جواب سوال: والد کے چچا اور والدہ کے ماموں کے سامنے عورت کے پردے کے متعلق
یہ تحریر اس شرعی حکم کی وضاحت کرتی ہے کہ عورت کے لیے اپنے والد کے چچا اور والدہ کے ماموں کے سامنے حجاب ہٹانا جائز ہے یا نہیں۔ قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں ان رشتوں کے محرم ہونے کے بارے میں تفصیلی دلائل فراہم کیے گئے ہیں۔
جواب سوال: توبہ کے بعد حرام مال کا حکم
اس جواب میں توبہ کے بعد اس حرام مال کی شرعی حیثیت واضح کی گئی ہے جو چوری، سود یا دیگر ناجائز ذرائع سے حاصل کیا گیا ہو۔ امیر حزب التحریر عالم جلیل عطاء بن خلیل ابو الرشتہ واضح کرتے ہیں کہ سچی توبہ کے لیے حرام مال سے چھٹکارا پانا اور اسے اس کے اصل مالکان کو لوٹانا لازمی شرط ہے، کیونکہ توبہ اور حرام مال کا قبضہ ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔
سوالات کے جوابات: 1- معرکہ بدر سے قبل سورہ محمد کے نزول کی دلیل، 2- شادی شدہ لونڈی اگر زنا کرے تو اس کا حکم
اس تحریر میں حزب التحریر کے امیر عالمِ جلیل عطاء بن خلیل ابو الرشتہ نے ان شرعی دلائل کی وضاحت کی ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ سورہ محمد کا نزول معرکہ بدر سے قبل ہوا تھا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے شادی شدہ لونڈی کے زنا کی سزا کے متعلق قرآنی آیات کی روشنی میں تفصیلی حکم بیان کیا ہے اور آزاد گھریلو ملازماؤں اور لونڈیوں کے درمیان فرق کو واضح کیا ہے۔
سوال کا جواب: جانوروں کے پیشاب اور لید (گوبر) کی نجاست کے بارے میں
یہ تحریر جانوروں کے پیشاب اور لید کی نجاست کے متعلق شرعی احکامات کی وضاحت کرتی ہے، جس میں مختلف احادیث کی روشنی میں اس کے نجس ہونے کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ نے واضح کیا ہے کہ حلال و حرام گوشت والے جانوروں کے فضلے کا استعمال ممنوع ہے، سوائے علاج کی غرض کے جہاں یہ کراہت کے ساتھ جائز ہو جاتا ہے۔
جواب سؤال: والدین پر آواز بلند کرنے کے بارے میں
اس تحریر میں والدین پر غصہ کرنے اور آواز بلند کرنے کے شرعی حکم کی وضاحت کی گئی ہے، چاہے والدین کی جانب سے کوئی پریشان کن رویہ ہی کیوں نہ ہو۔ امیرِ حزب التحریر بتاتے ہیں کہ والدین کی خدمت جنت کے حصول کا ذریعہ ہے اور لغزش کی صورت میں والدین سے معافی مانگ کر ان کی رضا حاصل کرنا لازمی ہے۔
جواب سوال: شام کی تحریک کے حوالے سے روس کے موقف کے بارے میں
اس تحریر میں شام کی تحریک کے متعلق روس کے سیاسی موقف اور امریکہ کے ساتھ اس کے گٹھ جوڑ کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔ امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ واضح کرتے ہیں کہ روس دراصل مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کے تحفظ اور شام میں ایک نئے امریکی ایجنٹ کی تیاری کے لیے وقت فراہم کرنے والے ایک آلے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔
جواب سوال: وگ (باروکہ) پہننے کے شرعی حکم کے بارے میں - ابراہیم خباص کے نام
اس تحریر میں وگ پہننے کے شرعی حکم کی وضاحت کی گئی ہے کہ اسے پہن کر عوامی زندگی میں نکلنا تبرج (نمائشِ حسن) ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، جبکہ گھر میں محارم کے سامنے اس کا استعمال جائز ہے۔ نیز، وگ پہننے اور بالوں کے ساتھ مصنوعی بال جوڑنے (واصلہ) کے درمیان فرق کو بھی شرعی نصوص کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔
سوال کا جواب: کیا ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے؟
اس جواب میں ایمان کی لغوی اور شرعی تعریف بیان کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ ایمان اپنی حقیقت میں ایک حتمی تصدیق (تصدیقِ جازم) ہے جس میں کمی بیشی کا مطلب شک ہے جو کفر کی طرف لے جاتا ہے۔ تاہم، ایمان کی قوت اور کیفیت میں اطاعت اور اعمالِ صالحہ کے ذریعے اضافہ اور معصیت کے ذریعے کمی واقع ہو سکتی ہے۔
سوالات کے جوابات: 1- عدالتی حکم کے بارے میں 2- والدین کے ساتھ حسنِ سلوک
اس تحریر میں امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ ایک سائل کے سوال کا جواب دیتے ہوئے عدالتی حکم اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہیں۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ اگرچہ دار الحرب میں رہنے والے والدین کے لیے نفقہ (مالی اخراجات) کا عدالتی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا، لیکن والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور صلہ رحمی ہر حال میں واجب ہے۔
سوالات کے جوابات: 1- میدانِ جنگ میں نکلنے والی خواتین کا حکم 2- ریاستِ اسلامی کے ان ریاستوں کے ساتھ تعلقات جو عملاً حالتِ جنگ میں ہوں
اس جواب میں میدانِ جنگ میں موجود خواتین کے بارے میں شرعی احکامات کی وضاحت کی گئی ہے، جن میں لڑنے والی اور حوصلہ افزائی کرنے والی خواتین کے درمیان فرق بیان کیا گیا ہے۔ مزید برآں، غصب شدہ مسلم سرزمینوں پر قائم ناجائز ریاستوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے مستقل یا عارضی معاہدے کی شرعی ممانعت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
سوال کا جواب: خلافت کے قیام کے لیے مسلمانوں کو دی جانے والی مہلت کی مدت کے بارے میں
یہ تحریر خلافت کے قیام کے لیے شرعی طور پر مقررہ تین دن کی مہلت کی بحث پر مبنی ہے۔ اس میں امیرِ حزب التحریر شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتہ نے ان اعتراضات کا علمی و فقہی جواب دیا ہے جو ان روایات پر اٹھائے گئے تھے جن سے خلیفہ کے تقرر کی انتہائی مدت کا استدلال کیا جاتا ہے۔
سوال کا جواب: حدیث مبارکہ «إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا» کے معنی کے بارے میں
اس تحریر میں اس مشہور حدیث کی تشریح کی گئی ہے جس میں ہر صدی کے اختتام پر دین کی تجدید کے لیے ایک مجدد کی آمد کا ذکر ہے۔ امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ مختلف علمی دلائل کی روشنی میں اس حدیث کے مفہوم، وقت کے تعین اور چودہویں صدی کے مجدد کی نشاندہی کرتے ہیں۔