافتِ راشدہ کا قیام ہے۔
سوال کا جواب: ترکی، یہودی وجود اور شام میں فوجی اڈے
اس تحریر میں شام میں ترکی کے فوجی اڈوں کے قیام پر یہودی وجود کے اعتراضات اور اس حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی کوششوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ یہ واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے ترکی اور یہودی وجود کو ایک ساتھ استعمال کر رہا ہے، جبکہ امت کی نجات صرف خلافتِ راشدہ کے دوبارہ قیام میں ہے۔
امیر حزب التحریر، جلیل القدر عالم شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ کا عید الفطر 1446ھ بمطابق 2025ء کے پر مسرت موقع پر اپنے پیج کے وزٹرز کے نام پیغام
امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ کا عید الفطر کے موقع پر امت مسلمہ کے نام خصوصی پیغام، جس میں انہوں نے غزہ کے مظلوموں کی پکار اور مسلم حکمرانوں کی بے حسی کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے مسلم افواج کو دعوت دی ہے کہ وہ ان جابر حکمرانوں کا قلع قمع کر کے خلافتِ راشدہ قائم کریں تاکہ امت کی کھوئی ہوئی عزت بحال ہو سکے۔
امیر حزب التحریر جلیل القدر عالم عطا بن خلیل ابو الرشتہ کی جانب سے رمضان المبارک 1446ھ بمطابق 2025ء کی آمد پر اپنے سوشل میڈیا صفحات کے معزز زائرین کو مبارکباد
امیر حزب التحریر نے امتِ مسلمہ کو رمضان کی مبارکباد دیتے ہوئے اس مہینے کی عظمت، تاریخی فتوحات اور قرآن و جہاد کے گہرے تعلق کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام ایک ناقابلِ تقسیم نظامِ زندگی ہے اور موجودہ عالمی و علاقائی بحرانوں کا واحد حل خلافتِ راشدہ کا قیام اور اللہ کے احکامات کا مکمل نفاذ ہے۔
سوال کا جواب: سوڈان میں جنگی کارروائیوں میں تیزی
سوڈان میں جاری حالیہ جنگی فتوحات اور فوج کی اچانک پیش قدمی درحقیقت ایک گہری بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک کو تقسیم کر کے دارفور کو علیحدہ کرنا اور اسے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی (نارملائزیشن) کے لیے تیار کرنا ہے۔ یہ جنگ محض دو جرنیلوں کی اقتدار کی ہوس نہیں بلکہ امریکی مفادات کی تکمیل کے لیے لڑی جا رہی ہے، جس میں مسلمانوں کا خون بے دردی سے بہایا جا رہا ہے۔
جواب سوال: رمضان کے قضا روزوں کی ادائیگی
رمضان کے قضا شدہ روزوں کی ادائیگی کے حوالے سے اس جواب میں شافعی، حنبلی اور حنفی فقہ کے مختلف نقطہ نظر پیش کیے گئے ہیں۔ اس میں ان لوگوں کے لیے رہنمائی دی گئی ہے جو قضا روزوں کی تعداد بھول چکے ہیں کہ وہ اپنے غالب گمان کے مطابق روزے رکھیں اور اپنے اطمینان کے مطابق کسی بھی معتبر فقہی مسلک پر عمل کریں۔
سوال کا جواب: اہل غزہ کی جبری ہجرت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اہل غزہ کی جبری ہجرت اور غزہ کو خالی کرنے کے بیانات ان کے توسیع پسندانہ عزائم اور یہودی وجود کی مکمل حمایت کا واضح ثبوت ہیں۔ یہ صورتحال عرب حکمرانوں کی بے حسی اور امریکہ کے سامنے ان کی مکمل تابعداری کو بے نقاب کرتی ہے، جبکہ اس کا حقیقی حل صرف خلافت راشدہ کا قیام اور غاصب صیہونی وجود کا خاتمہ ہے۔
جواب سوال: لبنان میں نئی سیاسی تبدیلیاں
یہ تجزیہ لبنان میں طویل صدارتی تعطل کے اچانک خاتمے اور نئی حکومت کی تشکیل کے پیچھے کارفرما بین الاقوامی، بالخصوص امریکی محرکات کو بے نقاب کرتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ خطے میں اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرتے ہوئے ایران کے بجائے اب دیگر مہروں کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کو دوام دے رہا ہے۔