جواب سوال: لبنان میں نئی سیاسی تبدیلیاں
لبنان میں طویل تعطل کے بعد جوزف عون کے بطور صدر اور نواف سلام کے بطور وزیر اعظم اچانک انتخاب نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ تبدیلیاں دراصل امریکہ کی جانب سے لبنان میں اپنے مہروں کی تبدیلی اور خطے میں ایران کے بجائے سعودی عرب کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی نئی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
سوال کا جواب: ای کامرس (E-Commerce)
یہ مضمون ملائیشین کمپنی ڈی ایکس این (*DXN*) کے ساتھ ای کامرس اور نیٹ ورک مارکیٹنگ کے شرعی حکم کی وضاحت کرتا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ براہِ راست تجارت کن شرائط کے ساتھ جائز ہے اور نیٹ ورک مارکیٹنگ کو "ایک سودے میں دو سودے" اور دھوکہ دہی کی بنیاد پر کیوں ناجائز قرار دیا گیا ہے۔
سوال کا جواب | شام کے واقعات اور اسد حکومت کا خاتمہ
شام میں اسد حکومت کا حالیہ خاتمہ محض ایک اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ ترکی اور امریکہ کی جانب سے ایک سیاسی حل کی راہ ہموار کرنے کے لیے دیا گیا ایک منظم فوجی دباؤ تھا، تاہم عوام کی شرکت نے اسے ایک وسیع عوامی انقلاب میں بدل دیا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ شام کے مخلص لوگ استعماری سازشوں کو ناکام بنائیں اور سیکولر نظام کے بجائے خلافت راشدہ کے قیام کے لیے جدوجہد کریں تاکہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہ جائیں۔
سوال و جواب: شام کے حالات اور اسد حکومت کا خاتمہ
شام میں بشار الاسد کے طویل اقتدار کے خاتمے اور اپوزیشن کی برق رفتار پیش قدمی کے سیاسی و عالمی محرکات کا تفصیلی تجزیہ۔ اس تحریر میں واضح کیا گیا ہے کہ حالیہ تبدیلی محض مقامی تحریک نہیں بلکہ امریکہ اور ترکیہ کی سرپرستی میں ایک نئے سیکولر سیاسی حل کی تیاری ہے، جبکہ امت کی حقیقی کامیابی صرف خلافتِ راشدہ کے قیام میں ہے۔
جواب سوال: طلبِ نصرت، نصرت فراہم کرنا اور اللہ کی مدد
یہ تحریر طلبِ نصرت اور نصرت کی فراہمی کے تصورات کی وضاحت کرتی ہے، جو کہ خلافت کے قیام کا شرعی طریقہ ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ مکمل نصرت اور فتح اللہ کے دین کے عملی نفاذ اور غلبے میں پوشیدہ ہے، جس کی بشارت قرآن و حدیث میں دی گئی ہے۔
سوال کا جواب: انڈونیشیا میں سیاسی پیش رفت
یہ تحریر انڈونیشیا کے نو منتخب صدر پرابوو سوبیانتو کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ملک کی سیاسی سمت، امریکہ اور چین کے ساتھ ان کے تعلقات اور مسئلہ فلسطین پر ان کی پالیسی کا تفصیلی جائزہ لیتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ انڈونیشیا کی قیادت بدستور امریکی اثر و رسوخ کے تابع ہے اور امتِ مسلمہ کے مسائل کا حل صرف خلافتِ راشدہ کے قیام میں ہے۔
جواب سوال: انٹرنیٹ کے ذریعے مالیاتی اور تجارتی لین دین کا حکم
یہ تحریر انٹرنیٹ پر سونا، چاندی، کرنسی اور تیل کی تجارت کے شرعی احکام کی وضاحت کرتی ہے، جس میں قبضے (حیازت) اور نقد لین دین کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں کے حصص، بانڈز اور مختلف پیمانوں سے فروخت ہونے والی اشیاء کے متعلق حزب التحریر کے فقہی موقف کو مدلل انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
جواب سؤال: یہودی وجود کے خاتمے کے لیے دعا
اس جواب میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ بندے کی دعا کو تین طریقوں سے قبول فرماتا ہے، لیکن فتح و نصرت کے حصول کے لیے صرف دعا کافی نہیں بلکہ مادی اسباب اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ یہودی وجود کا خاتمہ محض دعاؤں سے نہیں، بلکہ ایک ریاست کی منظم فوج کی عسکری جدوجہد اور اللہ پر کامل توکل کے امتزاج سے ہی ممکن ہو گا۔
سوال کا جواب: یہودی وجود کے خاتمے کے لیے دعا
اس تحریر میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ مومن کی مخلصانہ دعا کو رد نہیں کرتا، بلکہ اسے تین مختلف طریقوں سے قبول فرماتا ہے۔ تاہم، نصرت کے حصول اور یہودی وجود جیسے بڑے مسائل کے حل کے لیے صرف دعا پر اکتفا کرنا کافی نہیں، بلکہ دعا کے ساتھ ساتھ مادی اسباب اختیار کرنا اور عملی جدوجہد کرنا شرعی طریقہ کار کا لازمی حصہ ہے۔
جواب سوال: پاکستان، افغانستان اور ایران کے درمیان واقع بلوچستان کا خطہ
یہ تحریر بلوچستان میں جاری بدامنی، علیحدگی پسند تحریکوں کی حالیہ لہر اور ان کے پیچھے کارفرما عالمی و علاقائی محرکات کا گہرا تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ اور بھارت اپنے سیاسی و معاشی مفادات کے حصول کے لیے اس خطے کو استعمال کر رہے ہیں، اور اس کا واحد حل اسلامی نظامِ حکمرانی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم میں پوشیدہ ہے۔
سوال کا جواب: غزہ میں نسل کشی کی جنگ کے مذاکرات سے کیا توقعات ہیں؟
غزہ میں جاری نسل کشی کی جنگ اور اس کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات محض ایک سراب ہیں جن کا مقصد مسلم حکمرانوں کو خاموش رکھنا اور یہودی وجود کو اپنا جارحانہ ایجنڈا مکمل کرنے کا موقع دینا ہے۔ امریکہ کا "دو ریاستی حل" ایک دھوکہ ہے کیونکہ فلسطین ایک مقدس اسلامی سرزمین ہے جسے صرف جہاد اور خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے ہی مکمل طور پر آزاد کرایا جا سکتا ہے۔
سوال کا جواب: پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں
یہ تحریر پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی کے پیچھے کارفرما امریکی مفادات اور "ڈیورنڈ لائن" کی تاریخی حیثیت کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح آئی ایم ایف کے قرضے اور فوجی اشتعال انگیزیاں خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے اور چین کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔