دوسرا اعلان: امیر حزب التحریر، جلیل القدر عالم شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کے خطاب کا انتظار فرمائیں
حزب التحریر کے امیر، جلیل القدر عالم شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتہ حفظہ اللہ، ریاستِ خلافت کے انہدام کی 99 ویں برسی کے موقع پر ایک خصوصی پیغام دیں گے۔ الواقیہ ٹیلی ویژن پر اس خطاب کی براہِ راست نشریات اتوار اور پیر کی درمیانی شب 28 رجب کو پیش کی جائیں گی۔
پہلا اعلان: امیرِ حزب التحریر، جلیل القدر عالم عطا بن خلیل ابو الرشتہ کے خطاب کا انتظار فرمائیں
خلافت کی مسماری کے 99 سال مکمل ہونے کے موقع پر امیرِ حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ امتِ مسلمہ سے خصوصی خطاب کریں گے۔ اس اہم پیغام کو الواقیہ ٹی وی پر 28 رجب 1441ھ کو براہِ راست نشر کیا جائے گا۔
جواب سوال: راجح اور مرجوح کے درمیان شرعی قواعد
اس جواب میں شرعی قواعد 'اشیاء میں اصل اباحت ہے' اور 'افعال میں اصل حکمِ شرعی کی پابندی ہے' کی مدلل وضاحت کی گئی ہے۔ امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ نے واضح کیا ہے کہ 'معاملات میں اصل حلّت ہے' کا قاعدہ ایک مرجوح قول ہے، جبکہ درست منہج تمام انسانی افعال کو شرعی دلیل کے تابع کرنا ہے۔
مبیع (فروخت شدہ چیز) کو اس کی قیمت کے بدلے رہن رکھنا
اس تحریر میں گاڑی یا مکان جیسی اشیاء کو ادھار یا قسطوں پر خریدنے کے بعد، قیمت کی مکمل ادائیگی تک انہیں بطور رہن (گروی) رکھنے کے شرعی حکم کی وضاحت کی گئی ہے۔ امیر حزب التحریر شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتہ فقہی دلائل کی بنیاد پر بتاتے ہیں کہ بیع مکمل ہونے کے بعد مبیع پر خریدار کی ملکیت ثابت ہو جاتی ہے، لہذا اسے اسی کی قیمت کے عوض رہن رکھنا جائز نہیں۔
سوال کا جواب: بیٹی کی مرضی کے بغیر باپ کے نکاح کر دینے کا حکم
یہ تحریر اس شرعی حکم کی وضاحت کرتی ہے کہ لڑکی کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح کرنا جائز نہیں ہے اور نکاح کے درست ہونے کے لیے لڑکی کی رضامندی شرط ہے۔ اگر کوئی نکاح لڑکی کی مرضی کے خلاف زبردستی کیا گیا ہو، تو اسے فسخ کرنے کا اختیار لڑکی کے پاس ہوتا ہے۔
جواب سوال: آخرت کے شہداء کون ہیں؟ اور شہید کا قرض کون ادا کرے گا؟
اس تحریر میں ان لوگوں کی وضاحت کی گئی ہے جو آخرت کے شہداء کے زمرے میں آتے ہیں اور "فی سبیل اللہ" کی شرط کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مزید برآں، یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شہید مقروض ہو تو اس کے قرض کی ادائیگی کی ذمہ داری اس کے ورثاء اور اسلامی ریاست پر کس طرح عائد ہوتی ہے۔
سوال کا جواب: امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی معاہدہ
یہ تجزیہ امریکہ اور چین کے درمیان ہونے والے حالیہ تجارتی معاہدے کی حقیقت اور اس کے پس پردہ چھپے اصل محرکات کو بے نقاب کرتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ رسہ کشی محض تجارتی توازن کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی بالادستی اور جدید ترین ٹیکنالوجی پر قبضے کی ایک گہری جنگ ہے۔
سوال کا جواب: لیبیا میں حالیہ پیش رفت
یہ تجزیہ لیبیا میں امریکی اور یورپی اثر و رسوخ کے درمیان جاری بین الاقوامی کشمکش کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ اس میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ نے روس اور ترکی جیسے مہروں کو استعمال کر کے یورپی ایجنٹوں کو کمزور کیا تاکہ لیبیا میں اپنے ایجنٹ حفتر کا پلڑا بھاری کر سکے۔
امیر حزب التحریر، جلیل القدر عالم عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کا 857ھ - 1453ء میں قسطنطنیہ کی فتح کی یاد میں پیغام
یہ پیغام قسطنطنیہ کی تاریخی فتح کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کی بشارتوں کے پورا ہونے اور امتِ مسلمہ کی عظمتِ رفتہ کی بحالی پر زور دیتا ہے۔ امیرِ حزب التحریر اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ جس طرح پہلی بشارت پوری ہوئی، اسی طرح خلافتِ راشدہ کا قیام، روم کی فتح اور ارضِ مقدسہ کی آزادی کی بقیہ بشارتیں بھی اللہ کے حکم سے ضرور پوری ہوں گی۔
جواب سوال: انبیاء اور صحابہ کرام کے کردار ادا کرنے اور ان پر مبنی فلمیں دیکھنے کا شرعی حکم
اس تحریر میں انبیاء اور صحابہ کرام کی زندگی پر مبنی فلموں اور ڈراموں کی شرعی حیثیت واضح کی گئی ہے۔ امیرِ حزب التحریر عطا بن خلیل ابو الرشتہ نے جھوٹ، اختلاط اور بے پردگی جیسے عوامل کی بنیاد پر اداکاری کو ناجائز قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انبیاء کی تصویر کشی ایک عظیم گناہ ہے۔
خراجی زمین میں وقف کے حکم سے متعلق سوال کا جواب
اس تحریر میں خراجی زمینوں میں وقف کے شرعی حکم کی وضاحت کی گئی ہے اور دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ وقف کی درستی کے لیے وقف کرنے والے کا زمین کی 'رقبہ' (اصل عین) کا مالک ہونا ضروری ہے۔ نیز، عشری اور خراجی زمینوں کے درمیان پائے جانے والے فقہی فرق اور ان پر عائد ہونے والے واجبات (عشر اور خراج) کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
سوال کا جواب: ظلم کو روکنے کے لیے دارالکفر کی عدالتوں سے رجوع کرنا
اس تحریر میں دارالکفر میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے ان حالات میں عدالتوں سے رجوع کرنے کے شرعی حکم کی وضاحت کی گئی ہے جب وہاں شرعی عدالتیں موجود نہ ہوں۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ اپنے شرعی حقوق کے حصول اور ظلم کے خاتمے کے لیے ایسی عدالتوں کا سہارا لینا جائز ہے، بشرطیکہ وہ حق شریعت کی رو سے ثابت ہو۔