امیر حزب التحریر، جلیل القدر عالم عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کی جانب سے رمضان المبارک 1445ھ بمطابق 2024ء کے موقع پر اپنے پیجز کے زائرین کو مبارکباد
امیر حزب التحریر نے امت مسلمہ کو رمضان کی مبارکباد دیتے ہوئے اس مبارک مہینے کو نصرت اور فتوحات کا مہینہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے غزة کی صورتحال اور حکمرانوں کی بے حسی کا تذکرہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ امت کی نجات اور دین کا مکمل نفاذ صرف خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
تجرباتی مضمون
یہ تحریر رمضان المبارک کی فضیلت، اس ماہ میں مسلمانوں کی تاریخی فتوحات اور اسلام کے ایک مکمل ضابطہ حیات ہونے پر روشنی ڈالتی ہے۔ اس میں موجودہ عالمی صورتحال بالخصوص اہل غزہ پر ہونے والے مظالم کے تناظر میں خلافتِ راشدہ کے قیام کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
سوال کا جواب: اسلامی ممالک میں قائم نظاموں کی افواج میں شمولیت اور وابستگی کا حکم
یہ تحریر اسلامی ممالک کے موجودہ نظاموں کی افواج میں شمولیت کے شرعی حکم کی وضاحت کرتی ہے۔ اس میں احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ حکمرانوں کی ذاتی حفاظت اور مظالم کے لیے مخصوص دستوں کے علاوہ عام فوج میں خدمات انجام دینا جائز ہے، بشرطیکہ حق و انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے۔
سوال کا جواب: پاکستانی انتخابات
یہ تحریر فروری 2024 کے پاکستانی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال اور اس میں فوجی قیادت کے کردار کا گہرا سیاسی تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح سیاسی مہروں کی تبدیلی اور انتخابی عمل درحقیقت امریکی مفادات اور فوجی بالادستی کے گرد گھومتا ہے، اور مخلص اہل قوت کو خلافتِ راشدہ کے قیام کی دعوت دی گئی ہے۔
سوال کا جواب: فکر کی اقسام
اس تحریر میں فکر کی تین اقسام: سطحی، گہری اور مستنیر (روشن) فکر کی مفصل وضاحت کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ محض گہری فکر انسانی بلندی اور نہضت کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے مستنیر فکر کا ہونا ضروری ہے جو حقیقت کے گرد و پیش کا ادراک کر کے صحیح نتائج تک پہنچاتی ہے۔
جواب سوال: کلمہ حق بلند کرنا
اس جواب میں ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے کی فضیلت اور اس کی حقیقت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔ شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ بیان کرتے ہیں کہ اگرچہ حق بات کہنا ہر حال میں خیر ہے، لیکن حدیث میں بیان کردہ "افضل جہاد" کا درجہ خاص طور پر صاحبِ اقتدار حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے سے متعلق ہے کیونکہ اس میں خطرہ اور اثر دونوں زیادہ ہوتے ہیں۔
سوال کا جواب: پاکستانی فوج کے سربراہ کا امریکہ کے ساتھ اتحاد اور اس کے ساتھ وفاداری
یہ تجزیہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کے حالیہ دورہ امریکہ اور واشنگٹن کے ساتھ بڑھتے ہوئے فوجی و سیاسی تعاون کے پسِ پردہ محرکات کو بے نقاب کرتا ہے۔ اس تحریر میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح پاکستان کی عسکری قیادت استعماری مفادات کے تحفظ، کشمیر و فلسطین جیسے اہم اسلامی مسائل پر سمجھوتہ کرنے اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو مستحکم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
سوال کا جواب: سوڈان میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان مخصوص علاقوں پر مرکوز تنازعہ
یہ تجزیہ سوڈان میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان حالیہ فوجی حکمت عملیوں اور اس کے پیچھے کارفرما بین الاقوامی سیاسی کشمکش کا جائزہ لیتا ہے۔ اس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کیا یہ لڑائی سوڈان کی مزید تقسیم کا پیش خیمہ ہے یا امریکی ایجنٹوں کے درمیان کرداروں کی تقسیم کا ایک حصہ ہے۔
آذربائیجان کی جانب سے علاقہ قرا باغ کی آزادی کے پس منظر کے حوالے سے سوال و جواب
یہ تحریر آذربائیجان کی جانب سے قرا باغ کی حالیہ فوجی کارروائی کے پس پردہ محرکات کا تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ یوکرین جنگ میں روس کی مصروفیت کا فائدہ اٹھا کر آرمینیا کو روسی اثر و رسوخ سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ استعماری طاقتیں صرف اپنے مفادات کے تحت مہرے بدلتی ہیں۔
جوابِ سوال: حدیث «إِنَّ الإِسْلامَ يَجُبُّ مَا كَانَ قَـبْلَهُ»
اس تحریر میں امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ اس حدیث کی وضاحت فرما رہے ہیں کہ اسلام قبول کرنا پچھلے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، لیکن اسلام اور مسلمانوں کو شدید نقصان پہنچانے والے اس سے مستثنیٰ قرار دیے جا سکتے ہیں۔ یہ وضاحت فتح مکہ کے موقع پر ان افراد کے حوالے سے کی گئی ہے جن کا خون رسول اللہ ﷺ نے مباح قرار دیا تھا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایسے معاملات میں ریاست کے سربراہ (امام) کو سزا دینے یا معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
سوال کا جواب: ابن سلمان اور یہودیوں کے ساتھ تعلقات کی استواری (تطبیع)
یہ تحریر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے یہودی وجود کے ساتھ تعلقات کی استواری (تطبیع) کی کوششوں اور اس کے پیچھے موجود امریکی سیاسی محرکات کا تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ فلسطین کی آزادی کا واحد راستہ اسلامی افواج کی حرکت اور خلافتِ راشدہ کا قیام ہے، نہ کہ غاصب ریاست کے ساتھ ذلت آمیز معاہدے۔
سوال کا جواب: خلافت کے قیام کے بعد حزب التحریر کی صورتحال
اس جواب میں واضح کیا گیا ہے کہ خلافت کے قیام کے بعد حزب التحریر کا اصل مقصد اپنے افراد کو اقتدار میں لانا نہیں بلکہ اپنی فکر اور پروگرام کو نافذ کرنا ہے۔ اس میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ خلیفہ اور ریاست کے کلیدی عہدیداران حزب سے ہوں گے تاکہ فکر کا صحیح نفاذ یقینی ہو، جبکہ حزب کی صوبائی کمیٹیاں خلیفہ کا محاسبہ جاری رکھیں گی۔