سوال کا جواب: خلفائے راشدین کی جانب سے راية العقاب اور لواء کے استعمال کے بارے میں
اس تحریر میں واضح کیا گیا ہے کہ خلفائے راشدین نے رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے سیاہ رنگ کا پرچم 'راية العقاب' اور سفید رنگ کا جھنڈا 'لواء' استعمال کیا۔ احادیثِ مبارکہ کے مستند دلائل سے ثابت ہے کہ نبوی دور میں یہی علامات رائج تھیں، جنہیں صحابہ کرام نے پوری تندہی سے اپنایا۔
سوال کا جواب: حزبِ تحریر اور اس کے امیر کی جانب سے تنقید اور اصلاحات کو مسترد کرنے کے حوالے سے
امیرِ حزبِ تحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ اس وضاحت میں بتاتے ہیں کہ حزبِ تحریر علمی بحث اور اصلاح کے لیے ہمیشہ تیار ہے، بشرطیکہ وہ ان کے اپنے افکار اور دلائل پر مبنی ہو۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں کہ حزب تنقید کو قبول نہیں کرتی، تاہم وہ مخالفین کے جھوٹے پروپیگنڈے پر وقت ضائع کرنے کو رد کرتے ہیں۔
سوال کا جواب: عورت کی عورت کے سامنے ستر (عورت) کے مقام کے بارے میں - بنام شادی سنقرط
اس تحریر میں ایک عورت کا دوسری عورت کے سامنے ستر (عورت) کی حدود سے متعلق شرعی حکم کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس میں ان مختلف فقہی آراء کا تذکرہ کیا گیا ہے جو ناف سے گھٹنے تک یا زینت کے مقامات کے استثنیٰ سے متعلق ہیں، اور دلائل کی روشنی میں راجح موقف کو بیان کیا گیا ہے۔
سوال کا جواب: یوکرین کے حوالے سے بین الاقوامی صورتحال
یوکرین اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے روس، امریکہ اور یورپ کے درمیان ایک طویل کشمکش کا میدان بنا ہوا ہے۔ یہ تحریر صدر یانکووچ کی روس نواز پالیسیوں اور مغربی طاقتوں کے دباؤ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوششوں کا تجزیہ کرتی ہے۔
سوال کا جواب: عراق میں امریکہ کی پالیسی کے بارے میں
یہ جواب عراق میں جاری تقسیم اور فرقہ وارانہ کشمکش میں امریکی کردار کو بے نقاب کرتا ہے، جس کی بنیاد 1991 کی فضائی پابندیوں اور 2003 کے قبضے کے دوران رکھی گئی تھی۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ امت کی نجات صرف خلافتِ راشدہ کے قیام اور ایک پرچم تلے متحد ہونے میں ہے۔
سوال کا جواب: شراب کی علت اور اس کی حرمت کے بارے میں
اس جواب میں شراب کی حرمت کی شرعی نوعیت اور اس کے متعلقہ احکام کی وضاحت کی گئی ہے کہ آیا اس کی کوئی علت (قانونی وجہ) ہے یا نہیں۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ شراب اور اس سے متعلقہ دس اصناف کی حرمت نص سے ثابت ہے اور یہ احکام مکلف انسانوں کے افعال پر لاگو ہوتے ہیں، نہ کہ ان اشیاء (جیسے گاڑی یا برتن) پر جو اس عمل میں استعمال ہوتی ہیں۔
سوال کا جواب: بعض لوگوں کے اس یقین کے بارے میں کہ نقطۂ ارتکاز صرف شام ہی ہو گا
اس جواب میں اس تصور کی وضاحت کی گئی ہے کہ کیا خلافت کا قیام لازمی طور پر شام سے ہی شروع ہو گا۔ امیرِ حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ واضح کرتے ہیں کہ اگرچہ شام کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے، لیکن ہمیں ہر مقام پر مخلصانہ محنت جاری رکھنی چاہیے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ فتح کا آغاز کہاں سے ہو گا۔
جواب سوال: فحش فلمیں دیکھنے اور حزب التحریر پر طعن و تشنیع کے حوالے سے
اس جواب میں حزب التحریر کے امیر شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتہ نے فحش فلمیں دیکھنے کی شرعی حرمت کو واضح کیا ہے اور ان لوگوں کو جواب دیا ہے جو اس حوالے سے حزب پر بہتان تراشی کرتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنا وقت لہو و لعب کے بجائے خلافت کی دوبارہ بحالی جیسی عظیم ذمہ داری میں صرف کرنے کی تلقین کی ہے۔
شام میں جاری کشمکش کے اہم کھلاڑیوں اور ان کے کردار کے بارے میں ایک خط کا جواب
اس جواب میں شام کے تنازعے کی حقیقت، بین الاقوامی طاقتوں بالخصوص امریکہ اور یورپ کے کردار، اور علاقائی ممالک کی مداخلت کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔ امیر حزب التحریر شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شام کا حقیقی حل صرف نبوت کے طریقے پر خلافتِ راشدہ کے قیام میں ہی مضمر ہے۔
شیخ عبد القدیم زلوم (رحمہ اللہ) کے دور میں حزب کی (مبینہ) خلاف ورزیوں سے متعلق ایک خط کا جواب
اس تحریر میں امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ، شیخ عبد القدیم زلومؒ کے دور میں حزب کے طریقہ کار سے متعلق اٹھائے گئے اعتراضات کا تفصیلی جواب دے رہے ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ حزب نے کبھی بھی 'نفسیہ' کی تعمیر کو نظر انداز نہیں کیا، بلکہ حزب کے نوجوانوں کی ثابت قدمی اور 'نفسیہ کے مقومات' جیسی کتب اس امر کی واضح دلیل ہیں۔
جوابِ سوال: کاغذی کرنسی کے بارے میں - حافظ غرس اللہ کے نام
اس جواب میں کاغذی کرنسی کی قدر میں کمی اور اس کے نتیجے میں قرض کی واپسی کے شرعی حکم کی وضاحت کی گئی ہے۔ امیرِ حزب التحریر بتاتے ہیں کہ جب تک کوئی کرنسی قانونی طور پر رائج ہے، اسے سونے اور چاندی کی طرح 'نقد' ہی تصور کیا جائے گا اور اس پر سود کے تمام احکامات لاگو ہوں گے، لہٰذا قرض کی واپسی اسی مقدار میں ہوگی جو لی گئی تھی۔
"بوڑھے شخص کے حج" اور "حقیقت و مجاز" سے متعلق سوالات کے جوابات
اس تحریر میں امیرِ حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ ایک معذور والد کی جانب سے بیٹے کے حج کرنے کی شرعی حیثیت اور کلامِ الہٰی میں "حقیقت" و "مجاز" کے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ اگر بیٹا صاحبِ استطاعت ہو تو اس پر اپنے معذور والد کی طرف سے حج کرنا اسی طرح واجب ہے جیسے قرض کی ادائیگی، اور یہ کہ کلام کو اس کے حقیقی معنی سے صرف اسی صورت پھیرا جاتا ہے جب حقیقت ناممکن ہو۔