جواب سوال: جرمانہ کی شرط کے ساتھ قسطوں پر خرید و فروخت کے بارے میں
یہ تحریر قسطوں پر خرید و فروخت کے معاہدوں میں تاخیر کی صورت میں قیمت میں اضافے (جرمانہ) کی شرعی حیثیت کو واضح کرتی ہے۔ اس میں قرآن و سنت کے دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ ادائیگی میں تاخیر پر قیمت بڑھانا جاہلیت کا سود ہے، جبکہ تنگدست کو مہلت دینا واجب ہے۔
سوال کا جواب: ہم فجر کے وقت سحری (امساک) کے اوقات کا تعین کیسے کریں
یہ جواب ناروے اور فن لینڈ جیسے بلند عرض بلد والے ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے ہے جہاں رات بہت مختصر ہوتی ہے یا سورج مکمل طور پر غروب نہیں ہوتا۔ شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتہ اس میں واضح کرتے ہیں کہ روزہ رکھنے اور افطار کرنے کے لیے شرعی علامات (غروبِ آفتاب اور فجرِ صادق) ہی اصل معیار ہیں اور ان کے تعین کا طریقہ کیا ہے۔
سوال کا جواب: خلیفہ کے انتخاب کی مدت کے تعین کے بارے میں
اس جواب میں خلیفہ کی وفات یا معزولی کے بعد نئے خلیفہ کے تقرر (نصبِ خلیفہ) کے لیے تین دن کی مہلت کی شرعی حیثیت واضح کی گئی ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کے حکم اور اس پر صحابہ کرامؓ کی خاموشی سے ثابت ہوتا ہے کہ امت کا تین دن سے زائد خلیفہ کے بغیر رہنا شرعاً جائز نہیں ہے اور یہ اجماعِ صحابہ سے ثابت ہے۔
سوال کا جواب: اسلامی بینکوں کے ساتھ لین دین بالخصوص بیع مرابحہ کا حکم
اس جواب میں اسلامی بینکوں میں رائج "بیع مرابحہ" کی شرعی حیثیت کی وضاحت کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ کیوں یہ طریقہ کار شرعی اصولوں کے منافی ہے۔ نیز، تعمیراتی کمپنیوں کے ساتھ قسطوں پر گھر بنانے کے معاملے اور بینک کے مروجہ طریقہ کار کے درمیان فرق کو بھی واضح کیا گیا ہے۔
سوال کا جواب: عرب بہار پر قطر کی دریا دلی کے پیچھے کیا ہے؟
عرب بہار پر قطر کی بے پناہ دولت کا خرچ ہونا دراصل خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے مقابلے میں برطانوی اور یورپی مفادات کے حصول کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ جواب واضح کرتا ہے کہ کس طرح عالمی طاقتیں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے شام اور دیگر ممالک میں اپنے مفادات کا تحفظ کر رہی ہیں، اور امت کو ان سازشوں کو ناکام بنا کر خلافت کے قیام کی جدوجہد پر زور دیتا ہے۔
سوال کا جواب: حزب التحریر کے اپنے اظہار کے طریقے کے بارے میں
اس تحریر میں حزب التحریر کی کتب میں استعمال ہونے والی بعض تعبیرات پر اٹھنے والے اعتراضات کا علمی اور فکری جواب دیا گیا ہے۔ امیرِ حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ نے واضح کیا ہے کہ سابقہ تحریکوں کی خامیوں سے بچنے اور اپنی مخصوص فکر کو اپنانے میں "منفرد" ہونے کا مطلب خدائی صفات کا دعویٰ نہیں بلکہ ایک مخصوص فکری اور تنظیمی منہج کی وضاحت ہے۔
جواب سوال: الکحل پر مشتمل خوشبویات کے بارے میں
اس تحریر میں الکحل ملی ہوئی خوشبویات (پرفیومز) کے استعمال کے شرعی حکم کی وضاحت کی گئی ہے۔ امیر حزب التحریر شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتہ نے احادیثِ مبارکہ اور تحقیق المناط کی روشنی میں یہ واضح کیا ہے کہ ایسی خوشبویات 'خمر' (شراب) کے حکم میں آتی ہیں، اس لیے ان کا استعمال اور تجارت ناجائز ہے۔
سوال کا جواب: جمہوریت کے بارے میں
امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ اس تحریر میں جمہوریت کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ ایک کفریہ نظام ہے جو اللہ کے بجائے انسان کو قانون سازی کا اختیار دیتا ہے۔ وہ ان چار بنیادی آزادیوں کا بھی پردہ چاک کرتے ہیں جو اسلامی احکامات اور عقیدے سے براہ راست متصادم ہیں۔
سوال کا جواب: عقدِ مرابحہ کے شرعی حکم کے بارے میں
اس جواب میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ سرمایہ کاری کے معاملات میں نفع کی ضمانت کے ساتھ کیا جانے والا عقد غیر شرعی ہے، جبکہ درست طریقہ 'مضاربت' ہے جس میں نفع کا تناسب طے کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی 'مرابحہ' کی اصل شرعی تعریف بھی بیان کی گئی ہے جو کہ درحقیقت خرید و فروخت کی ایک قسم ہے نہ کہ سرمایہ کاری کا کوئی عقد۔
سوال و جواب: گھر اور گھر سے باہر خواتین کا پینٹ پہن کر نماز پڑھنے کا حکم، کیا عورت کے لیے وگ لگا کر نماز پڑھنا اور گھر سے باہر نکلنا جائز ہے؟
اس تحریر میں عوامی زندگی میں خواتین کے شرعی لباس کے احکامات اور پینٹ یا وگ پہن کر نماز کی ادائیگی کے مسئلے پر تفصیلی شرعی رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ امیرِ حزب التحریر شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتہ واضح کرتے ہیں کہ گھر سے باہر نکلنے اور نماز کی درستی کے لیے سترِ عورت، ترکِ تبرج اور جلباب کا ہونا لازمی ہے۔
سوال کا جواب: جڑے ہوئے جڑواں بچوں کے بارے میں
یہ تحریر جڑے ہوئے جڑواں بچوں (Conjoined Twins) کی شرعی حیثیت اور ان پر لاگو ہونے والے احکامات کی وضاحت کرتی ہے۔ امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ بتاتے ہیں کہ ہر معاملے کا اس کی مخصوص واقعی صورتحال کے مطابق انفرادی طور پر جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ درست شرعی حکم کا تعین کیا جا سکے۔
سوال کا جواب: ہجرت اپنے صحیح شرعی مفہوم میں کب ہوتی ہے؟
اس تحریر میں حزب التحریر کے امیر عالم عطا بن خلیل ابو الرشتہ شام کی موجودہ صورتحال اور رسول اللہ ﷺ کی مدینہ کی طرف ہجرت کے شرعی پس منظر کی وضاحت کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہجرت کا حکم نصرت کے حصول اور دارالاسلام کے قیام کے یقینی ہونے کے بعد ہی لاگو ہوتا ہے۔