سوال کا جواب: آجر کی جانب سے ملازم کی تنخواہ سے کچھ حصہ کاٹنے اور اس میں اپنی طرف سے رقم شامل کرنے کی شرعی حیثیت
یہ تحریر مغربی ممالک میں رائج پنشن اسکیموں کی شرعی حیثیت کی وضاحت کرتی ہے، جہاں آجر ملازم کی تنخواہ سے کٹوتی کر کے اپنی طرف سے بھی رقم شامل کرتا ہے۔ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر یہ کٹوتی ملازمت کے معاہدے کا حصہ ہو یا حکومتی قانون کے تحت لازمی ہو، تو ایسی پنشن کا حصول شرعاً جائز ہے۔
سوال کا جواب: رسول اللہ ﷺ کی وہ احادیث جو ایک بیع میں دو بیع اور ایک سودے میں دو سودوں سے منع کرتی ہیں
اس فتویٰ میں ایک عقد (معاہدے) کو دوسرے عقد کے ساتھ مشروط کرنے کی شرعی حیثیت کو واضح کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی احادیث کی روشنی میں یہ بتایا گیا ہے کہ زمین کے اجارے کو پتھروں کی فیصدی فروخت کے ساتھ مشروط کرنا "ایک بیع میں دو بیع" کے زمرے میں آتا ہے جو کہ شرعاً نا جائز ہے۔
جواب سوال: کیا سود صرف چھ اجناس (اشیاء) میں ہی ہوتا ہے؟
اس جواب میں واضح کیا گیا ہے کہ خرید و فروخت اور بیعِ سلم میں سود صرف چھ مخصوص اشیاء تک محدود ہے، جبکہ قرض کے معاملے میں ہر وہ اضافہ جو مشروط ہو، سود کہلاتا ہے چاہے وہ کسی بھی شے میں ہو۔ نیز، جدید کاغذی کرنسی پر بھی سود اور زکوٰۃ کے احکامات لاگو ہوتے ہیں کیونکہ اس میں 'زر' (نقدیت) کی علت پائی جاتی ہے۔
جوابِ سوال: ناسخ اور منسوخ
اس تحریر میں ناسخ اور منسوخ کے شرعی تصور کی وضاحت کی گئی ہے اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مکہ میں قتال سے رکنے کا حکم مدینہ میں جہاد کی فرضیت سے منسوخ نہیں ہوا، بلکہ یہ دونوں مختلف حالات کے احکامات ہیں۔ امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ واضح کرتے ہیں کہ خلافت کے قیام کا طریقہ کار رسول اللہ ﷺ کی مکی زندگی سے ماخوذ ہے، جبکہ جہاد ایک مستقل فریضہ ہے جو قیامت تک جاری رہے گا۔
جواب سوال: کیا عالمی معیشت پر ڈالر کے غلبے کے خاتمے کی "الٹی گنتی" شروع ہو چکی ہے؟
عالمی معیشت پر ڈالر کی اجارہ داری کو ختم کرنے کے لیے روس، چین اور یورپی یونین کی حالیہ کوششوں کا تجزیاتی جائزہ۔ اس تحریر میں ڈالر کے تاریخی غلبے، موجودہ مالیاتی نظام کی کمزوریوں اور اسلام کے سونے چاندی پر مبنی مستحکم مالیاتی نظام کی ناگزیر ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
سوال کا جواب: قبروں کی حرمت ہے، لہٰذا انہیں اکھاڑنا یا ان پر بیٹھنا جائز نہیں
اس تحریر میں قبروں کی شرعی حرمت اور ان کے احترام کے متعلق احکامات بیان کیے گئے ہیں، جس میں قبروں کو اکھاڑنے یا ان پر بیٹھنے کی ممانعت واضح کی گئی ہے۔ خاص طور پر قبرستان کی زمین پر شمسی توانائی کے منصوبے لگانے کے حوالے سے یہ شرعی رہنمائی فراہم کی گئی ہے کہ مردوں کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایسے منصوبوں کے لیے متبادل جگہ تلاش کی جانی چاہیے۔
سوال کا جواب: امریکی بجٹ کا خسارہ
اس تحریر میں امریکی بجٹ کے خسارے اور ڈالر کی عالمی حیثیت پر بحث کی گئی ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ اپنی مرضی سے ڈالر کیوں نہیں چھاپ سکتا۔ نیز، اس میں بین الاقوامی قرضوں اور افراط زر کے معاشی اثرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
سوالات کے جوابات: عورت کے سفر سے متعلق تفصیلی احکام
اس تحریر میں عورت کے بغیر محرم سفر سے متعلق شرعی احکام کی تفصیل بیان کی گئی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ سفر کی ممانعت کا تعلق وقت (ایک دن اور ایک رات) سے ہے نہ کہ فاصلے سے۔ نیز منزلِ مقصود پر پہنچنے کے بعد قیام کے دوران محرم کی ضرورت اور حج کے سفر کے مخصوص احکام پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
جواب سوال: عام ذمہ داری (تکلیف عام) اور خاص ذمہ داری (تکلیف خاص)
اس جواب میں عام اور خاص ذمہ داریوں (تکلیف عام و خاص) کے درمیان فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ عام تنظیمی امور تمام ارکان پر لازم ہیں، جبکہ پرخطر اور غیر معمولی نوعیت کی حامل خاص مہمات کے لیے فرد کی رضامندی ضروری ہے اور ان پر کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
سوال کا جواب: تیل کی پیداوار بڑھانے اور قیمتیں کم کرنے کے لیے اوپیک خصوصاً سعودی عرب پر ٹرمپ کا اصرار
یہ تحریر اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کیوں سعودی عرب اور اوپیک پر تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جبکہ امریکہ خود ایک بڑا پیدا کار ملک ہے۔ اس میں ایران پر پابندیوں اور امریکی وسط مدتی انتخابات کے تناظر میں تیل کی قیمتوں کے سیاسی استعمال اور مسلم حکمرانوں کی غلامانہ ذہنیت کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
جواب سوال - اوپیک اور بالخصوص سعودی عرب پر پیداوار بڑھانے اور تیل کی قیمتیں کم کرنے کے لیے ٹرمپ کا اصرار
یہ تحریر تیل کی قیمتوں میں کمی کے لیے اوپیک اور بالخصوص سعودی عرب پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور دھمکیوں کے پس پردہ محرکات کا جائزہ لیتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ اپنے داخلی انتخابات اور ایران پر پابندیوں کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے مسلم ممالک کے حکمرانوں کو آلہ کار بنا رہا ہے۔
جوابِ سوال: نکاح کے عقد میں ایجاب و قبول میں سے ایک ماضی کے لفظ کے ساتھ اور دوسرا مستقبل کے لفظ کے ساتھ ہونا جائز ہے
اس تحریر میں نکاح کے ایجاب و قبول کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ کی صرفی و نحوی حیثیت اور ان کے شرعی اثرات پر بحث کی گئی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ نکاح کے عقد میں ثبوت اور لزوم کے لیے ماضی کا صیغہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور کن مخصوص شرائط کے ساتھ مستقبل کا صیغہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔