سوال کا جواب: نیتن یاہو کے لندن کے عجیب اور ہنگامی دورے کے پس پردہ کیا ہے؟
یہ تحریر نیتن یاہو کے لندن اور ماسکو کے اچانک دوروں کے اصل محرکات کا پردہ چاک کرتی ہے، جو محض انتخابی فوائد تک محدود نہیں بلکہ ایران کے خلاف فوجی تصادم اور بین الاقوامی سیاست کی بساط پر برطانیہ اور امریکہ کی کشمکش سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح برطانیہ کی سازشوں اور امریکہ کی مفاد پرستانہ پالیسیوں کے درمیان مسلم ممالک کے رُویبضہ حکمران محض خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
جواب سوال: اسلام میں زانی محصن (شادی شدہ زانی) کی سزا
اس تحریر میں اسلام میں شادی شدہ زانی (زانی محصن) کی سزا، یعنی سنگساری (رجم) کے شرعی حکم کی تفصیلی وضاحت کی گئی ہے۔ اس میں مدلل انداز میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ یہ سزا قرآن و سنت کی روشنی میں "حدود" کا حصہ ہے اور اسے عصرِ حاضر کے مغربی افکار کے زیرِ اثر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
سوال کا جواب: مشرقی بحیرہ روم میں گیس کا بحران
مشرقی بحیرہ روم میں گیس کے وسیع ذخائر کی دریافت نے عالمی اور علاقائی طاقتوں کے درمیان ایک شدید جیو پولیٹیکل کشمکش کو جنم دیا ہے۔ اس تنازع میں نہ صرف ساحلی ممالک بلکہ امریکہ اور روس جیسی عالمی قوتیں بھی اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کے حصول اور توانائی کی منڈی پر کنٹرول کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
سوال کا جواب: ماہرینِ لغت کے نزدیک لفظ "امت" کی تحقیق
اس تحریر میں لفظ 'امت' اور 'جماعت' کی لغوی و نحوی حیثیت پر تفصیلی بحث کی گئی ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ انہیں 'اسمِ جنس' کیوں قرار دیا گیا ہے۔ اس علمی تحقیق کے ذریعے سورہ آلِ عمران کی آیت 104 کی روشنی میں ایک سے زائد سیاسی جماعتوں کے قیام کے جواز کو قرآن و لغت کے اصولوں سے ثابت کیا گیا ہے۔
سوال کا جواب: بین الاقوامی سیاست میں "حیاتیاتی دائرہ" (Vital Space)
اس تحریر میں بین الاقوامی سیاست کے اہم تصور "حیاتیاتی دائرہ کار" (Vital Space) اور ریاستِ خلافت کی خارجہ پالیسی میں اس کی اہمیت کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح خلافت دعوت و جہاد کے مفادات اور سیاسی و عسکری حقائق کی بنیاد پر اپنی ترجیحات کا تعین کرے گی، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین نے اپنی ریاست میں کیا۔
سوال کا جواب: بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟
یہ تحریر بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے پسِ پردہ امریکی سازشوں اور علاقائی حکمت عملی کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستانی حکمرانوں کا بزدلانہ رویہ اور امریکی وفاداری کشمیر کی آزادی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جس کا واحد حل جہاد اور خلافت کا قیام ہے۔
سوال کا جواب: عدن میں جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے اس کی حقیقت!
یہ تحریر یمن کے شہر عدن میں ہونے والی حالیہ پیش رفت اور جنوبی عبوری کونسل اور ہادی حکومت کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے پیچھے چھپے سیاسی محرکات کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح برطانیہ اور امریکہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے یمن میں اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں اور کس طرح مسلم ممالک کے حکمران استعماری طاقتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔
امیر حزب التحریر جلیل القدر عالم عطا بن خلیل ابو الرشتہ کی جانب سے عید الاضحی 1440ھ کے مبارک موقع پر تہنیتی پیغام
امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ کی جانب سے عید الاضحی کے موقع پر امتِ مسلمہ، حجاجِ کرام اور حاملینِ دعوت کے نام ایک خصوصی پیغام۔ اس خطاب میں انہوں نے خلافت کی بحالی کی راہ میں حائل مشکلات، استعماری طاقتوں کی سازشوں اور اللہ کے وعدوں پر کامل یقین کا اظہار کیا ہے۔
سوال کا جواب: عالمی تیل کی منڈیاں
اس تحریر میں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور امریکی شیل آئل کی پیداواری لاگت کے درمیان تعلق کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس میں سعودی عرب اور روس کے درمیان تیل کی پیداوار میں کمی کے معاہدوں اور اس حوالے سے امریکی صدر کے بیانات کے پیچھے چھپی اصل سیاست کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
سوال کا جواب: ذوالحجہ کے پہلے دس ایام کے روزے
اس تحریر میں ذوالحجہ کے پہلے دس ایام، بالخصوص یومِ عرفہ کے روزوں کی شرعی حیثیت واضح کی گئی ہے۔ احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ ان ایام میں روزہ رکھنا مستحب ہے اور اس کا عظیم اجر ہے، جبکہ بظاہر نظر آنے والے تعارض کو اصولِ فقہ کی روشنی میں حل کیا گیا ہے۔
جواب سوال: حزب میں متبنیات اور خواتین سے متعلق بعض احکام
یہ تحریر حزب التحریر میں متبنیات (اختیار کردہ آراء) کے اصولوں کی وضاحت کرتی ہے کہ کن مسائل میں ارکان پر پارٹی کی رائے کی پابندی شرعی و انتظامی طور پر لازم ہے اور کن میں نہیں۔ اس میں خواتین کے محارم کے سامنے ستر اور حالتِ حیض میں قرآن کی تلاوت سے متعلق فقہی آراء کی مثالوں کے ذریعے اس فرق کو واضح کیا گیا ہے۔
سوال کا جواب: "اوپیک پلس" چارٹر
یہ تحریر "اوپیک پلس" اتحاد کے پس پردہ محرکات اور اس میں سعودی عرب کے کردار کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ سعودی عرب کے ذریعے روس کو اس اتحاد میں شامل کر کے اپنے عالمی سٹریٹجک مفادات، خصوصاً شیل آئل کی قیمتوں کے استحکام اور روس کو چین کے خلاف استعمال کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔