جوابِ سوال: عوض کے بدلے قرض کی ضمانت
اس فتویٰ میں اس صورت کی وضاحت کی گئی ہے جس میں کوئی شخص کسی دوسرے کا قرض ادا کرنے کی ضمانت دیتا ہے اور اس کے بدلے معاوضہ طلب کرتا ہے۔ شرعی طور پر ضمان (ضمانت) ایک ایسا عقد ہے جس میں کسی عوض یا معاوضے کی شرط رکھنا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ بغیر کسی مالی فائدے کے محض تعاون پر مبنی ہوتا ہے۔
سوال و جواب: کردستان اور ایران میں سیاسی پیش رفت
یہ تحریر کردستان اور ایران میں ہونے والے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے اسباب اور ان کے پیچھے کارفرما سیاسی محرکات کا تفصیلی تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ احتجاجات محض معاشی بنیادوں پر شروع ہوئے تھے جنہیں بعد ازاں امریکہ اور اس کے مقامی ایجنٹوں نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔
سوال کا جواب: امت کے فرقوں سے متعلق احادیث
اس علمی جواب میں امت کے تہتر فرقوں میں تقسیم ہونے سے متعلق احادیث کی اسنادی حیثیت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتہ ان روایات کی وضاحت کرتے ہیں جن میں "ایک کے سوا سب جہنم میں" یا "ایک کے سوا سب جنت میں" ہونے کے الفاظ منسوب ہیں اور ان میں سے صحیح اور ضعیف روایات کی تمیز کرتے ہیں۔
امیرِ حزب التحریر کا دعوت کے مخلصین کے نام پیغام
یہ پیغام امیرِ حزب التحریر کی جانب سے ان مخلصین کے نام ہے جو انٹرنیٹ پر دعوت کے خلاف پھیلائی جانے والی گمراہ کن تحریروں سے پریشان ہیں۔ امیر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسی منفی سرگرمیوں سے متاثر ہونے کے بجائے اپنی تمام تر توجہ خلافت راشدہ کے قیام کی منزل پر مرکوز رکھیں اور ان فتنوں کو نظر انداز کر دیں۔
جنیاتی تجزیے (DNA) کی بنیاد پر بچے کے نسب کی نفی یا اثبات کا شرعی حکم
یہ جواب اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ آیا ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کو کسی بچے کے نسب کی نفی یا اثبات کے لیے شرعی دلیل بنایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ شرعی نصوص کی روشنی میں، نسب کے معاملات کے لیے مخصوص احکامات (الولد للفراش اور لعان) موجود ہیں، لہٰذا ڈی این اے کو ان معاملات میں قطعی دلیل نہیں مانا جا سکتا۔
جوابِ سوال: بٹ کوائن (Bitcoin) کا شرعی حکم
اس فتویٰ میں بٹ کوائن جیسی کرپٹو کرنسیوں کی شرعی حیثیت کو واضح کیا گیا ہے۔ امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ کے مطابق بٹ کوائن شرعی لحاظ سے "نقد" (کرنسی) نہیں ہے بلکہ ایک نامعلوم مصدر رکھنے والی شے ہے جس میں دھوکہ اور غرر پایا جاتا ہے، لہٰذا اس کی خرید و فروخت شرعاً جائز نہیں ہے۔
سوالات کے جوابات: شام میں روس اور امریکہ کی نقل و حرکت، حریری سعودی حکمرانوں کے تابع ہے
یہ تحریر شام میں روس اور امریکہ کے گٹھ جوڑ اور روس کی سیاسی نادانی کا پردہ چاک کرتی ہے جو امریکی مفادات کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لبنان کے سیاسی بحران اور سعد حریری کے فیصلوں میں سعودی عرب کے اثر و رسوخ اور ایران کے علاقائی کردار پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔
سوال کا جواب: سعودی عرب میں کیا ہو رہا ہے؟ اور اس میں امریکہ کہاں کھڑا ہے؟
سعودی عرب میں بدعنوانی کے خلاف حالیہ مہم دراصل برطانوی اثر و رسوخ کے خاتمے اور محمد بن سلمان کی اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے ایک سیاسی صفایا ہے۔ امریکہ اس مہم کی مکمل پشت پناہی کر رہا ہے تاکہ خطے میں اپنے تمام مخالفین کا قلع قمع کر کے اپنے مفادات کو مکمل تحفظ دے سکے۔
سوال کا جواب: لیبیا کی صورتحال میں نئی سیاسی پیش رفت
لیبیا میں جاری سیاسی اور فوجی کشمکش دراصل امریکہ اور یورپ کے درمیان بین الاقوامی رسہ کشی کا نتیجہ ہے، جہاں امریکہ اپنے ایجنٹ حفتر کے ذریعے فوجی غلبہ حاصل کر کے نیا سیاسی طبقہ بنانا چاہتا ہے۔ دوسری طرف، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک اپنے وفادار پرانے سیاسی طبقے کے ذریعے جلد از جلد سیاسی حل کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان کا اثر و رسوخ برقرار رہے۔
سوال کا جواب: کاتالونیا کے خطے میں سیاسی اثرات و نتائج!
یہ تحریر اسپین کے کاتالونیا خطے میں علیحدگی کی تحریک، ریفرنڈم کے نتائج اور اس پر عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ اور یورپی یونین کے متضاد موقف کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح سرمایہ دارانہ نظام قوم پرستی کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے اور صرف اسلامی نظامِ خلافت ہی تمام نسلوں اور گروہوں کو حقیقی عدل و مساوات فراہم کر سکتا ہے۔
سوال کا جواب: کردستان ریجن کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟
یہ مضمون کردستان ریجن میں علیحدگی کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کے پیچھے چھپی عالمی سازشوں، بالخصوص برطانیہ کے کردار کا پردہ چاک کرتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح استعماری طاقتیں اپنے مفادات کے لیے مسلمانوں میں قوم پرستی کے بیج بو کر انہیں تقسیم کرتی ہیں، جبکہ امت کی نجات صرف خلافت اور اسلامی وحدت میں ہے۔
حزب تحریر کے امیر کا ماہِ ذوالحجہ 1438ھ کے آغاز پر پیغام
امیرِ حزب تحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ کا ذوالحجہ کے مبارک عشرے کی فضیلت اور غلبہ اسلام کی جدوجہد پر مبنی خصوصی پیغام۔ اس خطاب میں انہوں نے دعوت کی راہ میں آنے والی مشکلات کو فرج (کامیابی) کی علامت قرار دیتے ہوئے خلافتِ راشدہ، فلسطین کی آزادی اور روم کی فتح کی خوشخبریوں پر پختہ یقین کا اظہار کیا ہے۔