سوال کا جواب: اسلام کے نقطہ نظر سے ایتھنول کی حقیقت
یہ تحریر ایتھنول کی شرعی حیثیت کے بارے میں تفصیلی وضاحت فراہم کرتی ہے، جس میں میتھائل اور ایتھائل الکوحل کے درمیان فرق واضح کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایتھنول پر مشتمل مرکبات کب 'خمر' (شراب) کے حکم میں آتے ہیں اور پھلوں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے ایتھنول کا شرعی حکم کیا ہے۔
جواب سوال: کیا امریکہ نے دارفور سے متعلق دوحہ معاہدے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے؟
یہ سیاسی تجزیہ دارفور کے بارے میں دوحہ معاہدے پر امریکی موقف کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ امریکی مندوبہ کے حالیہ بیانات دراصل یورپی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کی ایک چال ہیں۔ اس کا مقصد دارفور کے مسئلے پر امریکہ کی اجارہ داری قائم کرنا اور اسے نائواشا معاہدے کی طرز پر علیحدگی کی طرف لے جانا ہے، جبکہ خطے کے حکمران استعماری مفادات کے لیے محض آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔
سوال کا جواب: روس کا جزیرہ نما کریمیا کو اپنے ساتھ ضم کرنا
روس کی جانب سے جزیرہ نما کریمیا کا الحاق دراصل عالمی طاقتوں کے درمیان ایک "درمیانی حل" کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت روس کریمیا میں اور مغرب بقیہ یوکرین پر اپنا نفوذ قائم کریں گے۔ یوکرین کا یہ بحران تب تک مکمل طور پر حل نہیں ہوگا جب تک یہ خطہ دوبارہ ریاستِ خلافت کا حصہ نہیں بن جاتا۔
سوالات کے جوابات: 1- ہاتھ سے بنی تصاویر کا استعمال 2- ناپاک چیزوں سے نفع اٹھانا 3- متعین اجرت کے بغیر فیصد (کمیشن) پر ملازم کا کام کرنا
اس تحریر میں حزب التحریر کے امیر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ نے تین اہم شرعی مسائل کی وضاحت کی ہے: جانداروں کی ہاتھ سے بنی تصاویر کی حرمت اور ان کے استعمال کا شرعی حکم، خنزیر کے جینز کو پودوں کی نشوونما کے لیے استعمال کرنے کی ممانعت، اور ملازم کے لیے محض فیصد (کمیشن) پر کام کرنے کے بجائے متعین اجرت کی ضرورت۔
جوابِ سوال: زکوۃ کے بارے میں
اس تحریر میں تجارتی اموال، خاص طور پر جائیداد کی خرید و فروخت پر زکوۃ کے حساب کتاب کی شرعی وضاحت کی گئی ہے۔ امیرِ حزب التحریر بتاتے ہیں کہ سال کے اختتام پر زکوۃ اصل سرمایہ اور حاصل شدہ منافع کی مجموعی مالیت پر ادا کرنا فرض ہے، بشرطیکہ وہ نصاب کو پہنچتی ہو۔
سوال کا جواب: حدیث "سات لوگ جنہیں اللہ اپنے سائے میں جگہ دے گا..." میں عورت کا ذکر
اس تحریر میں شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتہ اس سوال کی وضاحت کرتے ہیں کہ کیا مشہور حدیث میں مذکور سات خوش نصیب افراد میں خواتین بھی شامل ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ عربی زبان کے اسلوب "تغلیب" کے تحت خواتین ان میں سے پانچ زمروں میں شامل ہیں، جبکہ عادل حکمران اور مسجد سے دل لگا ہونے کی شرائط دیگر شرعی نصوص کی وجہ سے مردوں کے لیے مخصوص ہیں۔
جواب سوال: اوباما کا دورہ سعودی عرب اور شام پر اس کے اثرات
یہ تحریری جواب امریکی صدر اوباما کے دورہ سعودی عرب کے مقاصد اور شام کی سیاسی و عسکری صورتحال، خاص طور پر جیشِ حر کی قیادت میں تبدیلی، پر اس کے اثرات کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ اور شامی انقلاب کو اپنے ایجنڈے کے مطابق ڈھالنے کے لیے سعودی عرب اور دیگر مہروں کو استعمال کر رہا ہے۔
یوکرین کے بحران کے اثرات سے متعلق سوال کا جواب
یہ جواب یوکرینی بحران کے پس منظر، اس میں بین الاقوامی طاقتوں کے مفادات اور جزیرہ نما کریمہ کی تاریخی و نظریاتی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ یوکرین میں حقیقی اور مستقل امن صرف خلافتِ راشدہ کے زیرِ سایہ ہی ممکن ہے، جو اس خطے کو اس کی اصل اسلامی شناخت واپس دلائے گی۔
جواب سؤال: رسول اللہ ﷺ کے مدینہ کی طرف ہجرت کے بارے میں سوچنے کے حوالے سے
یہ تحریر اس سوال کی وضاحت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا مدینہ ہجرت کے بارے میں سوچنا وحی کے منافی نہیں تھا، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے 'طلبِ نصرت' کے حکم پر عمل درآمد کا حصہ تھا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ہجرت کا ارادہ مدینہ کے سازگار حالات کی بنا پر نصرت حاصل کرنے کی ایک تدبیر تھی، جس کا حتمی حکم اور وقت اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعے متعین ہوا۔
سوال کا جواب: شادی اور اس کے متعلقہ معاملات کے بارے میں
اس تحریر میں امیرِ حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ نے شادی کی اہمیت، صالح شریکِ حیات کے انتخاب اور غیر اسلامی ماحول میں بچوں کی پرورش سے متعلق سوالات کے بصیرت افروز جوابات دیے ہیں۔ آپ نے واضح کیا ہے کہ اسلام میں نکاح کی ترغیب دی گئی ہے اور دین و اخلاق کے حامل رشتے کو محض دنیاوی تعلیم کی خاطر رد کرنا شرعی طور پر ناپسندیدہ ہے۔
سوال کا جواب: وسطی افریقہ میں تنازع کی حقیقت!
یہ تحریر وسطی افریقہ میں مسلمانوں پر ہونے والے بہیمانہ مظالم اور وہاں جاری سیاسی و عسکری کشمکش کے پس پردہ محرکات کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح فرانس اور امریکہ اپنے استعماری مفادات اور اثر و رسوخ کی جنگ میں مسلمانوں کے خون کو ایندھن کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور خلافت کی عدم موجودگی میں امت مسلمہ کس طرح بے یار و مددگار ہے۔
سوال کا جواب: رسول اللہ ﷺ کی تدفین میں تاخیر کا بیعت سے تعلق
اس تحریر میں رسول اللہ ﷺ کی تدفین میں تاخیر اور بیعتِ خلافت کے درمیان تعلق کی شرعی وضاحت کی گئی ہے۔ اس میں مدلل طور پر ثابت کیا گیا ہے کہ صحابہ کرامؓ کا تدفین جیسے اہم فرض پر بیعت کو مقدم رکھنا اس کے فرضِ عین ہونے کی قطعی دلیل ہے، اور اس اعتراض کا رد کیا گیا ہے کہ یہ تاخیر محض جنازے کے انتظار میں تھی۔