سوال کا جواب: ایران اپنی سرزمین سے باہر یورینیم کی افزودگی پر راضی
یہ تحریر ایران کے اپنی سرزمین سے باہر یورینیم کی افزودگی پر رضامندی اور برازیل و ترکی کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدے کے اصل محرکات کو بے نقاب کرتی ہے۔ اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ کس طرح امریکہ نے اپنے مفادات کے تحفظ اور ایران کو یورپی پابندیوں سے بچانے کے لیے اس سفارتی چال کا سہارا لیا۔
سوالات کے جوابات: کتاب "النظام الاجتماعی"... مقدمہ... مفاہیم... ریاستِ خلافت کے اعضاء
اس تحریر میں حزب التحریر کی مختلف کتب سے متعلق فقہی اور تاریخی سوالات کے علمی جوابات دیے گئے ہیں۔ ان میں نکاح میں مہر کی شرعی حیثیت، آگ کے ذریعے سزا اور داغنے کے درمیان فرق، اور حج کی اصطلاحات کی لسانی وضاحت کے ساتھ ساتھ ایک تاریخی اشکال کا ازالہ کیا گیا ہے۔
امیر حزب التحریر، جلیل القدر عالم عطاء بن خلیل ابو الرشتہ حفظہ اللہ کا انڈونیشیا کانفرنس میں شریک داعیات (دعوت دینے والی بہنوں) کے نام خطاب
امیر حزب التحریر، جلیل القدر عالم عطاء بن خلیل ابو الرشتہ حفظہ اللہ نے انڈونیشیا میں منعقد ہونے والی داعیات کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کے دعوت و تبلیغ کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے خواتین کو چار اہم امور کو یاد رکھنے کی تاکید کی، جن میں مکمل اسلام کی دعوت، خلافت راشدہ کی بحالی کے لیے کام، اور اسلامی وقار کے شعور کو عام کرنا شامل ہے۔ انہوں نے مسلم خواتین کو خاص طور پر کفار کی ان مہمات کا مقابلہ کرنے پر زور دیا جو گمراہ کن نعروں جیسے کہ *جینڈر* کے تحت ان کے شرعی التزام کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
جوابِ سوال: باقییف کے خلاف بغاوت اور کرغزستان میں روسی-امریکی کشمکش
یہ تحریر کرغزستان میں صدر باقییف کے خلاف ہونے والی بغاوت اور اس کے پیچھے موجود بین الاقوامی محرکات کا تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ روس نے باقییف کی حکومت کا تختہ اس لیے الٹا کیونکہ وہ امریکہ کے ساتھ خفیہ تعلقات اور کرغزستان میں امریکی فوجی تربیتی مرکز کے قیام کے ذریعے روسی اثر و رسوخ کو چیلنج کر رہا تھا۔ یہ صورتحال وسطی ایشیا میں روس اور امریکہ کے درمیان جاری سرد جنگ اور تزویراتی کشمکش کی عکاسی کرتی ہے۔
سوال کا جواب: روس باقاییف کے خلاف کیوں ہوا حالانکہ وہی اسے اقتدار میں لایا تھا؟
یہ تجزیہ کرغزستان میں 2010 کے سیاسی تغیر اور روس کی جانب سے باقاییف کی حکومت ختم کرنے کی وجوہات پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ خفیہ سیکیورٹی معاہدات اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ کی کوششوں نے روس کو اس انتہائی قدم پر مجبور کیا۔
سوال کا جواب: آنے والے دور میں یوکرین پر امریکی اور روسی اثر و رسوخ کی کشمکش کیسی ہو گی؟
یوکرین میں 2010 کے انتخابات میں روس نواز امیدوار وکٹر یانوکووچ کی کامیابی نے نارنجی انقلاب کے دور کے خاتمے اور روسی اثر و رسوخ کی واپسی کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم، مغربی اور روسی دھڑوں کے درمیان ووٹوں کا معمولی فرق یہ ظاہر کرتا ہے کہ یوکرین میں عالمی طاقتوں کی تزویراتی رسہ کشی اور اثر و رسوخ کی جنگ مستقبل میں بھی شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔
جواب سوال: نائیجر میں فوجی بغاوت اور بین الاقوامی کشمکش
یہ تحریر نائیجر میں 2010 میں ہونے والی فوجی بغاوت کے پیچھے چھپے اسباب اور بین الاقوامی محرکات کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح یہ بغاوت محض داخلی معاملہ نہیں بلکہ فرانس کے روایتی اثر و رسوخ اور امریکہ کے بڑھتے ہوئے مفادات کے درمیان ایک بین الاقوامی کشمکش کا حصہ ہے۔
جوابِ سوال: تائیوان کو ہتھیار فروخت کرنے کے امریکی منصوبے کا اعلان
یہ تحریر 2010 میں تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت کے فیصلے اور اس پر چین کے شدید ردعمل کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ اس فروخت کے ذریعے چین پر معاشی و سیاسی دباؤ ڈالنا اور اسے علاقائی مسائل میں الجھائے رکھنا چاہتا ہے تاکہ عالمی سطح پر اپنی بالادستی برقرار رکھ سکے۔
سوال کا جواب: حرکتِ شعبیہ اور نیشنل کانگریس کے درمیان کشیدگی
سوڈان میں نیشنل کانگریس اور حرکتِ شعبیہ کے مابین حالیہ کشیدگی درحقیقت ملک کی تقسیم اور جنوبی سوڈان کی علیحدگی کی راہ ہموار کرنے کا ایک مصنوعی طریقہ ہے۔ یہ سیاسی تناؤ امریکہ کے اس ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد نیواشا معاہدے کے تحت سوڈان کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے۔
سوال کا جواب: حسنی مبارک کے بعد مصر کا اگلا صدر
یہ تحریر مصر میں حسنی مبارک کے بعد ممکنہ جانشینی کے سیاسی منظر نامے کا تجزیہ کرتی ہے، جس میں جمال مبارک اور ایمن نور کے سیاسی جھکاؤ کا موازنہ کیا گیا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ جمال مبارک کی پشت پناہی کر رہا ہے جبکہ ایمن نور کے تعلقات یورپی، بالخصوص برطانوی مفادات سے وابستہ ہیں۔
جواب سوال: یمن میں کیا ہو رہا ہے؟
یمن میں جاری حالیہ صورتحال محض ایک مقامی یا مذہبی تنازع نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی طاقتوں، بالخصوص امریکہ اور برطانیہ کی باہمی کشمکش کا نتیجہ ہے جو مقامی مہروں کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔ امریکہ اس صورتحال کو استعمال کرتے ہوئے یمن میں برطانوی اثر و رسوخ کے حامل علی عبداللہ صالح کی حکومت پر دباؤ ڈال کر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے۔
سوال کا جواب: امریکی میزائل دفاعی منصوبوں کی حقیقت کے بارے میں
یہ تحریر اوباما انتظامیہ کی جانب سے مشرقی یورپ میں میزائل دفاعی نظام کے منصوبے میں تبدیلی کی اصل حقیقت اور اس کے تزویراتی مقاصد کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ نے اپنا دفاعی پروگرام ختم نہیں کیا بلکہ اسے ایک ایسی جدید اور موثر شکل دی ہے جو روس کے لیے کم اشتعال انگیز مگر امریکی مفادات کے لیے زیادہ بہتر ہے، تاکہ عالمی سطح پر اپنی عسکری برتری کو برقرار رکھا جا سکے۔