سیاسی سوالات کے جوابات: تیل کی قیمتیں، ایردوآن کا دورہ برطانیہ، ملائیشیا کے انتخابات، اور آرمینیا
اس تحریر میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اسباب، ایردوآن کے دورہ برطانیہ کے پس پردہ محرکات، ملائیشیا کے انتخابات اور آرمینیا میں سیاسی تبدیلیوں کا گہرا سیاسی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ تجزیہ ان واقعات کے پیچھے کارفرما بین الاقوامی مفادات، نوآبادیاتی اثر و رسوخ اور مختلف ممالک کی اندرونی و بیرونی سیاست کے باہمی تعلق کو واضح کرتا ہے۔
سوال کا جواب: شرکت مضاربہ کی صحت کی شرائط
یہ تحریر شرکت مضاربہ کے شرعی احکامات کی وضاحت کرتی ہے، خاص طور پر جہاں ایک ہی کاروبار میں کئی سرمایہ کار شامل ہوں۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ شرکت کی صحت کے لیے کل سرمائے کی مقدار اور نفع میں ہر شریک کے حصے کا تمام شرکاء کے درمیان واضح طور پر معلوم اور طے شدہ ہونا شرعی طور پر لازمی ہے۔
امیر حزب التحریر کی جانب سے ماہِ رمضان المبارک 1439ھ بمطابق 2018ء کے موقع پر مبارکباد
امیر حزب التحریر کی جانب سے امت مسلمہ، دعوت کے لیے کمر بستہ جواں مردوں اور تمام قارئین کو رمضان المبارک کی مبارکباد پیش کی گئی ہے۔ اس پیغام میں دعا کی گئی ہے کہ یہ مبارک مہینہ خلافت راشدہ کے قیام کے ذریعے امت کی عزت، نصرت اور عالمی غلبے کا نقطہ آغاز ثابت ہو۔
سوال کا جواب: ایٹمی معاہدے سے ٹرمپ کی دستبرداری
یہ تحریر ایرانی ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری کے پیچھے کارفرما حقیقی سیاسی و تزویراتی اسباب کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ اپنے ریاستی مفادات، علاقائی ایجنٹوں کے کردار کی تبدیلی اور یورپی حریفوں کو قابو میں رکھنے کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کو استعمال کرتا ہے اور توڑتا ہے۔
سوال کا جواب: قفال مروزی، خراسانیوں کے شیخ
اس تحریر میں ان علمی شخصیات کی وضاحت کی گئی ہے جو "قفال" کے لقب سے مشہور تھیں، اور اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ان میں سے کس نے اجتہاد کا دروازہ بند ہونے کا قول کیا تھا۔ خاص طور پر شیخ الخراسانیین قفال مروزی کے حالاتِ زندگی اور ان کے علمی مقام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
جواب سوال: مس شیطان، حسد اور نظرِ بد
اس جواب میں عالم جلیل عطاء بن خلیل ابو الرشتہ مس شیطان، جادو، حسد اور نظرِ بد کے شرعی حقائق کو واضح کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ شیطان کا انسان کے جسم پر کوئی مادی غلبہ نہیں ہوتا بلکہ اس کا کام صرف وسوسہ ڈالنا ہے، جبکہ جادو نظر کا دھوکہ ہے جس کا علاج اللہ کے ذکر اور شرعی رقیہ میں ہے۔
سوال کا جواب: غزوہ موتہ کے شہداء
یہ تحریر غزوہ موتہ کے شہداء کی تعداد کے حوالے سے ایک اہم علمی تحقیق پیش کرتی ہے، جس میں مختلف تاریخی روایات کے درمیان مطابقت پیدا کی گئی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کتاب 'الدولۃ الاسلامیہ' میں 'خلقِ کثیر' (بڑی تعداد) کی عبارت کیوں استعمال کی گئی اور یہ کس طرح مستند روایات کے عین مطابق ہے۔
سوالات کے جوابات: قرض کی حسن ادائیگی
اس جواب میں قرض کی حسن ادائیگی (حسن القضاء) کے شرعی مفہوم کی وضاحت کی گئی ہے، جس کا مطلب معیار (Quality) میں بہتری ہے نہ کہ مقدار (Quantity) میں اضافہ۔ شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ نے احادیث کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ وزن، ناپ یا گنتی میں اضافہ سود کے زمرے میں آتا ہے، جبکہ اسی مقدار میں بہتر معیار کی چیز واپس کرنا سنتِ رسول ﷺ اور مستحب عمل ہے۔
خلافت کے انہدام کی یادگار - امیر حزب التحریر کا خطاب
سقوطِ خلافت کی یاد میں امیر حزب التحریر کا یہ خطاب امتِ مسلمہ کے لیے ایک اہم پکار ہے۔ اس میں خلافت کے خاتمے کے المناک واقعے اور اس کی دوبارہ تاسیس کے لیے کی جانے والی کوششوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
سوال کا جواب: شام پر حالیہ امریکی فضائی حملے کی حقیقت!
اس تحریر میں شام پر حالیہ امریکی حملوں کے پیچھے چھپے اصل مقاصد کا تجزیہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد روس کو اس کی اوقات یاد دلانا اور اسے امریکی مفادات کے تابع رکھنا ہے۔ ساتھ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ مسلم ممالک میں استعماری طاقتوں کی مداخلت کا واحد حل خلافتِ راشدہ کا قیام ہے۔
سوال کا جواب: "کاسمیٹک سرجری" کا شرعی حکم
اس مضمون میں کاسمیٹک سرجری (جراحیِ تجميل) کے حوالے سے تفصیلی شرعی حکم بیان کیا گیا ہے، جس میں علاج کی غرض سے کی جانے والی سرجری اور محض خوبصورتی کے لیے کی جانے والی تبدیلیوں کے درمیان فرق واضح کیا گیا ہے۔ شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ نے احادیث کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت کی ہے کہ کب یہ عمل جائز ہے اور کب ناجائز۔
جواب سوال: محمد بن سلمان کا برطانیہ، امریکہ اور فرانس کا دورہ
یہ سیاسی تجزیہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے 2018 میں ہونے والے مغربی ممالک کے دوروں کے اصل محرکات کو بے نقاب کرتا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ سعودی حکمرانوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہا ہے اور کس طرح امت مسلمہ کی دولت کو امریکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے لٹایا جا رہا ہے۔