تونس میں دوسری خلافت کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر حزب التحریر کے امیر، عالمِ جلیل عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کا خطاب
حزب التحریر کے امیر نے تیونس میں منعقدہ دوسری خلافت کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے تیونس کی اسلامی تاریخ اور وہاں جاری استعماری رسہ کشی کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں ان چار حقائق کو بیان کیا جو خلافتِ راشدہ کے ناگزیر قیام پر دلالت کرتے ہیں اور امت کو اس عظیم مقصد کے لیے مخلصانہ جدوجہد کرنے کی ترغیب دی۔
جواب سوال: نصرت طلب کرنے کے متعلق
یہ جواب اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ "طلبِ نصرت" (نصرت طلب کرنا) دعوت کے کس مرحلے کا کام ہے۔ شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتۃ بیان کرتے ہیں کہ یہ عمل مرحلہ تعامل کے آخری حصے میں آتا ہے، جس کا مقصد اہل قوت کے ذریعے اسلامی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنا ہے۔
سوال کا جواب: ترکی میں جاری احتجاجی مظاہرے
یہ تحریر 2013 میں ترکی کے غزی پارک سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے اسباب، ان کے پیچھے موجود قوتوں اور رجب طیب اردوغان اور عبداللہ گل کے درمیان موقف کے فرق کا گہرا سیاسی تجزیہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ اور یورپی طاقتیں ان حالات کو اپنے مخصوص ایجنڈوں اور ترکی کے نام نہاد جمہوری ماڈل کو برقرار رکھنے یا اسے دباؤ میں لانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
مزارعہ (بٹائی پر کاشتکاری) سے متعلق سوال کا جواب
اس جواب میں مزارعہ (بٹائی پر کاشتکاری) کے شرعی حکم کی وضاحت کی گئی ہے۔ صحیح احادیث کی روشنی میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ زمین کو اجرت یا پیداوار کے کسی مخصوص حصے کے عوض کرائے پر دینا جائز نہیں ہے، بلکہ زمین کا مالک اسے خود کاشت کرے یا اپنے کسی بھائی کو مفت استعمال کے لیے دے دے۔
سوال کا جواب: اس بات کی کیا دلیل ہے کہ زمین کسی نہ کسی مالی فریضے سے خالی نہیں ہوتی؟
اس جواب میں اس شرعی اصول کی وضاحت کی گئی ہے کہ دار الاسلام میں کوئی بھی زمین مالی فریضے یعنی عشر یا خراج سے خالی نہیں ہوتی۔ اس میں ان دلائل کا ذکر ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زمین پر یا تو زکوٰۃ (عشر) واجب ہے یا پھر خراج، اور یہی وجہ ہے کہ جب کوئی غیر مسلم عشری زمین کا مالک بنتا ہے تو اس پر خراج عائد ہوتا ہے۔
جوابِ سوال: حرف ’فاء‘ کی دلالت میں فرق
یہ تحریر اصولِ فقہ کی ایک علمی بحث پر مشتمل ہے جس میں حرف ’فاء‘ کے ’علت‘ یا ’سبب‘ ہونے کے درمیان فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ نے قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں ایک سہل قاعدہ بیان کیا ہے تاکہ طالبِ علم ان دونوں کے درمیان فرق کو درست طور پر سمجھ سکیں۔
سوال کا جواب: مہینے کے آغاز کے ثبوت کے لیے فلکیاتی حساب پر اعتماد کرنے کے عدم جواز کے بارے میں
اس تحریر میں امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ اس شرعی حکم کی وضاحت فرما رہے ہیں کہ قمری مہینے کے آغاز کے ثبوت یا نفی کے لیے صرف شرعی رویت (چاند دیکھنا) ہی معتبر ہے، فلکیاتی حساب نہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے عبادات کے لیے جو اسباب مقرر فرمائے ہیں ان پر عمل کرنا ہی اصل اتباعِ دین ہے اور حساب کو اس معاملے میں دخل دینا نصِ شرعی کی مخالفت ہے۔
سوال کا جواب: مقبوضہ بیت المقدس اور مسجدِ اقصیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر آپ کے احتجاجی جلوس اور مذمتی مہمات کہاں ہیں؟
اس تحریر میں امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ نے ان اعتراضات کا مدلل جواب دیا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کی حالیہ صورتحال پر حزب کے جھنڈے اور سرگرمیاں نظر کیوں نہیں آتیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حزب کے نوجوان ہر جگہ اسلام کے رایات اور لواء بلند کیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سوال کا جواب: معیشت میں ریاست کی مداخلت اور ٹیکسوں کے بارے میں
یہ تحریر معیشت میں ریاست کی مداخلت اور ٹیکسوں کے حوالے سے اسلامی نقطہ نظر کی وضاحت کرتی ہے۔ اس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلام میں ٹیکس صرف ان مخصوص حالات میں ہی لگائے جا سکتے ہیں جب بیت المال میں رقم نہ ہو اور مسلمانوں پر کوئی شرعی فریضہ (جیسے جہاد یا غریبوں کی کفالت) ادا کرنا لازم ہو۔
جواب سؤال: سوشل سیکورٹی میں شمولیت کے حوالے سے
سوشل سیکورٹی (سماجی تحفظ) کے نظام میں شمولیت کے شرعی حکم کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اگر یہ ملازمت کی اجرت کا حصہ ہو تو جائز ہے، بصورتِ دیگر غیر یقینی (جہالت) کی بنا پر ناجائز ہے۔ یہ فتویٰ حزب التحریر کے امیر عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کی جانب سے سائل کے جواب میں جاری کیا گیا ہے۔
سوال کا جواب: اتھارٹی (سلطہ) کے ساتھ بطور پولیس یا دیگر کاموں میں ملازمت کرنے کا حکم
اس جواب میں فلسطینی اتھارٹی کے مختلف اداروں میں ملازمت کرنے کے شرعی حکم کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ کن سکیورٹی اداروں میں کام کرنا ممنوع ہے اور کن انتظامی یا فنی کاموں کی شریعت میں اجازت دی گئی ہے۔
سوال کا جواب: بدعت کے بارے میں
اس جواب میں بدعت کی شرعی تعریف اور اس کے دائرہ کار کی وضاحت کی گئی ہے، جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ بدعت سے مراد شریعت کے اس حکم کی مخالفت ہے جس کی ادائیگی کی کوئی خاص کیفیت بیان کی گئی ہو۔ مسجد سے نکلتے وقت درود پاک پڑھنے کی ترغیب دینا بدعت نہیں بلکہ ایک جائز عمل ہے کیونکہ اس کے لیے شریعت نے کوئی مخصوص کیفیت مقرر نہیں کی۔