سوال کا جواب: اسمارہ میں اریٹیریا اور ایتھوپیا کے درمیان مصالحتی معاہدہ
یہ تحریر 2018 میں اریٹیریا اور ایتھوپیا کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے پیچھے کارفرما حقیقی عوامل اور امریکی اثر و رسوخ کا پردہ چاک کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ افریقہ میں چین اور یورپ کے بڑھتے ہوئے سیاسی و اقتصادی قدموں کو روکنے کے لیے اپنے ایجنٹ حکمرانوں کو استعمال کر رہا ہے۔
سوال کا جواب: اس مسجد میں نماز پڑھنے کا حکم جس کی تعمیر میں کفار نے حصہ لیا ہو
اس تحریر میں ان مساجد میں نماز پڑھنے کے شرعی حکم کی وضاحت کی گئی ہے جن کی تعمیر میں غیر مسلموں نے مالی تعاون کیا ہو۔ شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ بتاتے ہیں کہ اگرچہ مساجد کی تعمیر کے لیے کفار سے عطیات لینا شرعی طور پر پسندیدہ نہیں ہے، لیکن ایسی مساجد میں نماز پڑھنا مکمل طور پر جائز اور درست ہے۔
جواب سوال: مویشیوں کی زکات
اس جواب میں وضاحت کی گئی ہے کہ زکات صرف ان مویشیوں (اونٹ، گائے، بکری) پر واجب ہے جو سال کا اکثر حصہ چراگاہوں میں چرتے ہیں۔ جہاں تک پرندوں اور دیگر جانوروں کا تعلق ہے، ان پر بذاتِ خود زکات نہیں ہے الا یہ کہ وہ تجارت کی غرض سے ہوں، ایسی صورت میں ان پر "عروضِ تجارت" (تجارتی مال) کے طور پر زکات لاگو ہوگی۔
سوال کا جواب: معرکہ ادلب کے بارے میں بین الاقوامی اور علاقائی موقف کی حقیقت
یہ سیاسی تجزیہ معرکہ ادلب کے پس منظر میں روس، امریکہ، ترکی اور ایران کے متضاد مفادات اور سازشوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح عالمی طاقتیں شام کے مخلص انقلابیوں کو کچلنے اور اپنے سیاسی حل کو مسلط کرنے کے لیے ادلب کے معاملے کو ایک مہرے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔
سوال کا جواب: عوامی زندگی میں اسلام نے عورت پر جو شرعی لباس واجب کیا ہے
یہ تحریر عوامی زندگی میں خواتین کے لیے واجب کردہ شرعی لباس، خاص طور پر جلباب کی حقیقت کی وضاحت کرتی ہے۔ قرآن و سنت کے دلائل کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ جلباب ایک ہی ٹکڑے پر مشتمل ایسا وسیع لباس ہے جو عام کپڑوں کے اوپر پہنا جاتا ہے اور قدموں تک لٹکا ہوا ہوتا ہے۔
سوال کا جواب: جلباب، اسے لٹکانا اور یہ کہ یہ کس طرح آزاد عورت اور لونڈی کے درمیان فرق کرتا ہے!
یہ تحریر جلباب کے شرعی حکم، اس کے نیچے تک لٹکانے کی کیفیت اور اس کے ذریعے آزاد عورت اور لونڈی کے درمیان تمیز کے حوالے سے ایک تفصیلی وضاحت فراہم کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ جلباب کا لٹکانا کس طرح مومن خواتین کی پہچان اور منافقین کی اذیت رسانی سے ان کی حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے۔
سوال کا جواب: کیا رسول اللہ ﷺ نے قرآن کی تفسیر کی اور اس کے معانی بیان فرمائے؟
اس تحریر میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن کریم کے معانی اور احکام کو کس طرح بیان فرمایا۔ اس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ سنتِ نبوی نے قرآن کے مجمل احکامات کی تفصیل، عام کی تخصیص اور مطلق کی تقیید کے ذریعے قرآن کی تبیین کا فریضہ انجام دیا ہے۔
سوال کا جواب: مصعب بن عمیرؓ اور طلبِ نصرت
یہ تحریر اس اہم تاریخی اور شرعی نکتے کی وضاحت کرتی ہے کہ حضرت مصعب بن عمیرؓ نے مدینہ منورہ میں صرف انفرادی دعوت ہی نہیں دی، بلکہ اہل قوت و منعت سے ریاست کے قیام کے لیے نصرت بھی طلب کی تھی۔ اس میں کتاب "الدولہ الاسلامیہ" کے حوالوں سے واضح کیا گیا ہے کہ آپؓ کی یہی کوششیں بیعتِ عقبہ ثانیہ اور ہجرتِ نبویؐ کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔
جواب سوال: ترکی لیرہ کی قدر میں گراوٹ
اس جواب میں ترکی لیرہ کی قدر میں ہونے والی حالیہ کمی کے حقیقی سیاسی اور اقتصادی اسباب کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ نے پادری برونسن کے معاملے کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے یورپی معیشت اور یورو کو نقصان پہنچانے کے لیے ترکی پر دباؤ ڈالا۔
جلیل القدر عالم عطا بن خلیل ابو الرشتہ کا پیغام، عید الاضحیٰ مبارک 1439ھ بمطابق 2018ء کے پرمسرت موقع پر
یہ پیغام خلافت کی غیر موجودگی میں مسلم امت کو درپیش عالمی مصائب کا نقشہ کھینچتا ہے اور اللہ کے وعدے اور رسول اللہ ﷺ کی بشارتوں کے ذریعے خلافت کے دوبارہ قیام کی امید دلاتا ہے۔ اس میں حزب التحریر کے ارکان اور پوری امت کو ثابت قدمی اور اخلاص کے ساتھ جدوجہد جاری رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
عید الاضحیٰ 1439ھ بمطابق 2018ء کی آمد پر امیر حزب التحریر جلیل القدر عالم عطا بن خلیل ابو الرشتہ کی مبارکباد
امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ کی جانب سے امتِ مسلمہ اور حاملینِ دعوت کو عید الاضحیٰ کی مبارکباد پیش کی گئی ہے۔ اس پیغام میں امت کی موجودہ المناک صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے اللہ کی نصرت، خلافتِ راشدہ کی واپسی اور مستقبل کی فتوحات کی بشارتوں پر پختہ یقین کا اظہار کیا گیا ہے۔
سوال کا جواب: کیا علیت (Causality) کی دو قسمیں ہیں: قیاسی اور غیر قیاسی؟
اس جواب میں علت کی دو اہم شرائط 'متعدیہ' اور 'مطردہ' کے درمیان فرق کو واضح کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ہر وہ حکم جس کی وجہ نص میں بیان ہو، وہ قیاس کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔ شیخ نے واضح کیا ہے کہ 'سبب' اور 'علتِ قاصرہ' پر قیاس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ مخصوص نص تک محدود رہتے ہیں۔